متفرق مضامین

درس قرآن وحدیث ۔ جو جماعت میں ہمیشہ کے لیے جاری ہو گیا

(عبدالسمیع خان)

حضرت خلیفة المسیح الاوّلؓ کے عشق قرآن کا ایک پہلو

آپؓ ایک بے مثال اور صاحب عرفان عاشق قرآن تھے اور آپ نے جماعت احمدیہ میں درس قرآن و حدیث کی بنا ڈالی اور اسے پروان چڑھایا۔ آپ کا یہ فیض قیامت تک جاری رہے گا۔جماعت کی کتب، اخبارات، خطبات اور ٹی وی اسی کام کے لیے وقف ہیں

قرآن کریم حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کے دل کی غذا تھا۔ اس کے علوم و معارف کی اشاعت کے لیے آپؓ ساری زندگی کوشاں رہے۔ ایک بار حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ نے سوال کیا کہ آپ کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے تو فرمایا:مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ قرآن مجید عملی طور پر کل دنیا کا دستور العمل ہو۔(الحکم ۷؍جولائی ۱۹۱۱ء صفحہ ۲ کالم ۳)

عام جماعت کو بھی یہی نصیحت فرماتے تھے۔’’قرآن کو مضبوط پکڑو۔ قرآن بہت پڑھو اور اس پر عمل کرو۔ (الحکم ۲۱؍جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ ۸ کالم ۳)

تعلیم القرآن کی اس تحریک پر سب سے زیادہ اور عارفانہ عمل آپؓ ہی کا تھا۔ آپؓ کو اللہ نے خاص علم قرآن بخشا تھا اور آپؓ اسے لٹانے کے لیے تیار رہتے تھے۔ خلافت سے پہلے بھی حضرت مسیح موعود ؑکے ارشاد پر قرآن کا درس دیتے تھے اور حضرت مسیح موعودؑ احباب کو ان کے درس میں شامل ہونے کی تلقین کرتے تھے۔ منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد باوجود بے پناہ ذمہ داریوں کے قرآن کو آپؓ کی مصروفیات میں اوّلیت حاصل رہی اور قرآن کا درس دینے کے لیے ہمیشہ جوان اور مستعد رہے۔فرماتے تھے: ’’ قرآن شریف کے ساتھ مجھ کو اس قدر محبت ہے کہ بعض وقت تو حروف کے گول گول دوائر مجھے زلف محبوب نظر آتے ہیں اور میرے منہ سے قرآن کا ایک دریا رواں ہوتا ہے اور میرے سینہ میں قرآن کا ایک باغ لگا ہوا ہے۔ بعض وقت تو میں حیران ہو جاتا ہوں کہ کس طرح اس کے معارف بیان کروں۔‘‘( بدر ۱۹؍اکتوبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۳ کالم ۲)

روح پرور درس

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے حضرت خلیفہ اوّلؓ کے درس کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے: ’’یه درس مسجد اقصیٰ میں ہوا کرتا تھا اور اوائل زمانہ میں کبھی کبھی خود حضرت مسیح موعودؑ بھی اس درس میں چلے جایا کرتے تھے۔ حضرت خلیفہ اوّل کے درس میں اعلیٰ درجہ کی علمی تفسیر کے علاوہ واعظانہ پہلو بھی نمایاں ہوتا تھا۔ کیونکہ آپ کا قاعدہ تھا کہ رحمت والے واقعات کی تشریح کرکے نیکی اور انابت الی اللہ کی رغبت دلاتے اور عذاب والے واقعات کے تعلق میں دلوں میں خشیت اور خوف پیدا کرنے کی کوشش فرماتے تھے اور آپ کا درس بے حد دلچسپ اور ہر طبقہ کے لیے موجب جذب و کشش ہوا کرتا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جماعت احمدیہ کے علم التفسیر کا ایک کثیر حصہ بلا واسطہ یا بالواسطہ آپ ہی کی تشریحات اور انکشافات پر مبنی ہے اور آپ کے درس میں یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے ایک وسیع سمندر ہے جس کا ایک حصہ موجزن ہے اور دوسرا ساکن اور عمیق اور اس میں سے ہر شخص اپنی استعداد کے مطابق پانی لے رہا ہے۔ درس کے دوران میں بعض دفعہ سوال بھی کیا کرتے تھے اور حضرت خلیفہ اوّل ہمیشہ خندہ پیشانی کے ساتھ ہر سوال کا جواب دیتے تھے اور مخاطب کے مذاق اور حالات کے پیش نظر کبھی کبھی کوئی نہ کوئی لطیفہ بھی بیان کر جاتے تھے۔ مگر بعض اوقات جب آپ کو سوال کرنے والے میں بلا وجہ سوال پوچھنے کا میلان محسوس ہوتا تھا یا آپ خیال کرتے تھے سوال ایسا ہے کہ وہ خود توجہ دے کر اس کا جواب سوچ سکتا ہے تو ایسے موقعہ پر یا تو خاموشی کے ساتھ گزر جاتے تھے اور یا کہہ دیتے تھے کہ یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے خود سوچو۔ افسوس ہے کہ اس وقت کے نوٹ لینے والوں نے آپ کے اس درس کے نوٹ قلمبند نہیں کیے اور آپ کی تفسیر کا معتد بہ حصہ ضبط تحریر میں نہیں آسکا۔ ہاں سننے والوں کے سینے اب تک اس بیش بہا خزانہ کے امین ہیں اور ہر احمدی تفسیر میں حضرت خلیفہ اوّل کے علم کی روشنی نظر آتی ہے۔ خاکسار راقم الحروف نے بھی جبکہ میں بی اے میں پڑھتا تھا۔ تعلیم کا سلسلہ درمیان میں چھوڑ کر حضرت خلیفہ اوّل سے قرآن شریف پڑھا اور پورا قرآن شریف ختم کر کے پھر اپنی تعلیم کی طرف لوٹ آیا یہ بھی ایک پبلک درس تھا۔ جس میں بہت سے دوسرے دوست بھی شریک ہوتے تھے۔ حضرت خلیفہ اوّل کے قرآن کے درس کا نمایاں رنگ یہ ہوتا تھا کہ گویا ایک عاشق صادق اپنے دلبر و معشوق کو سامنے رکھ کر اس کے دلر با حسن و جمال اور دلکش خدو خال کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ اللہ اللہ کیا مجلس تھی اور اس مجلس کا کیا رنگ تھا۔‘‘ (الفضل ۶؍دسمبر۱۹۵۰ء)

قرآن ہی سنایا کروں

۱۹۰۸ء میں اپنی خلافت کے پہلے جلسہ سالانہ پر دوران تقریر آپؓ نے فرمایا کہ کر زن گزٹ ( دہلی ) نے حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ اب مرزائیوں میں کیا رہ گیا ہے ان کا سرکٹ چکا ہے ایک شخص جو ان کا امام بنا ہے اس سے تو کچھ ہوگا نہیں ہاں یہ ہے کہ تمہیں کسی مسجد میں قرآن سنایا کرے۔ سوخدا کرے یہی ہو میں تمہیں قرآن ہی سنایا کروں۔

اس کے بعد آپ نے قرآن مجید کی بعض آیات پڑھ کر ان کی لطیف تفسیر فرمائی اور آخر میں عربی زبان کی تعلیم کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی اور فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں عربی سے کیا ہوتا ہے میں کہتا ہوں عربی سے قرآن شریف آتا ہے۔ عربی سے محمد رسول اللہﷺ کی باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ عربی سے ابوبکر و عمر و تبع تابعین کی قدر کو پہچانا جاتا ہے۔(بدر ۷؍جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ ۹,۵)

روزانہ تین پاروں کا درس

۱۹۰۸ء کے رمضان میں آپؓ نے اعتکاف کیا۔ آپ ان دنوں روزانہ تین پاروں کا درس دیتے تھے۔ صبح سے ظہر تک، پھر ظہر سے عصر تک اور عصر سے عشاء کی نماز تک قرآنی علوم کے خزانے لٹاتے تھے۔ مشکل مقامات کی تفسیر فرماتے اور سوالوں کے جواب بھی عنایت فرماتے۔ (بدر ۲۳؍اکتوبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۸)

۱۹۱۰ء میں آپؓ نے مسجد نور کی تکمیل پر ۲۲؍اپریل ۱۹۱۰ء کو عصر کی نماز پڑھا کر اس کا افتتاح کیا اور اس کے بعد سورۃ انبیاء کے چھٹے رکوع کا درس بھی دیا۔ (بدر ۵؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۔ الحکم ۱۴؍اپریل ۱۹۱۰ء صفحہ۱۳، ۱۵)

قرآن کریم کے ساتھ ساتھ آپ کو جو عشقِ رسول کریمﷺ سے تھا اس کا غیر معمولی اظہار درس حدیث سے ہوتا ہے۔ آپؓ نے قرآن کریم کے علاوہ کئی بار بخاری شریف کا درس بھی دیا۔حضرت مسیح موعود ؑکی زندگی میں آپؓ نے صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحبؓ  کو قرآن شریف اور صحیح بخاری کا ترجمہ پڑھایا اور فرمایا میاں!جو کچھ ہے انہی میں ہے۔

خصوصی درس

متعدد مواقع پر آپؓ نے مختلف اشخاص کے لیے خاص دروس کا اہتمام فرمایا۔۱۹۱۰ء کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؓ روزانہ تین دفعہ درس دیتے تھے۔ اخبار بدر لکھتا ہے کہ حضور آجکل تین درس دیتے ہیں۔ بعد از نماز صبح مسجد میں پہلے صاحبزادہ شریف احمد صاحب کو، پھر چند گریجوایٹ ہیں۔ مثلاً شیخ تیمور صاحب ایم اے۔ ان کو قرآن مجید پڑھایا جاتا ہے۔ یہ درس خصوصیت سے لطیف ہوتا ہے۔ بخاری کا درس بھی شروع ہے۔(بدر ۱۲؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۲ کالم۱)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے لیے ۱۹۱۳ء میں بعد نماز فجر حضرت خلیفة المسیح الاوّلؓ نے قرآن مجید کا ایک درس دینا شروع فرمایا۔ جس میں دوسرے لوگوں کو بھی شامل ہونے کی اجازت دی گئی۔ علاوہ ازیں ایک درس بعد نماز عصر اور دوسرا بعد از نماز مغرب بھی جاری تھا۔( بدر ۲۷؍فروری۱۹۱۳ء صفحہ۱۹) الحمد للہ کہ آپؓ کی تفسیر کا ایک حصہ حقائق الفرقان کے نام سے کئی جلدوں میں شائع ہو چکا ہے اور علوم قرآنی کا خزانہ ہے۔

الحكم ۱۹۱۳ء سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفه اوّلؓ ایک دن میں قرآن مجید کا درس پانچ مرتبہ دے رہے تھے اور آپؓ نے مارچ ۱۹۱۳ء سے قرآن کے درس سے پہلے بخاری کا بھی عام درس شروع فرما دیا اور ایڈیٹر الحكم شيخ يعقوب علی صاحب تراب حضور کے حکم سے اسے مرتب کرنے لگے۔ یہ درس کئی ماہ تک اخبار بدر میں بطور ضمیمہ چھپتا رہا۔( الحکم ۷ مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۰ کالم ۳)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓفرماتے ہیں:’’جلسہ سالانہ ۱۹۱۳ء کے چند ہی دن بعد حضرت خلیفة المسیح بیمار ہو گئے اور آپ کی علالت روز بروز بڑھنے لگی۔ مگر ان بیماری کے دنوں میں بھی آپ تعلیم کا کام کرتے رہے۔ مولوی محمد علی صاحب قرآن شریف کے بعض مقامات کے متعلق آپ سے سوال کرتے اور آپ جواب لکھواتے اور کچھ اَور لوگوں کو بھی پڑھاتے۔ ایک دن اسی طرح پڑھا رہے تھے۔ مسند احمد کا سبق تھا۔ آپ نے پڑھاتے پڑھاتے فرمایا کہ مسند احمد حدیث کی نہایت معتبر کتاب ہے۔ بخاری کا درجہ رکھتی ہے مگر افسوس ہے کہ اس میں بعض غیر معتبر روایات امام احمد بن حنبل کے ایک شاگرد اور ان کے بیٹے کی طرف سے شامل ہو گئی ہیں جو اس پایہ کی نہیں ہیں۔ میرا دل چاہتا تھا کہ اصل کتاب کو الگ کر لیا جاتا مگر افسوس کہ یہ کام میرے وقت میں نہیں ہوا اب شاید میاں کے وقت میں ہو جاوے۔ اتنے میں مولوی سید سرور شاہ صاحب آگئے اور آپ نے ان کے سامنے یہ بات پھر دوہرائی اور کہا کہ ہمارے وقت میں تو یہ کام نہیں ہو سکا۔ آپ میاں کے وقت میں اس کام کو پورا کریں۔ یہ بات وفات سے دو ماہ پہلے فرمائی۔‘‘(آئینہ صداقت۔ انوار العلوم جلد ۶ صفحہ ۲۲۹)چنانچه مسند احمد بن حنبل کی تدوین کا کچھ کام خلافت ثانیہ میں ہوا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفة المسیح الاوّل کے نام پر نور فاؤنڈیشن قائم فرمائی جو احادیث کی مستند کتب کے تراجم شائع کر رہی ہے۔

حضور ؓکی تمنا تھی کہ احباب کرام خود بھی قرآنی معارف کے سمندر میں غوطہ زن ہوں۔ چنانچہ آپؓ نے صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحبؓ کے سوال پر فرمایا کہ خود غور کر کے جواب تلاش کرو۔

عورتوں میں درس

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ فرماتے ہیں: ’’حضور اپنے گھر میں مستورات اور لڑکیوں کو قرآن مجید کا درس دیتے تھے۔ کثرت سے مستورات جمع ہوں اور صبح سے لے کر نو دس بجے تک یہ سلسلہ جاری رہے۔ وہاں گھر کے کاروبار میں دقت کا پیدا ہونا ضروری ہے ان عورتوں یا لڑکیوں کے اجتماع کی وجہ اور تنگی مکان کے باعث بعض اوقات حضرت خلیفة المسیح الاوّلؓ کی اہلیہ کسی قدر تیزی سے ان قرآن سننے والیوں سے پیش آتیں۔ حضور کو یہ ادا سخت ناگوار ہوتی کہ کیوں قرآن کریم پڑھنے والیوں سے اس طرح سے سلوک کیا جاوے۔… نورالدین کو اپنی معاشرت میں اگر کوئی چیز بیوی پر ناراض کرسکتی ہے تو وہ ایک ہی امر ہے کہ اس کی وجہ سے قرآن کریم کی اشاعت میں کوئی روک نہ ہو۔ کیا وہ اپنی اس تنبیہ میں زبان یا ہاتھ کی سختی سے کام لیتا ہے؟ نہیں وہ اسے وعظ کرتا ہے۔ نورالدین جو کچھ کہتا ہے۔ ا س کا مفہوم یہ ہے۔

خداتعالیٰ کا شکر کرو۔ تمہارے گھر میں اس قدر قرآن شریف کھلتے ہیں۔ پس ان آنے والیوں کی کثرت سے اگر تم گھبراتی ہو تو مجھے تکلیف دیتی ہو مجھ سے دعا لو۔ ناراض نہ کرو اور پھر ایسی بات پر جو مجھے کبھی پسند نہیں ہے۔ ‘‘(الحکم ۱۴؍ستمبر ۱۹۳۸ء)

تدبّر کی عادت ڈالی

ایک بار حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے اپنے بعض خدام کو یہ کام سپرد فرمایا کہ وہ قرآن مجید کے اسماء، افعال اور حروف کی فہرستیں تیار کریں۔ اس طریق سے خدام میں قرآن مجید کی خدمت اور اس پر غور وفکر کی عادت پیدا کرنا مقصود تھا۔ مولوی ارجمند خانصاحب کا بیان ہے کہ اس تحریک کے سلسلے میں میرے حصے میں اٹھارھواں پارہ آیا جو میں نے پیش کر دیا۔ ایک بار آپؓ نے ۱۲ دوستوں کو تحریک فرمائی کہ اڑھائی اڑھائی پارے یاد کر لیں۔ اس طرح سب مل کر حافظ قرآن بن جائیں۔(تشحیذ الاذہان مارچ ۱۹۱۲ء جلد ۷ صفحہ ۱۰۱)

اشاعت قرآن و حدیث

قرآن و حدیث سے حضور ؓکی محبت کا پر تو تھا کہ احباب جماعت کے دل میں خدمت قرآن کے نئے ولولے جنم لیتے تھے۔ حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ نے ۱۹۱۳ء میں جماعت کی طرف سے قرآن مجید کے مستند اردو ترجمہ اور بخاری اور دوسری دینی کتب کے تراجم شائع کرنے کی خواہش ظاہر کی اور حضرت خلیفہ اوّلؓ سے درخواست کی کہ آپ مجھے ترجمہ اور نوٹ عنایت فرماویں نیز کچھ روپیہ بھی بخشیں۔ حضرت خلیفہ اوّلؓ نے اس تحریک پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے، اعانت کا وعدہ کرتے ہوئے فرمایا یہ مبارک تحریک ہے اللہ تعالیٰ اس کو مثمر ثمرات برکات کرے آمین۔ خاکسار انشاء اللہ تعالیٰ بقدر طاقت امداد کو حاضر ہے۔(بدر ۱۸؍ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ۳، ۴)

آپؓ کے نزدیک قرآنی علوم و معارف کے خزانے لافانی تھے۔اس لیے کسی درس میں ان کو سمیٹنے کا کوئی سوال نہیں تھا اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہنا ضروری تھا۔ایک بارختم قرآن کے موقع پر آپؓ درس دینے کے لیے مسجد میں کھڑے ہوئے سامنے ایک بڑی چادر میں بتاشے(ایک قسم کی مٹھائی) رکھ دیے گئے۔ حضورؓ نے درس دیتے ہوئے فرمایا۔ ان کو اٹھا لو۔ تمہیں ختم قرآن کی خوشی ہے اور نورالدین کو غم ہے کہ پھر زندگی میں قرآن مجید ختم کرنا نصیب ہو گا یا نہیں۔(تاریخ احمدیت جلد ۳ صفحہ ۵۵۹)

قادیان کا رمضان

حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ نے خلافت اولیٰ کے دوران ۱۹۱۲ء کے ماہ رمضان میں اہل قادیان کے قرآن کریم سے عشق و محبت کا نقشہ عجیب انداز سے کھینچا ہے فرماتے ہیں: ’’قادیان کا رمضان قرآن شریف کے پڑھنے اور سننے کے لحاظ سے ایک خصوصیت رکھتا ہے۔ تہجد کے وقت مسجد مبارک کی چھت پر اللہ اکبر کا نعرہ بلند ہوتا ہے۔ صوفی تصوّر حسین صاحب خوش الحانی سے قرآن شریف تراویح میں سناتے ہیں۔ حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب بھی قرآن شریف سننے کے لیے اسی جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔ تراویح ختم ہوتیں تو تھوڑی دیر میں الصلوٰۃ خیر من النوم کی آواز بلند ہوتی ہے۔ زاہد و عابد تو تہجد کی نماز کے بعداذان فجر کی انتظار میں جاگ ہی رہے ہوتے ہیں۔ دوسرے بھی بیدار ہو کر حضرت صاحبزادہ صاحب کے لحن میں کسی محبوب کی آواز کی خوشبو سے اپنے دماغوں کو معطر کرتے ہوئے فریضہ صلوٰۃ فجر کو ادا کرتے ہیں۔ جس کے بعدمسجد کی چھت قرآن الفجر کے محبین سے گونجنے لگتی ہے۔ مگر چونکہ حضرت خلیفۃالمسیح جلد اپنے مکان کے صحن میں درس دینے والے ہوتے ہیں اس واسطے ہر طرف سے متعلمان درس بڑے اور چھوٹے بچے اور بوڑھے، پیارا قرآن بغلوں میں دبائے حضرت کے مکان کی طرف دوڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تھوڑی دیر میں صحن مکان بھر جاتا ہے۔ حضرت کے انتظار میں کوئی اپنی روزانہ منزل پڑھ رہا ہے۔ کوئی کل کے پڑھے ہوئے کو دہرا رہا ہے۔ کیا مبارک فجر ہے مومنوں کی۔ تھوڑی دیر میں حضرت کی آمد اور قرآن خوانی سے ساری مجلس بقعہ نور نظر آنے لگتی ہے۔ نصف پارہ کے قریب پڑھا جاتا ہے۔ اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔ تفسیر کی جاتی ہے سائلین کے سوالات کے جواب دیئے جاتے ہیں۔ تقویٰ و عمل کی تاکید بار بار کی جاتی ہے۔ لطیف مثالوں سے مطالب کو عام فہم اور آسان کر دیا ہے۔ اس کے بعد اندرون مکان میں عورتوں کو درس قرآن دیا جاتا ہے۔ پھر ظہر کے بعد سب لوگ مسجداقصیٰ میں جمع ہوتے ہیں وہاں حضرت خلیفۃالمسیح بھی تشریف لے جاتے ہیں اور صبح کی طرح وہاں پھر درس ہوتا ہے۔ بعد عشاء مسجد اقصیٰ میں حافظ جمال الدین صاحب تراویح میں قرآن شریف سناتے ہیں اور حضرت کے مکان پر حافظ ابواللیث محمد اسمٰعیل صاحب سناتے ہیں۔ غرض اس طرح قرآن شریف کے پڑھنے پڑھانے اور سننے کا ایسا شغل ان ایام میں دن رات رہتا ہے کہ گویا اس مہینہ میں قرآن شریف کا ایک خاص نزول ہوتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح اپنے دردمند دل کی دعاؤں کے ساتھ قرآن شریف سناتے ہیں۔ درس کے بعد سامعین کے واسطے دعائیں کرتے ہیں۔‘‘ (تاریخ احمدیت جلد ۳ صفحہ ۶۰۳۔۶۰۴)

دارالقرآن

حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کو قرآن کریم کی تعلیم و اشاعت کا جوش فطرتاً عطا ہوا تھا اور ہمیشہ قرآن کریم کا درس دیتے رہتے تھے جو عموماً مسجداقصیٰ میں ہوتا تھا مگر آپؓ کی خواہش تھی کہ ایک خاص کمرہ اس مقصد کے لیے بنایا جائے جو صرف درس قرآن کے لیے وقف ہو۔ اس کمرہ کے لیے حضرت اماں جانؓ نے زمین کا ایک قطعہ دینے کا وعدہ کیا۔اس کمرے کی تعمیر کے لیے جماعت میں مالی تحریک بھی کی گئی اس کا ذکر کرتے ہوئے ایڈیٹر الحکم لکھتے ہیں: جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ دارالقرآن در اصل مدرسہ تعلیم القرآن کا مقدمہ ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی دیرینہ خواہش ہے کہ قرآن مجید کے نہایت اعلیٰ معلم موصل وغیرہ سے منگوائے جائیں۔ اس وقت تک ہر چند یہاں قرآن مجید کی تعلیم و تدریس کی طرف توجہ ہے لیکن پھر بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ حفظ قرآن اور تعلیم قراءت کا کوئی انتظام نہیں۔ الحکم میں پچھلے دنوں میں نے حضرت خلیفۃالمسیح کو اس ضرورت کی طرف توجہ بھی دلائی تھی۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ خواہش اس رنگ میں پوری ہونے لگی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے حضرت میر ناصر نواب صاحب قبلہ کو یہ خدمت سپرد کی ہے کہ وہ اس دارالقرآن کی تعمیر کا کام شروع کر دیں۔ اس کے لیے کم از کم دس ہزار روپیہ درکار ہوگا۔….چندہ کی فہرست کھول دی گئی ہے۔ ایڈیٹر الحکم چاہتا ہے کہ اس کے ناظرین اس کارخیر میں کم از کم اڑھائی ہزار جمع کردیں اور یہ رقم خریداران الحکم کی طرف سے دارالقرآن کے لیے دی جاوے۔( الحکم ۲۱؍فروری ۱۹۱۳ء صفحہ ۳)

مگر بعد میں حضور ؓکی ہدایت پر یہ طے پایا کہ موجودہ مسجداقصیٰ میں ہی ایک بڑا کمرہ تیار کروالیا جائے جو درس کے کام بھی آسکے اور نمازی بھی اس میں آرام سے نماز پڑھ سکیں۔ چنانچہ اس فیصلہ کی تعمیل میں حضرت میر صاحب موصوف نے وہ ہال کمرہ بنوا دیا۔(حیات نور صفحہ۶۰۵)

ناغہ نہ ہو

حضورؓ تیز بخار میں بھی درس کا ناغہ نہ ہونے دیتے۔ ایک دفعہ مسجد اقصیٰ میں درس دیتے ہوئے اچانک آپ کو شدید ضعف ہو گیا۔بیٹھ گئے۔ پھر لیٹ گئے۔ہاتھ پاؤں سرد ہو گئے۔ چلنے کی قوّت نہ رہی۔ چار پائی پر اٹھا کر لائے۔ مگر راستے میں جب مسجد مبارک کے پاس پہنچے تو فرمایا مجھے گھر نہ لے جاؤ مسجد میں لے جاؤ۔ بمشکل تمام مسجد کی چھت پر پہنچ کر نماز پڑھی اور باوجود اس تکلیف کے نماز مغرب کے بعد ایک رکوع کا درس دیا۔ پھر چار پائی پر اٹھا کر گھر تک لائےگئے۔ (بدر ۱۰؍اپریل ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۰ کالم ۱)

۱۹۱۰ء میں حضوؓر گھوڑے سے گرے جبکہ آپؓ کی عمر ۷۰؍برس سے زائد تھی۔ آپ کو سخت جسمانی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا مگر کچھ یاد رہا تو صرف قرآن تھا۔ گھوڑے سے گرنے کے کچھ وقت بعد آپ نے فرمایا کہ کوئی حافظ ہے تو قرآن سنائے۔چنانچہ پہلے حافظ سید محمود اللہ شاہ صاحب نے پھر حافظ سید عزیز اللہ شاہ صاحب نے قرآن پڑھا۔ حضور ؓنے فرمایا مجھے آپ کے والدین پر رشک آتا ہے کہ کیسی نیک اولاد اللہ تعالیٰ نے ان کو دی ہے۔ (تاریخ احمدیت جلد ۳ صفحہ ۳۳۳)

قرآن سے عشق کا جو جذبہ ابتدا سے آپ میں موجزن تھا۔ وہ اس بیماری میں عروج تک پہنچ گیا۔ چنانچہ ان دنوں آپ کا سب سے محبوب مشغلہ قرآن مجید پر غور و تفکر تھا۔ آپ لیٹے لیٹے قرآن مجید کے مضامین پر غور فرماتے تھے۔ ایک دن نماز مغرب کی نیت باندھی اور ساتھ ہی قرآنی آیت پر غور شروع ہو گیا۔ قریباً دو گھنٹے اسی حالت میں گزر گئے اور نماز پوری نہ ہو سکی تو فرمایا۔ کیا کروں نماز نہیں پڑھی گئی۔(الحکم ۷؍دسمبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۴ کالم ۳) مگر یہ عجیب کمال ہے کہ آپ نے اس دوران میں کوئی نماز قضا نہیں ہونے دی۔ (الحكم ۲۱ جنوری ۱۹۱۱ء صفحہ ۸ کالم ۲)

ابتدا میں جب بیماری کی تکلیف زیادہ تھی آپ حافظ محمد ابراہیم صاحب اور قاری محمد یٰسین صاحب وغیرہ دوستوں سے قرآن مجید ذوق و شوق سے سنتے۔ ایک روز آپ پر سخت رقّت طاری ہوئی اور رو پڑے نیز فرمایا کہ کیا قادیان میں کوئی حافظ نہیں ہے؟ کوئی مجھ سے قرآن نہیں سنتا اور نہ سناتا ہے۔

یہ تو مرض کے ابتدائی ایام کی بات ہے۔جب قدرے افاقہ ہوا تو آپؓ نے لیٹے لیٹے قرآن مجید سنانا اور درس دینا شروع کر دیا۔ ڈاکٹروں نے اس پر عرض کیا کہ اس سے بیماری پر اثر پڑے گاتو آپؓ نے فرمایا نورالدین کو درس قرآن سے مت روکو ۔یہ نورالدین کی غذا ہے۔ چنانچہ آپؓ بیماری کی حالت میں شیخ محمد تیمور صاحب اور ایک غیر احمدی مولوی محمد شفیق کو قرآن شریف اور حدیث پڑھاتے رہے۔ (تاریخ احمدیت جلد ۳ صفحہ ۳۳۴)

سلسلہ جاری رہے

آپؓ کی بیماری سے جماعت کو جو نقصان پہنچا اس میں آپ کے درس قرآن کی محرومی سب سے بڑا نقصان تھا۔ جس کا آپ کو خود بھی بہت احساس تھا۔ چنانچہ آپ نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحبؓ کو حکم دیا کہ عصر کے بعد قرآن مجید کا درس دیا کریں اور اگر وہ ناسازی طبع کی وجہ سے نہ دے سکیں تو مولوی سید محمد سرور شاہ صاحبؓ درس دیں ۔اگر وہ بھی نہ دے سکیں تو قاضی امیر حسین صاحب درس دیں۔چنانچہ حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحبؓ نے ۱۳؍فروری ۱۹۱۱ء سے درس شروع کر دیا۔(الحكم ۱۴؍فروری ۱۹۱۱ء صفحہ ۴ کالم ۱)حفاظ بلا کر قرآن مجید سننے کا مشغلہ بیماری کے دنوں میں صبح شام رہا۔ قرآن مجید کے علاوہ آپ بخاری شریف اور عمدۃ الاحکام بھی سنتے رہتے۔ (الحکم ۷؍دسمبر ۱۹۱۰ ء صفحہ ۵ کالم ۲)

یہاں پر یہ ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کی روحانی توجہ اور بار بار ترغیب کے نتیجے میں جماعت کے اندر قرآن کریم کا درس دینے اور درس سننے کا خاص ذوق پیدا ہو گیا تھا۔قادیان میں حضورؓ کے علاوہ درس دینے والوں میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحبؓ  کا نام نامی بہت نمایاں تھا۔

فروری ۱۹۱۰ء سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحبؓ نے نماز مغرب کے بعد قرآن مجید کا درس دینا شروع فرمایا۔(الحکم ۲۱؍فروری ۱۹۱۰ء صفحہ ۵ کالم ۳) وسط ۱۹۱۳ء سے آپؓ دن میں دو دفعہ درس دینے لگے۔یعنی فجر اور ظہر کے بعد۔ (الفضل ۱۸؍جون ۱۹۱۳ء صفحہ ۱)

حضرت خلیفہ اوّلؓ کے درس قرآن کے بعد قادیان کے روحانی تحفوں میں یہ ایک نعمت غیر مترقبہ تھی جسے حاصل کرنے کے لیے احمدی بڑے اشتیاق سے حاضر ہوتے تھے۔اس کے علاوہ بھی سیدنا محمود نے نو جوانوں کے لیے کئی بار مختلف قسم کی تربیتی کلاسز کا انعقاد فر مایا۔ مثلاً ۱۹۱۰ء میں آپ نے سکولوں اور کالجوں کی تعطیلات کے دوران قادیان آنے والے طلبہ کے لیے ایک تربیتی کلاس کا اجرا فرمایا۔ کلاس کے نصاب میں قرآن و حدیث اور بعض قصائد شامل تھے۔ آپ نے ان کو بڑی محنت سے پڑھایا اور عربی و دینی علوم سے متعارف کیا۔(بدر ۱۲؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ۲ کالم ۱)

بیماری سے صحت یاب ہونے کے باوجود حضرت خلیفہ اوّلؓ کی صحت بحال نہیں ہو سکی تھی اور زیادہ کمزوری کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے تھے۔ مگر آپؓ کے دینی مشاغل پورے زور شور سے جاری تھے۔ آپؓ نے جلسہ سالانہ۱۹۱۳ء پر ابھی ابتدائی کلمات ہی کہے تھے کہ آپؓ کی طبیعت خراب ہو گئی اور تقریر مکمل کیے بغیر واپس تشریف لانا پڑا۔ (الفضل ۱۲؍دسمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۶ کالم ۳)

تسکین قلب کا ذریعہ

بایں ہمہ قرآن مجید اور بخاری شریف کا درس آپؓ اس حالت میں بھی برابر دیتے رہے جو آپ کی روح کی غذا اور دل کی تسکین کا واحد ذریعہ تھا۔ وسط جنوری ۱۹۱۴ء میں آپؓ بہت رات گئے پیشاب کے لیے اٹھے تو سینے کے بل دھڑام سے گر پڑے اور کچھ دیر کے بعد زمین سے اٹھنے کے قابل ہوئے۔ بایں ہمہ اپنے پیارے خدا کے پیارے کلام کو سنانے میں ناغہ نہیں ہونے دیا اور درس کے لیے تشریف لے آئے۔ دراصل یہ آپؓ کی مرض الموت کا آغاز تھا۔ (الفضل ۱۴ جنوری ۱۹۱۴ء صفحہ ۱)

دوران درس آپؓ نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ میں درس کا یہ دور ختم کرلوں اور بڑی خواہش ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے ترجمہ انگریزی جو کیا ہے اس کے نوٹ سن لوں کچھ سن بھی چکا ہوں مگر میری دم بہ دم طاقت کم ہوتی جاتی ہے کہاں میں تم کو مسجد میں جا کر پھر مدرسہ میں جا کر قرآن سناتا تھا پھر میں اٹھ کر سناتا تھا مگر اب یہ بھی طاقت نہیں۔اب بیٹھنے پر مجبور ہوں۔(الفضل ۱۱؍فروری۱۹۱۴ء صفحہ۱۳ کالم۳)

۷؍فروری ۱۹۱۴ء کو پیاس کی تکلیف رہی۔ اس دن بہت سے احباب عیادت کے لیے حاضر ہوئے۔ اس دن انگریزی ترجمہ کے بیس پارے کے نوٹ ختم ہو گئے۔ اس کی طباعت کے اخراجات کے لیے آپ نے خود تحریک کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔(تاریخ احمدیت جلد ۳ صفحہ ۵۰۲)اس کے بعد کمزوری بہت زیادہ ہو گئی۔ مگر اسی عالم میں ۱۴؍فروری کو فرمایا بول تو میں سکتا ہوں خدا کے سامنے کیا جواب دوں گا۔ درس کا انتظام کرو کہ میں قرآن مجید سنادوں۔(الفضل ۱۸؍فروری ۱۹۱۴ء صفحہ ۱ کالم ۱ و ۲)

۲۷؍فروری۱۹۱۴ء کو آپؓ حضرت نواب محمد علی خان صاحب ؓکی کوٹھی میں منتقل ہوئے اور اسی روز سے آپؓ نے بدستور قرآن مجید کے نوٹ سننے شروع کیے۔ مولوی محمد علی صاحب نے عرض کیا کہ حضور !پچیسواں پارہ ختم ہو گیا ہے۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر کہا۔ تیرا فضل تیرا کرم۔ پھر فرمایا مجھ پر تو خدا تعالیٰ کی رحمت کے عجیب عجیب بادل چڑھتے ہیں اور مجھ پر برستے ہیں۔اس بہار کی پھوار کو میں ہی سمجھتا ہوں۔ (الحکم ۷؍مارچ ۱۹۱۴ء ص۶ کالم۱۔۲)

آخری وصیت

۴؍مارچ ۱۹۱۴ء کو نماز عصر کے بعد حضرت خلیفہ اوّلؓ کو یکایک ضعف محسوس ہونے لگا۔ اسی وقت آپؓ نے حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحبؓ  کو قلم دوات لانے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ قلم دوات اور کاغذ لے آئے اور آپؓ نے لیٹے لیٹے کا غذ ہاتھ میں لیا اور جو وصیت لکھی اس میں فرمایا قرآن و حدیث کا درس جاری رہے۔ (الحکم ۷؍مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۵ کالم۲)

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کا یہی طرز عمل اور یہی وصیت تھی جس نے آئندہ جماعت احمد یہ میں درس قرآن کو ہمیشہ کے لیے جاری کر دیا۔آپؓ نے وفات سے پہلے اپنی بیٹی امۃالحی صاحبہ سے فرمایا کہ میرے مرنے کے بعد میاں (بشیر الدین محمود احمد صاحب) سے کہہ دینا کہ وہ عورتوں میں (بھی) درس دیا کریں۔ (تاریخ احمدیت جلد ۳ صفحہ ۵۱۲)چنانچہ آپ کی وصیت کے مطابق حضرت مصلح موعودؓ نے عورتوں میں الگ درس کا بھی اہتمام فرمایا۔

صادقانہ محبت کے نظارے

حضرت خلیفة المسیح الاوّلؓ نے جس طرح عملی نمونہ سے جماعت کے دل میں قرآن کی محبت پیدا کی اس کا ایک نظارہ امرتسر کے ایک صاحب قلم سے ملاحظہ فرمائیے۔

ایک غیر احمدی صحافی محمد اسلم صاحب امرتسر سے قادیان آئے اور چند دن قیام کر کے واپس چلے گئے۔ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ اور جماعت کا نہایت قریب سے مطالعہ کرنے کے بعد ایک تفصیلی بیان دیا۔ جس سے حضرت خلیفہ اوّلؓ اور آپؓ کے عہد خلافت کے قادیان پر بہت تیز روشنی پڑتی ہے۔ مسٹر محمد اسلم نے لکھا: عالم اسلام کی خطر ناک تباہ انگیز مایوسیوں نے مجھے اس اصول پر قادیان جانے پر مجبور کیا کہ احمدی جماعت جو بہت عرصے سے یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ دنیا کو تحریری و تقریری جنگ سے مغلوب کر کے اسلام کا حلقہ بگوش بنائے گی۔ آیا وہ ایسا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ مولوی نورالدین صاحب جو بوجہ مرزا صاحب کے خلیفہ ہونے کے اس وقت احمدی جماعت کے مسلمہ پیشوا ہیں۔ جہاں تک میں نے دو دن ان کی مجالس وعظ و درس قرآن شریف میں رہ کر ان کے کام کے متعلق غور کیا۔ مجھے وہ نہایت پاکیزہ اور محض خالصۃً للہ کے اصول پر نظر آیا۔ کیونکہ مولوی صاحب کا طرز عمل قطعاً ريا و منافقت سے پاک ہے اور ان کے آئینہ دل میں صداقت اسلام کا ایک ایسا زبردست جوش ہے۔ جو معرفت توحید کے شفاف چشمے کی وضع میں قرآن مجید کی آیتوں کی تفسیر کے ذریعہ ہر وقت ان کے بے ریا سینے سے ابل ابل کر تشنگان معرفت توحید کو فیض یاب کر رہا ہے۔ اگر حقیقی اسلام قرآن مجید ہے تو قرآن مجید کی صادقانه محبت جیسی کہ مولوی صاحب موصوف میں میں نے دیکھی ہے اور کسی شخص میں نہیں دیکھی ۔یہ نہیں کہ وہ تقلیداً ایسا کرنے پر مجبور ہیں،نہیں بلکہ وہ ایک زبردست فیلسوف انسان ہے اور نہایت ہی زبردست فلسفیانہ تنقید کے ذریعہ قرآن مجید کی محبت میں گرفتار ہو گیا ہے … مجھے زیادہ تر حیرت اس بات کی ہوئی کہ ایک اسی سالہ بوڑھا آدمی صبح سویرے سے لے کر شام تک جس طرح لگا تار سارا دن کام کرتا رہتا ہے۔ وہ متحدہ طور پر آجکل کے تندرست و قوی ہیکل دو تین نو جوانوں سے بھی ہونا مشکل ہے۔

عام طور پر قادیان کی احمدی جماعت کے افراد کو دیکھا گیا۔ تو انفرادی طور پر ہر ایک کو توحید کے نشہ میں سرشار پایا گیا اور قرآن مجید کے متعلق جس قدر صادقانہ محبت اس جماعت میں مَیں نے قادیان میں دیکھی کہیں نہیں دیکھی۔ صبح کی نماز منہ اندھیرے چھوٹی مسجد میں پڑھنے کے بعد جو میں نے گشت کی تو تمام احمدیوں کو میں نے بلا تمیز بوڑھے و بچے اور نوجوان کے لیمپ کے آگے قرآن مجید پڑھتے دیکھا۔ دونوں احمدی مساجد میں دو بڑے گروہوں اور سکول کے بورڈنگ میں سینکڑوں لڑکوں کی قرآن خوانی کا مؤثر نظارہ مجھے عمر بھر یاد رہے گا۔ حتّٰی کہ احمدی جماعت کے تاجروں کا صبح سویرے اپنی اپنی دکانوں اور احمدی مسافر مقیم مسافر خانے کی قرآن خوانی بھی ایک نہایت پاکیزه سین ( منظر ) پیدا کر رہی تھی۔ گویا صبح کو مجھے یہ معلوم ہوتا تھا کہ قدسیوں کے گروہ در گروہ آسمان سے اتر کر قرآن مجید کی تلاوت کر کے بنی نوع انسان پر قرآن مجید کی عظمت کا سکہ بٹھانے آئے ہیں۔ غرض احمدی قادیان میں مجھے قرآن ہی قرآن نظر آیا۔ (بدر ۱۳؍مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ۶تا ۹)

مشاہیر کا خراج عقیدت

حضوؓر کی وفات پر مشاہیر نے آپؓ کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آپؓ کے درس قرآن کا خصوصی تذکرہ کیا۔

منشی محبوب عالم صاحب ایڈیٹر پیسہ اخبار (لاہور) نے لکھا۔ آپ نے متعدد کتابیں اسلام کی تائید میں لکھیں اور متانت کے ساتھ معترضوں کو دندان شکن جواب دیئے اور بعض تصانیف میں بڑی تحقیق و تدقیق کا ثبوت بہم پہنچایا۔ سب سے زیادہ شہرت و عزّت اپنی جماعت میں آپ کو قرآن شریف کےحقائق و معارف کی تشریح کے باعث حاصل ہوئی۔ جس میں آپ علوم جدیده و تازه تحقیقات فلسفیه پر نظر رکھتے تھے اور اسلام کو فطرت کے مطابق ثابت کرتے تھے۔(الفضل ۱۸؍مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ ۲ کالم۳)

مولانا ابوالکلام صاحب آزاد ایڈیٹر الهلال (کلکتہ) نے لکھا :حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب بھیروی ثم قادیانی وہ علامہ دہر تھے جن کی ساری عمر قرآن شریف کے پڑھنے اور پڑھانے میں گزری، ہر مذہب وملت کے خلاف اسلام کاردّ آپ نے آیات قرآن سے کیا۔ آپ کے پاس علم تفسیر کا بہت بڑا ذخیرہ تھا۔ ( تاریخ احمدیت جلد ۳ صفحہ ۵۲۳)

الغرض آپؓ ایک بے مثال اور صاحب عرفان عاشق قرآن تھے اور آپ نے جماعت احمدیہ میں درس قرآن و حدیث کی بنا ڈالی اور اسے پروان چڑھایا۔ آپ کا یہ فیض قیامت تک جاری رہے گا۔انشاءاللہ جماعت کی کتب، اخبارات، خطبات اور ٹی وی اسی کام کے لیے وقف ہیں۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: حج بیت اللہ کی اہمیت و برکات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button