تَلْزَمْ جَمَاعَۃَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ اِمَامَھُمْ
آخری زمانے کے فتنوں کے متعلق آنحضرت ﷺ کی تاکیدی ہدایت
(اپنے آپ کو مسلمانوں کی جماعت اور اُن کے امام سے وابستہ رکھنا)
شرپسند اور فتنہ پرداز علماء نے ہی امت مسلمہ کو اس حالت زار اور فرقہ واریت کے عذاب تک پہنچایا ہے۔ اس سے بچنے کا واحد حل آنحضرت ﷺ کی تاکیدی ہدایت تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْیعنی امام کی تابع مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوجانا ہی ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت احمدیہ منہاج نبوت پر قائم اُس امامت و خلافت کی پیروی میں ہے جس کی پیشگوئی آنحضرت ﷺ نے فرمائی تھی
مخبر صادق آنحضرت ﷺ نے آئندہ زمانے میں آنے والے بڑے سخت اور بھیانک فتنوں سے متنبہ فرمایا ہے اور انذاری پیشگوئیوں کے رنگ میں اُمت مسلمہ کو ہوشیار کیا ہے۔ ان انذاری پیشگوئیوں کا ایک بڑا حصہ خود امت مسلمہ کے متعلق ہے جس میں نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کے آپس میں قتل و غارت کرنے، یہود و نصاریٰ کے مشابہ ہونے، فرقہ واریت میں بڑھنے، قرآن و سنت کوترک کرنے، جاہل اور گمراہ کرنے والے علمائے دین کے پیدا ہونےاور دین کے نام پر فساد پیداکرنے وغیرہ جیسے فتنوں سے تخویف دلائی ہے۔ علماء جن کو امت کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی ان کے بگاڑ کے متعلق فرمایا: وَإِنَّ مِمَّا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي أَئِمَّةً مُضِلِّينَ۔یعنی اپنی امت کے متعلق جن باتوں کا مجھے ڈر ہے اُن میں سے ایک گمراہ کرنے والے علماء ہیں۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب مَایَکُوْنُ مِنَ الفِتَنِ)

ایسے علماء کی موجودگی میں امت کا جو حال ہونا تھا اس کا احوال بیان کرتے ہوئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا شِبْرًا وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُ۔قُلْنَا يَا رَسُولَ اللّٰہِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى قَالَ : فَمَنْ۔ یعنی تم ضرور پہلی امتوں کے طریقوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز میں پیروی کرو گے یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی ضرور ایسا کرو گے۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہؐ! آپ کی مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟ حضورؐ نے فرمایا: اور کون! (صحیح البخاری کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة باب نمبر (۱۴)باب قَوْلِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه وسلم لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ )
ایک اَور روایت میں امت مسلمہ کے مشابہ بالیہود ہونے کی خبر ان الفاظ میں دی گئی ہے: لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ۔ یعنی میری امت پر وہ تمام حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آچکے ہیں، اسی طرح جس طرح ایک جوتی دوسری جوتی کے مشابہ ہوتی ہے۔ (جامع الترمذی كتاب الإيمان عن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم باب نمبر (۱۸)باب مَا جَاءَ فِي افْتِرَاقِ هَذِهِ الأُمَّةِ۔ حدیث نمبر ۲۶۴۱)
امت مسلمہ کی خطرناک حالت کا ایک بیان حدیث میں یوں ملتا ہے: عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِﷺ افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً فَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَافْتَرَقَتِ النَّصَارَى عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً فَإِحْدَى وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتَفْتَرِقَنَّ أُمَّتِي عَلَى ثَلاَثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللّٰہِ مَنْ هُمْ قَالَ الْجَمَاعَةُ۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب (۱۷) باب افْتِرَاقِ الأُمَمِ) حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہودی اکہتر (۷۱) فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے جن میں سے ایک جنتی ہے اور باقی ستر آگ میں۔ اور نصاریٰ بہتّر(۷۲) فرقوں میں بٹ گئے جن میں سے اکہتر (۷۱)آگ والے ہیں اور ایک جنتی ہے۔ اور اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدکی جان ہے! میری امت تہتر (۷۳)فرقوں میں بٹ جائے گی جن میں سے ایک جنتی ہوگا اور بہتّر(۷۲) فرقے آگ میں ہوں گے۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ! (جنتی فرقے والے) وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’الْجَمَاعَةُ‘‘یعنی وہ جماعت ہوں گے۔

ایسے پُر فتن دور کا نقشہ سن کر صحابہ کرامؓ تشویش میں مبتلا ہوگئے اور بعض صحابہؓ نے حضورؐ سے پوچھا :وَمَعَنَا عُقُولُنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ۔ کیا اُس دن ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی؟(یعنی کیا اُس وقت مسلمان اپنی عقلیں کھو دیں گے جو ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے) بہر کیف آنحضرت ﷺ کی وفات کے ساتھ ہی فتنوں نے اسلام میں سر اٹھانا شروع کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت کے ذریعے ان فتنوں کا سدّ باب کیا اور مسلمانوں کو متحد و متفق رکھا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: ’’قال ابن اسحاق: و لمّا تُوفّی رسول اللّٰہ ﷺ عظمت بہٖ مُصیبۃ المسلمین، فکانَت عائشۃُ، فیما بلَغَنی، تَقُوْلُ: … و صَارَ المُسلمُون کَالغَنَم المُطیرۃ فی اللیلۃ الشاتیۃ لِفقْدِ نَبیّھِم ﷺ، حتیٰ جَمَعَھُم اللّٰہ علیٰ أبی بکر۔‘‘ یعنی جب آنحضرت ﷺ کی وفات ہوئی تو اس کی وجہ سے مسلمانوں پر عظیم مصیبت آئی اور حضرت عائشہؓ کہا کرتی تھیں کہ (اُس وقت) مسلمان اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کی وجہ سے سردیوں کی رات میں بارش میں بھیگی ہوئی بکریوں کی طرح ہو گئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ہاتھ پر جمع کر دیا۔ (الروض الأنف فی تفسیر السیرۃ النبویۃلابن ھشام۔ لابی القاسم عبدالرحمٰن بن عبداللہ الخثمعی السھیلی (المتوفّٰی: ۵۸۱ ھ) باب وفاۃ رسول اللہ ﷺ۔ ذکر افتتان المسلمین بعد موتہٖ)
اُمت کے اتحاد، اتفاق، قیام اور بقا کا واحد ذریعہ خلافت بنا اسی لیے بزرگان دین نے اس کو ارکان دین میں سے قرار دیا ہے۔ علامہ القرطبیؒ فرماتے ہیں: ’’وأجمعت الصحابة على تقديم الصدّيق بعد اختلافٍ وقع بين المهاجرين والأنصار في سَقِيفة بني ساعدة في التعيين، حتى قالت الأنصار: منا أمير ومنكم أمير فدفعهم أبو بكر وعمر والمهاجرون عن ذلك، وقالوا لهم: إن العرب لا تدين إلا لهذا الحيّ من قريش، ورووا لهم الخبر في ذلك، فرجعوا وأطاعوا لقريش فلو كان فرض الإمامة غير واجب لا في قريش ولا في غيرهم لما ساغت هذه المناظرة والمحاورة عليها، ولقال قائل: إنها ليست بواجبة لا في قريش ولا في غيرهم، فما لتنازعكم وجه ولا فائدة في أمر ليس بواجب ثم إن الصدّيق رضي اللّٰه عنه لما حضرته الوفاة عهد إلى عمر في الإمامة، ولم يقل له أحد هذا أمر غير واجب علينا ولا عليك فدلّ على وجوبها وأنها ركن من أركان الدِّين الذي به قوام المسلمين، والحمد للّٰه رب العالمين،‘‘ یعنی سقیفہ بنی ساعدہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان ہونے والے اختلاف کے بعد صحابہ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کی اَگوائی پر اجماع کیا …. پس اگر امامت کی فرضیت واجب نہ ہوتی نہ قریش میں اور نہ ہی کسی اور میں تو یہ بحث اور مکالمہ جائز نہ ہوتا اور کوئی کہنے والا ضرور کہتا کہ یہ (خلافت) واجب ہی نہیں ہے۔پس تمہارے تنازع کی کوئی وجہ نہیں ہے اور نہ ہی ایسے غیر واجب معاملے میں کوئی فائدہ ہے۔ پھر جب حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے امامت حضرت عمر فاروق ؓکے سپرد کر دی۔ تب بھی کسی نے نہ کہا کہ یہ امر ہم پر اور آپ پر واجب ہی نہیں ہے۔ پس یہ (ان سارے واقعات کا رونما ہونا) اس کے واجب ہونے پر دلالت کرتا ہے اور یہ کہ یہ ارکان دین میں سے ایک رکن ہے جس کے ذریعے مسلمانوں کا قیام اور بقا ہے۔ و الحمدللّٰہ ربّ العالمین۔ (تفسير الجامع لاحكام القرآن/ القرطبي (وفات ۶۷۱ہجری)۔ سورۃ البقرۃ، زیر آیت وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَٰئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الأَرْضِ خَلِيفَةً…)
جس طرح آنحضرت ﷺ کی وفات پر اُمت مسلمہ پر آنے والی اندوہناک مصیبت سے بچنے کا سامان اللہ تعالیٰ نے خلافت و امامت کے ذریعے کیا اسی طرح آخری زمانے میں آنے والے فتنوں اور مصیبتوں سے بچاؤ کا سامان بھی آنحضورﷺ نے منہاج نبوت پر قائم ہونے والی خلافت و امامت کو قرار دیا اور امت مسلمہ کو امام اور اس کے ذریعے قائم ہونے والی جماعت کے ساتھ وابستگی کی تلقین فرمائی چنانچہ روایت میں آتا ہے: حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، يَقُولُ كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللّٰہِ صلى اللّٰه عليه وسلم عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ، مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللّٰہُ بِهَذَا الْخَيْرِ، فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ ’’ نَعَمْ‘‘ قُلْتُ وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ قَالَ نَعَمْ، وَفِيهِ دَخَنٌ’’ قُلْتُ وَمَا دَخَنُهُ قَالَ ‘‘ قَوْمٌ يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْىٍ، تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ’’ قُلْتُ فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ ‘‘نَعَمْ، دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا’’ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللّٰہِ صِفْهُمْ لَنَا قَالَ ‘‘هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا’’ قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ قَالَ ‘‘تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ‘‘ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلاَ إِمَامٌ قَالَ ’’فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ، حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ، وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ‘‘ (صحیح بخاری کتاب الفتن باب نمبر (۱۱)باب كَيْفَ الأَمْرُ إِذَا لَمْ تَكُنْ جَمَاعَةٌ) ترجمہ: حضرت حذیفہ بن یمانؓ کہتے ہیں کہ لوگ اچھی باتوں کے متعلق رسول اللہﷺ سے پوچھا کرتے تھے اور مَیں آپؐ سے شر کے متعلق پوچھتا تھا اس ڈر سے کہ کہیں وہ مجھے نہ آ گھیرے۔ مَیں نے کہا : یا رسول اللہؐ! ہم جہالت اور شر میں تھے تو اللہ تعالیٰ نے (آپؐ کو بھیج کر) یہ خیر و برکت ہم کو دی۔ کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ مَیں نے کہا: کیا اس شر کے بعد بھی کوئی خیر ہوگا؟ فرمایا: ہاں اور اُس میں کچھ بُرائی بھی ملی ہوگی۔ مَیں نے کہا: اس میں کیا برائی ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا: ایسے لوگ ہوں گے جو میرے راستہ کے سوا کسی اور راستے کی طرف راہنمائی کریں گے، ان میں کچھ باتیں تو تمہیں اچھی معلوم ہوں گی اور کچھ باتیں ایسی ہوں گی جن کو تم بُرا جانو گے۔ مَیں نے کہا: کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے ہوں گے جو اُن کی بات مان کر دروازوں کی طرف گیا تو وہ اس کو جہنم میں پھینک دیں گے۔ مَیں نے کہا: یا رسول اللہؐ! ہم سے ان کا حال بیان فرمائیں۔ آپؐ نے فرمایا: وہ ہماری قوم سے ہوں گے، ہماری زبان بولیں گے۔ مَیں نے پوچھا: آپؐ مجھے کیا حکم دیتے ہیں اگر اس شر نے مجھے آ گھیرا؟ آپؐ نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہنا۔ مَیں نے کہا: اگر ان کی جماعت نہ ہو اور نہ کوئی امام؟ تو آپؐ نے فرمایا: پھر ان سب فرقوں سے الگ رہو اگرچہ تمہیں درخت کی جڑیں بھی چبانی پڑیں۔ تم اسی حالت میں رہو، خواہ موت کی نوبت پہنچ جائے۔
آنحضرت ﷺ کی انذار کردہ خبروں کے مطابق خلافت راشدہ کے بعد ملوکیت ظاہر ہوئی اور پھر جابر حکمران بھی آئے۔ ظالم و جابر حکمرانوں کے دور میں علمائے دین نے دینی معاملات میں ظلم و ستم کر کے امت کو فرقہ واریت کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ علامہ القرطبی امت کے اس بگاڑ کا دردناک حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وقد حذّر رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أمّته لما قد علم ما يكون في آخر الزمان فقال: ’’ألاَ إنّ مَن قبلكم مِن أهل الكتاب افترقوا على اثنتين وسبعين مِلّة وإن هذه الأمة ستفترق على ثلاث وسبعين فرقة كلھا في النار إلا واحدة‘‘ الحديث، وسيأتي فحذّرهم أن يُحدِثوا من تلقاء أنفسھم في الدِّين خلاف كتاب اللّٰه أو سنته أو سنة أصحابه فيُضِلّوا به الناس وقد وقع ما حذّره وشاع، وكثر وذاع فإنا للّٰه وإنّا إليه راجعون۔ (تفسير الجامع لاحكام القرآن/ القرطبي (وفات ۶۷۱ هجری) زیر آیتفَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَـٰذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُواْ بِهِ ثَمَناً قَلِيلاً فَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا يَكْسِبُونَ۔ البقرۃ:۸۰) آنحضور ﷺ نے اپنی امت کو آخری زمانے کے متعلق دیے گئے علم کی بنا پر متنبہ فرمایا تھا … اور انہیں ہوشیار کیا تھا کہ وہ کتاب اللہ، سنت نبوی اور اصحاب رسول کی سنت کے خلاف دین میں نئی باتیں پیدا نہ کریں ورنہ وہ لوگوں کو گمراہ کر دیں گے۔ پس جن باتوں سے آپؐ نے ہوشیار کیا تھا وہ واقع ہو چکی ہیں اور پھیل چکی ہیں اور کثرت اختیار کر چکی ہیں ۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔
علامہ ابن حجر العسقلانیؒ (المتوفیٰ: ۸۵۲ھ) نے بھی امت کے متعلق لتتبعن سنن من قبلکم پیشگوئی کے پورے ہونے کا نقشہ یوں کھینچا ہے: ’’….لتتبعن سنن من قبلکم … قلت: و قد وقع معظم ما أنذر بہ ﷺ و سیقع بقیۃ ذالک۔‘‘ یعنی آنحضرت ﷺ نے جن باتوں سے متنبہ فرمایا تھا اس کا ایک بڑا حصہ پورا ہوچکا ہے اور باقی بھی عنقریب پورا ہوجائے گا۔ (فتح الباری شرح بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب و السنۃ باب نمبر ۱۴ باب قول النبی ﷺ ’’لتتبعنّ سنن من کان قبلکُمْ‘‘)
هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا کے مصداق شرپسند اور فتنہ پرداز علماء نے ہی امت مسلمہ کو اس حالت زار اور فرقہ واریت کے عذاب تک پہنچایا ہے۔ اس سے بچنے کا واحد حل آنحضرت ﷺ کی تاکیدی ہدایت تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ یعنی امام کی تابع مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوجانا ہی ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت احمدیہ منہاج نبوت پر قائم اُس امامت و خلافت کی پیروی میں ہے جس کی پیشگوئی آنحضرت ﷺ نے فرمائی تھی اور جس کا قیام اللہ تعالیٰ نے فیج اعوج کے بعد حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مسیح موعود بنا کر فرمایا۔ جب دوسرے مسلمان بھائیوں کو آپؐ کا یہ تاکیدی پیغام سنایا جاتا ہے تو محض احمدیت کی مخالفت کی وجہ سے اس فرمانِ نبویؐ کو نظر انداز کرجاتے ہیں اور حیلوں بہانوں سے اس کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک بہانہ یہ ہے کہ اس امام سے مراد صاحبِ اقتدار اور صاحبِ حکومت خلیفہ ہے جس کی بیعت کرنی ضروری ہے۔ اگر خلیفہ کے پاس حکومت نہیں تو ایسے بے بس امام کی بیعت کی ضرورت نہیں۔حدیث کے الفاظ پر نظر ڈالنے والا ہر عقلمندانسان سمجھ سکتا ہے کہ یہ ان کا خود ساختہ تصور ہے ورنہ حدیث میں کہیں بھی صاحبِ حکومت امام ہونے کی شرط نہیں بلکہ ایسے امام کی نشاندہی ہے جو دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا … هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا۔(جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے ہوں گے جو اُن کی بات مان کر اُن دروازوں کی طرف گیا تو وہ اس کو جہنم میں پھینک دیں گے…وہ ہماری قوم سے ہوں گے، ہماری زبان بولیں گے) کے زمانے میں ظاہر ہو اور اُن کے فتنوں سے بچائے۔ پس ایسے فتنہ پرداز علماء کے مقابل پر ایک روحانی امام کی ہی ضرورت ہے۔ امام اور اس کی جماعت کی موجودگی میں ان شر پسند علماء کا موجود ہونا ان کی جمعیت، گٹھ جوڑ اور اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے جس کا مطلب ہے کہ امام صاحب حکومت نہ ہوگا۔ اگر صاحب اقتدار اور حکومت امام مراد ہوتے تو ان کی موجودگی میں ایسے شر پسند علماء کو دم مارنے کی جرأت نہ ہوتی۔
پھر لفظ تَلْزَمُبھی بتا رہا ہے کہ اس امام کے ساتھ وابستگی اور تعلق کوئی آسان امر نہیں ہوگا بلکہ مشکلات سے گزرنے کے مترادف ہوگا۔ صاحب اقتدار و طاقت امام اپنی بیعت سے گریز کرنے والے کو ضرور سزا کا مستوجب ٹھہراتا۔ایسے امام کے متعلق تَلْزَمُ کی تاکید کرنا ضروری نہ تھا۔اس وابستگی اور بیعت امام کی تاکید ایک اور روایت میں یوں ملتی ہے: فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَبَايِعُوهُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ فَإِنَّهُ خَلِيفَةُ اللّٰہِ الْمَهْدِيُّ۔(سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب نمبر(۳۴) باب خُرُوجِ الْمَهْدِيِّ) یعنی جب تم اس (امام مہدی) کو دیکھو تو ضرور اُس کی بیعت کرنا خواہ تمہیں برف کے پہاڑوں پر گھٹنوں کے بل چل کر جانا پڑے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ہدایت یافتہ خلیفہ ہے۔
پھر یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ امام اور جماعت تو اور لوگوں کے پاس بھی ہے مثلاً آغاخانی جماعت ہے یا پھر بوہرہ فرقہ ہے وہ بھی امام رکھتے ہیں۔اس میں جماعت احمدیہ کی خصوصیت کیا ہوئی؟ اس بہانہ سے ایک بات تو عیاں ہے کہ ایسے لوگ خود لازمًا امام سے محروم ہیں۔ باقی آغاخانی یا بوہرہ فرقہ تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْکا مصداق نہیں ہوسکتا کیونکہ آغاخانی یا بوہرہ وہی ہوسکتا ہے جو پیدائشی ہو یہ لوگ دیگر لوگوں کو اپنے اندر شامل نہیں کرتے۔ لہٰذا کوئی چاہے بھی تو تَلْزَمُ والی بات پوری نہیں کر سکتا۔
فرقوں میں بٹےمسلمانوں کے آپس میں بغض و عناد اور تکفیر و تشنیع نے مسلمانوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے اور آنحضرت ﷺ کی حجۃ الوداع کے موقع پر کی گئی سخت ممانعت لَا تَرجِعُوا بَعدِي كُفَّارًا، يَضرِبُ بَعضُكُم رِقابَ بَعضٍ یعنی میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔ (بخاری کتاب الفتن) کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ اس فرقہ واریت اور مذہب کے نام پر قتل و غارت سے نکلنے کا واحد حل امام وقت کےساتھ تعلق اور اس کی اطاعت میں ہے اسی لیے آنحضور ﷺ سے جب تہتر فرقوں میں سے جنتی فرقے کی بابت پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا: اَلْجَمَاعَةُ۔ یعنی وہ جماعت ہوں گے۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب (۱۷) باب افْتِرَاقِ الأُمَمِ) یہ جماعت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا امام ہی بنا سکتا ہے، انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ امام القشیریؒ (المتوفیٰ: 465ھ) آنحضرت ﷺ کی زندگی میں مسلمانوں کی منظّم اور متحد جماعت کی نعمت کے متعلق فرماتے ہیں: ’’ولو كان ذلك بِحَيلِ الخلْق ما انتَظمَتْ هذه الجملة‘‘ یعنی اگر مخلوق کے حیلوں منصوبوں سے ایسی کوشش کی جاتی تو کبھی بھی ایک ہی لڑی میں پروئی ہوئی جماعت نہ بنتی۔ (تفسير لطائف الاشارات / القشيري۔ سورۃ الانفال آیت وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ)
ایک اَور روایت میں ہے کہ جب آپؐ سے اُس ناجی فرقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا: ’’مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي۔‘‘ یعنی جس حال پر میں اور میرے صحابہ ہیں (جامع الترمذی كتاب الايمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم باب نمبر (۱۸)باب مَا جَاءَ فِي افْتِرَاقِ هَذِهِ الأُمَّةِ۔ حدیث نمبر ۲۶۴۱) اس حدیث نے بھی واضح کردیا کہ دین اسلام کی خاطر جو قربانیاں اسلام کے پہلے دَور میں کی گئیں آخری زمانے میں بھی ایمان انہی قربانیوں کا تقاضا کرے گا۔ مشہور حدیث ہے بَدَأَ الإِسْلاَمُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيبًا فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِیعنی اسلام غریب الوطنی کی حالت میں شروع ہوا اور دوبارہ غریب الوطن ہوجائے گا جیسے شروع ہوا تھا ۔پس غریب الوطن لوگوں کو مبارک ہو۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان) بارھویں صدی عیسوی کے مشہور مالکی فقہ کے ماہر ابو بکر محمد طرطوشی (المتوفیٰ: ۵۲۰ھ) اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: و معنی ھذا الحدیث: أنّہٗ لَمَّا جَاء اللّٰہُ بِالْإِسْلَامِ، فَکَانَ الرَّجُلِ إِذَا أَسْلَمَ فِی قَبیلَتِہٖ وَ حَیِّہٖ غَرِیبًا فِیھم، مُسْتَخْفِیًا بإسْلامِہٖ، قَد جَفاہُ الأھْلُ و العَشِیرۃُ، فَھُو بَینَھُم ذَلیلٌ، حَقیرٌ، خائِفٌ یّتَغَصَّصُ بِجُرَع الْجَفاءِ وَ الْأَذی، ثُمَّ یَعُوْدُ غَرِیبًا، لِکَثْرۃِ الأھْواءِ المُضِلَّۃِ، وَ الْمذَاھِب المُخْتلفۃ، حتیٰ یَبْقی أھْلُ الْحَقِّ غُرَباء فِی النّاس لِقِلَّتِھِمْ و خَوْفِھِمْ علیٰ أنْفُسِھِمْ۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کا آغاز کیا تو اُس وقت جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تو وہ اپنے ہی قبیلہ اور محلہ میں اجنبی اور غیر ہو جاتا، جو اپنے مسلمان ہونے کو چھپائے پھرتا اور اُس کا خاندان اور اُس کا قبیلہ اُس سے ظلم و ستم سے پیش آتا۔ پس وہ اُن میں بے عزت، حقیر اور ڈرے ہونے کی حالت میں ظلم و ستم اور تکلیفوں کے گھونٹ پیتا۔ یہ (اسلام) دوبارہ اجنبیت کی حالت میں لوٹ آئے گا، گمراہ کن خواہشات اور مذاہب مختلفہ کی کثرت کی وجہ سے یہاں تک کہ لوگوں میں اہل حق لوگ اجنبیوں کی طرح رہ جائیں گے اپنی قلت کی وجہ سے اور اپنی جانوں کے خوف کی وجہ سے۔ (کتاب الحوادث و البدع للإمام أبو بکر محمد بن الولید الطُرطوشی۔ الباب الثانی فیما استملت علیہ السنّۃ من التحذیر من الأھواء و البدع)
یہ حالات بھی بعینہٖ جماعت احمدیہ مسلمہ پر صادق آتے ہیں جن کو محض امام وقت کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے اقلیت قرار دے کر غیر اور اجنبی بنا دیا گیا ہے۔ ۱۹۷۴ء میں کیے گئے اس فیصلے کو اخبار نوائے وقت نے یوں بیان کیا: ’’…قادیانی فرقہ کو چھوڑ کر جو بھی ۷۲ فرقے مسلمانوں کے بتائے جاتے ہیں سب کے سب اس مسئلہ کے اس حل پر متفق اور خوش ہیں۔‘‘ (نوائے وقت ۶؍اکتوبر ۱۹۷۴ء صفحہ ۴) گوکہ واقعاتی لحاظ سے ۷۲ فرقوں اور ایک جماعت کی پہچان واضح تھی لیکن یہاں تو خود اقرار بھی کر لیا کہ ہم ۷۲ اکٹھے ہیں اور احمدیہ جماعت الگ ہے۔ باقی فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں وہ تو آنحضورﷺ مذکورہ بالا حدیث میں خود فرما چکے ہیں۔ حضرت ملا علی القاریؒ (المتوفیٰ: ۱۰۱۴ھ) تہتر فرقوں والی حدیث کی شرح میں ناجی فرقہ کے متعلق لکھتے ہیں: ’’… الفرقۃ الناجیۃ ھم أھل السنۃ البیضاء المحمدیۃ و الطریقۃ النقیۃ الأحمدیۃ۔‘‘ یعنی واضح سنت محمدیہ اور خالص طریقہ احمدیہ پر عمل کرنے والی جماعت ہی ناجی فرقہ ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان باب الاعتصام بالکتاب و السنۃ الفصل الثانی)
بر صغیر کے ایک مصنف جناب اشفاق حسین مختار صاحب اپنی کتاب ’’خون کے آنسو‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’جماعت اور بِھیڑ کا فرق احمدی جماعت ہیں۔ ہم سات کروڑ تو ہیں لیکن ہم سات کروڑ آدمیوں کی بِھیڑ ہیں، ہم اپنے آپ کو جماعت نہیں کہہ سکتے البتہ احمدی صاحبان اپنے آپ کو جماعت کہہ سکتے ہیں کیونکہ ان کی تنظیم اچھی ہے۔ مشہور عربی مقولہ ہے یَدُ اللّٰہِ عَلَی الْجَمَاعَۃ یعنی اللہ کا ہاتھ جماعت کے اوپر ہوتا ہے یعنی اللہ ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو تنظیم کر کے اپنی جماعت بنا لیتے ہیں۔ خدا بِھیڑ کی مدد نہیں کرتا۔ چونکہ ہم بِھیڑ ہیں اس لیے خدا نے اپنا مددگار ہاتھ ہمارے اوپر سے اٹھا لیا۔ تنظیم اگر ہو تو تھوڑی سی جماعت بھی دنیا میں تہلکہ ڈال دیتی ہے اور اگر تنظیم نہ ہو تو سات کروڑ تو کیا بلکہ ستر کروڑ بھی ذلت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔‘‘(خون کے آنسو مصنفہ اشفاق حسین صفحہ ۶۳۔ اشاعت اول اکتوبر ۱۹۳۱ء۔ اسٹار بک ڈپو کلکتہ)
فرقوں سے علیحدگی اور جماعت میں شمولیت کے متعلق اور بھی روایات ہیں، گنجائش نہیں ہے کہ سب کا یہاں ذکر کیا جائے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے ایک خطاب میں فرمایا: عَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُرْقَةَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الاِثْنَيْنِ أَبْعَدُ مَنْ أَرَادَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ۔ یعنی اپنے آپ کو جماعت کے ساتھ وابستہ کرو اور فرقوں سے الگ رہو کیونکہ شیطان اکیلے کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ ان دونوں سے دور رہتا ہے جو اکٹھے ہوتے ہیں۔ جو کوئی جنت کے وسطی اور بہترین حصہ میں داخل ہونا چاہتا ہے تو اُسے چاہیے کہ جماعت کے ساتھ وابستگی اختیار کرے۔ (جامع الترمذی کتاب الفتن باب نمبر (۷)باب مَا جَاءَ فِي لُزُومِ الْجَمَاعَةِ)
الحمد للہ یہ نعمت جماعت احمدیہ کو حاصل ہے کہ وہ ایک امام کے ہاتھ پر جمع ہے اور دنیا کے کسی بھی حصہ میں بسنے والا احمدی خلیفہ وقت کے ساتھ وابستگی اور تعلق بیعت رکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکیدی ہدایت پر عمل پیرا ہے۔ اللہ تعالیٰ باقی مسلمان بھائیوں کو بھی امام وقت کو پہچاننے اور قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جماعت احمدیہ کی مخالفت کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اے دشمنانِ احمدیت! مَیں تمہیں دو ٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر تم خلافت کے قیام میں نیک نیت ہو تو آؤ اور مسیح محمدی کی غلامی قبول کرتے ہوئے اس کی خلافت کے جاری و دائمی نظام کا حصہ بن جاؤ ورنہ تم کوششیں کرتے کرتے مر جاؤ گے اور خلافت قائم نہیں کر سکو گے۔ تمہاری نسلیں بھی اگر تمہاری ڈگر پر چلتی رہیں تو وہ بھی کسی خلافت کو قائم نہیں کر سکیں گی۔ قیامت تک تمہاری نسل در نسل یہ کوشش جاری رکھے تب بھی کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ خدا کا خوف کرو اور خدا سے ٹکر نہ لو اور اپنی اور اپنی نسلوں کی بقا کے سامان کرنے کی کوشش کرو۔‘‘(خطاب برموقع صد سالہ خلافت جوبلی لندن – ۲۷؍مئی ۲۰۰۸ء بحوالہ خطابات امام جماعت احمدیہ عالمگیر صفحہ ۵۵۔ شائع شدہ ۲۰۰۹ء)
مزید پڑھیں: فلسفہ قربانی




