مکتوب

مکتوبِ ایشیا (اپریل ۲۰۲۶ء)

(ابو سدید)

بر اعظم ایشیا کے تازہ حالات و واقعات کا خلاصہ

آبنائے ہرمز ،فوجی اور سیاسی تنازع کا مرکز

آبنائے ہرمز اس وقت (اپریل ۲۰۲۶ء) عالمی سطح پر ایک سنگین جغرافیائی اور معاشی بحران کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ فروری ۲۰۲۶ءمیں ایران، امریکہ اور اسرائیل تنازع کے آغاز کے بعد یہ اہم بحری گزرگاہ عملی طور پر بند یا انتہائی محدود ہو چکی ہے، جہاں پہلے روزانہ تقریباً ۱۲۵ سے ۱۴۰؍جہاز گزرتے تھے، اب یہ تعداد کم ہو کر چند جہازوں تک رہ گئی ہے۔ ایران کی جانب سے بحری بارودی سرنگیں بچھانے، جہازوں پر حملوں اور سخت کنٹرول کے باعث عالمی شپنگ کمپنیاں اس راستے سے گزرنے سے گریز کر رہی ہیں، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر کے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ’’دوہری ناکہ بندی‘‘ پیدا ہو گئی ہے۔

توانائی کے اس بحران کے عالمی بازار پر انتہائی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور بعض اندازوں کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو قیمتیں ۱۰۰ سے ۱۱۰؍ڈالر فی بیرل یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں عالمی مہنگائی، سفری اخراجات اور صنعتی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی ممالک کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کا اعلان کرتے ہوئے اسے علاقائی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کا حصہ قرار دیا ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اسے بین الاقوامی آبی راستہ قرار دے کر اسے کھلوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگرچہ اپریل میں ایک عارضی جنگ بندی ہوئی، لیکن اس کے باوجود جہاز رانی معمول پر بحال نہیں ہو سکی اور دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی شدید کمی برقرار ہے۔ ایران کی جانب سے بعض شرائط کے ساتھ آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش بھی سامنے آئی ہے، مگر تاحال کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔

مزید برآں، ہزاروں جہاز اور تقریباً ۲۰؍ہزار ملاح خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ جہاز رانی کے انشورنس اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں اور بارودی سرنگوں کی صفائی میں بھی کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ عالمی طاقتیں، جیسے فرانس، چین اور دیگر ممالک اس راستے کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق کے مطابق بحران ابھی حل سے دور دکھائی دیتا ہے۔ مختصراً، آبنائے ہرمز اس وقت نہ صرف ایک فوجی اور سیاسی تنازع کا مرکز ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، اور اس کی بحالی کا انحصار امریکہ-ایران تعلقات میں بہتری اور جنگ کے خاتمے پر ہے۔

اٹلی نے اسرائیل سے دفاعی معاہدہ معطل کردیا

اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیل اور اٹلی کے عسکری معاہدے کی تجدید قریب تھی لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خودکار تجدید کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس معاہدے پر دس سال قبل ۲۰۱۶ء میں دستخط ہوئے تھے اور اس میں فوجی سازوسامان اور دفاع سمیت مختلف شعبہ جات میں تحقیق پر تعاون شامل تھا جسے ہر پانچ سال بعد تجدید کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ فیصلہ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی کے لبنان کے دورے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والی اسرائیلی بمباری کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا تھا۔ دریں اثنا امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے اسرائیل کو ۵۰۰؍ملین ڈالر مالیت کا اسلحہ فراہمی روکنے کی کوشش کی۔ برنی سینڈرز نے کہا کہ رواں ہفتے اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی روکنے کے لیے ووٹنگ کراؤں گا۔ اسرائیل کی مزید حمایت قابل قبول نہیں۔ امریکی ٹیکس دہندگان، نیتن یاہو حکومت کے جنگی اخراجات نہ اٹھائیں۔ غزہ، ایران اور لبنان میں شہریوں کے قتل اور بے دخلی کی فنڈنگ نہیں ہونی چاہیے۔

عالمی بینک کا بے روزگاری سے متعلق انکشاف

عالمی بینک نے واشنگٹن میں۲۴؍پریل کو منعقدہ اپنے سالانہ اجلاس میں ایک انتہائی تشویش ناک انکشاف کیا ہے۔ بینک کے ماہرین کے مطابق، آئندہ دس سے پندرہ برسوں کے دوران پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں لاکھوں نوجوان روزگار سے محروم ہوسکتے ہیں۔اجلاس میں بے روزگاری کو سب سے سنگین عالمی مسئلہ قرار دیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں ایک گہرے معاشی بحران میں دھنس سکتی ہیں۔

ایران ، امریکہ جنگ بندی میں توسیع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر ایران کے ساتھ جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی اور امریکی فوج بھی ہمہ وقت تیار رہے گی تاہم انہوں نے مذاکرات کے اختتام تک ایران پر حملے روک دیے ہیں۔ امریکی صدر نے یہ اعلان۲۲؍اپریل کو علی الصبح اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس وقت کیا جب پندرہ روزہ جنگ بندی کی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں چند ساعتیں ہی باقی رہ گئی تھیں۔ ٹرمپ کے بقول انہیں کہا گیا ہے کہ ابھی ایران پر حملے نہ کریں۔ پاکستان کی درخواست پر انہوں نے حملے روک دیے ہیں اور فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ ناکہ بندی جاری رکھے۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے سیز فائر کیا تھا، اس حقیقت کے باوجود کہ ایران کی حکومت شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اب ہم جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کررہے ہیں جب تک ایران کی تجویز پیش نہیں کر دی جاتی اور بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔ دریں اثنا امریکی صدر نے ایک چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا معاملہ ایک بڑی ڈیل کے ساتھ ختم ہوجائے گا، ہم ایران کے ساتھ معاملات کوکامیابی سے سنبھال رہے ہیں۔ ایران کی ناکہ بندی کامیاب رہی ہے۔ امریکہ ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاہم وہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔ اگر ایران معاہدہ کر لے تو وہ بہت مضبوط پوزیشن پر آسکتا ہے۔ ٹرمپ کے بقول ایران کے پاس مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پْزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے امریکہ پر اعتماد نہ کرنے کی وجوہات تاریخی بداعتمادی ہے۔ اپنے ایک بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ امریکی حکام کی جانب سے غیر تعمیری اور متضاد اشارے تلخ پیغام دیتے ہیں۔ ان کے بقول بامعنی مذاکرات کی بنیاد معاہدے پورے کرنے پر ہوتی ہے۔پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران سے سرنڈر چاہتا ہے جبکہ ایرانی قوم طاقت کے آگے سر نہیں جھکاتی۔ اسی طرح ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے دو ٹوک الفاظ میں باور کرایا کہ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرکے صدر ٹرمپ خود فریبی کا شکار ہیں جبکہ مذاکرات کی میز پر دباؤ کے حربے سے نتائج نہیں ملتے۔ اسی طرح ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل عبداللہی نے دعویٰ کیا کہ پاسداران نے اسرائیل اور امریکہ کو مایوسی کی جانب دھکیل دیا ہے۔ دریں اثنا ایران نے سرکاری میڈیا پر جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ایران نے مذاکرات کی امریکی شرائط مسترد کر دی تھیں، صدر ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایرانی قیادت کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں، ہمیں ایران کی جانب سے کنفرمیشن کا انتظار ہے اور اسی بنیاد پر صدر ٹرمپ سے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی گئی تھی۔

پاکستان کے ثالثی کے اس مثبت اور تعمیری کردار کے عالمی معیشتوں پر بھی انتہائی خوشگوار اثرات مرتب ہوئے اور تیل کے انتہاکو پہنچے ہوئے نرخ یکایک نیچے آنا شروع ہوگئے۔ اگر پہلے راؤنڈ میں ہی امریکہ ایران مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہو جاتے تو آج دنیا میں امن کا راج ہوتا مگر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اچانک مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرکے امریکہ واپس روانہ ہوگئے جس پر اقوام عالم مستقل امن کے حوالے سے پھر تشویش میں مبتلا ہوگئی جبکہ پاکستان نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی کوششیں جاری رکھیں جو بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوئیں اور فریقین کی رضامندی سے اسلام آباد میں مذاکرات کی دوبارہ میز سجنے کا راستہ ہموار ہو گیا۔ اس پر امریکی صدر ٹرمپ نے بھی پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عالمی امن کی منزل قریب آنے کا عندیہ دیا ۔ اسی اثنا میں امریکہ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے بعد اس کی ناکہ بندی کر لی اور ایک ایرانی بحری جہاز روک کر اس کے پائلٹ کو بھی اغوا کرلیا جس سے مذاکرات کے لیے سازگار ہوتی فضا میں پھر کشیدگی کا عنصر داخل ہوگیا اور ایران نے امریکی ناکہ بندی ختم ہونے تک مذاکرات میں شمولیت سے معذرت کر لی۔ اسی دوران دوہفتے کی جنگ بندی کی ڈیڈ لائین بھی قریب آگئی اور فریقین کی تلخ بیان بازی پھر خوفناک جنگ کی نوبت لاتی دکھائی دی اور تیسری عالمی ایٹمی جنگ کا خطرہ سروں پر منڈلاتا نظر آیا ۔چنانچہ پاکستان کی جانب سے صدر ٹرمپ سے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی گئی۔ اس طرح تیسری عالمی جنگ کا لاحق خطرہ ایک بار پھر ٹل گیا ہے۔

اب بظاہر جنگ بندی تو قائم ہے مگر اعتماد کی فضا ابھی تک بحال نہیں ہو سکی اور یہی وہ نکتہ ہے جو عالمی امن کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان کا کردار اس سارے منظر نامے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم سوال یہی ہے کہ کیا یہ جنگ بندی مستقل امن کی ضمانت بن سکتی ہے؟ اس کا جواب فی الحال نفی میں نظر آتا ہے کیونکہ جب تک بنیادی تنازعات کا حل تلاش نہیں کیا جاتا اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات نہیں کیے جاتے، اس نوعیت کی جنگ بندیاں محض وقتی وقفہ ثابت ہوتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مذاکرات بحال کرنے کی کوششوں کو محض رسمی کارروائی نہ سمجھا جائے بلکہ ان کے ذریعے ایک جامع اور پائیدار معاہدے کی بنیاد رکھی جائے۔

غزہ میں معاشی، عسکری اور سیاسی بحران

غزہ کی تازہ ترین صورتحال انتہائی پیچیدہ، غیر مستحکم اور انسانی بحران سے بھرپور رہی، غزہ میں بظاہر جنگ بندی کے باوجود مسلسل جھڑپیں، فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں جاری رہیں۔ اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اپریل کے آغاز سے ہی اسرائیلی حملوں میں درجنوں فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین، بچے، صحافی اور امدادی گروپوں کے کارکن شامل تھے، جبکہ عام شہریوں کے لیے نقل و حرکت بھی خطرناک بن گئی تھی۔ اس دوران مختلف واقعات میں اسکولوں، خیمہ بستیوں اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے عدم تحفظ کی فضا مزید گہری ہو گئی۔

معاشی لحاظ سے صورتحال نہایت سنگین رہی۔ اسی طرح صاف پانی، خوراک اور طبی سہولیات کی شدید قلت برقرار رہی، جبکہ پانی کے نظام کی تباہی اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے سے بیماریوں میں اضافہ ہوا۔ بعض علاقوں میں یومیہ صرف چند لیٹر صاف پانی دستیاب تھا، جو عالمی معیار سے بہت کم ہے، اور صفائی کی کمی کے باعث وبائی امراض پھیل رہے ہیں۔ طبی شعبہ بھی شدید دباؤ کا شکار رہا، جہاں ادویات، ایندھن اور طبی آلات کی کمی کے باعث ہسپتالوں کی کارکردگی متاثر ہوئی اور کئی اہم علاج آپریشنز معطل ہو گئے۔ عسکری اور جغرافیائی لحاظ سے بھی اپریل میں اہم تبدیلیاں سامنے آئیں۔ اسرائیل نے غزہ کے اندر ایک وسیع “کنٹرول زون” قائم کیا، جس کے نتیجے میں تقریباً دو تہائی علاقہ اس کے عملی کنٹرول میں آ گیا، جبکہ لاکھوں فلسطینی محدود علاقوں میں محصور ہو گئے۔ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی پیش رفت محدود رہی۔ امریکہ کی جانب سے غزہ میں امن اور امدادی نگرانی کے لیے قائم مشن مؤثر ثابت نہ ہو سکا اور اسے تبدیل کرنے کی بات سامنے آئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی کوششیں ابھی تک بحران کو حل کرنے میں ناکام ہیں۔

مختصراً، اپریل ۲۰۲۶ء میں غزہ ایک شدید انسانی، عسکری اور سیاسی بحران کی تصویر پیش کرتا رہا، جہاں جنگ بندی کے باوجود تشدد جاری رہا، بنیادی سہولیات تقریباً مفلوج رہیں، اور عالمی سفارتی کوششیں ابھی تک کوئی ٹھوس اور دیرپا حل نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

تازہ ترین خلیجی صورتحال

اپریل ۲۰۲۶ءمیں خلیجی ممالک کی مجموعی صورتحال شدید سکیورٹی، معاشی اور سیاسی بحران سے دوچار رہی، جس کی بنیادی وجہ امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش تھی۔ اس مہینے کے دوران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان کو براہِ راست یا بالواسطہ حملوں، ڈرون اور میزائل خطرات کا سامنا رہا، حتیٰ کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی ۸؍اپریل کو کئی ممالک میں حملے رپورٹ ہوئے، جس سے خطے میں عدم استحکام برقرار رہا۔ اسی دوران فضائی حدود اور سفری نظام شدید متاثر ہوئے۔ معاشی لحاظ سے اپریل کا مہینہ خلیجی ممالک کے لیے نہایت مشکل ثابت ہوا۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل، گیس اور ایندھن کی برآمدات شدید متاثر ہوئیں۔ مزید برآں، شپنگ، لاجسٹکس اور تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں، اور کئی بین الاقوامی کمپنیوں نے خلیجی بندرگاہوں کے لیے بکنگ معطل کر دی۔ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی اپریل میں اہم پیش رفت ہوئی۔ خلیجی ممالک نے اجتماعی طور پر ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا اور امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی بڑھائی، جبکہ سعودی عرب میں ایک اہم سربراہی اجلاس منعقد ہوا جس میں علاقائی سلامتی اور جنگ کے اثرات پر غور کیا گیا۔ اسی دوران عالمی سطح پر بھی خلیجی ممالک کی اہمیت بڑھی، جہاں امریکہ نے خطے کے اتحادیوں (جیسے قطر، کویت اور یواے ای) کو اربوں ڈالر کے دفاعی ہتھیار فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ سکیورٹی خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

مزید اہم پیش رفت میں متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے الگ ہونے کا اعلان شامل ہے، جس نے خلیجی اتحاد اور عالمی تیل کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی پیدا کی اور سعودی عرب کی قیادت کو چیلنج کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک نے باہمی تعاون بڑھانے، مالی امداد دینے (جیسے بحرین کو یو اے ای کی مدد) اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھیں۔

مزید پڑھیں: مکتوب شمالی امریکہ(مارچ ۲۰۲۶ء)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button