جماعت احمدیہ آسٹریلیا کی نیشنل مجلس شوریٰ ۲۰۲۶ء
محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ آسٹریلیا کو امسال اپنی۴۲ویں مجلس شوریٰ مورخہ۵ تا ۷؍جون ۲۰۲۶ء کو حدیقہ احمد، با تھرسٹ(Bathurst) میں منعقد کرنے کی توفیق ملی جس میں ۱۶۰؍سے زائد نمائندگان شوریٰ نے شرکت کی۔

۵؍جون بروز جمعۃ المبارک، نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد، سہ پہر تین بجے نمائندگان مجلس شوریٰ کی رجسٹریشن کا آغاز ہوا جبکہ مجلس شوریٰ کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز مکرم انعام الحق کوثر صاحب امیر و مبلغ انچارج جماعت احمدیہ آسٹریلیا کی صدارت میں چار بجے سہ پہر ہوا۔
تلاوت قرآن کریم کے بعد مکرم امیر صاحب نے اپنی افتتاحی تقریر میں دنیا میں رائج مختلف نظاموں کا موازنہ کرتے ہوئے نظام خلافت اور مجلس شوریٰ کی اہمیت کوبیان کیا نیز حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی جانب سے شوریٰ کی کامیابی سے متعلق موصولہ دعاؤں سے پُر خط حاضرین شوریٰ کے سامنے پڑھ کر سنایا اور دعا کروائی۔
بعدازاں متعلقہ سیکرٹریان نے گذشتہ سال شعبہ مال، شعبہ جائیداد اور رشتہ ناطہ کی منظور شدہ سفارشات پر سال رَواں میں عمل درآمد کی رپورٹس پیش کیں جن کے بعد مکرم ملک عمران احمد صاحب نیشنل جنرل سیکرٹری جماعت آسٹریلیا نے امسال مجلس شوریٰ کے لیے موصولہ ردّ شدہ اور منظور شدہ تجاویز کے بارہ میں نمائندگان شوریٰ کو آگاہ کیا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی منظوری کے ساتھ امسال نیشنل بجٹ کے علاوہ وصایا اور امور عامہ کے حوالہ سے دو تجاویز شوریٰ میں بحث کے لیے ایجنڈہ میں شامل تھیں جن کے لیے سب کمیٹیوں کی تشکیل ہوئی۔ نماز مغرب و عشاء کی ادائیگی اور رات کے کھانے کے بعد تینوں سب کمیٹیوں کے اجلاسات ہوئے۔

اگلے روز مورخہ ۶؍جون بروز ہفتہ کا آغاز اجتماعی تہجد اور نماز فجر سے ہوا جبکہ مجلس شوریٰ کا دوسرا اجلاس صبح دس بجےشروع ہوا جس میں نیشنل سیکرٹریان نے اپنے اپنے متعلقہ شعبہ کی سالانہ رپورٹس پیش کیں اور مکرم صدر صاحب قضا بورڈ نے نظام قضاء اور قضائی معاملوں پر روشنی ڈالی۔
نماز ظہرو عصر کی ادائیگی اور دوپہر کے کھانے کے بعد مجلس شوریٰ کے تیسرےاجلاس میں شعبہ وصیت و امورعامہ کی سب کمیٹیوں نے اپنی میٹنگز میں فائنل ہونے والی سفارشات پیش کیں جن پر ممبران شوریٰ نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ دونوں تجاویز پر جو سفارشات پیش کی گئیں، ممبران شوریٰ نے انہیں کثرت رائے کے ساتھ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں برائے منظوری بھجوانے پر اتفاق کیا۔ نماز مغرب و عشاء کی ادائیگی کے بعد مجلس شوریٰ کے تمام نمائندگان کے اعزاز میں عشائیہ پیش کیا گیا۔
مورخہ۷؍جون بروز اتوار کا آغاز بھی اجتماعی تہجد اور نماز فجر سے ہوا جبکہ مجلس شوریٰ کا چوتھا اجلاس صبح دس بجےشروع ہوا جس میں نمائندگان شوریٰ نے شعبہ مال کی سب کمیٹی کی سفارشات پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔
بعد ازاں مکرم امیر صاحب نے اپنی اختتامی تقریر میں مجلس شوریٰ کے کامیاب انعقاد پرتمام کارکنان اور نمائندگان شوریٰ کا شکریہ ادا کیا جس کے بعدا جتماعی دعا سے یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا اور نمائندگان کا ایک گروپ فوٹو ہوا۔
جماعت آسٹریلیا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ مجلس شوریٰ مسجد بیت الہدیٰ کی بجائےحدیقہ احمد میں منعقد ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام نمائندگان اور کارکنان کی رہائش، کھانے اور نشست و برخاست کا انتظام حدیقہ احمد میں ہی کیا گیا تھا جس کی تیاری کے لیے احباب جماعت نے کئی ہفتے مسلسل وقار عمل کیا۔ تمام نمائندگان جملہ انتظامات سے بہت خوش تھے۔ الحمدللہ
اللہ تعالیٰ نمائندگان شوریٰ کو اپنی ذمہ داریاں کماحقہٗ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(رپورٹ:عاطف احمد زاہد۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
مزید پڑھیں: سیرالیون میں جلسہ ہائے یوم خلافت کا بابرکت انعقاد




