بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات(قسط ۱۲۱)

(مرسلہ: احسان احمد۔مربی سلسلہ دفتر پی ایس، اسلام آباد)

٭… سوال: مصر سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھاکہ کیا عورتوں کا ختنہ جائز ہے؟

٭… ایک خاتون نے لکھا کہ میرا حمل ضائع ہوا تھا اور نفاس کی مدت ختم ہونے کے بعد خون رُک گیا۔ مگر رمضان کے آغاز سے خون کے دھبے نظر آ رہے ہیں۔ابھی میرے پیریڈز کے دن نہیں ہیں۔ میں مانع حمل گولیاں بھی کھا رہی ہوں۔ مجھےUterine fibroidکی تکلیف بھی ہے، جس کی وجہ سے یہ خون کے لوتھڑے آتے ہیں۔ڈاکٹروں نے مجھے ابھی آرام کا کہا ہے اور اس بیماری کے لیے دوائی دی ہے اور مکمل علاج کے لیے ماہ اپریل کی تاریخ دی ہے۔ ابھی مجھے خون کے لوتھڑے آنے، کمر درد ہونے اور کبھی کبھی پیٹ میں تشنج ہو جانے کی تکلیف ہے۔تقریباً تین دن بعد میرے پیریڈز کا وقت شروع ہو جائے گا۔ پیریڈز ختم ہونے کے بعد کیا میں اس بیماری کے ساتھ روزے رکھ سکتی ہوں اور نماز پڑھ سکتی ہوں؟

٭… کیا حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے بارے میں یہ بات درست ہے کہ جو رمضان کے مہینے اس کے حمل یا دودھ پلانے کے عرصہ کے دوران گزریں، ان کے روزے اسے معاف ہوتے ہیں، صرف آخری رمضان جس کے روزے وہ نہیں رکھ سکی صرف ان کی قضا ضروری ہے۔ اس سے پہلے رمضان کے مہینوں کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا ضروری نہیں؟

٭… کیانماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد میں اپنے ہاتھ سینہ پر باندھوں یا نیچے چھوڑ دوں؟

٭…ایک دوست نے ایک مجلس سوال و جواب میں نماز کے بعد دعا کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب کا ذکر کرکے اس جواب کے بارہ میں راہنمائی کی درخواست کی ہے۔

سوال: مصر سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھاکہ کیا عورتوں کا ختنہ جائز ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۵؍اپریل ۲۰۲۴ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور نے فرمایا:

جواب: قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں کہیں پر بھی عورتوں کے ختنہ کا حکم نہیں دیا گیا۔ جبکہ لڑکوں کے ختنہ کو فطرت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضورﷺنے فرمایا کہ پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں، ختنہ کرنا، زیر ناف بال صاف کرنا، بغلوں کے بال صاف کرنا، ناخن تراشنا اور مونچھیں کترنا۔(صحیح بخاری کتاب اللباس بَاب قَصِّ الشَّارِبِ۔ شرح بخاری جلد۱۴ صفحہ۳۰۲)

لڑکوں کے ختنہ پر امت محمدیہ کا تعامل ثابت ہے۔ جبکہ عورتوں کے ختنہ کے بارے میں ہمیں آنحضور ﷺکے زمانے سے کوئی تعامل نہیں ملتا۔ اور جن دو تین احادیث میں عورتوں کے ختنہ کا ذکر آیا ہے، ان کے راویوں پر علمائے حدیث نے تنقید کرتے ہوئے بعض راویوں کو مجہول(یعنی وہ راوی جس کی تعیین یقینی نہ ہو کہ اس سے کون مراد ہے) اور مدلس(یعنی وہ راوی جو کسی روایت کو اپنے ہمعصرراوی سے اس طرح روایت کرے کہ گویا اس نے خود اس روایت کو اس راوی سے سنا ہے جبکہ اس نے خود براہ راست اسے اس اصل راوی سے نہ سنا ہو) کہا ہے اور ان احادیث کو ضعیف(یعنی ایسی حدیث جس میں صحیح روایت کی شرائط میں سے کسی شرط کی کمی ہو) اور منقطع(ایسی حدیث جس میں کوئی ایک حلقہ روایت سند کے وسط سے مفقود ہو) قرار دیا ہے۔ (عون المعبود شرح ابی داؤد کتاب الادب بَاب مَا جَاءَ فِي الْخِتَانِ)

اسلام کی بعثت سے قبل عرب میں بعض قبائل میں عورتوں کے ختنہ کا رواج تھا، جیسا کہ اس زمانہ میں بھی افریقہ کے بعض علاقوں میں اس کا رواج ہے۔ لیکن شریعت اسلام نے کہیں عورتوں کے ختنہ کا حکم نہیں دیا۔

عورتوں کے ختنہ کے قائلین اس کا ایک مقصد جنسی خواہش میں کمی قرار دیتے ہیں۔ لیکن مرد اور عورت میں جنسی خواہش کا پایا جانا بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے فطرتاً ودیعت کردہ ہے۔ اسلام نے کسی جگہ فطرت کے خلاف حکم نہیں دیا۔ ہاں ان فطرتی جذبات کو درست سمت میں رکھنے کے لیے اسلام نے مختلف ہدایات ضرور دی ہیں۔ بناؤ سنگھار کرنا بھی عورت کی فطرت کا حصہ ہے۔اسلام نے اسے اس سے بھی نہیں روکا لیکن اس بارے میں اسے یہ ہدایت دی ہے کہ وہ بناؤ سنگھار اپنے خاوند کے لیے کرے، بناؤ سنگھار کر کے غیروں کے سامنے نہ جائے، کیونکہ اس کے نتیجہ میں معاشرہ میں برائیاں پیدا ہونے کا احتمال ہوتا ہے، جو اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔

ختنہ کے ذریعہ عورت کی جنسی خواہش کو بالکل ختم کرکے اگر اسے غلام بنانا مقصود ہو تو یہ بھی اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے کیونکہ اسلام نے غلامی کے خلاف تعلیم دی اور غلاموں کو آزاد کرنے کا بار بار حکم دیا ہے۔

حضرت عمرؓ نے اپنے عہدِخلافت میں رات کے وقت مدینہ کی گلیوں میں چکر لگاتے ہوئے ایک گھر سے کسی خاتون کے اپنے خاوند کی جدائی میں جذباتی اشعار سنے تو آپؓ نےاس عورت سے پوچھا کہ تجھے کیا ہو گیا ہے؟اس نے عرض کیا کہ میرا خاوند کئی مہینوں سے جنگ پر گیا ہوا ہے اور اب اس کا شوق مجھ پر غالب آ گیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا: تو نے کوئی بد ارادہ تو نہیں کیا؟ اس نے کہا معاذ اللہ۔ آپؓ نے فرمایا: اپنے آپ کو سنبھالے رکھو۔ میں تمہارے خاوند کو بلانے کے لیے قاصد روانہ کرتا ہوں۔ آپ نے اس کے خاوند کو بلانے کے لیے قاصد روانہ کیا اور پھر آپ حضرت حفصہؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تم سے ایک ایسی بات پوچھنے لگا ہوں جس نے مجھے پریشان کر دیا ہے۔ پس تم میری پریشانی دور کر دو۔ عورت مرد کے بغیر کتنی مدت اپنے آپ کو روک سکتی ہے۔یہ سن کر حضرت حفصہؓ نے شرم سے سر نیچے کر لیا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ حق بات سے شرم نہیں کرتا۔ اس پر حضرت حفصہؓ نے ہاتھ کے ارشاہ سے بتایا کہ تین مہینے یا چار مہینے ۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اپنے عاملین کو حکم بھجوایا کہ کسی فوجی کو چار ماہ سے زیادہ جنگ پر نہ رکھا جائے۔(مصنف عبدالرزاق جلد ۷، صفحہ ۱۵۱، حدیث نمبر ۱۲۵۹۳) (تاریخ الخلفاء مصنفہ علامہ جلال الدین سیوطیؒ ،باب حضرت عمرؓ فصل في نبذ من أخباره وقضاياه)

اگر ختنہ کے ذریعہ عورت کی جنسی خواہش ہی ختم ہو جاتی تھی اور عرب میں عورتوں کے ختنہ کا عام رواج تھا تو اس عورت کو اپنے خاوند کے ساتھ جسمانی تعلق کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی تھی۔

پس ثابت ہوا کہ حضورﷺاور خلفائے راشدین کے عہد مبارک میں عورتوں کے ختنہ کا رواج بالکل نہیں تھا۔ اگر کسی علاقہ میں اس کا رواج تھا تو وہ صرف ایک علاقائی رواج تھا، اسلام کی تعلیم کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

سوال: کینیڈا سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ میرا حمل ۲۲؍دسمبر ۲۰۲۳ء کو ضائع ہوا تھا اور نفاس کی مدت ختم ہونے کے بعد خون رُک گیا۔ مگر رمضان کے آغاز سے خون کے دھبے نظر آ رہے ہیں۔ابھی میرے پیریڈز کے دن نہیں ہیں۔ میں مانع حمل گولیاں بھی کھا رہی ہوں۔ مجھےUterine fibroidکی تکلیف بھی ہے، جس کی وجہ سے یہ خون کے لوتھڑے آتے ہیں۔ڈاکٹروں نے مجھے ابھی آرام کا کہا ہے اور اس بیماری کے لیے دوائی دی ہے اور مکمل علاج کے لیے ماہ اپریل کی تاریخ دی ہے۔ ابھی مجھے خون کے لوتھڑے آنے، کمر درد ہونے اور کبھی کبھی پیٹ میں تشنج ہو جانے کی تکلیف ہے۔تقریباً تین دن بعد میرے پیریڈز کا وقت شروع ہو جائے گا۔ پیریڈز ختم ہونے کے بعد کیا میں اس بیماری کے ساتھ روزے رکھ سکتی ہوں اور نماز پڑھ سکتی ہوں، مجھے نماز اور روزے بہت محبوب ہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۵؍اپریل ۲۰۲۴ء میں اس بارے میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور نے فرمایا:

جواب: آپ نے اپنی جو حالت بیان کی ہے، یہ بیماری کے زمرہ میں آتی ہے اور بیمارکو اللہ تعالیٰ نے روزوں سے رخصت دی اور ان کی گنتی بعد میں پورا کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ (البقرہ:۱۸۵) اس لیے آپ پہلے اپنا مکمل علاج کروائیں اور جب شفایاب ہو جائیں تو ان روزوں کو پورا کرلیں۔ ہاں اگر آپ کو مالی توفیق ہے تو فدیہ بھی دیدیں۔

آپ نے لکھا ہے کہ ڈاکٹر نے آپ کی بیماری کے لیے دوائی بھی تجویز کی ہے۔ بعض دوائیوں کے ساتھ تو انسان کو پانی بھی زیادہ پینا پڑتا ہے۔ لہٰذا اگر آپ روزے رکھیں گی تو پانی بھی نہیں پی سکیں گی، بہرحال اگر زیادہ پانی کی ضرورت نہیں بھی تب بھی جیسا کہ آپ کو ڈاکٹر نے کہا ہے مکمل آرام کریں۔

باقی خون کے لوتھڑے آنا یا خون کے دھبے نظر آنا، حیض کی صورت نہیں بلکہ بیماری ہے، اس لیے آپ جیسا کہ حضورﷺ کی ہدایت ہے اس میں نمازیں ادا کریں گی اور ہر نماز کے لیے وضو تازہ کر کے نماز پڑھ لیا کریں۔ (صحیح بخاری کتاب الوضوء بَاب غسل الدم۔ شرح بخاری جلد۱ صفحہ۳۱۱,۳۱۰)

پس بیماری میں نمازیں پڑھنا تو ضروری ہیں، روزہ رکھنا ضروری نہیں، اس لیے کہ روزے بعد میں پورے ہوسکتے ہیں۔

سوال: اردن سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے استفسار کیا کہ کیا حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے بارے میں یہ بات درست ہے کہ جو رمضان کے مہینے اس کے حمل یا دودھ پلانے کے عرصہ کے دوران گزریں، ان کے روزے اسے معاف ہوتے ہیں، صرف آخری رمضان جس کے روزے وہ نہیں رکھ سکی صرف ان کی قضا ضروری ہے۔ اس سے پہلے رمضان کے مہینوں کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا ضروری نہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۷؍اپریل ۲۰۲۴ء میں ان سوالات کے درج ذیل جوابات عطا فرمائے۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: اصل بات یہ ہے کہ روزے رکھنا ایک عبادت ہے،اور اس عبادت کو رمضان کے مہینہ میں ادا کرنا زیادہ برکتوں کا باعث ہے، لیکن اگر مجبوری ہو تو پھر پورے سال میں بھی ان روزوں کی حسب توفیق و طاقت قضاء ہو سکتی ہے۔ اس لیے حاملہ یا مرضع عورت جب حمل اور رضاعت سے فارغ ہو جائے تو اگر وہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتی ہو تو گزشتہ سالوں کے چھٹے ہوئے روزوں کی وہ آئندہ چند سالوں میں رمضان کے علاوہ باقی مہینوں میں حسب توفیق و طاقت تھوڑے تھوڑے روزے رکھ کر قضاء کر سکتی ہے۔ لیکن اگر ان سارے روزوں کی قضاء کی اس میں طاقت نہ ہو تو جس قدر وہ روزے رکھ سکتی ہو رکھ لے ۔ اور اگر وہ مالی استطاعت رکھتی ہو تو فدیہ تو بہرحال اسے ادا کرنا چاہئیے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ گزشتہ کئی سالوں کے روزوں کی قضاء کے بارہ میں راہنمائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں جماعت کو یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ جن دوستوں نے رمضان کے سارے روزے نہیں رکھے وہ بعد میں روزے رکھیں اور ان کو پورا کریں۔ خواہ وہ روزے غفلت کی وجہ سے رہ گئے ہوں یا وہ روزے بیماری یا سفر کی وجہ سے رہ گئے ہوں۔ اسی طرح اگر گزشتہ سالوں میں ان سے کچھ روزے غفلت یا کسی شرعی عذر کی وجہ سے رہ گئے ہیں تو ان کو بھی پورا کرنے کی کوشش کریں تا خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے سے پہلے پہلے وہ صاف ہو جائیں۔ بعض فقہاء کا یہ خیال ہے کہ پچھلے سال کے چھوٹے ہوئے روزے دوسرے سال نہیں رکھے جا سکتے۔لیکن میرے نزدیک اگر کوئی لاعلمی کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکا تو لاعلمی معاف ہو سکتی ہے۔ہاں اگر اس نے دیدہ دانستہ روزے نہیں رکھے تو پھر اس پر قضاء نہیں ، جیسے جان بوجھ کر چھوڑی ہوئی نماز کی قضاء نہیں۔ لیکن اگر اس نے بھول کر روزے نہیں رکھے یا اجتہادی غلطی کی بناء پر اس نے روزے نہیں رکھے تو میرے نزدیک وہ دوبارہ رکھ سکتا ہے۔ اور اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ روزے رکھے۔ہاں اگر وہ روزہ رکھ سکتا تھا اور اس نے جان بوجھ کر روزہ نہیں رکھا تو اس پر کوئی قضاء نہیں۔ وہ جب توبہ کرے گا اس کے اعمال نئے سرے سے شروع ہوں گے۔ لیکن اگر اس نے غفلت کی وجہ سے روزے نہیں رکھے یا کسی اجتہادی غلطی یا بیماری کی وجہ سے روزے نہیں رکھے تو میرے نزدیک خواہ وہ روزے کتنے ہی دور کے ہوں وہ دوبارہ رکھے جا سکتے ہیں۔ (الفضل نمبر ۵۵، جلد ۵۱،۵۰۔ مورخہ ۸ مارچ ۱۹۶۱ء صفحہ ۲، ۳)

پس اگر کسی کے ایک سال کے رمضان سے زیادہ رمضان کے مہینوں کے روزے کسی جائز عذر کی وجہ سے رہ گئے ہوں اور پھر اللہ تعالیٰ اس عذر کے دور ہونے پر اسے روزوں کی توفیق عطا فرما دے تو وہ جس قدر ان چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء کر سکتا ہو اسے تھوڑے تھوڑے کر کے ان روزوں کو رکھ لینا چاہیے۔

سوال: لیبیا سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دریافت کیا کہ کیانماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد میں اپنے ہاتھ سینہ پر باندھوں یا نیچے چھوڑ دوں؟ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۳؍اپریل ۲۰۲۴ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: قیام نماز میں ہاتھ کھلے چھوڑنے کا حکم آنحضورﷺ سے ثابت نہیں۔ بلکہ احادیث کی مستند کتب میں آنحضور ﷺ کی یہی سنت ملتی ہے کہ آپ ﷺ قیام کے دوران ہاتھ باندھ کر رکھتے تھے۔ چنانچہ حضرت سہل بن سعدؓ سے مروی ہے کہ لوگوں کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ ہر آدمی نماز میں داہنا ہاتھ اپنے بائیں بازو پر رکھے۔ ابوحازم(حضرت سہل بن سعد سے روایت کرنے والے راوی) کہتے ہیں کہ میں یہی جانتا ہوں کہ وہ(یعنی سہل) اس بات کو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ (صحیح بخاری کتاب الاذان بَاب وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ۔ شرح بخاری جلد۲ صفحہ۱۴۲)

اسی طرح حضرت وائل بن حجرؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نے نماز شروع کرتے ہوئے تکبیر تحریمہ کہی اور پھر آپ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا۔ (صحیح مسلم کتاب الصلاۃ بَاب وَضْعِ يَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى بَعْدَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ)

جمہور فقہاء کا اسی امر پر اتفاق ہے کہ قیام نماز میں ہاتھ باندھے جائیں ، انہیں کھلا نہ چھوڑا جائے۔ البتہ حضرت امام مالکؒ کی طرف یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ وہ نماز کے قیام میں ہاتھ کھلے چھوڑنے کے قائل تھے۔

اس زمانہ کے حکم و عدل سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عمل اس بارہ میں کیا تھا؟اس کے متعلق حضرت سید محمد سرور شاہ صاحبؓ بیان کرتے ہیں: جب (حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام) صلوٰۃ پڑھتے ہیں تو کعبہ کی طرف رخ کرکے اللہ اکبر کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو اوپر اُٹھاتے ہیں یہاں تک کہ انگلیاں دونوں کانوں کے برابر ہو جاتی ہیں اور پھر دونوں کو نیچے لا کر سینہ یعنی دونوں پستانوں کے اوپر یا ان کے متصل نیچے اس طور پر باندھ دیتے ہیں کہ بایاں ہاتھ نیچے اور دایاں اوپر ہوتا ہے اور عموماً ایسا ہوتا ہے کہ داہنے ہاتھ کی تینوں درمیانی انگلیوں کے سرے بائیں کہنی تک یا اس سے کچھ پیچھے ہٹے ہوئے ہوتے ہیں اور انگوٹھے اور کنارے کی انگلی سے پکڑا ہوتا ہے اور اگر اس کے خلاف اوپر یا نیچے یا آگے بڑھا کر یا پیچھے ہٹا کر یا ساری انگلیوں سے کوئی پکڑ کر ہاتھ باندھتا ہے تو کوئی اس پر اعتراض نہیں کرتا۔ (رسالہ تعلیم الاسلام جلد ۱ نمبر ۵ صفحہ ۱۷۱و ۱۷۶ تا ۱۸۰مطبوعہ قادیان جولائی ۱۹۰۶ء) (اصحاب احمد جلد پنجم صفحہ ۵۴۳،۵۴۲)

پس آنحضور ﷺ کی سنت اور آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مسنون طریق یہی ہے کہ آپ نماز کے قیام میں ہاتھ باندھ کر نماز ادا کرتے تھے۔

سوال: یوکے سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں ایک مجلس سوال و جواب میں نماز کے بعد دعا کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب کا ذکر کر کے اس جواب کے بارہ میں راہنمائی کی درخواست کی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۳؍اپریل ۲۰۲۴ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تو کسی وقت بھی دعا مانگی جا سکتی ہے، اس میں ہرگز کوئی روک نہیں۔ اور بعض اوقات انسان پر ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ قبولیت دعا کا وقت ہے، وہ نماز میں ہو، نماز کے بعد ہو یا کسی بھی وقت ہو، اس وقت دعا مانگنے میں قطعاً کوئی روک نہیں۔ ہاں جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی وضاحت کے ساتھ فرمایا کہ ہندوستان میں جو ایک عام بدعت پھیلی ہوئی ہے کہ نماز کو تو درست طریقہ سے ادا نہیں کرتے اور نماز ختم کرنے کے بعد رسم کے طور پر دعا شروع کردیتے ہیں، اس سے حضور علیہ السلام نے جماعت کو منع فرمایا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: میں دیکھتا ہوں کہ آج کل لوگ جس طرح نماز پڑھتے ہیں وہ محض ٹکریں مارنا ہے۔ اُن کی نماز میں اس قدر بھی رقّت اور لذت نہیں ہوتی جس قدر نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا میں ظاہر کرتے ہیں۔ کاش یہ لوگ اپنی دعائیں نماز میں ہی کرتے۔ شاید ان کی نمازوں میں حضور اور لذت پیدا ہوجاتا۔ اس لئے میں حکماً آپ کو کہتا ہوں کہ سرِدست آپ بالکل نماز کے بعد دعا نہ کریں اور وہ لذّت اور حضور جو دعا کے لیے رکھا ہے، دعاؤں کو نماز میں کرنے سے پیدا کریں۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ نماز کے بعد دعا کرنی منع ہے۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ جب تک نماز میں کافی لذّت اور حضور پیدا نہ ہو نماز کے بعد دعا کرنے میں نماز کی لذت کو مت گنواؤ۔ ہاں جب یہ حضور پیدا ہوجاوے تو کوئی حرج نہیں۔(ملفوظات جلد ششم صفحہ ۲۰۲۔ مطبوعہ یوکے ۲۰۲۲ء)

اسی طرح ایک اور جگہ آپؑ فرماتے ہیں: اصل یہ ہے کہ ہم دعا مانگنے سے تو منع نہیں کرتے اور ہم خود بھی دعا مانگتے ہیں۔ اور صلوٰۃ بجائے خود دعا ہی ہے۔ بات یہ ہے کہ میں نے اپنی جماعت کو نصیحت کی ہے کہ ہندوستان میں یہ عام بدعت پھیلی ہوئی ہے کہ تعدیل ارکان پورے طور پر ملحوظ نہیں رکھتے اور ٹھونگے دار نماز پڑھتے ہیں۔ گویا وہ نماز ایک ٹیکس ہے جس کا ادا کرنا ایک بوجھ ہے۔ اس لئے اس طریق سے ادا کیا جاتا ہے جس میں کراہت پائی جاتی ہے حالانکہ نماز ایسی شے ہے کہ جس سے ایک ذوق، انس اور سرور بڑھتا ہے۔ مگر جس طرز پر نماز ادا کی جاتی ہے اس سے حضور قلب نہیں ہوتا اور بے ذوقی اور بے لطفی پیدا ہوتی ہے۔ میں نے اپنی جماعت کو یہی نصیحت کی ہے کہ وہ بے ذوقی اور بے حضوری پیدا کرنے والی نماز نہ پڑھیں بلکہ حضور قلب کی کوشش کریں جس سے ان کو سرور اور ذوق حاصل ہو۔ عام طور پر یہ حالت ہو رہی ہے کہ نماز کو ایسے طور سے پڑھتے ہیں کہ جس میں حضور قلب کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ جلدی جلدی اس کو ختم کیا جاتا ہے اور خارج نماز میں بہت کچھ دعا کے لیے کرتے ہیں اور دیر تک دعا مانگتے رہتے ہیں حالانکہ نماز کا (جو مومن کی معراج ہے) مقصود یہی ہے کہ اس میں دعا کی جاوے۔ (ملفوظات جلد سوم صفحہ ۲۳۹۔ مطبوعہ یوکے ۲۰۲۲ء)

پس دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اس زمانہ میں مسلمانوں میں ایک رسمی دعا کی جو ایک بدعت پیدا ہو گئی، اس طریق پر دعا کرنے سے اجتناب ضروری ہے تا کہ دعا کی اصل غرض اور مقصود کی طرف توجہ مبذول ہو سکے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۲۰)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button