نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۸؍اپریل ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ آمنہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم محمد اسلم صاحب مرحوم (ربوه۔ حال Ash۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرمہ آمنہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم محمد اسلم صاحب مرحوم (ربوه۔ حال Ash۔یوکے)
12؍اپریل2026ء کو 81 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کی رہائش پہلے احمد نگر اور پھر ربوہ میں رہی۔ آپ کے شوہر کو فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد دفتر امور عامہ ربوہ میں خدمت کی توفیق ملی۔ مرحومہ 2019ء میں یو کے شفٹ ہو گئی تھیں۔ مرحومہ نماز اورروزہ کی پابند، تہجد گزار، باقاعدگی سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والی، غریبوں کی ہمدرد، خدمت خلق کے جذبے سے سر شار، مہمان نواز، عہدیداروں کا احترام کرنے والی،بڑی نیک مخلص بزرگ خاتون تھیں۔ مرحومہ۸/۱ حصہ کی موصیہ تھیں۔پسماندگان میں ایک بیٹا، تین بیٹیاں، نواسے نواسیاں اور پوتے پوتیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم یٰسین ربانی صاحب …کی ساس اور مکرم فراز یاسین صاحب (مربی سلسلہ گھانا) کی دادی تھیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرم مرزا مشتاق احمد صاحب ابن مکرم مرزا خورشید احمد صاحب (دار الیمن وسطی حمد ربوه)
2؍فروری 2026ء کو80 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم لمبا عرصہ مغل پورہ لاہور میں قائد مجلس رہے۔جلسہ سالانہ ربوہ میں حفاظتی ڈیوٹیاں بھی دیتے رہے۔ مجلس انصاراللہ میں بطور زعیم اعلیٰ شالا مار ٹاؤن خدمت کی توفیق پائی۔ بہت متحرک داعی الی اللہ تھے۔ تبلیغ کے کیس میں چند ہفتے اسیر راہ مولیٰ بھی رہے۔ 2015ء میں ربوہ منتقل ہوئے اور مجلس انصاراللہ پاکستان میں قیادت تعلیم اور شعبہ دعوت الی اللہ کے علاوہ اپنے محلہ میں سیکرٹری دعوت الی اللہ اور سیکرٹری اصلاح وارشاد کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ اسی طرح آپ کو مختلف شہروں میں وقف عارضی کرنے اورمیڈیکل کیمپس لگانے کی بھی توفیق ملی۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں چار بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔
۲۔مکرم مشتاق احمد کاہلوں صاحب ابن مکرم محمد لطیف کاہلوں صاحب (کینیڈا)
21؍فروری 2026ء کو70سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار، دعا گو، غریب پرور، مہمان نواز، ملنسار اور مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے، بڑے نیک اورمخلص انسان تھے۔ خلافت احمدیہ کے ساتھ گہری وفا کا تعلق تھا۔ ہر کام کا آغاز دعا اور صدقہ اور خلیفۃالمسیح کی خدمت میں دعائیہ خط لکھنے کے بعد کیا کرتے تھے۔ بیماری کا عرصہ بڑے صبر اور حوصلے کے ساتھ گزارا۔ مرحوم نے اپنے آبائی گاؤں میں جماعتی اور تنظیمی سطح پر خدمت کی توفیق پائی۔ دعوت الی اللہ بڑے شوق اور جذبے سے کرتے تھے۔ ایک جماعتی مقدمہ میں کچھ عرصہ اسیر راہ مولیٰ بھی رہے۔ آپ کو عمرہ کرنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔ سات سال سے کینیڈا میں مقیم تھے اور وہاں جلسہ سالانہ کینیڈا، تنظیمی اجتماعات اور دیگر جماعتی پروگراموں میں بڑے شوق سے ڈیوٹیاں دیتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور پانچ بیٹے شامل ہیں۔آپ کے دو بیٹے معلمین وقف جدید کے طور پر خدمت دین کی توفیق پارہے ہیں۔
۳۔مکرم حکیم بشارت صاحب ابن مکرم حکیم ممتاز احمد صاحب (سیالکوٹ)
21؍فروری 2026ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ ہمیشہ جماعتی کاموں میں پیش پیش رہتے تھے۔ بڑے مہمان نواز اور جماعتی مہمانوں خصوصاً واقفین زندگی کے لیے آپ کا دستر خوان ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ غریبوں، بیواؤں اور یتیموں کا سہارا بنتے۔ زندگی کے آخری سانس تک خدمت دین اور خدمت انسانیت میں مصروف رہے۔ آپ نے سیالکوٹ شہر میں اپنے حلقہ شہاب پورہ کے صدر جماعت کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ کو دعوت الیٰ اللہ کا بہت شوق تھا۔ اپنے جاننے والوں اور مریضوں کو جماعت کا پیغام پہنچاتے رہے۔ چندہ ہمیشہ اپنی اصل آمد کے مطابق اور بر وقت دیتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔
۴۔مکرم بشارت احمد صابر صاحب ابن مکرم غلام محمد صاحب (ناروے)
3؍مارچ2026ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم نےریٹائر منٹ کے بعد زندگی وقف کر دی تھی۔ آپ نے ناروے میں صدر مجلس خدام الاحمدیہ، صدر مجلس انصار اللہ کے علاوہ افسر جلسہ سالانہ اور نیشنل سیکرٹری تعلیم القرآن و وقف عارضی کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ کو قرآن کریم سے بہت محبت تھی اور ہر وقت اس کوشش میں لگے رہتے تھے کہ لوگوں کو قرآن کریم پڑھنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔ آپ ذاتی محبت اور شوق سے کئی بچوں اور بڑوں کے علاوہ نو مبائعین کو بھی قرآن کریم پڑھاتے رہے۔ ایک نارویجین احمدی کو ابھی حال ہی میں قاعدہ یسر نا القرآن مکمل کروایا تھا۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند اور نفلی عبادات اور مالی قربانی میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ مسجد بیت النصر ناروے کی تعمیر کے وقت اپنا گھر بیچ کر ساری رقم مسجد کے لیے پیش کردی۔آپ کسی کام کو چھوٹا نہیں سمجھتے تھے۔ ہر وقت جماعت کی خدمت میں لگے رہتے تھے۔ سردیوں میں برف صاف کرنا، گرمیوں میں مسجد میں گھاس کی دیکھ بال کرنا اور پھول لگانا اور اسی طرح پھلوں کے درختوں کی دیکھ بھال کرناآپ کا معمول تھا۔جب ایم ٹی اے ڈش انٹینا پر آنا شروع ہوا تو تقریباً ہر احمدی کے گھر میں بلا اُجرت ڈش لگواکر دی۔اسی طرح بعض غیر احمدیوں کے گھروں میں بھی ڈشیں لگا کر ان پرپہلا چینل ایم ٹی اے سیٹ کر دیتے اور کہتے تھے کہ یہ بھی تبلیغ کا ایک ذریعہ ہے۔ شاید ایم ٹی اے سننے سے ہی ان کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز اترجائے۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور تین بیٹے شامل ہیں۔
۵۔مکرم چودھری نور احمد بھٹی صاحب ابن مکرم علی محمد صاحب (چک نمبر 91/10 R محمود آباد ضلع خانیوال)
20؍ستمبر 2024ء کو 88سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت آپ کے والد مکرم علی محمد صاحب کے ذریعہ آئی جنہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے دورِ خلافت میں بیعت کرکے احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔ مرحوم نماز اور روزہ کے پابند، اچھے اخلاق کے مالک، ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ مقامی سطح پر صدر جماعت کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی۔ آپ کو دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔ پسماندگان میں تین بیٹیاں اور پانچ بیٹے شامل ہیں۔
۶۔مکرمہ روبینہ حیات ملک صاحبہ بنت مکرم فخر حیات ملک صاحب (جرمنی)
18؍فروری 2026ء کوعمرہ سے گھر واپس آتے ہوئے کار ایکسیڈنٹ میں 26 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعو د علیہ السلام کے صحابی حضرت چودھری سلطان علی صاحب رضی اللہ عنہ(آف کھوکھر غربی ضلع گجرات) کی پڑنواسی تھیں۔مرحومہ پیشے کے لحاظ سے نرس تھیں۔ آپ اپنے چندے بروقت اور باقاعدگی سے ادا کر تی تھیں۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، ہمدرد، خدمتِ انسانیت کے جذبے سے سرشار، بڑی بااخلاق، نیک فطرت اور مخلص خاتون تھیں۔ ضرور تمندوں کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی تھیں۔ پردے کی بڑی پابند تھیں۔ پسماندگان میں والدین کے علاوہ ایک بہن اور دو بھائی شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




