ہمارے خاندان میں احمدیت کا نفوذ اور اُس کے ثمرات
(بنتِ شفیع )
ہمارے خاندان میں احمدیت ہماری دادی جان محترمہ اللہ رکھی صاحبہ مرحومہ کی بدولت آئی۔ دادی جان مخدوم گھرانے سے تھیں۔ ان کی قوم بخاری تھی اور وہ فرقہ اہل سنت سے تعلق رکھتی تھیں جب کہ خاکسار کے دادا جان مرحوم کا نام مہر شاہ ولد جیون شاہ تھا۔
جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار
دادی جان کی شادی ۱۹۰۶ء میں کتھووالی گاؤں ضلع سیالکوٹ میں ہوئی۔ آپ کا تعلق ایک مذہبی اور دین دار گھرانے سے تھا اور آپ نیک نفس، باپردہ اور حیادار خاتون تھیں۔ ۱۹۲۴ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں محترمہ اللہ رکھی صاحبہ مرحومہ نے خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گھوڑے پر سوار نورانی چہرے اور سفید لباس میں ملبوس دیکھا ۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ امام مہدی علیہ السلام ہیں۔ آپ کے گاؤں میں ایک احمدی گھرانہ تھا۔آپ اگلے دن ان کے گھر گئیں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر مبارک دیکھنے کی خوہش کا اظہار کیا۔ تصویر دیکھ کر آپ نے بےساختہ کہا کہ یہی امام مہدی علیہ السلام ہیں جن کو میں نے خواب میں دیکھا ہے اور فوراً ایمان لے آئیں۔ گاؤں میں جو مربی سلسلہ موجود تھے ان سے بیعت کا خط لکھوا کر حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت اقدس میں بھیجا۔
بیعت کے بعد جب دادی جان نے گھر میں اپنے احمدی ہونے کے متعلق بتایا تو گھر میں جیسے قیامت بر پا ہوگئی۔ خاکسار کے والد صاحب مرحوم اس وقت ۱۳؍سال کے تھے۔انہوں نے ہم بہن بھائیوں کو بتایا تھا کہ قبولِ احمدیت کے بعد ان کے والد صاحب مرحوم مہر شاہ نے والدہ صاحبہ مرحومہ پر سختیاں شروع کر دیں اور ڈانٹ ڈپٹ اور ہر وقت طعنہ و تشنیع کی جاتی اور بہت سختی سے انہیں احمدیت چھوڑ دینے کو کہتے تھے۔ والدہ مرحومہ شوہر کی انتہائی فرمانبردار تھیں۔شوہر کو حقیقت میں مجازی خدا کا درجہ دیتی تھیں لیکن بات جب احمدیت پر آتی تو اپنے موقف پر ڈٹی رہتیں کہ امام مہدی علیہ السلام آگئے ہیں جن کا صدیوں سے انتظار تھا۔ میری پھپھو جان بتاتی ہیں کہ والد صاحب کلہاڑی دکھا کر والدہ سے کہتے تھے کہ احمدیت چھوڑ دو ورنہ تمہیں قتل کر دوں گا ۔
خاکسار کی والدہ صاحبہ کا کہنا تھا کہ والد صاحب مرحوم کی طرف سے سختیاں بھی ان کے پائے استقلال میں رتّی بھر جنبش بھی پیدا نہ کر سکیں۔ وہ نہ صرف خود ثابت قدم رہیں بلکہ اپنے بڑے بیٹے خوشی محمد صاحب مرحوم کو بھی سچ اور حق کو قبول کرنے کا کہا جو اس وقت ۱۷؍سال کے تھے۔ والدہ کی نیک صحبت اور نیک تربیت کی وجہ سے انہوں نے بھی احمدیت قبولی کرلی۔الحمدللہ۔
دادی جان نے صرف اور صرف خداتعالیٰ کی رضا کی خاطر کہ ان کے بچے دین سے وابستہ رہیں اپنے دوسرے بیٹے محمد شفیع مرحوم جو اس وقت ۱۳؍سال کے تھے انہیں گاؤں کے کچھ لوگوں کے ساتھ قادیان بھجوا دیا۔محض رضائے باری تعالیٰ کے لیے بیٹے کو تنہا اللہ تعالیٰ اور دین سے وابستہ کرنے کے لیے قادیان روانہ کرتے وقت وہ لمحہ بھر کو بھی متردّد نہ ہوئیں۔
خاکسار کے والد محمد شفیع صاحب کے قادیان جانے کے بعد اور بڑے بیٹے خوشی محمد صاحب مرحوم کی قبول احمدیت نے دادا جان مرحوم کو اور زیادہ طیش میں مبتلا کردیا اور انہوں نے دادی جان پر مزید سختیاں بڑھا دیں۔ آپ بیمار رہنے لگ گئیں مگر آفرین ہے آپ پر، جو امام مہدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لا چکی تھیں تاحیات تمام تکلیفوں کے باوجود اس پر قائم رہیں۔ الحمدللہ
ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی چھوٹے تھے جو دادا جان مرحوم کے زیر اثر رہنے کی وجہ سے غیر احمدی ہیں۔محترمہ اللہ رکھی صاحبہ مرحومہ انتہائی دین دار، باپردہ اور پاکیزگی کا بہت زیادہ خیال رکھنے والی خاتون تھیں۔ آپ غریبوں کے لیے ہر ماہ چاول پکوا کر تقسیم کرواتیں اور گھر میں بھی ہر وقت سر پر دوپٹہ کچھ اس طرح اوڑھے رکھتیں کہ آدھا چہرہ ڈھکا رہتا تھا۔ والد صاحب مرحوم محمد شفیع صاحب ہمیں بتایا کرتے تھے کہ والدہ صاحبہ یعنی خاکسار کی دادی جان مغرب کی نماز کے بعد عشاء کی نماز تک دعاؤں میں مصروف رہتی تھیں اور عشاء کی نماز پڑھ کر جائے نماز سے اٹھتی تھیں۔ آپ گاؤں کے بچوں کو قرآن پاک بھی پڑھاتی تھیں اور انتہائی شفیق مہربان اور شائستہ مزاج خاتون تھیں۔
محترمہ اللہ رکھی صاحبہ کے بڑے بیٹے خوشی محمد صاحب مرحوم یعنی خاکسار کے تایا جان انتہائی شریف، سادہ اور صوفی منش انسان تھے۔پاکستان بننے کے بعد خاکسار کے والد صاحب مرحوم کی تحریک پر آپ سندھ کے شہر کنری تشریف لے آئے۔ آپ کی شادی اپنی کزن عائشہ بیگم صاحبہ (غیرازجماعت) سے ہوئی جو آپ کی محبت اور خلوص کی وجہ سے جلد ہی احمدی ہو گئیں۔ خوشی محمد صاحب مرحوم انتہائی دعا گو اور تہجد گزار انسان تھے۔ آپ کو جماعتی کتب کے مطالعے کا بے حد شوق تھا۔ آپ کام سے فارغ ہونے کے بعد کتابوں کے مطالعے میں مصروف رہتے تھے۔ ایک مرتبہ خاکسار کی ہمشیرہ نے بچپن میں تایا جان سے پوچھا کہ ہیروں کی کان یا ہیروں کا مرکز کہاں ہے؟ آپ نے کہا ہیروں کی کان یا ہیروں کا مرکز قادیان میں ہے۔ جب ہمشیرہ نے والد صاحب مرحوم کو بتایا کہ تایا جان نے ہیروں کا مرکز قادیان بتایا ہے تو والد صاحب مرحوم ہلکا سا مسکرائے اور بتایا کہ اصل روحانی ہیرے تو قادیان میں ہی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہاں پیدا ہوئے بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور حضرت خلیفۃ المسیح بھی وہیں رہتے ہیں تو وہی ہیروں کا مرکز ہوا۔ یہ تایا جان کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام، خلفائے سلسلہ اور صحابہ کرام ؓسے محبت کا انداز تھا۔ دادا جان مرحوم ساری زندگی آپ کو احمدیت چھوڑ دینے کا کہتے اور دباؤ ڈالتے رہے حتّی کہ ایک مرتبہ آپ گھر میں چارہ کاٹ رہے تھے تو جس ٹوکے سے آپ چارہ کاٹ رہے تھے دادا جان نے وہ ٹوکہ آپ سے لے کر آپ کی گردن پر رکھ کر کہا کہ احمدیت چھوڑ دو ورنہ گردن کاٹ دوں گا۔ تایا جان خوشی محمد صاحب نے سعادت مندی سے سر جھکا دیا۔ پاس بیٹھے ایک عزیز سعد شاہ صاحب نے دادا جان سے ٹوکہ پکڑ لیا اور کہا اب تو کچھ خیال کرو بیٹے نے سر جھکا دیا ہے۔
محترمہ اللہ رکھی صاحبہ مرحومہ کے دوسرے بیٹے جنہوں نے احمدیت قبول کی، خاکسار کے والد محترم محمد شفیع قریشی تھے۔ والد صاحب کو دادی جان نے کم عمری میں ہی قادیان بھیج دیا تھا۔ جب ہمارے والدین نے چھوٹے بھائی شکیل احمد قریشی کو چھوٹی عمر میں قرآن کریم حفظ کرنے ربوہ بھیجا تو والد صاحب نے بتایا کہ میں بھی چھوٹی عمر میں ہی قادیان کے لیےگھر سے نکلا تھا۔ والد صاحب بتاتےتھے کہ جب میں قادیان گیا تو وہاں کچھ عرصہ بعد حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مجھے کتابت سیکھنے کے لیے حضرت میر قاسم صاحب مرحوم ایڈیٹر رسالہ فاروق کے پاس چھوڑ دیا تھا اور کافی عرصہ حضرت میر قاسم صاحب کی صحبت میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ نیز والد صاحب بتاتےتھے کہ جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ درس دیتے تھے تو میں بوجہ کم عمری کے دروازے کے باہر بیٹھ کر آپؓ کا درس سنتا تھا۔
والد صاحب کو لمبا عرصہ قادیان میں صحابہ کرامؓ کی صحبت میں رہنے کا موقع ملا۔پھر آپ دہلی چلے گئے، پاکستان بننے سے پہلے لاہور آئے اس کے بعد کنری سندھ آگئے۔ والد صاحب جب کنری سندھ آئے تو یہاں زیادہ تر ہندو قیام پذیر تھے جن میں اکثریت والد صاحب کے دوستوں کی تھی۔ تقسیم ہند کے وقت جب ہندو ہجرت کر کے جانے لگے تو آپ کے دوست اپنے گھروں کی چابیاں مع سامان آپ کے حوالے کر گئے ۔بعد ازاں جو لوگ ہجرت کر کے ہندوستان سے پاکستان آتےبیشتر لوگوں کو وہ گھر رہائش کے لیے دے دیتے تھے۔
والد صاحب کا کنری میں اینٹوں کا بھٹہ اور کوئلے کی بھٹیوں کا کاروبار تھا جن کا کوئلہ کراچی اور ممبئی تک جاتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے مال و نعمت میں بےانتہا برکت دی تھی۔ اُن کے بارے میں ان کے دوستوں نے بھائی کو بتایا کہ شہر میں امریکن ہسپتال جو عیسائی ٹرسٹ بھی تھا اس میں ایک لیڈی ڈاکٹر آسٹریلیا سے خدمت انسانیت کے تحت آئی۔اس نے والد صاحب کی وجاہت اور شرافت دیکھ کر شادی کا پیغام دیا۔ والد صاحب مرحوم لیڈی ڈاکٹر سے ملنے گئے جو مسلمان ہونے کو تیار تھی۔ والد صاحب نے پردہ کرنے کی شرط رکھی مگر اس نے پردہ کرنے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے والد صاحب مرحوم نے شادی کے لیےحامی نہیں بھری۔ والد صاحب مرحوم کی پہلی شادی محترمہ مختوم بیگم صاحبہ مرحومہ سے ہوئی۔ مختوم بیگم صاحبہ مرحومہ اپنے ننھیال کے ساتھ امرتسر میں رہتی تھیں جو کہ غیر از جماعت تھے جبکہ ان کے بھائی احمدی تھے جو چاہتے تھے کہ اپنی بہن کی شادی احمدی گھرانے میں کریں۔یہ بھائی والد صاحب مرحوم کے دوست تھے۔والد صاحب مرحوم نڈر اور دلیر انسان تھے۔ آپ کی شرافت اور دلیری کو دیکھ کر آپ کی رضامندی سے مختوم بیگم صاحبہ کا نکاح والد صاحب سے کر دیا گیا۔نکاح کے بعد مختوم بیگم صاحبہ امرتسر چلی گئیں کہ وہاں سے رخصتی ہو۔ ننھیال والوں کو اس نکاح کا پتا چلا تو وہ بہت ناراض ہوئے اور کہا کہ مرزائی کے ساتھ رخصتی نہیں کریں گے بلکہ اگر والد صاحب مرحوم لینے بھی آئے تو انہیں قتل کر دیں گے۔والد صاحب مرحوم نے چنداں پرواہ نہ کی اور کچھ عرصے بعد بیوی کو لینے امرتسر چلے گئے۔ اگرچہ اس وقت سسرال والوں نے رخصتی سے انکار کر دیا اور آپ کے قتل کا منصوبہ بنانے لگے مگر بیوی نے آپ کا ساتھ دیا اور وہ آپ کے ساتھ آگئیں۔ ایک سال بعد وہ امرتسر گئیں اور اسی وقت تقسیم ہند کا واقعہ ہوا اور وہ ایک قافلے کے ساتھ پاکستان کے لیےروانہ ہوئیں۔راستے میں قافلے پر سکھوں کے حملے کے دوران گولی لگنے سے آپ کی شہادت ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔ آمین
دادا جان نے والد صاحب مرحوم کی دوسری شادی اپنی بھتیجی نذیراں بیگم صاحبہ مرحومہ سے کی جو کہ غیراز جماعت تھیں مگروہ بھی بعد میں احمدی ہو گئیں۔ دوسری شادی کے چند ماہ بعد والد صاحب مرحوم کی تیسری شادی ایک کشمیری معزز گھرانے میں ہوئی جو خاکسار کی والدہ محترمہ حلیمہ بیگم صاحبہ مرحومہ تھیں۔آپ حضرت قاضی محمد اکبر صاحبؓ کی نواسی تھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی اور کشمیر کے رہنے والے تھے۔ آپؓ کو کسوف و خسوف کا نشان دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ حضرت قاضی اکبر صاحبؓ کی تبلیغ سےکشمیر میں بہت سے لوگ احمدی ہوئے۔
والدہ مرحومہ سے ہم بفضلہ تعالیٰ نو بہن بھائی ہیں۔ہم میں سے بیشتر کو خدا تعالیٰ نے جماعتی خدمت بجالانے کی توفیق عطا فرمائی جو سب دادی جان مرحومہ کی قربانیوں اور دعاؤں کا ثمر ہے۔ آپ کے ایک پوتے عبدالسمیع صاحب لندن میں مقامی جماعت کے صدر ہیں۔ پہلے جرمنی اور اب لندن میں بھی تبلیغی کاموں میں بھی مصروف ہیں۔آپ کی سعی کا پہلا پھل جناب سمیر بخوطہ صاحب مرحوم ہیں جن کا تعلق الجزائر کے ایک اعلیٰ خاندان سے تھا۔ جناب بخوطہ صاحب مرحوم کی تبلیغ سے بہت سے لوگوں نے احمدیت قبول کرنے کی سعادت پائی۔ عبدالسمیع صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم الکلام کی روشنی میں عربی زبان پر تحقیق کرنے کی بھی توفیق ملی ہے۔آپ نے والدہ مرحومہ کی تحریک پر تھرپارکر میں دو سینٹرز کے لیے زمین لے کر جماعت کے نام وقف کر دی۔آپ کی پوتی فہمیدہ شاہد کو بھی قرآن کریم با ترجمہ، درست تلفظ اور عربی گرامر سکھانے کی توفیق ملی۔ آجکل ہالینڈ میں آن لائن کلاسز لے رہی ہے۔ اسی طرح خاکسار کو مختلف جگہوں پر قرآن کریم درست تلفظ اورترجمہ کے ساتھ سکھانے کی توفیق ملی۔آپ کے ایک پوتے معلم سلسلہ ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دادی جان مر حومہ کو جنت الفر دوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ۳؍مئی: عالمی یومِ آزادیٔ صحافت



