متفرق شعراء

صاحبزادہ عبداللطیف شہید

وہ حق کا سپاہی وہ حق کا سفیر
محبت کا پیکر شجاعت کا پیر

مسیحاؑ کا شیدا وہ نور نظر
چلا حق کی جانب اٹھا کر وہ سر

نہ شکوہ نہ آہ و فغاں لب پہ تھی
رضائے الٰہی تھی دل میں بسی

بچاتا وہ جاں چھوڑ کر گر یقیں
مگر حق سے بڑھ کر کوئی شے نہیں

نہ بھولے گا کوئی بھی وہ امتحاں
وہ کابل کی دھرتی کا روشن نشاں

نہ دنیا کا لالچ نہ جاں کی طلب
رہا ذکر مولا سدا اس کے لب

جھکا نہ وہ باطل کے فرمان پر
رہا حق کا پرچم ہر اک ان پر

وہ کابل کی دھرتی کا بدبخت تھا
جہاں کا وہ حاکم ستم سخت تھا

ہوا خون ناحق وہاں پر روا
ملی ان کو اپنے خدا سے سزا

وہاں امن پہلے نہ تھا اور نہ اب
ترستے ہیں مولا کی رحمت کو سب

وہ پتھر تھے یا ظلم کے فیصلے
مگر حق کے نعرے نہ لب سے ہلے

ہوئی سنگ باری سہے سب عذاب
رہا مثل کامل وہ مثل گلاب

حجازی ملا اس کو اونچا مقام
رہے گا جہاں میں سدا ان کا نام

(سید سمیع الحسن شاہ حجازی۔ فن لینڈ)

مزید پڑھیں: نعتِ رسولِ رحمت ﷺ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button