متفرق شعراء

خلافت

یہ رحمت کا سایہ، یہ ہر پل ہدایت

یہ ربّانی وعدہ، یہ نُورِ خلافت

یہ طوفانِ عالم میں ساحل کی صورت

یہ ایمان والوں کے دل کی ضرورت

یہ رشتہ فقط ایک نسبت نہیں ہے

خدا دُور گر اِس سے قربت نہیں ہے

اسی سے جماعت میں شیرازہ بندی

اسی سے وفاؤں کی قائم بلندی

خلیفہ کی آواز یوں دل میں اترے

جو سوئے تھے وہ حوصلے اس سے نکھرے

یہ نفرت کے جنگل میں شبنم بکھیرے

کرے دور، مایوس دل کے اندھیرے

خلافت اطاعت کا زندہ قرینہ

محبت کا روشن، مقدّس خزینہ

یہی وہ شجر ہے جو سایہ فگن ہے

اسی کو تو امن آشتی کی لگن ہے

ہمیں اپنی خواہش کو تابع بنانا

ہے ہر حکم پر اپنے سر کو جھکانا

اطاعت میں سرِّ بقا ہے شُنیدہ

اسی میں ہے اِخلاص کا نور دیدہ

اگر دل میں سچّی وفا جاگ جائے

تو ناکام ہونے کا ڈر بھاگ جائے

خلافت سے وابستگی فخر بھی ہے

یہی دین کی اصل میں قدر بھی ہے

خدایا! خلافت سدا سر پہ رکھنا

کمربستہ خدمت پہ اس در پہ رکھنا

عقیدت، اطاعت، رفاقت عطا ہو

خلافت کی ایسی محبّت عطا ہو

رہے تا ابد یہ چراغِ ہدایت

خلافت میں جاری ہے نُورِ نبوّت

نبوّت کی منہاج، بنیاد جس کی

خلافت سے وابستہ دائم ترقّی

(ڈاکٹر طارقؔ انور باجوہ-لندن)

مزید پڑھیں: گواہی چاند اور سورج نے دی ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button