خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء
ہر نبی نے اپنے ماننے والوں کو نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو۔اور سب سے بڑھ کر اس شکر گزاری کا نمونہ ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا
ہر موقع پر جہاں آپؐ نے اپنی شکر گزاری کے عملی نمونے دکھائے وہاں آپؐ نے اپنی امت کو بھی شکر گزاری کرنے کی تلقین فرمائی۔ اس کے اسلوب سکھائے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے دعائیں سکھائیں
ایمان دو حصوں پر مشتمل ہے ۔آدھا صبر میں اور آدھا شکر میںہے (حدیث نبویﷺ)
اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری تو ہے ہی، بندوں کی شکر گزاری کا بھی آپؐ نے خاص طور پر ارشاد فرمایا۔ اور اگر شکر گزاری کے یہ جذبات اور
خیالات ہوں تو معاشرہ ایک خوبصورت منظر پیش کرے گا اور یہی وہ حقیقی اسلامی معاشرہ ہے جو آپؐ پیدا کرنا چاہتے تھے
جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو خیر و برکت عطا کرنا چاہتا ہے تو ان کی عمریں بڑھا دیتا ہے اور انہیں شکر الہام کرتا ہے۔
یعنی شکر بجا لانے کی توفیق دیتا ہے (حدیث نبویﷺ)
قومی ترقی کے لیے بھی شکر گزاری ضروری ہے۔جماعتی ترقی کے لیے بھی شکر گزاری ضروری ہے ۔انفرادی ترقی کے لیے بھی شکر گزاری ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری، آپس میں ایک دوسرے کی شکر گزاری اور ہر اس شخص کی شکر گزاری جس سے کسی قسم کا فائدہ پہنچے یہ انتہائی ضروری ہے اور یہی قومی یکجہتی کا باعث بنتی ہے
کوئی موقع ایسا نہیں تھا جہاں آپؐ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری نہ کرتے ہوں حتّٰی کہ بظاہر چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی آپؐ کی شکر گزاری ہوتی تھی
شکر گزاری کا اصل معیار یہ ہے کہ ہر بات پر صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی حمد ہو اور اس کی شکر گزاری کی جائے
’’دیکھو !ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کو فتح کیا تو آپؐ نے اسی طرح اپنا سر جھکایا اور سجدہ کیا جس طرح پر ان مصائب اور مشکلات کے دنوں میں جھکاتے اور سجدے کرتے تھے جب اسی مکہ میں آپؐ کی ہر طرح سے مخالفت کی جاتی اور دکھ دیا جاتا تھا ۔جب آپؐ نے دیکھا کہ میں کس حالت میں یہاں سے گیا تھا اور کس حالت میں اب آیا ہوں تو آپؐ کا دل خدا کے شکر سے بھر گیا اور آپؐ نے سجدہ کیا‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ایسی بات آتی جو آپؐ کو خوش کرتی یا جو آپؐ کے لیے خوشی کا باعث ہوتی تو آپؐ اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدے میں گر جاتے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مستقل شکر اور ذکر الٰہی کا نقشہ کھینچتے ہوئے حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اوقات میں ذکر الٰہی کیا کرتے تھے
شکرگزاری کے حوالے سے آنحضورﷺ کا اُسوۂ حسنہ، دعائیں اور اپنی امّت کو زرّیں نصائح
جلسہ سالانہ برطانیہ کے حوالے سے دعا کی تحریک
اگلے جمعہ کو ان شاء اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ برطانیہ کا جلسہ سالانہ بھی شروع ہو رہا ہے۔ دعا کریں اللہ تعالیٰ اسے ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔
ہر ایک کو ہر طرح اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آج کل گرمی کی وجہ سے یہ موسم کی جو شدّت ہے اس کے بعض خطرات بھی ہیں۔
ہر قسم کے بد اثرات سے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے ۔اور اسی طرح جو ڈیوٹی دینے والے کارکنان ہیں انہیں بعض دفعہ گرمی میں کھڑے ہو کےبھی ڈیوٹی دینی پڑتی ہے اور سخت ڈیوٹیاں بھی ہوتی ہیں اللہ ان کو بھی احسن رنگ میں اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء بمطابق 17؍وفا1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا تو اس سے پہلے اس کے فائدے کے لیے بے شمار نعمتیں پیدا کیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فضل اور بندوں سے یہ سلوک یقیناًاس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ بندہ اس کا شکر گزار بنے۔
ہر نبی نے اپنے ماننے والوں کو نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو۔ اور سب سے بڑھ کر اس شکر گزاری کا نمونہ ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا۔
اپنے ہر عمل سے اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کا اظہار فرمایا۔ آپؐ کی گریہ وزاری، آہ و بکا اور اللہ تعالیٰ کے حضور نہایت عاجزی سے گڑگڑاتے دیکھ کر جب آپؐ سے سوال کیا گیا کہ آپؐ سے تو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی کامیابیوں کے وعدے کیے ہیں اور آپؐ کو کامیابیاں عطا بھی فرما رہا ہے تو پھر اس قدر آہ و بکا کس لیے؟ تو آپؐ نے فرمایا ان انعامات پر میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ عاجزی سے اس کے حضور جھکتے ہوئے اس کا شکریہ ادا نہ کروں؟
(صحیح البخاری کتاب تفسیر بَابُ قَوْلِهِ ’’لِيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ ‘‘ حدیث 4837 مترجم جلد 12 صفحہ 83 شائع کردہ نظارت اشاعت)
ہر موقع پر جہاں آپؐ نے اپنی شکر گزاری کے عملی نمونے دکھائے وہاں آپؐ نے اپنی امت کو بھی شکر گزاری کی تلقین فرمائی۔ اس کے اسلوب سکھائے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے دعائیں سکھائیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی اسوہ، دعاؤں اور نصائح کا آج میں ذکر کروں گا۔ ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ایمان دو حصوں پر مشتمل ہے ۔آدھا صبر میں اور آدھا شکر میںہے۔
(الجامع لشُعب الایمان جلد 12 صفحہ 192۔193 حدیث:9264 مکتبۃ الرشد 2003ء)
اصل میں تو صبر بھی شکر گزاری کا پہلو ہی اجاگر کرتا ہے ۔اس لیے اگر دیکھا جائے تو حقیقت میں مکمل ایمان اس شکر گزاری سے ہی ہوتا ہے۔
حضرت صہیبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے اس کا معاملہ سراسر خیر ہے اور یہ مومن کے علاوہ کسی کے لیے نہیں ۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے خیر ہے۔اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے یہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔
(صحیح مسلم کتاب الزھد و الرقائق باب المؤمن امرہ کلہ خیرحدیث 5304 مترجم جلد 15 صفحہ 194 شائع کردہ نور فاؤنڈیشن)
خیر اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ۔(البقرہ:154) اللہ تعالیٰ یقیناًصبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اور پھر فرمایا کہ وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ۔(البقرہ:156) اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دے۔ پس جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو اور اس کو خوشخبری دے رہا ہو اس کے لیے اس سے بڑی خیر اَور کیا ہوسکتی ہے۔ یہ حقیقی صبر بھی اسی وقت ہو سکتا ہے جب انسان خدا تعالیٰ کی تمام نعمتوں کا شکر گزار بندہ بنے۔
پس
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوٹے سے فقرے اور لفظ میں بھی حکمت کے خزانے ہوتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ ؓنے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو لوگوں کا شکر نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر نہیں کرتا۔
(جامع الترمذی ابواب البر والصلۃ بَابُ مَا جَاءَ فِي الشُّكْرِ لِمَنْ أَحْسَنَ إِلَيْكَ حدیث1954)
اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری تو ہے ہی، بندوں کی شکر گزاری کا بھی آپؐ نے خاص طور پر ارشاد فرمایا۔ اور اگر شکر گزاری کے یہ جذبات اور خیالات ہوں تو معاشرہ ایک خوبصورت منظر پیش کرے گا اور یہی وہ حقیقی اسلامی معاشرہ ہے جو آپؐ پیدا کرنا چاہتے تھے۔
پھر ایک روایت میں آتا ہے ۔حضرت نعمان بن بشیر ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا: جو تھوڑے پر شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر گزار نہیں ہوتا ۔اور جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ اللہ کی نعمت کا ذکر کرنا بھی ایک قسم کا شکر ہے اور اس کا ذکر نہ کرنا ناشکری ہے ۔اور آپؐ نے فرمایا کہ جماعت رحمت ہے اور تفرقہ عذاب ہے۔ (مسند الامام احمد بن حنبل مسند النعمان بن بشیر جلد 6 صفحہ297 حدیث:18640 عالم الکتب 1998ء) جماعت میں رہو ،اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو اور اِکائی بن کے رہو تو پھر ہی تمہیں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے حصہ بھی ملے گا ۔اور اگر تفرقہ ڈالو گے، تمہارے دل پھٹے ہوئے ہوں گے تو پھر تم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث نہیں بن سکتے۔
کس گہرائی سے آپؐ نے شکر گزاری کی تعلیم دی ہے۔
اس بارے میں ایک روایت ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی سے ملتے تو اس سے پوچھتے کہ تم کیسے ہو؟ تو وہ کہتا ہے کہ بہت اچھا ہوں اور مَیں اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں تو حضورؐ فرماتے: اللہ تعالیٰ تجھے اچھا ہی رکھے۔ ایک بار آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ملے تو یہی سوال کیا تو جواباً اس نے کہا کہ اگر میں شکر کروں تو اچھا ہوں۔ نبی کریم خاموش رہے صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ! جب آپؐ پوچھتے اور میں جواب دیتا تو آپؐ یہ دعا کیا کرتے تھے۔جب میں یہ کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں تو آپؐ دعا دیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تجھے اچھا رکھے لیکن آج آپؐ خاموش ہو گئے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب میں تجھ سے پوچھتا اور تُو کہتا کہ بہت اچھا ہوں اور میں اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں تو میں تیرے لیے دعا کرتا کہ اللہ تعالیٰ تجھے اچھا رکھے۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں سے اَور نوازے لیکن آج تُو نے کہا کہ اگر مَیں شکر کروں۔ گویا تُو اس شک میں پڑا ہوا ہے کہ شکر کروں تو ٹھیک ہے الحمدللہ، نہیں تو اتنی بھی حالت میری اچھی نہیں ہے کہ میں کہوں میں بہت اچھا ہوں۔ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں خاموش ہو گیا۔
(مسند الامام احمد بن حنبل مسند انس بن مالک جلد 4 صفحہ 618 حدیث 13571 عالم الکتب)
آپؐ نے کہا کہ تم شک میں پڑ گئے تھے۔ تم نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی کی ہے۔ آپؐ کو یہ برداشت ہی نہیں تھا کہ کسی کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے معاملے میں ہلکا سا بھی منفی خیال پیدا ہو۔
حضرت اسامہ بن زیدؓ نے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس سے کوئی نیکی کی گئی اور اس نے اس کے کرنے والے سے کہا جَزَاکَ اللّٰہُ۔ جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بہترین جزا دے تو اس نے تعریف کا حق ادا کر دیا۔
(جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ باب ماجاءفی الثناء بالمعروف حدیث2035)
اسی طرح حضرت ابو ہریرہؓ سے ایک روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو خیر و برکت عطا کرنا چاہتا ہے تو ان کی عمریں بڑھا دیتا ہے اور انہیں شکر الہام کرتا ہے۔ یعنی شکر بجا لانے کی توفیق دیتا ہے۔
(کنز العمال کتاب الاخلاق جلد2 جزء 3 صفحہ104 حدیث6409 دارالکتب العلمیۃ)
پس
قومی ترقی کے لیے بھی شکر گزاری ضروری ہے۔جماعتی ترقی کے لیے بھی شکرگزاری ضروری ہے ۔انفرادی ترقی کے لیے بھی شکر گزاری ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری، آپس میں ایک دوسرے کی شکر گزاری اور ہر اس شخص کی شکر گزاری جس سے کسی قسم کا فائدہ پہنچے یہ انتہائی ضروری ہے اور یہی قومی یکجہتی کا باعث بنتی ہے۔
پھر شکر گزاری کا صحیح ادراک پیدا کرنے کے لیے آپؐ نے ایک روایت میں جو خوب نصیحت فرمائی اس کا یوں ذکر ملتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں۔ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ تیرے اشعار کا کیا ہوا ۔یعنی کوئی شعر سناؤ ۔حضرت عائشہ ؓکو شعر یاد تھے آپؓ سنایا کرتی تھیں۔ تو مَیں نے عرض کی کون سے اشعار؟ وہ تو بہت سے ہیں جو مجھے یادہیں؟ حضورؐ فرماتے شکر کے بارے میں شعر سناؤ۔ تو میں عرض کرتی تھی میرے ماں باپ آپؐ پر فدا ہوں !شاعر کہتا ہے
تُو اُس کمزور کا سہارا بن جس کی کمزوری تجھے بدلہ نہیں دے سکتی۔ ایک دن تُو دیکھے گا کہ اس کے نتائج ظاہر ہوں گے۔
صرف بدلے کے لیے سہارا نہ بنو بلکہ اس کاسہارا بنو جو تمہیں بدلہ نہیں دے گا اور پھر تم دیکھو گے کہ اس کے نتیجے بھی ظاہر ہوں گے۔ یہ شاعر نے کہا۔
پھر وہ ضعیف کبھی نہ کبھی یا تو تجھے اس کا بدلہ دے گا یا تیری تعریف کرے گا۔اور جو تیرے اس احسان پر جو تُو نے کیا ہے تیری تعریف کرتا ہے گویا اس نے اس احسان کا بدلہ چکا دیا۔
الحمدللہ شکریہ کہہ دیا تو وہ بھی اس نے احسان کا بدلہ چکا دیا۔ پھر انہی شعروں میں آپؓ بیان کرتی ہیں کہ
جب تُو کسی معزز سے صلہ رحمی کا ارادہ کرے گا تو تُو اس کی رسی کو بوسیدہ اور کمزور نہیں پائے گا۔
صلہ رحمی کرو گے تو یہ نہیں ہے کہ تم نے کوئی کمزور رسی کو ہاتھ ڈالا ہے بلکہ وہ مضبوط رسی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کا اجر دے گا۔ حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ جب میں نے یہ اشعار سنائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! یہ بالکل ٹھیک ہے۔ مجھے جبرائیل نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مخلوقات کو اٹھائے گا تو اپنے ایک بندے سے پوچھے گا کہ میرے ایک بندے نے تجھ پر احسان کیا۔ کیا تُو نے اس کا شکریہ ادا کیا؟ تو وہ جواباً کہے گا کہ اے میرے ربّ! مجھے معلوم تھا کہ یہ تیری طرف سے احسان ہے اس لیے میں نے تیرا شکریہ ادا کیا۔ بندے کا تو نہیں کیا لیکن تیرا شکریہ ادا کر دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کہے گا کہ
اگر تُو نے اس کا شکر ادا نہیں کیا جس کے ذریعے میں نے تجھ پر احسان کیا تھا تو تُو نے میرا شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔
(کنز العمال کتاب الاخلاق جلد2 جزء 3 صفحہ297حدیث 8621 دارالکتب العلمیۃ)
ایک خوبصورت معاشرہ بنانے کے لیے یہ کتنا خوبصورت عمل ہے۔
پھر
شکر گزاری کی دعا
سکھاتے ہوئے آپؐ فرماتے ہیں۔حضرت عبداللہ بن غَنَّام بَیَاضِیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس شخص نے جب صبح کی اور اس نے یہ دعا کی کہ اے اللہ! جس نعمت نے بھی میرے ساتھ صبح کی ہے وہ تیری طرف سے ہے۔ تُو ایک ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ پس تیرے لیے حمد ہے اور تیرے لیے شکر ہے تو اس نے اپنے دن کا شکر ادا کر دیا ۔اور جب وہ شام کرتا ہے اور اس نے ایسا ہی کہا تو اس نے اپنی رات کا شکر ادا کر دیا۔
(سنن ابو داؤد کتاب الادب بَاب:مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ حدیث5073)
اسی طرح ایک روایت ہے۔ حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ! بخدا !مَیں یقیناًتم سے محبت کرتا ہوں ۔پھر فرمایا اے معاذ! مَیں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد ہرگز نہ چھوڑنا کہ تم کہو
اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔
کہ اے اللہ! میری مدد فرما اپنے ذکر کے لیے اور اپنے شکر کے لیے اور اپنی عبادت کی خوبصورتی کے لیے۔
(سنن ابو داؤد کتاب الوتر باب فِي الِْاسْتِغْفَارِ حدیث 1522)
پھر ایک روایت میں ہے۔ ابو علاء بن شِخِّیرنے بنو حنظلہ کے ایک شخص سے روایت کی ہے ۔اس نے کہا کہ مَیں حضرت شداد بن اوسؓ کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔انہوں نے کہا :کیا مَیں تمہیں وہ نہ سکھاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ تم کہو کہ اے اللہ! مَیں تجھ سے ہر کام میں ثبات طلب کرتا ہوں اور تجھ سے ہدایت کی پختگی مانگتا ہوں اور تجھ سے تیری نعمت کا شکر مانگتا ہوں اور تیری عبادت کا حُسن اور تجھ سے سچ بولنے والی زبان مانگتا ہوں اور قلب ِسلیم میں تیری پناہ چاہتا ہوں اور اس شر سے جو تُو جانتا ہے اور اس خیر سے طلب کرتا ہوں جو تُو جانتا ہے اور تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس سے جسے تُو جانتا ہے اس سے بھی بخشش طلب کرتا ہوں۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے بھی اور دنیا کے ہر شخص سے بھی۔ ہر وہ چیز جو بخشش کر سکتی ہے جوانسان کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ تو تُو بیشک غیب کی باتوں کا علم رکھنے والا ہے ۔
(جامع الترمذی ابواب الدعوات باب منہ (دعا اللھم انی اسئلک…) حدیث 3407)
کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کون فائدہ مند ہے کون نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ اے اللہ! تُو بھی مجھ پر ہر چیز فضل کر اور ہر اس چیز میں جو تیری پیدا کی ہوئی ہے اور جو میرے فائدے کے لیے ہے اس میں بھی میرے لیے خیر رکھ دے۔
پھر ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعا یہ سکھائی ۔حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کون سی دعا سب سے بہتر ہے جو میں نماز میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کہو:
اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّہٗ وَلَکَ الشُّکْرُ کُلُّہٗ وَلَکَ الْمُلْکُ کُلُّہٗ وَلَکَ الْخَلْقُ کُلُّہٗ وَاِلَیْکَ یَرْجِعُ الْاَمْرُ کُلُّہٗ نَسْئَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّرِّ کُلِّہٖ۔
اے اللہ!تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں اور سارا شکر تیرے لیے ہے اور ساری بادشاہی تیرے لیے ہے اور ساری مخلوق تیری ہے اور ہر معاملہ تیری طرف لوٹتا ہے۔ ہم تجھ سے ہر قسم کی بھلائی مانگتے ہیں اور ہر طرح کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
(جمع الجوامع جلد 15 صفحہ 571 – 572 حدیث:15222 دارالکتب العلمیۃ 2016ء)
خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی دعا کا ذکر ایک روایت میں یوں ملتا ہے ۔حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں کہا کرتے تھے۔اس کاترجمہ یہ ہے کہ اے میرے ربّ !میری مدد کر اور میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر ۔اور میری نصرت فرما اور میرے خلاف کسی کی نصرت نہ فرما ۔اور میرے لیے تدبیر کر اور میرے خلاف تدبیر نہ کر ۔اور مجھے ہدایت دے اور میری ہدایت میرے لیے آسان کر دے۔ اور میری مدد کر اس کے خلاف جس نے میرے یا مجھ پر زیادتی کی۔ اے اللہ! مجھے اپنا شکر گزار بنا۔ اپنا ذکر کرنے والا بنا۔ تجھ سے ڈرنے والا ،تیرا فرمانبردار ،تیری بہت اطاعت کرنے والا ،تیری طرف بہت زیادہ جھکنے والا بنا دے۔ اے میرے ربّ! میری توبہ قبول کر اور میری خطا دھو دے اور میری دعا قبول فرما اور میری حجت کو مضبوط کر اور میرے دل کو ہدایت دے اور میری زبان کو سیدھا کر اور میرے دل سے کینہ دُور کر دے۔
(سنن ابو داؤد کتاب الوتربَاب:مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا سَلَّمَ؟حدیث1510)
آپؐ کا سینہ دل ہر چیز سے صاف اور پاک تھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف بالکل کلیةً جھکے ہوئے تھا۔
یہ دعا آپؐ اپنے لیے تو کرتے تھے لیکن اصل میں یہ دعا آپؐ نے ہمیں سکھائی کہ میرے ماننے والوں کو اس طرح اپنے دل کو صاف رکھنے کے لیے دعا کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ کا فضل مانگنا چاہیے۔
حضرت ابو ہریرہ ؓنے بیان کیا۔ ایک دعا ہے جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کیا ہے۔میں اسے نہیں چھوڑتا اور وہ دعا یہ ہے ۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ
اے اللہ! مجھے ایسا بنا دے کہ مَیں تیرا بہت زیادہ شکر کروں اور کثرت سے تیرا ذکر کروں اور تیری نصیحت کی پیروی کروں اور تیرے تاکیدی حکموں کو یاد رکھوں۔
(جامع الترمذی ابواب الدعوات عن رسول اللہﷺ بَابُ[دُعَاءِ:اللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي أُعَظِّمُ شُكْرَكَ…] حدیث 3604)
یہ دعا انسان روز کرے تو پھر غلط قسم کے خیالات بھی پیدا نہیں ہوں گے ۔ غلط قسم کے کام بھی انسان نہیں کرے گا ۔وہی کچھ کرے گا جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص کسی آزمائش میں مبتلا انسان کو دیکھے اور یہ دعا کرے تو اس نے اس نعمت کا شکر ادا کر دیا اور دعا کے الفاظ یہ ہیں کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اس آزمائش سے محفوظ رکھا جس کے ذریعے اس نےتجھے آزمایا اور مجھے تجھ پر اور اپنی ساری مخلوق پر فضیلت دی۔
(کتاب الشکر ابن أبي الدنيا صفحہ 55 مکتبہ التراث الاسلامی 1994ء)
کسی کو دیکھ کر تکلیف میں یہ بھی دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ان تکلیفوں سے محفوظ رکھا۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کچھ دیکھتے جو آپؐ کو اچھا لگتا تو کہتے :
اَلْحَمْدلِلّٰہِ الَّذِیْ بِنِعْمَتِہِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ۔
تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس کے فضل سے تمام نیکیاں مکمل ہوتی ہیں ۔ اور جب آپؐ وہ دیکھتے جو آپؐ ناپسند فرماتے تو کہتے:
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ۔ ہر حال میں تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔
(سنن ابن ماجہ کتاب الادب باب فضل الحامدین حدیث3803)
حضرت انسؓ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمیں بارش نے آ لیا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر سے اپنا کپڑا اٹھا دیا یہاں تک کہ آپؐ پر کچھ بارش پڑی۔ ہم نے کہا یا رسول اللہؐ !آپؐ نے ایسا کس لیے کیا؟ آپؐ نے فرمایا :
کیونکہ یہ بلند و بالا ربّ کی طرف سے تازہ بتازہ آئی ہے
(صحیح مسلم مترجم كتاب صلاة الاستسقاء باب الدعا ءفی الاستسقاء حدیث 1485, جلد 4 صفحہ 54۔55، نور فاؤنڈیشن)
اس کی شکر گزاری کے طور پر مَیں نے ان قطروں کو لیا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ بادل سے برسنے والے پہلے قطرے کے لیے اپنا سر ننگا کر دیتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ہمارے ربّ عزوجل سے یہ تازہ نعمت آئی ہے اور سب سے زیادہ برکت والی ہے۔
(کنز العمال جلد 1 جزء2 صفحہ 267، کتاب الاذکار / قسم الافعال، اوقات الاجابۃ، حدیث 4936۔ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
کوئی موقع ایسا نہیں تھا جہاں آپؐ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری نہ کرتے ہوں حتّٰی کہ بظاہر چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی آپؐ کی شکر گزاری ہوتی تھی ۔
چنانچہ حضرت مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے باہر تشریف لاتے تو یہ دعا کرتے کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّی الْاَذَی وَعَافَانِیْ۔کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مضر چیز مجھ سے دُور کر دی اور مجھے تندرستی عطا کی۔
(سنن ابن ماجہ کتاب الطہارہ باب ما یقول اذا خرج من الخلاء حدیث 301)
حضرت زید بن خالد جہنؓی نے روایت کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز بارش کے بعد پڑھائی جو رات کو ہوئی تھی۔جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف منہ کیا اور فرمایا :کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے ربّ عزّوجلّ نے کیا فرمایا ہے؟ لوگوں نے کہا :اللہ اور اس کارسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرے بندوں میں سے آج صبح بعض مجھ پر ایمان لانے والے ہوئے اور بعض میرا انکار کرنے والے۔ جس نے تو یہ کہا کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی ہے وہ میرا مومن ہے اور ستاروں کا کافر ہے ۔اور جس نے کہا کہ ہم پر بارش فلاں فلاں ستارے کے نکلنے کی وجہ سے ہوئی ہے وہ میرا کافر اور ستاروں کا مومن ہے۔
(صحیح البخاری کتاب الاذان باب یستقبل الامام الناس اذا سلم حدیث 846 مترجم جلد 2 صفحہ 247-248شائع کردہ نظارت اشاعت)
یعنی جو ابھی تک اسی طرح مجھ پر ایمان نہیں لاتا تو وہ ستاروں کو پوجنے والا ہے۔ پس
شکر گزاری کا اصل معیار یہ ہے کہ ہر بات پر صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی حمد ہو اور اس کی شکر گزاری کی جائے۔
کیونکہ اس وقت بعض لوگوں کی ابھی پوری طرح تربیت نہیں ہوئی تھی۔پرانی روایات کا بھی اثر تھا۔ ان کے پرانے روایتی مذہب کا بھی اثر تھا تو وہ کہہ دیا کرتے تھے، ستاروں وغیرہ کے نام لے لیتے تھے تو آپؐ نے ان کو شکر گزاری کی حقیقت بتا کر پھر اس طرح تربیت فرمائی۔
ایک روایت ہے۔ جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئینہ دیکھتے تو یہ فرمایا کرتے تھے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے پیدا کیا اور میری صورت اچھی بنائی اور میرے اخلاق بھی اور مجھ میں ان چیزوں کو خوبصورت بنا دیا جو دوسروں میں عیب دار معلوم ہوتی ہیں۔
(کتاب الشکر ابن أبي الدنيا صفحہ 54مکتبہ التراث الاسلامی 1994ء)
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی چیز کھاتے یا پیتے تو اس کے بعد خدا کا شکر یوں ادا کرتے تھے:
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِیْنَ۔
سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔
(جامع الترمذی ابواب الدعوات باب ما یقول اذا فرغ من الطعام حدیث 3457)
حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب آپؐ کھانے سے فارغ ہوتے اور ایک بار حضرت ابو امامہؓ نے یوں کہا جب آپؐ اپنے دستر خوان کو اٹھاتے یعنی کھانے سے فارغ ہوتے تو آپؐ فرماتے کہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَفَانَا وَاَرْوَانَا غَیْرَ مَخْفِیٍّ وَلَا مَکْفُوْرٍ۔
کہ سب شکر اللہ ہی کا ہے جس نے ہمیں کافی دیا اور پیٹ بھر کر کھلایا پلایا ایسا شکر نہیں کہ یہیں پر بس ہو اور نہ ایسا شکر ہے کہ جس کی پھر ناشکری کی۔
اور کبھی آپؐ یہ فرمایا کرتے تھے کہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اے ہمارے ربّ !ایسا شکر نہیں جو یہیں کھانے پر بس ہو اور نہ ایسا کہ پھر نہ کیا جائے اور نہ ایسا کہ جس کی حاجت نہ رہے۔
اے ہمارے ربّ!
(صحیح البخاری کتاب الاطعمہ باب ما یقول اذا فرغ من طعامہ حدیث5459 مترجم جلد 13 صفحہ 401 – 402شائع کردہ نظارت اشاعت)
شکر گزاری کی تلقین فرماتے ہوئے آپؐ نے ایک روایت میں یوںبیان فرمایا ہے۔ حضرت سہلؓ بن معاذ بن انس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کھانا کھایا پھر یہ دعا کی کہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنِیْ ھَذَا الطَّعَامَ وَ رَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِّنِّیْ وَلَا قُوَّةٍ۔
تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور اور بغیر میری کسی طاقت اور قوّت کے مجھے یہ دیا تو اس سے پہلے کیے گئے اور بعد میں ہونے والے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
نیز آپؐ نے فرمایا کہ جس نے لباس پہنا اور یہ دعا کی کہ
تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے مجھے یہ لباس پہنایا اور بغیر میری کسی طاقت اور قوّت کے یہ لباس مجھے دیا تو اس کے پہلے کیے گئے اور بعد میں ہونے والے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
(سنن ابو داؤد کتاب اللباس باب ما یقول اذا لبس… حدیث4023)
حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ لوگ جب پہلا پھل دیکھتے تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لاتے ۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لیتے تو آپؐ یہ دعا کرتے کہ اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے پھلوں میں برکت ڈال اور ہمارے لیے ہمارے شہر میں برکت ڈال اور ہمارے لیے ہمارے صاع (یعنی یہ پیمانہ ہے تول کا اس )میں برکت ڈال اور ہمارے لیے ہمارے مدّ (یہ دوسرا پیمانہ ہے تولنے کا اس) میں برکت ڈال۔ اے اللہ!یقیناً ابراہیم تیرا بندہ اور تیرا دوست اور تیرا نبی تھا ۔اور میں تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں۔ اور اس نے تجھ سے مکے کے لیے دعا کی تھی اور مَیں تجھ سے مدینے کے لیے دعا کرتا ہوں اسی کی طرح جو اس نے مکہ کے لیے دعا کی تھی اور اس جیسی اَور بھی۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے چھوٹے بچے کو بلاتے اور اسے وہ پھل دے دیتے۔
(صحیح مسلم مترجم كتاب الحج باب فضل المدینۃ و دعاء النبیﷺ…حدیث 2423 جلد 6صفحہ 338، نور فاؤنڈیشن ربوہ)
بچوں کو سب سے پہلے پھل دیتے تھے جو نیا پھل آتا تھا۔
حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اپنے بستر پر لیٹتے تو آپؐ اپنے ہاتھ کو اپنے رخسار کے نیچے رکھتے پھر دعا کرتے:
اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیَا ۔
اے اللہ! تیرے نام سے ہی میں مرتا ہوں اور جیتا ہوں۔
جب آپؐ جاگتے تو دعا کرتے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ۔
کہ سب حمد اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں زندہ کیا بعد اس کے کہ ہمیں مارا تھا اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔
(صحیح البخاری کتاب الدعوات باب وضع الید تحت الخد الیمنی حدیث6314 جلد 15 صفحہ 27 شائع کردہ نظارت اشاعت)
ایک دوسری روایت میں بیداری کی دعا اس طرح بیان ہوئی ہے۔جب آپؐ رات سے جاگتے تو فرماتے کہ
سب حمد اللہ ہی کے لیے ہے جس نے مجھے زندہ کیا بعد اس کے کہ مجھے مارا تھا اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔
(مسند الامام احمد بن حنبل مسند حذیفہ بن الیمان جلد 7 صفحہ 705 حدیث:23675 عالم الکتب 1998 ء)
عمر وبن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں ۔انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
یقیناً اللہ پسند کرتا ہے کہ اس کی نعمت کے آثار اس کے بندوں پر دکھائی دیں۔
(جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء ان اللہ تعالیٰ یحب ان یری … حدیث 2819)
یہ بھی اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے کہ اس کی دی ہوئی نعمتیں انسان پر نظر آنی چاہئیں۔ انسان پر ظاہر بھی ہونی چاہئیں۔
اسی طرح ایک روایت میں بیان ہوا ۔ابو الاحوص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا: مَیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ردّی کپڑوں میں حاضر ہوا۔ یعنی اچھے کپڑے نہیں تھے خراب سے کپڑے تھے تو آپؐ نے مجھ سے پوچھا :کیا تمہارے پاس مال ہے ؟تو انہوں نے عرض کیا: جی ہاں !آپؐ نے پوچھا کس قسم کا مال ہے؟ امیر آدمی ہو ،کس قسم کا مال ہے تمہارے پاس۔ تم کہتے ہو مال ہے میرے پاس۔ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹ بھی دیے ہوئے ہیں، بھیڑ بکریاں بھی ہیں ،گھوڑے بھی میرے پاس ہیں، غلام بھی مجھے عطا کر رکھے ہیں۔ بہت مال ہے میرے پاس۔ آپؐ نے فرمایا :
جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال عطا کیا ہے تو اس کی نعمت اور اس کا اکرام تم پر نظر آئے۔
(سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی الخلقان و فی غسل الثوب حدیث 4063)
اس کی شکر گزاری ہونی چاہیے اور شکر گزاری کا اظہار یہ ہے کہ یہ گندے کپڑے پہن کے نہ آؤ ۔یہ ردّی کپڑے پہن کے نہ آؤ۔ اچھے کپڑے پہنا کرو۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار کیا کرو۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؐ نے ایک شخص کو دیکھا جس کے بال پراگندہ تھے۔یعنی بکھرے ہوئے بال تھے ۔صحیح سنوارے ہوئے نہیں تھے ۔کنگھی نہیں کی ہوئی تھی۔ آپؐ نے فرمایا :کیا یہ کوئی چیز نہیں پاتا جس سے اپنے بالوں کو درست کرے؟ ساتھیوں کو کہا کہ یہ کیوں اپنے بالوں کو دھوتا اور سنوارتا اور کنگھی نہیں کرتا۔ آپؐ نے ایک دوسرے آدمی کو دیکھا اور وہ میلے کپڑے پہنے ہوئے تھا آپؐ نے فرمایا :کیا اسے پانی میسر نہیں جس سے اپنے کپڑے دھو لے؟
(سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی الخلقان و فی غسل الثوب حدیث 4062)
پانی تو ملتا ہے گندے کپڑے پہننے کی بجائے کپڑے دھو۔ اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو ۔صفائی ستھرائی بھی جہاں نظافت کے پہلو کو ظاہر کرتی ہے وہاں شکر گزاری کا بھی اس میں پہلو ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرنا چاہیے۔ ایسا حلیہ نہیں بنانا چاہیے کہ لوگ کہیں کہ یہ کیا حالت بنا رکھی ہے۔
اسی طرح ایک روایت ہے ۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ذرّہ برابر بھی تکبر ہے۔ ایک آدمی نے کہا: انسان پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اچھا ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو ۔آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ بھی خوبصورت ہے اور اللہ تعالیٰ خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ لیکن تکبر تو یہ چیز ہے کہ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے حق کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا۔
(صحیح مسلم مترجم كتاب الإيمان باب تحریم الکبر وبیانہ حدیث 123 جلد 1صفحہ 83 شائع کردہ نور فاؤنڈیشن)
سچی بات سے انکار کرنا اور لوگوں سے حقارت سے پیش آنا یہ بھی تکبر ہے۔ یا اچھے کپڑے پہن کے پھر تکبر کرنا تو پھر وہ تکبر ہو گا ۔لیکن اچھے کپڑے پہن کے اگر عاجزی سے دوسروں کو ملتے ہو ان کا حق ادا کرتے ہو تو یہ تکبر نہیں ہے۔
حضرت ابو سعید خدری ؓنے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی نیا کپڑا لیتے تو اس کپڑے کا قمیص ہو یا عمامہ نام لیتے اور دعا کرتے کہ
اے اللہ !تمام تعریف تیرے لیے ہے ۔تُو نے ہی مجھے یہ پہنایا ہے۔مَیں تجھ سے ہی اس کی خیر مانگتا ہوں اور وہ خیر بھی جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے ۔اور مَیں اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اور اس شر سے جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے۔
(سنن ابو داؤد کتاب اللباس، باب ما یقول اذا لبس …حدیث4020)
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کوئی نعمت دے اور وہ جان لے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اس کے لیے اس نعمت کا شکر لکھ دیا جاتا ہے ۔اور اللہ کسی گناہ پر بندے کی ندامت جان لے تو اسے بخش دیا جاتا ہے قبل اس کے کہ وہ اس سے مغفرت طلب کرے۔ اور ایک شخص دینار سے کپڑا خریدتا ہے اور اسے پہنتا ہے اور اللہ کی حمد کرتا ہے تو وہ کپڑا اس کے گھٹنوں تک نہیں پہنچتا یہاں تک کہ اس کو بخش دیا جاتا ہے ۔
(کتاب الشکر ابن أبي الدنيا صفحہ 20 مکتبہ التراث الاسلامی 1994ء)
شکرگزاری کرنے والے کے ساتھ اللہ یہ سلوک کرتا ہے۔
سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ سے لوٹتے تو جب آ پؐ کسی گھاٹی یا اونچے میدان میں پہنچتے تو آپؐ تین بار اللہ اکبر کہتے اور اس کے بعد فرماتے کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔ اٰئِبُوْنَ تَائِبُوْن عَابِدُوْنَ سَاجِدُوْنَ لِرَبِّنَاحَامِدُوْنَ صَدَقَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ۔
لا الہ الا اللّٰہ یعنی ایک اللہ کے سوا اَور کوئی معبود نہیں ۔اس کا کوئی شریک نہیں۔ ساری بادشاہت اسی کی ہے اور اسی کے لیے تمام کی تمام خوبیاں ہیں اور وہ ہر بات پر قدرت رکھتا ہے۔ ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے سفر سے لَوٹ رہے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ ہم آئندہ غلطیاں نہیں کریں گے۔ ہم اپنے ربّ ہی کی عبادت کرنے والے ہیں ۔اپنے ربّ ہی کے سامنے سر جھکانے والے ہیں۔اپنے ربّ ہی کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یقیناًاپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور اپنے بندے کی یاوری فرمائی اور تمام جتھوں کو تنہا شکست دے کر بھگا دیا۔
(صحیح البخاری كتاب الجهاد والسير باب التکبیر اذا علا شرفا حدیث 2995 جلد 5 صفحہ341-342 شائع کردہ نظارت اشاعت)
جنگِ بدر کے دن کفار کے مقتولین کو میدانِ بدر کے گڑھوں اور کنووں میں ڈال دیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ابو جہل کو ذلیل و خوار کر دیا اور اسے ہلاک کیا اور ہمیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ جب سب مقتولین کنویں میں ڈال دیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گرد چکر لگا رہے تھے جبکہ مقتولین اس گڑھے میں تھے۔ حضرت ابوبکرؓ ایک ایک شخص کا نام لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی حمد و شکر کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا۔
(کتاب المغازی للواقدی جلد 1 صفحہ 111-112 دار لأعلمي بيروت 1989)
آپؐ کے جانی دشمن کے کیفر کردار پر پہنچنے پر آپؐ کا ردّعمل یہ نہیں تھا کہ کسی قسم کی ظاہری خوشی ہو اس کا اظہار نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے اور اس کا شکر ادا کیا ۔اس بارے میں اَور روایات بھی ہیں۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ میں غزوۂ بدر کے دن رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:مَیں نے ابو جہل کو قتل کر دیاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کیا؟ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مَیں نے عرض کیا کہ ہاں! اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، مَیں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی اور مجھ سے تصدیق لی۔ پھر فرمایا کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا ۔اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اکیلے ہی تمام مخالف جماعتوں کو شکست دی۔ پھر آپؐ نے فرمایا: چلو میرے ساتھ مجھے اس کی لاش دکھاؤ۔ چنانچہ ہم روانہ ہوئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا :یہ اس امت کا فرعون ہے۔ ایک اَور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس روز ابو جہل کے سر کی بشارت دی گئی آپؐ نے دو رکعت نماز پڑھی۔
اس کی مزید تفصیل ایک روایت میں یوں بیان ہوئی ہے۔ ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ جب بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابو جہل کے قتل کی خوشخبری لانے والا آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے تین مرتبہ اللہ کی قسم لے کر پوچھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم نے واقعی اسے مقتول دیکھا ہے ؟اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قسم کھائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گر پڑے۔ بعض روایات میں ہے کہ آپؐ نے ایک سے زائد سجدے کیے۔
(دلائل النبوۃ للبیہقی جلد 3 صفحہ 89باب اجابۃ اللہ عزوجل… دارالکتب العلمیۃ بیروت 2002ء)،(تاریخ الخمیس جلد 2 صفحہ 119 دارالکتب العلمیۃ 2009 ء)،(مسند الامام احمد بن حنبل مسند عبد اللہ بن مسعود جلد 2 صفحہ 166 حدیث:4247 عالم الکتب1998 ء)، (سنن ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ باب ما جاء في الصلاة … حدیث 1391)
فتح مکہ کے موقع پر آپؐ کی شکر گزاری کی روایات بھی ملتی ہیں۔
اس تعلق میں حضرت ابن عمرؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن کعبہ کی سیڑھی پر کھڑے ہوئے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی۔ اس کی ثناء کی اور فرمایا :
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَ ھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ۔
تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تمام لشکروں کو اکیلے ہی شکست دی۔
(سنن النسائی کتاب القسامہ باب ذكر الاختلاف على خالد الحذاء حدیث 4803)
بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا ہے کہ ہم سے کسی نے بیان نہیں کیا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہو سوائے حضرت ام ہانیؓ کے۔ چاشت کی نماز کے بارے میں جو بھی روایتیں ملتی ہیں ان میں کہتے ہیں کہ ہمیں تو اَور کوئی روایت نہیںملی سوائے اس کے کہ حضرت ام ہانیؓ کی ایک روایت ملتی ہے کہ آپؐ نے چاشت کی نماز پڑھی۔ اور وہ روایت اس طرح ہے کہ آپؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن ان کے گھر میں تشریف لائے اور آپؐ نے غسل کیا اور آٹھ رکعت نماز پڑھی۔ تو کہتی ہیں کہ مَیں نے اس سے زیادہ ہلکی نماز کبھی نہیں دیکھی۔ بہت ہلکی نماز تھی لیکن آٹھ رکعت آپؐ نے پڑھی مگر آپؐ پوری طرح رکوع اور سجدہ کرتے تھے۔
(صحیح البخاری کتاب التہجدبَابُ صَلَاةِ الضُّحَى فِي السَّفَرِحدیث1176)
یہ نہیں کہ جلدی جلدی کر لیا آپؐ کی ہلکی نماز بھی ہماری لمبی نمازوں جیسی ہی تھی۔
ایک سیرت نگار نے اس واقعہ کو اس عنوان کے تحت بیان کیا ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں شکرانہ کے طور پر ادا کی تھیں بسبب اس کے جو اللہ تعالیٰ نے اس دن آپؐ کو عطا کیا تھا۔
(دلائل النبوۃ للبیہقی جلد 05 صفحہ 80 دارالکتب العلمیۃ)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جب آپؐ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو لوگ آپؐ کی زیارت کے لیے آئے۔ عاجزی اور جذبات شکر کی وجہ سے آپؐ کا سر کجاوے کو چُھو رہا تھا۔ آپؐ لوگوں کے درمیان تھے۔ آپؐ نے فرمایا:
اَللّٰھُمَّ اِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الْاٰخِرَةِ۔
کہ اے اللہ! یقیناً اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔
(سبل الھدیٰ جلد 5 صفحہ 226 دارالکتب العلمیۃ)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:’’یہ علوّ جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کو دیا جاتا ہے وہ انکسار کے رنگ میں ہوتا ہے اور شیطان کا علوّ استکبار سے ملا ہوا تھا۔
دیکھو !ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کو فتح کیا تو آپؐ نے اسی طرح اپنا سر جھکایا اور سجدہ کیا جس طرح پر ان مصائب اور مشکلات کے دنوں میں جھکاتے اور سجدے کرتے تھے جب اسی مکہ میں آپؐ کی ہر طرح سے مخالفت کی جاتی اور دکھ دیا جاتا تھا ۔جب آپؐ نے دیکھا کہ میں کس حالت میں یہاں سے گیا تھا اور کس حالت میں اب آیا ہوں تو آپؐ کا دل خدا کے شکر سے بھر گیا اور آپؐ نے سجدہ کیا۔‘‘
(ملفوظات حضرت مسیح موعودؑ جلد 3حاشیہ صفحہ 260،ایڈیشن 2022ء)
آپؐ کی ایک دعا کا ذکر صحیح مسلم کی ایک روایت میں ملتا ہے۔ حجة الوداع کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ کی سعی یعنی طواف کیا، چکر لگایا ،اس کا ارادہ فرمایا تو آپؐ نے صفا سے ابتدا کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا اور قبلہ کی طرف رخ کیا اور اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کی اور اس کی بڑائی کا ذکر کیا اور فرمایا :اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔بادشاہت اسی کی ہے۔ اسی کی سب تعریف ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور لشکروں کو اکیلے پسپا کر دیا۔اور پھر اس کے درمیان آپؐ نے دعا کی ۔ دعا کی حالت میں تین مرتبہ اسی طرح آپؐ نے کیا۔
(صحیح مسلم مترجم جلد 6 صفحہ 118، کتاب الحج باب حجۃ النبی ﷺ حدیث 2123، نور فاؤنڈیشن )
حضرت علیؓ کے یمن سے ہمدان قبیلہ کی اطلاع دینے کے بارے میں ایک روایت آتی ہے۔ حضرت براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں جب 10؍ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کو یمن کی طرف بھیجا اور سارے قبیلہ ہمدان نے اسلام قبول کر لیا تو حضرت علیؓ نے ان کے اسلام قبول کرنے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خط کے ذریعے دی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خط پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گر گئے اور فرمایا :ہمدان پر سلام ہو۔ ہمدان پر سلام ہو۔ دو مرتبہ یہ ارشاد فرمایا۔
(شرح الزرقانی جلد 4 صفحہ 140 دارالکتب العلمیۃ بیروت، سبل الھدیٰ والرشاد جلد 8 صفحہ 205 دارالکتب العلمیۃ بیروت )
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سجداتِ شکر
کے بارے میں مزید تفصیلات اس طرح ملتی ہیں۔ حضرت ابوبکرہ ؓسے روایت ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ایسی بات آتی جو آپؐ کو خوش کرتی یا جو آپؐ کے لیے خوشی کا باعث ہوتی تو آپؐ اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدے میں گر جاتے۔
(سنن ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ باب ما جاء في الصلاة …حدیث 1394)
اسی طرح حضرت انس بن مالکؓ سے ایک روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مقصد کے بارے میں بشارت دی گئی تو آپؐ شکر کرتے ہوئے سجدے میں گر گئے۔
(سنن ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ باب ما جاء في الصلاة …حدیث 1392)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود بھیجنے پر مومنوں کو جو اللہ تعالیٰ نے خوشخبری دی اور اس پر آپؐ نے جس شکر گزاری کا اظہار فرمایا
اس کا ذکر ایک روایت میں یوں ملتا ہے۔حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور اپنی صدقہ کی جگہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ پھر اندر تشریف لے گئے۔ قبلہ رخ ہو کر سجدے میں گر گئے اور سجدہ بہت طویل کر دیا یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ اللہ عزوجل نے اسی حالت میں آپؐ کی روح قبض کر لی ہے کہ مَیں آپؐ کے قریب ہو کر بیٹھا تو آپؐ نے سر اٹھایا اور فرمایا: یہ کون ہے؟ مَیں نے عرض کیا کہ عبدالرحمٰن۔ فرمایا :کیا بات ہے؟ مَیں نے عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپؐ نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں اللہ عزّوجلّ نے اسی حالت میں آپؐ کی روح قبض نہ کر لی ہو ۔یعنی وفات، وصال نہ ہو گیا ہو تو آپؐ نے فرمایا:
جبرائیل میرے پاس آئے تھے اور مجھے یہ کہہ کر خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص آپؐ پر دُرود بھیجے گا مَیں اس پر اپنی رحمت نازل کروں گا۔ اور جو آپؐ پر سلام بھیجے گا مَیں اس پر سلام بھیجوں گا ۔اس پر مَیں نے اللہ تعالیٰ عزّوجلّ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ کیا تھا۔
(مسند الامام احمد بن حنبل مسند عبدالرحمٰن بن عوف جلد 1 صفحہ 512 – 513 حدیث 1664عالم الکتب 1998 ء)
اور یہ سجدہ جو اتنا لمبا ہوا اس شکرگزاری کے طور پر تھا۔
حضرت ابو بکرہؓ بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب خوشخبری لانے والا آیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے دشمن پر فتح کی خوشخبری دے رہا تھا ۔اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر حضرت عائشہ ؓکی گود میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور سجدے میں گر پڑے۔
(سبل الھدیٰ والرشاد جلد 8 صفحہ 205 دارالکتب العلمیۃ بیروت )
ایک روایت میں ہے۔ عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں وہ پائی جائیں اللہ تعالیٰ اسے صابر اور شاکر لکھ دیتا ہے اور جس میں وہ دونوں نہ ہوں اللہ اسے نہ صابر لکھتا ہے اور نہ شاکر۔
پہلی یہ کہ جو شخص اپنے دین کے معاملے میں اس کی طرف دیکھے جو اس سے بلند ہو اور اس کی پیروی کرے ۔اور دوسری یہ کہ دین کے معاملے میں اس طرف دیکھے جو اس سے بلند ہے۔اور پھر یہ دیکھے کہ مَیں اس کی پیروی کروں اس کے برابر پہنچوں تو وہ صابر اور شاکر ہوگا ۔اور دوسری شرط یہ کہ جو اپنی دنیا کے معاملے میں اس کی طرف دیکھے جو اس سے کمتر ہو پھر وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرے۔ دنیاوی معاملات میں اسے دیکھے جو اس سے کم ہے اور پھر اللہ کی حمد کرے، شکر کرے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔ اس پر جس کے ذریعے اللہ نے اسے اس شخص پر فضیلت دی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے صابر اور شاکر لکھ دیتا ہے ۔اور جو شخص اپنے دین میں اس کی طرف دیکھے جو اس سے کم تر ہو اور اپنی دنیا میں اس کی طرف دیکھے جو اس سے بلند ہو پھر اس چیز پر افسوس کرے جو اس سے رہ گئی تو اللہ تعالیٰ اسے نہ صابر لکھتا ہے نہ شاکر۔
(کتاب الشکر ابن أبي الدنيا صفحہ 60 مکتبہ التراث الاسلامی 1994ء)
اسی طرح حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اس کی طرف دیکھو جو تم سے نیچے ہے اور اس کی طرف مت دیکھو جو تم سے اوپر ہے۔ یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے تم اللہ کی نعمت کی تحقیر نہ کرو
(صحیح مسلم مترجم كتاب الزهد والرقائق حدیث 5250 جلد 15 صفحہ 159، نور فاؤنڈیشن)
یعنی دنیاوی لحاظ سے نیچے کی طرف دیکھو اور پھر اللہ کا شکر ادا کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا ہوا ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار چیزیں ایسی ہیں کہ جسے یہ عطا کر دی جائیں اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی عطا کر دی گئی۔ شکر گزار دل نمبر ایک۔ذکر کرنے والی زبان دو۔ذکر الٰہی کرنے والی زبان ہو۔ آزمائش کے وقت صبر کرنے والا بدن اور ایسی بیوی جو نہ اپنی عزّت و عفت کے معاملے میں اور نہ شوہر کے معاملے میں اس کے ساتھ خیانت کرے۔ اچھی بیوی ہو اور باقی یہ چار چیزیں ہوں تو بھلائی عطا ہوتی ہے۔
(کتاب الشکر ابن أبي الدنيا صفحہ 17 مکتبہ التراث الاسلامی 1994ء)
حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے ابو ہریرہ! پرہیزگار بنو تم سب لوگوں سے زیادہ عبادت گزار ہو جاؤ گے۔اور قانع بنو، قناعت کرو تم سب لوگوں سے زیادہ شکر گزار ہو جاؤ گے۔ پس قناعت بھی شکر گزاری کی طرف لے کر جاتی ہے ۔اور لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو تو مومن ہو جاؤ گے ۔اور جو تمہارا پڑوسی ہے اس سےاچھی ہمسائیگی کرو تم مسلم ہو جاؤ گے اور کم ہنسو کیونکہ ہنسنے کی کثرت دل کو مُردہ کر دیتی ہے۔
(سنن ابن ماجہ کتاب الزہد باب الورع والتقوى حدیث 4217)
یعنی انسان کو اللہ تعالیٰ کے حضور زیادہ جھکنے والا ہونا چاہیے۔ دعاؤں کی طرف توجہ رہنی چاہیے۔ ہر وقت ٹھٹھےمذاق نہیں ہوتے رہتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر عمل کرنے والا بنائے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مستقل شکر اور ذکر الٰہی کا نقشہ کھینچتے ہوئے حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اوقات میں ذکر الٰہی کیا کرتے تھے۔
(صحیح مسلم مترجم كتاب الحیض باب ذكر الله تعالى في حال الجنابة وغيرها حدیث 550جلد 2 صفحہ 126 شائع کردہ نور فاؤنڈیشن)
پس آپؐ نے اپنی امت کے سامنے اپنے اسوہ کے اعلیٰ ترین معیار قائم فرمائے اور ہمیں نصیحت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ اس پر عمل کرنے کی بھی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔
دوسری بات جویہ ہے مختصراً کہہ دیتا ہوں کہ
اگلے جمعہ کو ان شاء اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ برطانیہ کا جلسہ سالانہ بھی شروع ہو رہا ہے۔ دعا کریں اللہ تعالیٰ اسے ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔ ہر ایک کو ہر طرح اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آج کل گرمی کی وجہ سے یہ موسم کی جو شدّت ہے اس کے بعض خطرات بھی ہیں۔ ہر قسم کے بد اثرات سے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے ۔اور اسی طرح جو ڈیوٹی دینے والے کارکنان ہیں انہیں بعض دفعہ گرمی میں کھڑے ہو کےبھی ڈیوٹی دینی پڑتی ہے اور سخت ڈیوٹیاں بھی ہوتی ہیں اللہ ان کو بھی احسن رنگ میں اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
٭…٭…٭



