شہید کے معنی
شہید اصل میں وہ شخص ہوتا ہے جو خداتعالیٰ سے استقامت اور سکینت کی قوّت پاتاہے۔ اور کوئی زلزلہ اور حادثہ اس کو متغیر نہیں کرسکتا۔ وہ مصیبتوں اور مشکلات میں سینہ سپر رہتاہے یہاںتک کہ اگر محض خداتعالیٰ کے لئے اُس کو جان بھی دینی پڑے تو فوق العادت استقلال اُس کو ملتا ہےاور وہ بدوں کسی قسم کا رنج یا حسرت محسوس کئے اپنا سررکھ دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ باربار مجھے زندگی ملے اور بار بار اس کو اللہ کی راہ میں دوں۔ایک ایسی لذّت اور سُرور اس کی روح میں ہوتا ہے کہ ہر تلوار جو اُس کے بدن پر پڑتی ہے اور ہر ضرب جو اُس کو پیس ڈالےاُس کو پہنچتی ہے۔ وہ اُس کو ایک نئی زندگی، نئی مسرّت اور تازگی عطاکرتی ہے۔یہ ہیں شہید کے معنی۔
(ملفوظات جلد اول صفحہ۴۱۵۔۴۱۶،ایڈیشن ۱۹۸۴ء)
یہ بھی یا درکھو کہ یہی شہادت نہیں کہ ایک شخص جنگ میں مارا جاوے بلکہ یہ امر ثابت شدہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ثابت قدم رہتا ہے اور اس کے لیے ہر دکھ درد اور مصیبت کو اٹھانے کے لیے مستعد رہتا ہے اور اٹھاتا ہے وہ بھی شہید ہے۔ شہید کا مقام وہ مقام ہے جہاں وہ اللہ تعالیٰ کو گویا دیکھتا اور مشاہدہ کرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ہستی اس کی قدرتوں اور تصرفات پر وہ اس طرح ایمان لاتا ہے جیسے کسی چیز کو انسان مشاہدہ کر لیتا ہے۔ جب اس حالت پر انسان پہنچ جاوے پھر اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینا کچھ بھی مشکل معلوم نہیں ہوتا بلکہ وہ اس میں راحت اور لذت محسوس کرتا ہے۔ شہادت کا ابتدائی درجہ خدا کی راہ میں استقلال اورثبات قدم ہے۔
(ملفوظات جلد ہفتم صفحہ ۲۹۵،ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
مزید پڑھیں: توبہ لغت عرب میں رجوع کرنے کو کہتے ہیں




