سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

’’عام طور پر یہ اشتہار دیتا ہوں کہ ایسے لوگ جو آیندہ کسی وقت جلد یا دیر سے اپنے روپیہ کو یاد کر کے اس عاجز کی نسبت کچھ شکوہ کرنے کو تیار ہیں یا اُن کے دل میں بھی بدظنّی پیدا ہو سکتی ہے۔ وہ براہِ مہربانی اپنے ارادہ سے مجھ کو بذریعہ خط مطلع فرماویں اور میں اُن کا روپیہ واپس کرنے کے لئے یہ انتظام کروں گا کہ ایسے شہر میں یا اُس کے قریب اپنے دوستوں میں سے کسی کو مقرر کر دوں گا کہ تا چاروں حصے کتاب کے لے کر روپیہ ان کے حوالہ کرے اور میں ایسے صاحبوں کی بدزبانی اور بدگوئی اور دشنام دہی کو بھی محض لله بخشتا ہوں۔ کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی میرے لئے قیامت میں پکڑا جائے اور اگر ایسی صورت ہو کہ خریدار کتاب فوت ہو گیا ہو اور وارثوں کو کتاب بھی نہ ملی ہو تو چاہیے کہ وارث چار معتبر مسلمانوں کی تصدیق خط میں لکھوا کر کہ اصلی وارث وہی ہے وہ خط میری طرف بھیج دے تو بعد اطمینان وہ روپیہ بھی بھیج دیا جائے اور اگر کسی وارث کے پاس کتاب ہو تو وہ بھی بدستور اس میرے دوست کے پاس روانہ کرے لیکن اگر کوئی کتاب کو روانہ کرے اور یہ معلوم ہو کہ چاروں حصے کتاب کے نہیں ہیں تو ایسا پیکٹ ہرگز نہیں لیا جائے گا جب تک شخص فریسندہ یہ ثابت نہ کرے کہ اسی قدر کتاب اُن کو بھیجی گئی تھی‘‘

[گذشتہ سے پیوستہ]اس ضمن میں سب سے آخر پر ایک اوراشتہار یہاں درج کیاجاتاہے۔ یہ اشتہار یکم مئی ۱۸۹۳ء کو شائع ہوا۔اشتہار کا عنوان تھا:براہین احمدیہ اور اس کے خریدار اس میں آپؑ فرماتے ہیں : ’’واضح ہو کہ یہ کتاب اس عاجز نے اس عظیم الشان غرض سے تالیف کرنی شروع کی تھی کہ وہ تمام اعتراضات جو اس زمانہ میں مخالفین اپنی اپنی طرز پر اسلام اور قرآن کریم اور رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم پر کر رہے ہیں۔ ان سب کا ایسی عمد گی اور خوبی سے جواب دیا جائے کہ صرف اعتراضات کا ہی قلع قمع نہ ہو۔ بلکہ ہر ایک امر کو جو عیب کی صورت میں مخالف بد اندیش نے دیکھا ہے۔ ایسے محققانہ طور سے کھول کر دکھلایا جائے کہ اس کی خوبیاں اور اس کا حسن و جمال دکھائی دے۔ اور دوسری غرض یہ تھی کہ وہ تمام دلائل اور براہین اور حقایق اور معارف لکھے جائیں جن سے حقانیت اسلام اور صداقت رُسول صلے اللہ علیہ وسلم اورحقیّت قرآن کریم روز روشن کی طرح ثابت ہو جائے۔اور تیسری غرض یہ تھی کہ مخالفین کے مذاہبِ باطلہ کی بھی کچھ حقیقت بیان کی جائے اور ابتداء میں یہی خیال تھا کہ اس کتاب کی تالیف کے لئے جس قدر معلومات اب ہمیں حاصل ہیں وہی اس کی تکمیل کے لئے کافی ہیں۔ لیکن جب چار حصّے اس کتاب کے شائع ہوچکے۔ اور اس بات پر اطلاع ہوئی کہ کس قدر بد اندیش مخالف حقیقت سے دُور مہجور ہیں اور کیسے صد ہا رنگا رنگ کے شکوک و شبہات نے اندر ہی اندر ان کو کھا لیا ہے۔ وہ پہلا ارادہ بہت ہی نا کافی معلوم ہوا۔ اور یہ بات کھل گئی کہ اس کتاب کا تالیف کرنا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک ایسے زمانہ کے زیر و زبرکرنے کے لئے یہ ہماری طرف سے ایک حملہ ہے۔ جس زمانہ کے مفاسدان تمام فسادوں کے مجموعہ ہیں۔جو پہلے اس سے متفرق طور پر وقتاً فوقتاً دنیا میں گذر چکے ہیں۔بلکہ یقین ہو گیا کہ اگر ان تمام فسادوں کو جمع بھی کیا جائے۔تو پھر بھی موجودہ زمانہ کے مفاسدان سے بڑھے ہوئے ہیں۔اور عقلی اور نقلی ضلالتوں کا ایک ایسا طوفان چل رہا ہے جس کی نظیر صفحہٴ دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ اور جو ایسا دلوں کو ہلا رہا ہے کہ قریب ہے کہ بڑے بڑے عقل مند اس سے ٹھوکر کھاویں۔ تب ان آفات کو دیکھ کر یہ قرین مصلحت سمجھا گیا کہ اس کتاب کی تالیف میں جلدی نہ کی جائے۔ اور ان تمام مفاسد کی بیخ کنی کے لئے فکر اور عقل اور دُعا اور تضرّع سے پورا پورا کام لیا جائے اور نیز صبر سے اس بات کا انتظار کیا جائے کہ براہین کے چاروں حصّوں کے شائع ہونے کے بعد کیا کچھ مخالف لوگ لکھتے ہیں۔ اور اگرچہ معلوم تھا کہ بعض جلد باز لوگ جو خریدار کتاب ہیں، وہ طرح طرح کے ظنّوں میں مبتلا ہوں گے اور اپنے چند درم کو یاد کر کے مؤلف کو بد دیانتی کی طرف منسوب کریں گے۔ چونکہ دل پر یہی غالب تھا کہ یہ کتاب رطب و یابس کا مجموعہ نہ ہو۔ بلکہ واقعی طور پر حق کی ایسی نصرت ہو کہ اسلام کی روشنی دُنیا میں ظاہر ہو جائے۔اس لئے ایسے جلد بازوں کی کچھ بھی پروا نہیں کی گئی۔ اور اس بات کو خدا تعالےٰ بخوبی جانتا ہے اور شاہد ہونے کے لئے وہی کافی ہے کہ اگر پوری تحقیق اور تدقیق کا ارادہ نہ ہوتا تو اس قدر عرصہ میں جو براہین کی تکمیل میں گذر گیا۔ ایسی بیس تیس کتابیں شائع ہو سکتی تھیں۔ مگر میری طبیعت اور میرے نور ِفطرت نے اس بات کو قبول نہ کیا کہ صرف ظاہری طور پر کتاب کو کامل کر کے دکھلا دیا جائے۔ گو حقیقی اور واقعی کمال اس کو حاصل نہ ہو۔ ہاں یہ بات ضرور تھی کہ اگر میں ایسا کرتا اور واقعی حقیقت کو مدنظر نہ رکھتا تو لوگ بلا شُبہ خوش ہو جاتے لیکن حقیقی راست بازی کا ہمیشہ یہ تقاضا ہوتا ہے کہ مستعجل لوگوں کی لعنت ملامت کا اندیشہ نہ کر کے واقعی خیر خواہی اور غم خواری کو مدنظر رکھا جائے۔ یہ سچ ہے کہ اس دس برس کے عرصہ میں کئی خریدار دنیا سے گذر بھی گئے۔ اور کئی لمبے انتظاروں میں پڑ کر نومید ہو گئے۔ لیکن ساتھ اس کے ذرہ انصاف سے یہ بھی سوچنا چاہیئےکہ کیا وہ لوگ کتاب کے دیکھنے سے بکلی محروم گئے۔اور کیا انہوں نے ۳۶جزو کی کتاب پُراز حقایق و معارف نہیں دیکھ لی۔ اور یہ بھی سوچنا چاہئیے تھا کہ تما م دُنیا کا مقابلہ کرنا کیسا مشکل امر ہے۔ اور کس قدر مشکلات کا ہمیں سامنا پیش آ گیا ہے۔ اور جو کچھ زمانہ کی حالت موجودہ اپنے روز افزوں فساد کی وجہ سے جدید در جدید کوششیں ہم پر واجب کرتی جاتی ہے، وہ کس قدر زمانہ کو چاہتی ہیں۔ ماسوا اس کے ایسے بدظن خریدار اگر چاہیں تو خود بھی سوچ سکتے ہیں کہ کیا ان کے پانچ یا دس روپیہ لے کر اُن کو بکلی کتاب سے محروم رکھا گیا۔ کیا ان کو کتاب کی وہ ۳۶ جزو نہیں پہنچ چکیں۔ جو بہت سے حقایق و معارف سے پُر ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ براہین کا حصہ جس قدر طبع ہو چکا وہ بھی ایک ایسا جواہرات کا ذخیرہ ہے کہ جو شخص الله جلّشانہ اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہو بلاشبہ اس کو اپنے پانچ یا دس روپیہ سے زیادہ قیمتی اور قابلِ قدر سمجھے گا۔ میں یقیناً یہ بات کہتا ہوں اور میرا دل اس یقین سے بھرا ہوا ہے کہ جس طرح میں نے محض الله جلّشانہ کی توفیق اور فضل اور تائید سے براہین کے حصص موجودہ کی نثر اور نظم کو جو دونوں حقایق اور معارف سے بھری ہوئی ہیں، تالیف کیا ہے۔ اگر حال کے بدظن خریدار اُن ملاؤں کو جنہوں نے تکفیر کا شور مچا رکھا ہے۔ اس بات کے لئے فرمایش کریں کہ وہ اسی قدر نظم اور نثر جس میں زندگی کی رُوح ہو اور حقایق معارف بھرے ہوئے ہوں دس برس تک تیار کر کے ان کو دیں اور اسی قدر کی پچاس پچاس روپیہ قیمت لیں تو ہرگز اُن کے لئے ممکن نہ ہو گا اور مجھے الله جلّشانہ کی قسم ہے کہ جو نور اور برکت اس کتاب کی نثر اور نظم میں مجھے معلوم ہوتی ہے۔ اگر اس کا مؤلف کوئی اَور ہوتا اور میں اس کے اسی قدر کو ہزار روپیہ کی قیمت پر بھی خریدتا تو بھی مَیں اپنی قیمت کو اس کے ان معارف کے مقابل پر جو دلوں کی تاریکی کو دُور کرتی ہیں، ناچیز اور حقیر سمجھتا۔ اس بیان سے اس وقت صرف مطلب یہ ہے کہ اگرچہ یہ سچ ہے کہ بقیہ کتاب کے دینے میں معمول سے بہت زیادہ توقّف ہوا۔ لیکن بعض خریداروں کی طرف سے بھی یہ ظلم صریح ہے کہ انہوں نے اس عجیب کتاب کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا اور ذرا خیال نہیں کیا کہ ایسی اعلیٰ درجہ کی تالیفات میں کیا کچھ مؤلفین کو خون جگر کھانا پڑتا ہے اور کس طرح موت کے بعد وہ زندگی حاصل کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک لطیف اور آبدار شعر کے بنانے میں جو معرفت کے نور سے بھرا ہوا ہو اور گرتے ہوئے دلوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اُوپر کو اُٹھا لیتا ہو۔ کس قدر فضل الٰہی درکار ہے اور کس قدر وقت خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر اگر ایسے آبدار اور پُرمعارف اشعار کا ایک مجموعہ ہو تو ان کے لئے کس قدر زمانہ درکار ہو گا۔ ایسا ہی نثر کا بھی حال ہے۔ جاندار کتابیں بغیر جانفشانی کے تیار نہیں ہوتیں۔ اور متقدمین ایک ایک کتاب کی تالیف میں عمریں بسر کرتے رہے ہیں۔ امام بخاری نے سولہ برس میں اپنی صحیح کو جمع کیا۔ حالانکہ صرف کام اتنا تھا کہ احادیث صحیحہ جمع کی جائیں۔ پھر جس شخص کا یہ کام ہو کہ زمانہ موجودہ کے علم طبعی علم فلسفہ کے ان امور کو نیست و نابود کرے۔ جو ثابت شدہ صداقتیں سمجھی جاتی ہیں اور ایک معبود کی طرح پوجی جا رہی ہیں۔ اور بجائے اُن کے قرآن کا سچا اور پاک فلسفہ دُنیا میں پھیلاوے اور مخالفوں کے تمام اعتراضات کا استیصال کر کے اسلام کا زندہ مذہب ہونااور قرآن کریم کا منجانب الله ہونا اور تمام مذاہب سے بہتر اور افضل ہونا ثابت کر دیوے۔ کیا یہ تھوڑا سا کام ہے۔ میں خوب جانتا ہوں کہ جن لوگوں نے اس عاجز کی نسبت اعتراض کئے ہیں کہ ہمارا روپیہ لے کر کھا لیا۔ اور ہم کو کتاب کا بقیہ اب تک نہیں دیا۔ انہوں نے کبھی توجہ اور انصاف سے کتاب براہین احمدیہ کو پڑھانہیں ہو گا۔ اگر وہ کتاب کو پڑھتے تو اقرار کرتے کہ ہم نے براہین کا زیادہ اس سے پھل کھایا ہے۔ اور اس مال سے زیادہ مال لیا ہے جو ہم نے اپنے ہاتھ سے دیا۔ اور نیز یہ بھی سوچتے کہ اگر ایسی اعلیٰ درجہ کی تالیفوں کی تکمیل میں چند سال توقّف ہو جائے تو بلاشبہ ایسا توقّف ملامتوں کے لایق نہیں ہو گا۔ اور اگر ان میں انصاف ہوتا تووہ دغا باز اور بددیانت کہنے کے وقت کبھی یہ بھی سوچتے کہ اس عظیم الشان کام کا انجام دینا اور اس خوبی کے ساتھ اتمام حجت کرنا اور تمام موجودہ اعتراضات کو اُٹھانا اور تمام مذاہب پر فتحیاب ہو کر اسلام کی صداقتوں کو آفتاب کی طرح چمکتے ہوئے دکھلا دینا کوئی ایسا امر نہیں ہے کہ بغیر ایک معقول مدت اور تائید الٰہی کے ہو سکے۔ اگر انسان حیوانات کی طرح زندگی بسر نہ کرتاہو۔ تو اس بات کا سمجھنا اس پر کچھ مشکل نہیں کہ ایک سچا مخلص اور غم خوار اسلام کا جو اسلام کی تائید کے لئے قلم اُٹھاوے۔ اگرچہ وہ اپنے کسی موجودہ سامان کے لحاظ سے یہ بھی لکھ دے کہ میں صرف چند ماہ میں فلاں کتاب بمقابلہ مخالفین شائع کروں گا۔ لیکن وہ اس بات کا مجاز ہو گا کہ جدید خرابیاں مشاہدہ کر کے حقیقی اصلاح کی غرض سے اپنے پہلے ارادہ کو کسی ایسے ارادہ سے بدل دے جو خدمت اسلام کے لئے احسن ہے اور جس کا انجام مدت مدید پر موقوف ہے۔ درحقیقت یہی صورت اس جگہ پیش آ گئی۔ اور اس عرصہ میں مخالفین کی طرف سے کئی کتابیں تالیف ہوئیں اور کئی ردّ ہماری کتاب براہین کے لکھے گئے اور مخالفین نے اپنے تمام بخارات نکال لئے۔ اور تمام طاقتیں ان کی معدوم ہو گئیں۔ اور اس عرصہ میں اپنی فکر اور نظر نے بھی بہت ترقی کی اور ہزارہا باتیں ایسی باتیں معلوم ہوئیں جو پہلے معلوم نہ تھیں اور کتاب کی تکمیل کے لئے وہ سامان ہاتھ میں آ گیا کہ اگر اس سامان سے پہلے کتاب چھپ جاتی تو ان تمام حقایق سے خالی ہوتی۔ اور اس عرصہ میں یہ عاجز فارغ بھی نہیں بیٹھا رہا۔ بلکہ تیس ہزار کے قریب اشتہار شائع کیا اور بارہ ہزار کے قریب مخالفین اسلام کو اتمام حجت کے لئے رجسٹری کرا کر خط بھیجے اور بعض کتابیں جو براہین احمدیہ کے لئے بطور ارہاص کے تھیں۔ تالیف کیں۔ جیسا کہ سُرمہ چشم آریہ، شحنہ حق، فتح اسلام، توضیح مرام، ازالہ اوہام، آئینہ کمالات اسلام، اور اس شغل میں صدہا حقایق معارف براہین کے لئے جمع ہو گئے۔ اور انہیں حقایق معارف نے اب مجھے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ براہین کے پنجم حصہ کو جو اب انشاء الله تعالیٰ آخری حصہ کی طرح اس کو نکالوں گا۔ ایک مستقل کتاب کے طور پر نکالا جائے۔ سو اب پنجم حصہ کی خوبیاں جس قدر میری نظر کے سامنے ہیں ان کے مناسب حال میں نے ضروری سمجھا کہ اس پنجم حصہ کا نام ضرورت قرآن رکھا جائے۔ اس حصہ میں یہی بیان ہو گا کہ قرآن کریم کا دنیا میں آنا کیسا ضروری تھا۔ اور دنیا کی روحانی زندگی بغیر اس کے ممکن ہی نہیں۔ اب میں یقین رکھتا ہوں کہ اس حصہ کے شروع طبع میں کچھ بہت دیر نہیں ہو گی۔ لیکن مجھے اُن مسلمانوں کی حالت پر نہایت افسوس ہے کہ جو اپنے پانچ یا دس روپیہ کے مقابل پر ۳۶جزو کی ایسی کتاب پاکر جو معارف اسلام سے بھری ہوئی ہے۔ ایسے شرمناک طور پر بدگوئی اور بدزبانی پر مستعد ہو گئے کہ گویا ان کا روپیہ کسی چور نے چھین لیا یا ان پر کوئی قزاق پڑا۔ اور گویا وہ ایسی بے رحمی سے لوٹے گئے کہ اس کے عوض میں کچھ بھی ان کو نہیں دیا گیا۔ اور ان لوگوں نے زبان درازی اور بدظنّی سے اس قدر اپنے نامہٴ اعمال کو سیاہ کیا کہ کوئی دقیقہ سخت گوئی کا باقی نہ رکھا۔ اس عاجز کو چور قرار دیا۔ مکار ٹھہرایا۔ مال مردم خور کر کے مشہور کیا۔ حرام خور کہہ کر نام لیا۔ دغا باز نام رکھا۔ اور اپنے پانچ یا دس روپیہ کے غم میں وہ سیاپا کیا کہ گویا تمام گھر ان کا لوٹا گیا اور باقی کچھ نہ رہا۔ لیکن ہم ان بزرگوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ نے یہ روپیہ مفت دیا تھا اور کیا وہ کتابیں جو اس کے عوض میں تم نے لیں جن کے ذریعہ سے تم نے وہ علم حاصل کیا جس کی تمہیں اور تمہارے باپ دادوں کو کیفیت معلوم نہیں تھی اور وہ بغیر ایک عمر خرچ کرنے کے اور بغیر خون جگر کھانے کے یونہی تالیف ہو گئی تھیں۔اور بغیر صرف مال کے یونہی چھپ گئی تھیں۔اور اگر درحقیقت وہ بے بہا جواہرات تھی جس کے عوض آپ نے پانچ یا دس روپے دیئے تھے تو کیا یہ شکوہ روا تھا کہ بے ایمانی اور دھوکہ دہی سے ہمارا روپیہ لے لیا گیا۔ آخر ان جوانمردوں اور پُرجوش مسلمانوں کو دیکھنا چاہیئے کہ جنہوں نے براہین کے ان حصوں کو دیکھ کر بغیر خریداری کی نیت کے صرف حقایق معارف کو مشاہدہ کر کے صد ہا روپیہ سے محض لله مدد کی اور پھر عذر کیا کہ ہم کچھ نہیں کر سکے۔ ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں تمام قومیں تلواریں کھینچ کر اسلام کے گرد ہو رہی ہیں اور کروڑہا روپیہ چندہ کر کے اس فکر میں ہیں کہ کسی طرح اسلام کو روئے زمین سے نابود کر دیں۔ ایسے وقت میں اگر اسلام کے حامی اسلام کے مددگار اسلام کے غم خوار یہی لوگ ہیں کہ ایسی کتاب کے مقابل پر جو اسلام کے لئے نئے اور زندہ ثبوتوں کی بنیاد ڈالتی ہے اور اس قدر جزع فزع کر رہے ہیں اور ایک معقول حصہ کتاب کا لے کر پھر یہ ماتم اور فریاد ہے تو پھر اس دین کا خداحافظ ہے مگر نہیں۔ الله جلّشانہ کو ایسے لوگوں کی ہرگز پروا نہیں جو دُنیا کو دین پر مقدم رکھتے ہیں۔ نہایت تعجب انگیز یہ امر ہے کہ اگر کسی صاحب کو بقیہ براہین کے نکلنے میں دیر معلوم ہوئی تھی اور اپنا روپیہ یاد آیا تھا تو اس شور و غوغا کی کیا ضرورت تھی۔ اور دغا باز اور چور اور حرام خور نام رکھ کر اپنے نامہٴ اعمال کے سیاہ کرنے کی کیا حاجت تھی۔ ایک سیدھے معاملہ کی بات تھی کہ بذریعہ خط کے اطلاع دیتے کہ براہین کے چاروں حصے لے لو اور ہمارا روپیہ ہمیں واپس کرو۔ مجھے ان کے دلوں کی کیا خبر تھی کہ اس قدر بگڑ گئے ہیں۔ میرا کام محض لله تھا۔ اور میں خیال کرتا تھا کہ گو بعض مسلمان خریداری کے پیرایہ میں تعلق رکھتے ہیں۔ مگر اس پُرفتن زمانہ میں ہی للّٰہی نیت سے وہ خالی نہیں ہیں اور للّٰہی نیت کا آدمی حسن ظن کی طرف بہ نسبت بدظنّی کے زیادہ جھکتا ہے۔ اگرچہ یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص بدنیتی سے کسی کا کچھ روپیہ رکھ کر اس کو نقصان پہنچاوے۔ مگر کیا یہ ممکن نہیں کہ ایک مؤلف محض نیک نیتی سے پہلے سے ایک زیادہ طوفان دیکھ کر اپنی تالیف میں تکمیل کتاب کی غرض سے توقّف ڈال دے۔ وانما الاعمال بالنیات۔الله جلّشانہ جانتا ہے کہ میرا یہ یقین ہے کہ جیسا کہ میں نے اس توقّف کی وجہ سے قوم کے بدگمان لوگوں سے لعنتیں سنی ہیں۔ ایسا ہی اپنی اس تاخیر کی جزا میں جو مسلمانوں کی بھلائی کی موجب ہے۔ الله تعالیٰ سے عظیم الشان رحمتوں کا مورد بنوں گا۔ اب میں اس تقریر کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتا۔ اصل مدعا میرا اس تحریر سے یہ ہے کہ اب میں اُن خریداروں سے تعلق رکھنا نہیں چاہتا جو سچے ارادت مند اور معتقد نہیں ہیں۔ اس لئے عام طور پر یہ اشتہار دیتا ہوں کہ ایسے لوگ جو آیندہ کسی وقت جلد یا دیر سے اپنے روپیہ کو یاد کر کے اس عاجز کی نسبت کچھ شکوہ کرنے کو تیار ہیں یا اُن کے دل میں بھی بدظنّی پیدا ہو سکتی ہے۔ وہ براہِ مہربانی اپنے ارادہ سے مجھ کو بذریعہ خط مطلع فرماویں اور میں اُن کا روپیہ واپس کرنے کے لئے یہ انتظام کروں گا کہ ایسے شہر میں یا اُس کے قریب اپنے دوستوں میں سے کسی کو مقرر کر دوں گا کہ تا چاروں حصے کتاب کے لے کر روپیہ ان کے حوالہ کرے اور میں ایسے صاحبوں کی بدزبانی اور بدگوئی اور دشنام دہی کو بھی محض لله بخشتا ہوں۔ کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی میرے لئے قیامت میں پکڑا جائے اور اگر ایسی صورت ہو کہ خریدار کتاب فوت ہو گیا ہو اور وارثوں کو کتاب بھی نہ ملی ہو تو چاہیئے کہ وارث چار معتبر مسلمانوں کی تصدیق خط میں لکھوا کر کہ اصلی وارث وہی ہے وہ خط میری طرف بھیج دے تو بعد اطمینان وہ روپیہ بھی بھیج دیا جائے اور اگر کسی وارث کے پاس کتاب ہو تو وہ بھی بدستور اس میرے دوست کے پاس روانہ کرے لیکن اگر کوئی کتاب کو روانہ کرے اور یہ معلوم ہو کہ چاروں حصے کتاب کے نہیں ہیں تو ایسا پیکٹ ہرگز نہیں لیا جائے گا جب تک شخص فریسندہ یہ ثابت نہ کرے کہ اسی قدر کتاب اُن کو بھیجی گئی تھی۔ والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ خاکسار غلام احمد۔ از قادیان ضلع گورداسپور۔ یکم مئی ۱۸۹۳ء ‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۳۲۸تا۳۳۲ اشتہار مورخہ یکم مئی ۱۸۹۳ء)

(جاری ہے)

مزید پڑھیں: صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مخالفت کی تُند و تیز آندھیوں میں صبر کی چٹانین اوراستقامت کے پہاڑ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button