کھیل کی دنیایورپ (رپورٹس)

کامن ویلتھ گیمز گلاسگو ۲۰۲۶ء: تاریخ، عالمگیر ثقافت اور امنِ عالم کا سفر (قسط اول)

(تحریر: ارشد محمود خاں۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل، سکاٹ لینڈ)

کھیل ہمیشہ سے انسانی تہذیب کا ایک بنیادی اور خوبصورت حصہ رہے ہیں۔ یہ نہ صرف جسمانی نشوونما، ذہنی تندرستی اور سلامت طبع کا بہترین ذریعہ ہیں، بلکہ اقوامِ عالم کے درمیان باہمی تعلقات کی استواری، ثقافتی تعارف اور بین الاقوامی امن کو فروغ دینے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہی عالمی مقابلوں میں ایک نہایت نمایاں اور معتبر نام کامن ویلتھ گیمز کا ہے، جسے عالمگیر سطح پر اولمپک گیمز کے بعد کھیلوں کا دوسرا بڑا اور عظیم الشان میلہ تسلیم کیا جاتا ہے۔

آج کل سکاٹ لینڈ کا تاریخی اور زندہ دل شہر گلاسگو ان عالمی کھیلوں کے جوش و خروش کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ۲۳ جولائی ۲۰۲۶ء سے شروع ہونے والے یہ مقابلے ۲ اگست ۲۰۲۶ء تک جاری رہیں گے، جن میں دنیا بھر سے آئے ہوئے ہزاروں نامور کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

آغاز اور پس منظر: دوستی اور اتحاد کی بنیاد

کامن ویلتھ گیمز کا باقاعدہ آغاز ۱۹۳۰ء میں ہیملٹن (کینیڈا) سے ہوا۔ اس وقت ان کھیلوں کی بنیاد اس مقصد کے تحت رکھی گئی تھی کہ مختلف ممالک کے درمیان دوستانہ روابط، کھیل کے اعلیٰ اخلاقی معیار، ضبطِ نفس اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے۔ ابتدائی دور میں ان کا نام "برٹش ایمپائر گیمز” تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اور عالمی سیاسی تغیرات کے بعد، ان کھیلوں کی روح مکمل طور پر بدل کر ایک آزاد، خود مختار اور مساوی اقوام کی برادری یعنی "کامن ویلتھ آف نیشنز” کے اتحاد میں ڈھل گئی۔

آج یہ کھیل کسی سیاسی تسلط یا برتری کی علامت نہیں، بلکہ مختلف القاب، ثقافتوں، زبانوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے انسانوں کو ایک یکجا پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔

ثقافتی تنوع اور عالمگیر وسعت

کامن ویلتھ گیمز کی سب سے بڑی خوبصورتی ان کا ثقافتی تنوع (Cultural Diversity) ہے۔ ان کھیلوں میں ایشیا، افریقہ، یورپ، امریکہ اور اوقیانوسیہ (Oceania) کے ۷۰ سے زائد ممالک اور خود مختار خطے شرکت کرتے ہیں۔

جب دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے کھلاڑی ایک ہی ایتھلیٹس ولیج میں قیام کرتے ہیں اور مختلف میدانوں میں باہمی احترام کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں، تو یہ واقعہ صرف کھیلوں کی حد تک محدود نہیں رہتا۔ یہاں مختلف زبانیں، روایات، لباس اور رہن سہن ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ یہ میلہ اس حقیقت کی عملی اور روشن مثال پیش کرتا ہے کہ نسل، رنگ، زبان اور مذہب کے ظاہری اختلافات کے باوجود انسانیت کس طرح ایک جگہ امن، محبت اور یکجہتی کے ساتھ اکٹھی ہو سکتی ہے۔

گلاسگو ۲۰۲۶: کھیلوں کا جامع اور پائیدار ماڈل

سکاٹ لینڈ کے معروف شہر گلاسگو کا ان کھیلوں سے گہرا اور تاریخی تعلق ہے۔ اس سے قبل ۲۰۱۴ء میں بھی گلاسگو نے کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی نہایت شاندار، منظم اور تاریخی انداز میں کی تھی، جسے بین الاقوامی سطح پر بے حد سراہا گیا تھا۔

اس سال گلاسگو میں منعقد ہونے والے گیمز کو ایک نہایت منفرد، جامع اور پائیدار (Sustainable) ماڈل کے تحت ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس بار مقابلے بنیادی طور پر ۱۰ اہم اور مقبول ترین کھیلوں تک محدود رکھے گئے ہیں تاکہ مالی وسائل کا بہترین استعمال ہو سکے اور تمام تر توجہ کھیل کے معیار اور کھلاڑیوں کی سہولیات پر مرکوز رہے۔

گلاسگو ۲۰۲۶ کے اہم کھیل:

  • ایتھلیٹکس (Athletics): دوڑ اور آؤٹ ڈور مقابلے
  • تیراکی اور واٹر پولو (Aquatics – Swimming): واٹر سپورٹس
  • باکسنگ (Boxing): طاقت اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ
  • جڈو (Judo): مارشل آرٹس کا بہترین نمونہ
  • جمناسٹکس (Artistic Gymnastics): توازن اور مہارت کا شاہکار
  • نیٹ بال (Netball): باہمی تعاون کا خوبصورت کھیل
  • تھری آن تھری باسکٹ بال(3×3 Basketball): جدید اور تیز رفتار مقابلہ
  • ٹریک سائیکلنگ (Track Cycling): تیز رفتار سائیکل ریسنگ
  • باؤلز (Lawn Bowls): تمرکز اور مہارت کا روایتی کھیل
  • ویٹ لفٹنگ (Weightlifting): طاقت اور برداشت کا امتحان

ان تمام مقابلوں میں پیرا سپورٹس (Para sports) کو بھی مکمل طور پر شامل کیا گیا ہے، جو معذور اور باہمت کھلاڑیوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کی ایک بہترین مثال ہے۔

گلاسگو کے تاریخی مقامات اور سیاحتی جاذبیت

گلاسگو گیمز کے دوران نہ صرف کھیلوں کا میدان گرم ہے بلکہ اس شہر کی تاریخی اور ثقافتی جاذبیت بھی تمام شائقین کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے۔ گیمز کے اہم مقابلے شہر کے مشہور اور جدید ترین اسپورٹس وینیوز میں ہو رہے ہیں:

  • ایمریٹس ایریرا (Emirates Arena) اور سر کرس ہوئے ویلوڈروم: جہاں سائیکلنگ اور نیٹ بال کے سنسنی خیز مقابلے جاری ہیں۔
  • ٹال کراس انٹرنیشنل سوئمنگ سینٹر (Tollcross): جہاں تیراکی کے عالمی ریکارڈز قائم ہو رہے ہیں۔
  • اسکاٹش ایونٹ کیمپس (SEC): جو مختلف ان ڈور کھیلوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔

ان کھیلوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاح گلاسگو کی تاریخی عمارتوں، جیسے گلاسگو کیتھیڈرل، کیلون گروو آرٹ گیلری اینڈ میوزیم، اور جارج سکوائر کے پرفضا ماحول سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ گلاسگو کے عوام کا روایتی گرم جوش استقبال اور محبت ان کھیلوں کی روح کو مزید دوبالا کر رہی ہے۔

میڈل ٹیبل کی تازہ ترین صورتِ حال

مقابلوں کے آغاز کے ساتھ ہی مختلف ممالک کے درمیان تمغوں کی دوڑ نہایت سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ عالمی سطح پر روایتی طاقتیں ایک بار پھر اپنی برتری ثابت کر رہی ہیں، جبکہ کئی چھوٹے ممالک نے بھی نمایاں کارکردگی دکھا کر سب کو حیران کر دیا ہے۔

درجہ (Rank)ملک (Country)سونے کے تمغے (Gold)چاندی کے تمغے (Silver)کانسی کے تمغے (Bronze)کل تمغے (Total)
1آسٹریلیا (Australia)18121040
2انگلینڈ (England)12141137
3سکاٹ لینڈ (Scotland – میزبان)75820
4کینیڈا (Canada)68721
5نیوزی لینڈ (New Zealand)54413

(نوٹ: میڈل ٹیبل مقابلوں کے نتائج کے ساتھ مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔)

میزبان ملک سکاٹ لینڈ نے ہوم گراؤنڈ پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سائیکلنگ، تیراکی اور جڈو کے مقابلوں میں متعدد تمغے حاصل کیے ہیں، جس پر مقامی شائقین میں بے پناہ خوشی و مسرت کی لہر پائی جاتی ہے۔

جماعت احمدیہ مسلمہ اور کھیلوں کے ذریعے امن کا پیغام

سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الخامس (ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز) نے متعدد موقعوں پر اس بنیادی امر پر زور دیا ہے کہ کھیل صرف تفریح کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ انسان کے اخلاق کی اصلاح، ضبطِ نفس، ڈسپلن اور باہمی محبت و احترام کو فروغ دینے کا ایک بہترین ذریعہ ہیں۔

جماعت احمدیہ مسلمہ، جو "محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں” کے عالمگیر اور پرامن منشور پر گامزن ہے، ہمیشہ سے صحت مند، مثبت اور اصلاحی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتی آئی ہے۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی اس نوعیت کے بین الاقوامی مقابلے منعقد ہوتے ہیں، جماعت احمدیہ کے افراد اور احمدی کھلاڑی نہ صرف اپنے اپنے ممالک کی شاندار نمائندگی کرتے ہیں، بلکہ اپنے اعلیٰ اسلامی اخلاق، ضبط اور عملی نمونے کے ذریعے اسلام کی حقیقی اور پرامن تعلیمات کو بھی دنیا کے سامنے اجاگر کرتے ہیں۔

کھیلوں کا یہ عالمی میلہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب انسان مثبت مقاصد کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، تو وہاں تعصبات ختم ہو جاتے ہیں اور صرف اور صرف انسانیت، محنت اور باہمی احترام کو فتح حاصل ہوتی ہے۔ (جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button