خلاصہ خطبہ جمعہ

عاجزی و انکساری کی روشنی میں آنحضورﷺ کے اخلاقِ فاضلہ کا دل آویز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۱۵؍مئی ۲۰۲۶ء

٭… آپؐ کے اعلیٰ ترین اخلاق میں سے ایک خلق عاجزی اور انکساری کا بھی ہے

٭… یہ ایک سبق ہے جو ہمیں دیا گیا ہے کہ آنحضرتﷺ تمہارے لیے اسوہ حسنہ ہیں۔ پس اگر آپؐ کی محبت کا دعویٰ ہے تو تم بھی عاجزی اور انکساری کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرو

٭…اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبیﷺ کو جیسے جیسے کامیابیاں عطا کیں، آپؐ ویسے ویسے عاجزی اور فروتنی اختیار کرتے چلے گئے(حضرت مسیح موعودؑ)

٭… جب مکّہ فتح ہوگیا تو آنحضورﷺ نے ایک لاکھ صحابہؓ کے ساتھ حج فرمایا اور اُس وقت آپؐ کی فروتنی کا یہ عالَم تھا کہ آپؐ نے ایک عام کجاوے والی سواری پر حج کیا، آپؐ کی چادرچار درہم کے برابربلکہ اس سے بھی کم تر تھی

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۵؍مئی ۲۰۲۶ء بمطابق ۱۵؍ہجرت ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۱۵؍مئی ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔

تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ہم اس بات پر یقین اور ایمان رکھتے ہیں کہ اگر دنیا میں کوئی کامل انسان پیدا ہوا ہے تو وہ حضرت محمدمصطفیٰﷺہیں۔ آپؐ سے پہلے اور نہ بعد میں کوئی کامل انسان پیدا نہیں ہوا۔ حقوق اللہ کی ادائیگی ہو یا حقوق العباد کی ادائیگی، آپؐ کی ذات میں تمام اعلیٰ اخلاق جمع نظر آتے ہیں۔

آپؐ کے اعلیٰ ترین اخلاق میں سے ایک خلق عاجزی اور انکساری کا بھی ہے۔

آنحضورﷺ نے اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ عاجزی اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔ آنحضورﷺ کے اِس اعلیٰ خلق کا اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں اعلان کرنے کا ارشاد فرمایا کہقُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ۔ یعنی تُو انہیں کہہ دے کہ مَیں تمہاری طرح ایک بشر ہی ہوں۔

آج اسی حوالے سے مَیں بعض احادیث اور حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے بعض ارشادات پیش کروں گا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے بڑھ کردنیا میں کسی کامل انسان کا نمونہ موجود نہیں اور نہ آئندہ قیامت تک ہوسکتا ہے۔ پھر دیکھو کہ اقتداری معجزات کے ملنے پر بھی حضورﷺ کے شاملِ حال ہمیشہ عبودیت ہی تھی اور باربار اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ ہی فرماتے رہے۔

فرمایا:خالی شیخیوں سے اور بےجا تکبربڑائی سےپرہیز کرنا چاہیے اور انکساری اور تواضع اختیار کرنی چاہیے۔ دیکھو! آنحضرتﷺ جو کہ حقیقتاً سب سے بڑے اور مستحق بزرگی تھے اُن کے انکسار اور تواضع کا ایک نمونہ قرآن کریم میں موجود ہے۔ لکھا ہے کہ ایک اندھا آنحضرتﷺکی خدمت میں آکر قرآن کریم پڑھا کرتا تھا۔ ایک دن آپؐ کے پاس عمائدِمکّہ اور رؤسائے شہر جمع تھےاور آپؐ ان سے باتوں میں مصروف تھے۔ اس اندھے نے تھوڑی دیر انتظار کیا اور پھر چلا گیا۔ فرمایا یہ ایک معمولی بات ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق سورت نازل فرمادی۔ اس پر آنحضرتﷺ اس کے گھر پر گئے اور اسے ساتھ لاکر اپنی چادرِ مبارک پر بٹھایا۔ اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں عظمتِ الٰہی ہوتی ہے انہیں لازماً خاکسار اور متواضع بننا پڑتا ہے کیونکہ وہ خدا کی بے نیازی سے ہمیشہ ترساں و لرزاں رہتے ہیں۔

حضورِانور نے فرمایاکہ یہ محض ایک واقعہ نہیں جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے یا حضرت مسیح موعودؑ نے بیان فرمایا ہے بلکہ

یہ ایک سبق ہے جو ہمیں دیا گیا ہے کہ آنحضرتﷺ تمہارے لیے اسوۂ حسنہ ہیں۔ پس اگر آپؐ کی محبت کا دعویٰ ہے تو تم بھی عاجزی اور انکساری کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرو۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہر انسان کے سر کے ساتھ دو زنجیریں بندھی ہوئی ہیں۔ ایک زنجیر آسمان کی طرف ہے اور ایک زنجیر زمین کی طرف ہے۔ جب بندا عاجزی اور فروتنی اختیار کرتا ہے تووہ فرشتہ جس کے ہاتھ میں آسمان والی زنجیر ہے وہ اُس زنجیر کو اوپر اٹھا لیتا ہے، اور جب وہ غرور اور تکبر کرتا ہے تو زمین والی زنجیر اسے نیچے کھینچ لیتی ہے۔

آنحضورﷺ نے فرمایا کہ

جب بندہ عاجزی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ساتویں آسمان تک بلند کر دیتا ہے۔

آنحضورﷺ نے فرمایا :صدقہ مال میں سے کچھ بھی کم نہیں کرتا اور اللہ کسی انسان کو عفو کی وجہ سے نہیں بڑھاتا مگر عزت میں اور کوئی اللہ کے لیے تواضع اختیار نہیں کرتا مگر اللہ اُسے بلندی عطا کرتا ہے۔

آنحضورﷺ کے اپنے لیے عاجزی کے کیا معیار تھے۔ اس حوالے سے حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبیﷺ کو مخاطب کرکے کہا کہ اے ہمارے سردار ابنِ سردار! اے خیر ابنِ خیر! اس کی یہ بات سُن کر آپؐ نے فرمایا کہ لوگو! تقویٰ کو اپنے اوپر لازم کرلو، شیطان تمہیں بہکا نہ دے۔ مَیں محمد بن عبداللہ ہوں۔ اللہ کا بندہ اور اس کا پیمبر۔ اللہ کی قسم! مَیں یہ پسند نہیں کرتا کہ تم مجھے اُس مرتبے سے جو مجھے اللہ نے دیا ہے بڑھا چڑھا کر بیان کرو۔

اسی طرح آنحضورﷺ نے فرمایا کہ کسی کو اُس کا عمل جنّت میں داخل نہیں کرے گا۔ صحابہؓ نے کہا کہ یارسول اللہﷺ! آپ کو بھی؟ آپؐ نے فرمایا نہیں! مجھے بھی نہیں۔ سوائے اس کے کہ اللہ مجھے اپنے فضل میں ڈھانپ لے۔

رسول اللہﷺ یہ دعا کیا کرتے کہ اے میرے اللہ! مجھے مسکین کے طورپر زندہ رکھ، اور مسکین کے طور پر موت دینا اور مسکینوں کے گروہ میں مجھے اٹھانا۔

ایک عورت جس کی عقل میں کچھ فرق تھا اس نے آپؐ سے کہا کہ اے محمد(ﷺ)! مجھے آپؐ سے کام ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اے امِّ فلاں! تُو جس گلی میں بھی چاہتی ہے مجھے لے چل یہاں تک کہ مَیں تیرا کام کردوں۔

رسول اللہﷺ انصار کے پاس جاتے تو ان کے بچوں کو سلام کرتے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لیے دعاکیا کرتے تھے۔

ایک مرتبہ ایک آدمی آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے بات کی۔ آنحضورﷺ کے رعب کی وجہ سے اُس کے کندھے کانپنے لگے تو آپؐ نے فرمایا کہ اطمینان رکھو! مَیں کوئی بادشاہ نہیں مَیں تو ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو خشک گوشت کھایا کرتی تھی۔

حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبیﷺ کو جیسے جیسے کامیابیاں عطا کیں، آپؐ ویسے ویسے عاجزی اور فروتنی اختیار کرتے چلے گئے۔

آنحضورﷺ نے فرمایا کہ میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو جیسے نصاریٰ نے ابنِ مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا۔ مَیں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں۔ تم صرف یہ کہو کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔

آنحضورﷺ نے فرمایا کہ کسی کو نہ چاہیے کہ وہ کہے کہ مَیں یونس بن متیٰ سے افضل ہوں۔ باوجود افضل ہونے کہ آپؐ نے افضلیت کے اظہار سے عاجزی کی وجہ سے منع فرمادیا۔

ایک شخص نے آپؐ کو خیر البریّہ کہہ کر مخاطب کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ وہ ابراہیمؑ تھے۔ حضورِ انور نے فرمایا کہ

یقیناً آنحضورﷺ مخلوق میں سب سے بہترین تھے اور ہیں اور خیر البریّہ ہیں مگر آپؐ نے انتہائی عاجزی سے اسے حضرت ابراہیمؑ کی طرف منسوب کردیا۔

جب مکّہ فتح ہوگیا تو آنحضورﷺ نے ایک لاکھ صحابہؓ کے ساتھ حج فرمایا اور اُس وقت آپؐ کی فروتنی کا یہ عالَم تھا کہ آپؐ نے ایک عام کجاوے والی سواری پر حج کیا، آپؐ کی چادرچار درہم کے برابربلکہ اس سے بھی کم تر تھی۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ احمدؐ نام مظہرِ جمال اور اس کے بالمقابل محمدؐ نام مظہرِ جلال ہے۔ وجہ یہ ہے کہ محمد نام میں سِر محبوبیت ہے ، جبکہ اسمِ احمد میں سّر عاشقیت پوشیدہ ہے… محبوبیت جو اسمِ محمد میں مخفی تھی صحابہ کے ذریعے سے ظہور میں آئی اور جو لوگ ہتک کرنے والے اور گردن کش تھے محبوبِ الہٰی ہونے کے جلال نے ان کی سرکوبی کی۔

حضرت انسؓ سےمروی ہے کہ رسول اللہﷺ مریض کی عیادت فرماتے، جنازے پر تشریف لاتے اور گدھے پر سوار ہوجاتے۔ غلام کی دعوت قبول فرماتے۔

آنحضورﷺ معمولی کھانے کی دعوت بھی قبول فرمالیا کرتے تھے اور فرماتے کہ مجھے اگر بکری کی دستی یا اس کے پایہ کی دعوت پر بھی مدعو کیا جائے تو مَیں اسے قبول کروں گا۔

آنحضورﷺ لوگوں کے جذبات کا کس قدر خیال رکھتے تھے ۔اس کی مثال یوں ملتی ہے کہ آپؐ نے ایک مرتبہ ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ پیالے میں شامل کیا اور فرمایا کہ اللہ کا نام لے کر کھاؤ، اُس پر بھروسہ کرتے ہوئے اور توکّل کرتے ہوئے کھاؤ۔

آنحضرتﷺ نے ایک سفر میں بکری کا گوشت پکانے کا ارشاد فرمایا تو لوگوں نے بکری کو ذبح کرنا، کھال اتارنا اور کھانا پکانا وغیرہ کام اپنے اپنے ذمہ لے لیے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ ایندھن جمع کرنا میرے ذمہ ہوا۔ صحابہؓ نے عرض کی کہ یارسول اللہﷺ! ہم آپؐ کے لیے کافی ہیں۔ اس پر آنحضورﷺ نے فرمایا کہ

مَیں جانتا ہوں کہ تم کافی ہو مگر مَیں نہیں چاہتا کہ مَیں تم میں ممتاز ہوں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا کہ اس کا بندہ لوگوں میں ممتاز نظر آئے۔

حضرت عائشہؓ نے فرمایا ہے کہ نبیﷺ گھر کے کام کاج میں گھر والوں کی مدد کیا کرتے تھے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو آپؐ نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ حضورِانور نے فرمایا کہ

اس میں اُن مردوں کے لیے بھی ہدایت ہے جو گھر کے کام کاج سے بالکل انکاری ہوجاتے ہیں اور پھر بیویوں کو شکایت پیدا ہوتی ہے۔

آنحضورﷺ اپنے جوتے کی خود مرمت کرلیتے تھے، اپنا کپڑا سی لیتے تھے اور اپنے گھر میں اُسی طرح کام کیا کرتے تھے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھر میں کام کرتا ہے۔

حضورِانور نےفرمایا کہ

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ ؓبھی اپنے گھر میں بیویوں کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے، مگر یہاں یہ بھی واضح ہوکہ گھر کے کام کاج کی اصل ذمہ داری بیویوں کی ہے۔

آپؐ نے ہمیشہ ترجیحی سلوک سے انکار کیا، آنحضورﷺ نے مسجدِ نبوی کی تعمیر میں اینٹیں ڈھونے کے کام میں لوگوں کا ساتھ دیا، خندق کھودے جانے کے وقت مٹی ڈھوئی، اور حالت یہ تھی کہ مٹی نے آپؐ کے سینے کے بالوں کو چھپایا ہوا تھا۔

ایک موقعے پر صحابہؓ  آپؐ کے تشریف لانے پر کھڑے ہوئے تو آپؐ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو جیسے اہلِ فارس اپنے بڑوں کے لیے کرتے ہیں۔

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ اپنے آنے پر لوگوں کو کھڑے ہونے سے منع فرمایا کرتے تھے اور فرماتے کہ یہ تو ایرانیوں کا رواج ہے۔ مَیں کوئی بادشاہ نہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں میرے نزدیک پاک ہونے کا یہ عمدہ طریق ہے اور ممکن نہیں کہ اس سے بہتر کوئی طریق مل سکے کہ انسان کسی قسم کا تکبر اور فخر نہ کرے۔ نہ علمی، نہ خاندانی، نہ مالی… انسان جب تک ایک غریب و بیکس بڑھیا کے ساتھ وہ اخلاق نہ برتے جو ایک اعلیٰ نسب عالی جاہ انسان کے ساتھ برتتا ہے یا برتنے چاہئیں، اور ہر ایک طرح کے غرور اور رعونت اور کبر سے اپنے آپ نہ بچاوے وہ ہرگز ہرگز خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل نہیں ہوسکتا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عاجزی کی حقیقت کو سمجھنے اور آنحضرتﷺ کے اسوہ کو ہمیشہ سامنے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button