خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 15؍مئی 2026ء

‘‘جب بندہ عاجزی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ساتویں آسمان تک بلند کر دیتا ہے’’(حدیث نبوی ﷺ)

خدا تعالیٰ کو پانا ہے تو عاجزی ضروری شرط ہے

ہم اس بات پر یقین اور ایمان رکھتے ہیں کہ دنیا میں اگر کوئی کامل انسان پیدا ہوا ہےتو وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ نہ آپؐ سے پہلے کوئی آپؐ جیسا کامل انسان پیدا ہوا نہ بعد میں پیدا ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی اور تمام اخلاق اور تمام انسانی صفات کے اعلیٰ ترین معیار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں جمع ہیں۔ کوئی خُلق لے لیں آپؐ میں اس کے اعلیٰ ترین معیار موجود ہیں جو کسی دوسرے انسان میں نہ تھے ، نہ ہیں اور نہ ہوں گے۔ انہی صفات اور اخلاق میں ایک خُلق عاجزی اور انکساری کا ہےجس کی اعلیٰ ترین مثال آپؐ میں پائی جاتی ہے۔ اپنے ماننے والوں کو بھی آپ نے ہمیشہ یہ نصیحت فرمائی کہ ایک مومن کو عاجزی کے خُلق کو ہمیشہ اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے

اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں عظمتِ الٰہی ہوتی ہے ان کو لازماً خاکسار اور متواضع بننا ہی پڑتا ہے کیونکہ وہ خدا کی بے نیازی سے ہمیشہ ترساں و لرزاں رہتے ہیں۔(حضرت مسیح موعودؑ)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے اسوۂ حسنہ ہیں ۔ اگر ان کی محبت کا دعویٰ ہے تو عاجزی اور انکساری کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی تم بھی کوشش کرو

اگر ہم خواہش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں تو عاجزی اس کے لیے بہت اہم چیز ہے

اللہ کی قسم! مَیں یہ پسند نہیں کرتا کہ تم مجھے میرے مرتبہ سے جو اللہ نے مجھے دیا ہے بڑھا چڑھا کر بیان کرو(حدیث نبویﷺ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے پاس جاتے تو ان کے بچوں کو سلام کرتے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لیے دعا کیا کرتے تھے

اطمینان رکھو میں کوئی بادشاہ نہیں ۔مَیں تو ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو خشک گوشت کھایا کرتی تھی (حدیث نبویﷺ)

میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو جیسے نصاریٰ نے ابن مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا۔
مَیں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں ۔اور تم یہ کہو کہ اس کا بندہ اور اس کا رسول(حدیث نبویﷺ)

یقیناًآپؐ خیر البریّہ تھے اور ہیں اور مخلوق میں سب سے افضل ہیں۔ رسولوں میں بھی سب سے افضل ہیں لیکن
آپؐ نے انتہائی عاجزی سے اسے حضرت ابراہیمؑ کی طرف منسوب کر دیا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا کمال یہاں تک ہے کہ اگر کوئی بڑھیا بھی آپؐ کا ہاتھ پکڑتی تھی تو آپؐ کھڑے ہو جاتے اور اس کی باتوں کو نہایت توجہ سے سنتے اور جب تک کہ وہ خود آپؐ کو نہ چھوڑتی آپؐ نہ چھوڑتے تھے(حضرت مسیح موعودؑ)

جب آپؐ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو لوگ آپؐ کی زیارت کے لیے آئے ۔عاجزی کی وجہ سے آپؐ کا سر کجاوے کو چھو رہا تھا۔ ایک اَور روایت کے مطابق آپؐ لوگوں کے درمیان تھے۔ فتح اور مسلمانوں کی کثرت دیکھ کر آپؐ کی ریش مبارک عاجزی کی وجہ سے کجاوے کو چھو رہی تھی یا قریب تھا کہ وہ چھولے۔ آپؐ نے فرمایا: اَللّٰہُمَّ اِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الْاٰخِرَةِ۔ کہ اے اللہ !یقیناً اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاجزی کےوہ معیار تھے جن کی مثال کہیں اَور نہیں ملتی ۔اور یہی وہ اُسوہ ہے جس پہ چلنے کی کوشش ہمیں کرنی چاہیے تاکہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کا قُرب پانے والے بنیں

سچی معرفت اسی کا نام ہے کہ انسان اپنے نفس کو مسلوب اور لاشے محض سمجھے اور آستانہ الوہیت پر گر کر انکسار اور عجز کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کو طلب کرے اور اس نور معرفت کو مانگے جو جذبات نفس کو جلا دیتا ہے اور اندر ایک روشنی اور نیکیوں کے لیے قوّت اور حرارت پیدا کرتا ہے(حضرت مسیح موعودؑ)

انسان جب تک ایک غریب و بے کس بڑھیا کے ساتھ وہ اخلاق نہ برتے جو ایک اعلیٰ نسب عالی جاہ انسان کے ساتھ برتتا ہے یا برتنے چاہئیں اور ہر ایک طرح کے غرور اور رعونت اور کبر سے اپنے آپ کو نہ بچاوے وہ ہرگز ہرگز خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ (حضرت مسیح موعودؑ)

عاجزی و انکساری کے حوالے سے آنحضورﷺ کے اخلاقِ فاضلہ کا دل آویز تذکرہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 15؍مئی 2026ء بمطابق 15؍ہجرت1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

ہم اس بات پر یقین اور ایمان رکھتے ہیں کہ دنیا میں اگر کوئی کامل انسان پیدا ہوا ہےتو وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ نہ آپؐ سے پہلے کوئی آپؐ جیسا کامل انسان پیدا ہوا نہ بعد میں پیدا ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی اور تمام اخلاق اور تمام انسانی صفات کے اعلیٰ ترین معیار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں جمع ہیں۔ کوئی خُلق لے لیں آپؐ میں اس کے اعلیٰ ترین معیار موجود ہیں جو کسی دوسرے انسان میں نہ تھے، نہ ہیں اور نہ ہوں گے۔ انہی صفات اور اخلاق میں ایک خُلق عاجزی اور انکساری کا ہےجس کی اعلیٰ ترین مثال آپؐ میں پائی جاتی ہے۔ اپنے ماننے والوں کو بھی آپؐ نے ہمیشہ یہ نصیحت فرمائی کہ ایک مومن کو عاجزی کے خُلق کو ہمیشہ اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اعلیٰ خُلق کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان الفاظ میں اعلان کرنے کا کہا کہ قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ۔(الکہف: 111)تُو انہیں کہہ دے کہ مَیں صرف تمہاری ہی طرح کا ایک بشر ہوں۔ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو آخری اور کامل شریعت لانے والے نبی کا مقام عطا فرمایا۔ لیکن پھر بھی یہی آپؐ سے اعلان کروایا کہ کہہ دو کہ مَیں بشر ہوں اور ایک عاجز انسان ہوں۔ بہرحال اس حوالے سے

آج میں کچھ احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے اقتباسات پیش کروں گا جن سے مختلف مواقع پر آپؐ کے اس خُلق کا اظہار ہوتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں :

’’ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر دنیا میں کسی کامل انسان کا نمونہ موجود نہیں اور نہ آئندہ قیامت تک ہو سکتا ہے۔ پھر دیکھو کہ اقتداری معجزات کے ملنے پر بھی حضور کے شامل حال ہمیشہ عبودیت ہی رہی۔‘‘ عاجز انسان بن کے رہے۔عاجز بندے بن کے رہے’’ اور بار بار اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ہی فرماتے رہے۔ یہاں تک کہ کلمہ توحید میں اپنی عبودیت کے اقرار کا ایک جزوِ لازم قرار دیا جس کے بدوں مسلمان مسلمان ہی نہیں ہو سکتا۔ سوچو !اور پھر سوچو!! پس جس حال میں ہادی اکمل کی طرزِ زندگی ہم کو یہ سبق دے رہی ہے کہ اعلیٰ ترین مقام قرب پر بھی پہنچ کر عبودیت کے اعتراف کو ہاتھ سے نہیں دیا تو اَور کسی کا تو ایسا خیال کرنا اور ایسی باتوں کا دل میں لانا ہی فضول اور عبث ہے۔‘‘

(رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء صفحہ 140)

پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’خالی شیخیوں سے اور بے جا تکبر اور بڑائی سے پرہیز کرنا چاہیے اور انکساری اور تواضع اختیار کرنی چاہیے۔ دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ حقیقتاً سب سے بڑے اور مستحق بزرگی تھے ان کے انکسار اور تواضع کا ایک نمونہ قرآن شریف میں موجود ہے۔ لکھا ہے کہ ایک اندھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر قرآن شریف پڑھا کرتا تھا۔ ایک دن آپؐ کے پاس عمائد مکہ اور رؤسائے شہر جمع تھے اور آپؐ ان سے گفتگو میں مشغول تھے۔ باتوں میں مصروفیت کی وجہ سے کچھ دیر ہو جانے سے وہ نابینا اٹھ کے چلا گیا۔ یہ ایک معمولی بات تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق سورۃ نازل فرما دی۔ اس پر آنحضرت ؐ اس کے گھر میں گئے اور اسے ساتھ لا کر اپنی چادر مبارک بچھا کر بٹھایا۔

اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں عظمتِ الٰہی ہوتی ہے ان کو لازماً خاکسار اور متواضع بننا ہی پڑتا ہے کیونکہ وہ خدا کی بے نیازی سے ہمیشہ ترساں و لرزاں رہتے ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد 10 صفحہ 298،ایڈیشن2022ء)

پس یہ ایک واقعہ نہیں جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے بلکہ یہ ایک سبق ہے جو ہمیں دیا گیا ہے کہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے اسوۂ حسنہ ہیں ۔ اگر ان کی محبت کا دعویٰ ہے تو عاجزی اور انکساری کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی تم بھی کوشش کرو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مومن کو عاجزی کی حقیقت اور اس پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے

ایک موقع پر فرماتے ہیں جس کی حضرت ابن عباسؓ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر انسان کے لیے سر کے ساتھ دو زنجیریں بندھی ہوئی ہیں۔ ایک زنجیر آسمان کی طرف ہے اور ایک زنجیر زمین کی طرف۔ جب بندہ عاجزی اور فروتنی اختیار کرتا ہے تو وہ فرشتہ جس کے ہاتھ میں آسمان والی زنجیر ہے اسے اوپر اٹھا لیتا ہے۔ عاجزی سے بندہ نیچے جھکتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اوپر کا مقام دیتا ہے اور جب وہ تکبر اور سرکشی کرتا ہے تو زمین والی زنجیر اسے نیچے کھینچ لیتی ہے۔

(الجامع لشُعب الایمان للبیہقی جلد 10 صفحہ 456 حدیث:7791 مکتبۃ الرشد )

تکبر کرنے والے کا پھر کوئی عمل قابل قبول نہیں ہوتا ۔وہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں نیچے گرا ہوا ہے، زمین پہ گرا ہوا ہے۔

حضرت ابن عباسؓ سے ہی ایک روایت مروی ہے کہ

جب بندہ عاجزی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ساتویں آسمان تک بلند کر دیتا ہے۔

(کنز العمال جلد 2 جزء 3 صفحہ 49 حدیث:5717 دارالکتب العلمیۃ 2004ء)

پس

اگر ہم خواہش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں تو عاجزی اس کے لیے بہت اہم چیز ہے۔

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ مال میں سے کچھ کم نہیں کرتا اور اللہ کسی شخص کو عفو کی وجہ سے نہیں بڑھاتا مگر عزّت میں۔ یعنی عفو کی وجہ سے عزّت بڑھتی ہے۔اور

کوئی اللہ کے لیے تواضع اختیار نہیں کرتا مگر اللہ اسے بلندی عطا کرتا ہے۔

(جامع الترمذی ابواب البر و الصلۃ باب ما جاء فی التواضع حدیث 2029)

پس یہ اصولی باتیں ایک مومن کے لیے بیان کیں کہ صدقہ اور مالی قربانی سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے۔اس لیے یہ وہم دل سے نکال دو کہ مالی قربانی سے تمہارے مال میں کمی ہوگی۔ معاف اور درگزر کرنے سے عزّت میں کمی نہیں ہوتی بلکہ عزّت بڑھتی ہے۔ یہ حقیقت اگر لوگ پہچان لیں تومعاشرے میں جو جھگڑے ہیں ان دنیا کے معاشرتی جھگڑوں کے بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ پھر فرمایا اور

عاجزی اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ بلندی عطا کرتا ہے۔ جتنے عاجز بنو گے اللہ تعالیٰ اتنا ہی تمہیں بلند مقام دے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے لیے عاجزی کے کیا معیار تھے۔

حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبیﷺ کو مخاطب کر کے کہاکہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اے ہمارے سردار ابنِ سردار ! اے ہمارے خیر ابنِ خیر !اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تقویٰ کو اپنے اوپر لازم کر لو۔ شیطان تمہیں بہکا نہ دے۔ مَیں محمد بن عبداللہ ہوں ۔اللہ کا بندہ اور اس کا پیغمبر ۔

اللہ کی قسم! مَیں یہ پسند نہیں کرتا کہ تم مجھے میرے مرتبہ سے جو اللہ نے مجھے دیا ہے بڑھا چڑھا کر بیان کرو۔

(مسند احمد بن حنبل جلد4 صفحہ394 مسند انس بن مالک ،حدیث 12579 عالم الکتب بیروت)

پس اللہ تعالیٰ نے جو آپؐ سے اعلان کروایا تو اپنے عملی نمونے سے بھی آپؐ نے اسے ثابت کردیا۔

پھر آپؐ کی اپنی عاجزی کی انتہا کی ایک اَور مثال حدیث میں ملتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ نے کہا مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپؐ فرماتے تھے :کسی کو اس کا عمل جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا۔ صحابہؓ نے کہا :یا رسول اللہؐ  آپ کو بھی؟ آپؐ نے فرمایا :نہیں !مجھے بھی نہیں۔ سوائے اس کے کہ اللہ مجھے اپنے فضل اور رحمت میں ڈھانپ لے۔ اس لیے جو عمل کرو نہایت سنوار کر کرو اور اسے قرب الٰہی کے لیے بجا لاؤ ۔اور تم میں سے کوئی موت کی آرزو ہرگز نہ کرے ۔اگر وہ نیک ہوا تو ہو سکتا ہے کہ وہ نیکی میں اور ترقی کرے اور اگر بد ہوا تو ہو سکتا ہے وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو دور کرے۔

(صحیح البخاری کتاب المرضی باب تمنی المریض الموت حدیث 5673 مترجم جلد 14 صفحہ 45 تا 46 شائع کردہ نظارت اشاعت)

پھر ایک روایت میں آتا ہے ۔حضرت ابو سعید خدریؓ نے بیان کیا کہ مساکین سے محبت کیا کرو کیونکہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی دعا میں کہتے ہوئے سنا ہے کہ اَللّٰھُمَّ اَحْیِنِیْمِسْکِیْنًا وَّ اَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًا وَاحْشُرْنِیْفِیْ زُمْرَةِ الْمَسَاکِیْنَ۔کہ اے میرے اللہ! مجھے مسکین کے طور پر زندہ رکھ اور مسکین کے طور پر موت دینا اور مسکینوں کے گروہ میں مجھے اٹھانا۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب مجالسۃ الفقراء حدیث4126)

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ  ؓبیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے ذکر کیا کرتے تھے اور بیکار کام نہیں کرتے تھے۔ یعنی ذکر الٰہی بہت کرتے تھے۔ نماز لمبی کرتے اور خطبہ مختصر دیتے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بُرا نہیں مناتے تھے کہ آپؐ بیوہ اور مسکین کے ساتھ چلیں اور ان کی ضرورت پوری کریں ۔

(سنن النسائی کتاب الجمعۃ باب ما يستحب من تقصير الخطبۃ ،حدیث 1415)

عاجزی کی یہ بھی حالت تھی ۔عبادت کے معیار تو تھے ہی تھے لیکن عاجزی کا بھی یہ حال تھا کہ کسی بھی مسکین اور بیوہ کی بات سننے کے لیے پورے صبر اور تحمل سے اس کو وقت دیا کرتے تھے۔

حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ اہل مدینہ کی لونڈیوں میں سے ایک لونڈی بھی اپنی حاجات کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر آپؐ کو جہاں چاہتی لے جاتی۔

(صحیح البخاری کتاب الادب باب الکبر … مترجم جلد 14 صفحہ489 – 490 روایت 6072 شائع کردہ نظارت اشاعت)

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے جس کی عقل میں کچھ فرق تھا عرض کیا یا رسول اللہ ؐ!مجھے آپؐ سے کام ہے۔ آپؐ نے فرمایا :اے ام فلاں! دیکھ جس گلی میں بھی تُو چاہتی ہے لے چل یہاں تک کہ مَیں تیرا کام پورا کر دوں۔ پھر آپؐ اس کے ساتھ ایک راستے پر تشریف لے گئے یہاں تک کہ اس نے اپنا کام عرض کیا اور وہ کروا لیا، جو مطالبہ تھا وہ پورا ہو گیا۔

(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب قرب النبي عليه السلام من الناس وتبرکہم به مترجم جلد 12 صفحہ 235

روایت نمبر 4279شائع کردہ نورفاؤنڈیشن)

بہرحال روایت میں اس عورت کا نام اُمّ زُفَربیان ہوا ہے جو حضرت خدیجہ ؓکی خادمہ تھیں اور یہ اتنی زیادہ عقلمند نہیں تھیں۔ عقل میں تھوڑا سا نقص بھی ہوگا ۔بعض دفعہ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو بات کو سمجھ نہیں سکتے۔ فہم اچھی طرح نہیں ہوتا۔ یہ نہیں کہ خدانخواستہ دماغی طور پر مفلوج تھیں لیکن بہرحال اتنی عقل والی بھی نہیں تھیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جذبات کا بھی خیال رکھا۔

(الکوکب الوہاج شرح صحیح مسلم جلد 23 صفحہ 155 مکتبہ دار المنہاج)

ایک روایت میں آتا ہے۔عدی بن حاتم بیان کرتے ہیں کہ مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوا یہاں تک کہ مدینہ پہنچا اور مسجد میں داخل ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کون ہو؟ مَیں نے عرض کیا: مَیں عدی بن حاتم ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور مجھے اپنے گھر کی طرف لے جانے لگے۔ راستے میں ایک ضعیف عورت آگئی اور اس نے بڑی دیر تک آپؐ سے کچھ اپنی حاجت عرض کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی خاطر کھڑے رہے۔ کہتے ہیں مَیں نے اپنے دل میں کہا یہ شخص بادشاہ نہیں ہو سکتا۔ بادشاہ تو اس طرح غریبوں کے لیے کھڑے نہیں ہوتے۔ بادشاہوں میں ایسے اخلاق نہیں ہوتے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھے لے کر اپنے مکان میں داخل ہوئے اور ایک موٹا گدا اٹھا کر میری طرف ڈال دیا اور فرمایا اس پر بیٹھو۔گھر میں ایک cushionسا پڑا تھا اس کو اس مہمان کو دے دیا۔ مَیں نے عرض کیا کہ آپؐ اس پہ تشریف رکھیں۔ آپؐ نے فرمایا :نہیں! تم بیٹھو۔ آخر مَیں اس پر بیٹھا اور آپؐ زمین پر بیٹھے۔ مَیں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ بات ہرگز بادشاہوں کی سی نہیں ہے۔ یہ تو بہت عاجز انسان کی باتیں ہیں۔

(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام صفحہ 854 دارالکتب العلمیۃ2001ء)

بچوں سے بھی پیار اور عاجزی کااظہار کرتے تھے۔ انہیں سلام میں پہل کرتے تھے۔

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے پاس جاتے تو ان کے بچوں کو سلام کرتے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔

(السنن الکبری للنسائی کتاب المناقب باب ابناء الانصارؓ حدیث8349 جلد5 صفحہ92 دارالکتب العلمیۃ)

حضرت ابن مسعودؓ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ نے اس سے بات کی اور حضورؐ کے رعب کی وجہ سے اس کے کندھے کانپنے لگے۔ آپؐ نے اس سے فرمایا :

اطمینان رکھو میں کوئی بادشاہ نہیں ۔ مَیں تو ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو خشک گوشت کھایا کرتی تھی۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الاطعمۃ باب القدید ،حدیث 3312)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ’’ دیکھو! ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابیاں اگرچہ ایسی تھیں کہ تمام انبیائے سابقین میں اس کی نظیر نہیں ملتی مگر آپؐ کو خدا تعالیٰ نے جیسی جیسی کامیابیاں عطا کیں آپ اتنی ہی فروتنی اختیار کرتے گئے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص حضورؐ کے حضور پکڑ کر لایا گیا۔ آپ نے دیکھا تو وہ بہت کانپتا تھا اور خوف کھاتا تھا مگر جب وہ قریب آیا تو آپؐ نے نہایت نرمی اور لطف سے دریافت کیا اور فرمایا کہ تم ایسے ڈرتے کیوں ہو؟ آخر میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں اور ایک بڑھیا کا فرزند ہوں۔‘‘

(ملفوظات جلد10 صفحہ 217 تا 218،ایڈیشن 2022ء)

ظاہری رکھ رکھاؤ اور تکلّف سے بھی آپؐ بہت بالا تھے۔

اس کا اظہار آپؐ کے مدینہ ہجرت کے وقت کے واقعہ میں ملتا ہے۔ کئی دفعہ ہم نے سناہے۔ چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ ہجرتِ مدینہ کے وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہ سنتے ہی مسلمان اٹھ کر اپنے ہتھیاروں کی طرف لپکے اور حَرَّہ کے میدان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا۔ آپؐ انہیں ساتھ لیے ہوئے داہنی طرف مڑے اور بنو عمرو بن عوف کے محلے میں ان کے ساتھ اترے اور یہ دوشنبہ سوموار کا دن تھا اور ربیع الاوّل کا مہینہ تھا۔ حضرت ابوبکرؓ  لوگوں سے ملنے کے لیے کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے رہے اور انصار میں سے وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا تھا آئے اور حضرت ابوبکر ؓکو سلام کرنے لگے یہاں تک کہ دھوپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑنے لگی۔ حضرت ابوبکرؓ اٹھے اور انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی چادر سے سایہ کیا۔ اس وقت لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا۔

(صحیح البخاری کتاب المناقب الانصار باب ھجرۃ النبی ؐ واصحابہ … مترجم جلد 07 صفحہ 400 روایت 3906 شائع کردہ نظارت اشاعت)

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا۔ وہ منبر پر کھڑے کہہ رہے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے :

میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو جیسے نصاریٰ نے ابنِ مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا۔ مَیں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں ۔اور تم یہ کہو کہ اس کا بندہ اور اس کا رسول۔

(صحیح البخاری کتاب احادیث الانبیاء باب قول اللہ واذکر فی الکتاب مریم … مترجم جلد 6 صفحہ 426 حدیث 3445 شائع کردہ نظارت اشاعت)

اسی طرح علی بن حسینؓ نے اپنے والد سے روایت کی ہم سے اسلام کی محبت کی وجہ سے محبت کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ میرے مقام و مرتبہ کو حد سے زیادہ نہ بڑھاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنانے سے پہلے اپنا بندہ بنایا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی محبت کی وجہ سے محبت کرو۔

(المعجم الکبیر للطبرانی جلد 3 صفحہ 138-139حدیث:2889 مکتبہ ابن تیمیہ)

مُطَرِّفْ نے بیان کیا کہ میرے والد نے بتایا کہ مَیں بنو عامر کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ۔ہم نے عرض کیا کہ آپؐ ہمارے سردار ہیں۔آپؐ نے فرمایا :سردار تو اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ ہم نے عرض کیا آپؐ ہم میں فضل کے لحاظ سے افضل ترین ہیں اور احسان کرنے میں ہم سب سے عظیم ترین ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اپنی بات بیان کرو یافرمایا اپنی باتیں بیان کرو۔ شیطان تمہیں دلیر نہ کر دے۔

(سنن ابوداؤد کتاب الادب باب فی کراہیۃ التمادح روایت 4806)

یہ ہے آپؐ کی عاجزی کا مقام کہ فوراً ٹوک دیا کہ ان باتوں کو چھوڑو۔ ہو سکتا ہے یہ تمہارے اندر بعد میں بعض خرابیاں پیدا کریں۔ تم اپنا جو اصل مقصد ہے، جس کے لیے آئے ہو وہ بیان کرو اور میرے لیے غلط قسم کی باتیں نہ کرو حالانکہ آپؐ کے لیے تعریف کے جو الفاظ استعمال کیے جاتے وہ ہو سکتے تھے۔

حضرت رُبَیّعِ بنتِ مُعَوِّذْ بن عَفْرَاءکہتی تھیں کہ جب میرا رخصتانہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس اندر تشریف لائے اور میرے بستر پر اس طرح بیٹھ گئے جیسے تم میرے پاس بیٹھے ہو۔(جس کو بیان کر رہی ہیں اس کو انہوں نے کہا۔) تو اس وقت ہماری چند لڑکیاں دف بجانے لگیں اور میرے ان بزرگوں کی تعریف کرنے لگیں جو جنگِ بدر میں مارے گئے تھے اور ان اشعار میں ان میں سے ایک لڑکی نے کہا :ہم میں ایک ایسا نبی ہے جو جانتا ہے کہ کل کیا کچھ ہوگا۔ آپؐ نے فوراً فرمایا :اس کو جانے دو اور وہی گاؤ جو تم پہلے گا رہی تھیں۔ (صحیح البخاری کتاب النکاح باب ضرب الدف فی النکاح والولیمۃ 5147، جلد 13 صفحہ 84-85شائع کردہ نظارت اشاعت) یہ باتیں غلط ہیں کہ مجھے غیب کا علم ہے۔ عالم الغیب تو صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔

حضرت عبداللہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا :کسی کو نہ چاہیے کہ وہ کہے کہ مَیں یونس بن مَتّٰی سے افضل ہوں۔ باوجود افضل ہونے کے آپؐ نے اس مقابلہ سے منع فرمایا اور انتہائی عاجزی کا اظہار کیا۔

(صحیح البخاری کتاب تفسیر القرآن باب قوله: {إنا أوحينا إليك كما أوحينا إلى نوح} [النساء: 163] روایت 4603 مترجم جلد 10 صفحہ 227 شائع کردہ نظارت اشاعت)

اسی طرح حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا خیر البریہ !یعنی اے مخلوق میں سب سے بہترین شخص۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :وہ ابراہیم علیہ السلام تھے۔

(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل ابراہيم الخليلﷺ … مترجم جلد 12 صفحہ 280 روایت 4353شائع کردہ نور فاؤنڈیشن)

یقیناًآپؐ خیر البریّہ تھے اور ہیں اور مخلوق میں سب سے افضل ہیں۔ رسولوں میں بھی سب سے افضل ہیں لیکن آپؐ نے انتہائی عاجزی سے اسے حضرت ابراہیم کی طرف منسوب کر دیا۔

آپؐ کی عاجزی کی ایک مثال کا ایک ذکر یوں ملتا ہے ۔حضرت عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مرتبہ آواز دی اور ہر دفعہ آپؐ نے کہا :لبیک لبیک یعنی مَیں حاضر ہوں۔ مَیں حاضر ہوں۔

(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد کتاب علامات النبوۃ باب فی تواضعہﷺ جلد 8 صفحہ 421روایت 14224 دارالکتب العلمیۃ بیروت 2001ء)

جب قریباً سارا عرب فتح ہو گیا تو اس فاتح عرب نے ایک لاکھ سے زائد صحابہؓ کے ساتھ حج فرمایا اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع کا یہ عالم تھا کہ حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا ایک عام کجاوے والی سواری پر اور چادر پر جو چار درہم کے برابر تھی بلکہ اس کے بھی برابر نہیں تھی یعنی بہت عام سی چادر تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ۔ اَللّٰھُمَّ حَجَّةٌ لَا رِیَاءَفِیْھَا وَلَا سُمْعَۃَ۔ اے اللہ! حج ہے، ایسا حج کہ اس میں نہ کوئی ریا ہے یعنی دکھاوا ہے نہ شہرت کی طلب ہے۔

(سنن ابن ماجہ کتاب المناسک باب الحج علی الرحل روایت نمبر 2890)(السیرۃ الحلبیہ جلد3صفحہ361 مکتبہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح اور آپؐ کے نام کی تعریف میں بیان فرماتے ہیں کہ’’احمد کا نام مظہر جمال ہے اور اس کے مقابل پر محمد کا نام مظہرِ جلال ہے‘‘ دو نام ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ ’’وجہ یہ کہ اسم محمد میں سِرِّ محبوبیت ہے ‘‘یعنی جو محمد کا نام ہے اس میں محبوب ہونے کا راز مخفی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں آپؐ ’’کیونکہ جامع محامد ہے اور کمال درجہ کی خوبصورتی اور جامع المحامد ہونا جلال اور کبریائی کو چاہتا ہے۔‘‘ سب تعریفوں کامجموعہ ہیں آپؐ اور سب تعریفوں کا مجموعہ اسی وقت ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کا جلال بھی آپ پر ظاہر ہو اور آپ اس کا اظہار بھی کریں اور اللہ تعالیٰ نے جس طرح آپؐ کو بلند مقام دیا ہے وہ بلند مقام بھی آپ کا اظہار ہو’’لیکن اسمِ احمد میں سِرِّ عاشقیت ہے۔‘‘ عاشقی کا رنگ پوشیدہ ہے ’’کیونکہ حامدیت کو انکسار اور عشقی تذلل اور فروتنی لازم ہے اسی کا نام جمالی حالت ہے۔ ‘‘احمد کا نام جمالی حالت اس لیے ہے کہ اس میں عشق پایا جاتا ہے’’ اور یہ حالت فروتنی کو چاہتی ہے‘‘ عاجزی کو چاہتی ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں شان محبوبیت بھی تھی جس کا اسم محمد مقتضی تھا ‘‘اسم محمد مقتضی تھا ۔یعنی محمد کا نام اسی بات کا تقاضا کرتا تھا جو آپؐ خدا تعالیٰ کےمحبوب تھے’’ کیونکہ محمد ہونا یعنی جامع جمیع محامد ہونا شانِ محبوبیت پیدا کرتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میںشانِ مُحِبِیَّت بھی تھی جس کا اسم احمد مقتضی ہے۔’’یعنی اسم احمد جو نام ہے اس کا یہ تقاضا تھا کہ آپؐ میں محبت کرنے کی صلاحیت بھی ہو‘‘ کیونکہ حامد کے لیے محب ہونا ضروری ہے۔ ہر ایک شخص کسی کی سچی اور کامل تعریف تبھی کرتا ہے جبکہ اس کا محب بلکہ عاشق ہو اور عاشق اور محبّ ہونے کے لیے فروتنی لازم ہے۔‘‘ کسی کا عاشق ہونے کے لیے عاجزی دکھانا ضروری ہے ۔رعب ڈال کے عشق نہیں ظاہر ہوتا ’’اور یہی جمالی حالت ہے جو حقیقتِ احمدیہ کو لازم پڑی ہوئی ہے۔ محبوبیت جو اسمِ محمد میں مخفی تھی صحابہ کے ذریعہ سے ظہور میں آئی اور جو لوگ ہتک کرنے والے اور گردن کش تھے محبوبِ الٰہی ہونے کے جلال نے ان کی سرکوبی کی۔ ‘‘ (اربعین نمبر4، روحانی خزائن جلد17صفحہ447-448) آپ اللہ کے محبوب تھے تو اللہ تعالیٰ نے پھر جلال بھی دکھایا اور صحابہؓ کے ذریعہ سے وہ جلال دکھایا اور دشمنوں کو پارہ پارہ کیا۔

پھر اس کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’آپؐ کے مبارک ناموں میں ایک سرّ یہ ہے کہ محمد اور احمد جو دو نام ہیں ان میں دو جدا جدا کمال ہیں۔ محمدؐ  کا نام جلال اور کبریائی کو چاہتا ہے جو نہایت درجہ تعریف کیا گیا ہے اور اس میں ایک معشوقانہ رنگ ہے کیونکہ معشوق کی تعریف کی جاتی ہے۔ پس اس میں جلالی رنگ ہونا ضروری ہے مگر احمد کا نام اپنے اندر عاشقانہ رنگ رکھتا ہےکیونکہ تعریف کرنا عاشق کا کام ہے۔ وہ اپنے محبوب و معشوق کی تعریف کرتا رہتا ہے۔ اس لیے جیسے محمدؐ  محبوبانہ شان میں جلال اور کبریائی کو چاہتا ہےاسی طرح پر احمد عاشقانہ شان میں ہو کر غربت اور انکساری کو چاہتا ہے‘‘ یہ جو دوسرا نام احمد ہے عاجزی اور انکساری کا وصف اس سے ظاہر ہوتا ہے۔ ’’اس میں ایک سرّ یہ تھا کہ آپ کی زندگی کی تقسیم دو حصوں پر کر دی گئی۔‘‘ دو حصے تھے آپؐ کی زندگی کے ’’ایک تو مکی زندگی تھی جو ۱۳ برس کے زمانہ کی ہے اور دوسری وہ زندگی ہے جومدنی زندگی ہے اور وہ ۱۰ برس کی ہے۔ مکہ کی زندگی میں اسمِ احمد کی تجلی تھی ۔اس وقت آپ کے دن رات خدا تعالیٰ کے حضور گریہ وبکا اور طلبِ استعانت اور دعا میں گزرتے تھے۔‘‘ عاجزی اور انکساری کا انتہائے نفس سے تعلق تھا گو بعد کا بھی یہی حال ہے لیکن یہاں صرف اور صرف یہی صفت ظاہر ہو رہی تھی ’’اگر کوئی شخص آپ کی اس زندگی کے بسر اوقات پر پوری اطلاع رکھتا ہو تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ جو تضرع اور زاری آپ نے اس مکی زندگی میں کی ہے وہ کبھی کسی عاشق نے اپنے محبوب و معشوق کی تلاش میں کبھی نہیں کی اور نہ کر سکے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی محبت میں جس طرح فنا ہو کر وہاں اظہار ہوا اس کی مثال آپؑ دے رہے ہیں۔ گو آپؐ کی ساری زندگی اس بات سے بھر ی پڑی ہے لیکن خاص طور پر اس زمانے کی بات ہے۔‘‘ پھر آپ کی تضرّع اپنے لیے نہ تھی بلکہ یہ تضرع دنیا کی حالت کی پوری واقفیت کی وجہ سے تھی۔ خدا پرستی کا نام و نشان چونکہ مٹ چکا تھا اور آپ کی روح اور خمیر میں اللہ تعالیٰ میں ایمان رکھ کر ایک لذّت اور سرور آ چکا تھا اور فطرتاً دنیا کو اس لذّت اور محبت سے سرشار کرنا چاہتے تھے۔ اِدھر دنیا کی حالت کو دیکھتے تھے تو ان کی استعدادیں اور فطرتیں عجیب طرز پر واقع ہو چکی تھیں اور بڑے مشکلات اور مصائب کا سامنا تھا۔ غرض دنیا کی اس حالت پر آپ گریہ و زاری کرتے تھے اور یہاں تک کرتے تھے کہ قریب تھا کہ جان نکل جاتی۔ اسی کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ۔(الشعراء:4)’’ شاید تُو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال دے گا کہ وہ کیوں نہیں مومن ہوتے۔ ‘‘یہ آپ کی متضرّعانہ زندگی تھی اور اسم احمد کا ظہور تھا۔ اس وقت آپ ایک عظیم الشان توجہ میں پڑے ہوئے تھے۔ اس توجہ کا ظہور مدنی زندگی اور اسم محمدؐ کی تجلّی کے وقت ہوا جیسا کہ اس آیت سے پتہ لگتا ہے۔ ’’پہلا زمانہ جو تھا وہ احمد کی زندگی تھی۔ اب مدینہ میں آگئے تو محمد کی تجلّی ظاہر ہوئی۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا۔ صحابہؓ کے ذریعہ سے بھی دشمنوں کو فنا کیا۔ یہاں آپؑ فرماتے ہیں کہ اس تجلّی کا وقت ہوا جیسا کہ اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ’’ وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ (ابراہیم:16) ۔‘‘ (ملفوظات جلد 2صفحہ62-63 ایڈیشن 2022ء) اور انہوں نے فتح کے لیے دعا کی اور ہر ایک سرکش اور حق کا دشمن ناکام و نامراد ہو گیا۔ مدینہ میں آ کر پھر جو دشمن نے سختی کی تو وہاں پھر جلوہ محمد ظاہر ہوا اور پھر ہر دشمن تباہ و برباد ہوگیا۔ وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ ۔اللہ تعالیٰ سے مانگا۔ فتح مانگی اور اللہ تعالیٰ نے پھر دشمن پر فتح عطا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے دشمنوں کو تباہ و برباد کیا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت جس قدر بعض مقامات پر فروتنی اور انکساری میں کمال پر پہنچی ہوئی نظر آتی ہے وہاں معلوم ہوتا ہے کہ اسی قدر آپؐ روح القدس کی تائید اور روشنی سے مؤید اور منوَّر ہیں۔ جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی اور فعلی حالت سے دکھایا ہے یہاں تک کہ آپؐ کے انوار و برکات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ ابد الآباد تک اسی کا نمونہ اور ظِلّ نظر آتا ہے‘‘ ہمیشہ یہی نمونہ نظر آئے گا’’ چنانچہ اس زمانہ میں بھی جو کچھ خدا تعالیٰ کا فیض اور فضل نازل ہو رہا ہے وہ آپؐ ہی کی اطاعت اور آپؐ ہی کی اتباع سے ملتا ہے۔

مَیں سچ کہتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ کوئی شخص حقیقی نیکی کرنے والا اور خداتعالیٰ کی رضا کو پانے والا نہیں ٹھہر سکتا اور ان انعام و برکات اور معارف اور حقائق اور کشوف سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا جو اعلیٰ درجہ کے تزکیہ نفس پر ملتے ہیں جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کھویا نہ جائے

اور اس کا ثبوت خود خدا تعالیٰ کے کلام سے ملتا ہے۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔(آل عمران:32)‘‘ تُو کہہ دے کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو تو اللہ بھی تم سے محبت کرے گا

’’اور خدا تعالیٰ کے اس دعویٰ کی عملی اور زندہ دلیل مَیں ہوں۔‘‘

آپؑ فرماتے ہیں کہ اس کی عملی دلیل مَیں ہوں۔ مَیں محبت کرتا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اللہ تعالیٰ کے فضل مجھ پر نازل ہو رہے ہیں۔’’ ان نشانات کے ساتھ جو خدا تعالیٰ کے محبوبوں اور ولیوں کے قرآن شریف میں مقرر ہیں مجھے شناخت کرو۔ غرض

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا کمال یہاں تک ہے کہ اگر کوئی بڑھیا بھی آپؐ کا ہاتھ پکڑتی تھی تو آپؐ کھڑے ہو جاتے اور اس کی باتوں کو نہایت توجہ سے سنتے اور جب تک کہ وہ خود آپؐ کو نہ چھوڑتی آپؐ نہ چھوڑتے تھے۔‘‘

(ملفوظات جلد 1صفحہ 188-189 ایڈیشن 2022ء)

ایک روایت میں

آپؐ کی عاجزی اور سادگی کا ذکر

اس طرح ملتا ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت فرماتے۔ جنازے پہ تشریف لاتے اور گدھے پر سوار ہو جاتے ۔معمولی سواری بھی ہوتی تو سوار ہو جاتے اور غلام کی دعوت قبول فرماتے اور بنو قُریظہ کے دن آپؐ گدھے پر سوار تھے جس کی لگام کھجور کی چھال کی رسی کی تھی اور اس پر کھجور کی چھال کی زِین تھی۔ یعنی بہت معمولی تھی۔

(جامع الترمذی ابواب الجنائز باب آخرحدیث 1017)

ایک روایت میں آتا ہے حضرت عثمانؓ نے ایک خطبہ میں بیان کیا کہ اللہ کی قسم !ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں بھی اور حضر میں بھی معیت حاصل رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیماروں کی عیادت کرتے تھے ۔ہمارے جنازوں کے ساتھ جاتے تھے ۔ہر جگہ ہر کام میں وہ ہمارے ساتھ رہے۔

(مسند احمد بن حنبل جلد 1صفحہ 226 حدیث :504 عالم الکتب 1998ء)

اسی طرح حضرت ابو ھریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے بکری کی ایک دستی یا پایہ کھانے کی دعوت دی جائے تو مَیں اس دعوت کو ضرور قبول کروں ۔اور اگر بکری کی دستی یا پایہ مجھے بطور ہدیہ بھیجا جائے تو مَیں اس کو ضرور لے لوں ۔یعنی معمولی سی چیز کی دعوت بھی ہو یا تحفہ ہو تو وہ بھی آپؐ قبول کرتے تھے۔

(صحیح البخاری کتاب الہبۃ باب القليل من الهبة مترجم جلد 04 صفحہ 615 روایت 2568شائع کردہ نظارت اشاعت)

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جَو کی روٹی اور پرانی چربی کی دعوت پر مدعو کیا گیا اور آپؐ نے دعوت بڑی خوشی سے قبول کر لی۔

(مسند امام احمد بن حنبل جلد 4صفحہ610-611 روایت نمبر13531، عالم الکتب بیروت 1998ء)

ایک روایت میں

آپؐ کے سادہ کھانے کا ذکر

یوں ملتا ہے ۔حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی جو اس نے تیار کیا تھا۔ حضرت انس بن مالکؓ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مَیں بھی اس دعوت میں چلا گیا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس نے روٹی اور شوربہ پیش کیا جس میں کدو کے قتلے اور گوشت کی بوٹیاںتھی ۔سالن جو تھا اس میں کدو اور گوشت تھا ۔مَیں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ پیالے کے ارد گرد سے جہاں کدو ہوتے لیتے اور گوشت چھوڑ دیتے تھے۔ حضرت انسؓ  کہتے تھے مَیں نے اس دن سے ہی کدو کھانا شروع کر دیا اورمَیں کدو پسند کرنے لگا۔

(صحیح البخاری کتاب البیوع باب الخیاط روایت 2092مترجم جلد 04 صفحہ 58 شائع کردہ نظارت اشاعت)

یہاں مَیں اپنے مہمانوں کے لیے بھی ایک بات کر دوں ۔یہ ان کے لیے بھی ایک سبق ہے کیونکہ لنگر میں جلسہ کے دنوں میں خاص طور پر بعض دفعہ لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کہ ہمیں آلو گوشت میں سے صرف آلو نہیں ڈالنے بلکہ صرف گوشت ہی ڈال کے دو۔ تو یہ جو اُسوہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کو ہم ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں کہ کھانا تو حساب سے پکتا ہے اس لیے جو ملے اس میں سے کھانا چاہیے اور ہر سبزی یا گوشت جو بھی ملے اس کو پسند کر کے کھا لینا چاہیے۔

پھر

جذبات کے خیال اور عاجزی کی ایک مثال

ایک روایت سے یوں ملتی ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ پیالے میں شامل کیا۔ پھر فرمایا :اللہ کا نام لے کر کھاؤ۔ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے اور اس پر توکل کرتے ہوئے کھاؤ۔

(جامع الترمذی أَبْوَابُ الْاَطْعِمَةِ بَابُ مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مَعَ الْمَجْذُومِ حدیث: 1817)

اسی طرح حضرت اسامہ بن زیدؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے۔ اس پر فَدَک کی بنی ہوئی چادر تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ بن زید ؓکو اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا۔ یہ کوئی نہیں تھا کہ میرے ساتھ کون بیٹھا ہے کون نہیں بیٹھا۔

(صحیح البخاري، کتاب التفسير باب وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الكِتَابَ … (آل عمران: 187) ، حديث : 4566 مترجم جلد 10 صفحہ 156)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فضل بن عباس کو اپنے پیچھے اونٹنی کی پشت پر سوار کر لیا۔

(صحیح البخاري،کتاب الاستئذان باب قول اللہ تعالیٰ یا یھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوتا …، حديث: 6228مترجم جلد 14 صفحہ648)

اسی طرح حضرت انسؓ سےروایت ہے کہ

جب آپؐ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو لوگ آپ کی زیارت کے لیے آئے۔ عاجزی کی وجہ سے آپ کا سر کجاوے کو چُھو رہا تھا۔ ایک اَور روایت کے مطابق آپؐ لوگوں کے درمیان تھے۔ فتح اور مسلمانوں کی کثرت دیکھ کر آپؐ کی ریش مبارک عاجزی کی وجہ سے کجاوے کو چھو رہی تھی یا قریب تھا کہ وہ چھولے۔ آپؐ نے فرمایا: اَللّٰہُمَّ اِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الْاٰخِرَةِ۔ کہ اے اللہ !یقیناً اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔

(سبل الھدیٰ جلد 5 صفحہ 226 دارالکتب العلمیۃ بیروت)

عدل و انصاف اور انکسار اور تواضع کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ آپؐ نے اپنے پیچھے اپنے آزاد کردہ غلام زیدبن حارثہؓ کے بیٹے اسامہ ؓکو سوار فرمایا ہوا تھا حالانکہ قریش کے رؤوساء اور بنو ہاشم کے بیٹے بھی موجود تھے۔

(شرح زرقانی جلد3 صفحہ414 دارالکتب العلمیۃ)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں ’’یہ عُلُوّ جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کو دیا جاتا ہے وہ انکسار کے رنگ میں ہوتا ہے اور شیطان کا عُلوّ استکبار سے ملا ہوا تھا۔‘‘ یعنی اس میں تکبر ہوتا ہے۔ ’’دیکھو! ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کو فتح کیا تو آپ نے اسی طرح اپنا سر جھکایا اور سجدہ کیا جس طرح پر ان مصائب اور مشکلات کے دنوں میں جھکاتے اور سجدے کرتے تھے جب اسی مکہ میں آپ کی ہر طرح سے مخالفت کی جاتی اور دکھ دیا جاتا تھا۔ جب آپ نے دیکھا کہ میں کس حالت میں یہاں سے گیا تھا اور کس حالت میں اب آیا ہوں تو آپ کا دل خدا کے شکر سے بھر گیا اور آپ نے سجدہ کیا۔‘‘

(ملفوظات جلد 3 حاشیہ صفحہ 260، ایڈیشن 2022ء)

ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ غزوۂ بدر کے دن ہم میں سے ہر تین تین آدمیوں کے لیے ایک اونٹ مقرر تھا۔ حضرت ابو لُبَابہؓ اور حضرت علیؓ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باری پیدل چلنے کی آئی تو یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پیدل چلتے ہیں آپؐ سوار رہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم دونوں پیدل چلنے میں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور نہ ہی مَیں تم دونوں سے اجر کے معاملے میں مستغنی ہوں۔

(مسند امام احمد بن حنبل جلد2 صفحہ116-117 مسند عبد اللہ بن مسعود روایت 4009 عالم الکتب بیروت 1998ء)

ایک روایت میں ہے ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپؐ نے ایک بکری بطور کھانے کے تیار کرنے کا حکم دیا۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اس کا ذبح کرنا میرے ذمہ ہے۔ دوسرے نے کہا یا رسول اللہؐ !اس کی کھال اتارنا میرے ذمہ ہے ۔ایک اَور نے کہا یا رسول اللہؐ! اس کا پکانا میرے ذمہ ہے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اور ایندھن جمع کرنا میرے ذمہ ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! ہم آپؐ کے لیے کافی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَیں جانتا ہوں کہ تم کافی ہو لیکن مَیں نہیں چاہتا کہ تم میں ممتاز رہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو ناپسند کرتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں میں نمایاں نظر آئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ایندھن جمع کرنے لگے۔

(تاریخ الخمیس جلد 1 صفحہ387-388دارالکتب العلمیۃ 2009ء)

کوئی ایسا موقع نہیں آتا تھا جہاں آپؐ نے اپنی عاجزی کا نمایاں اظہار نہ فرمایا ہو۔

ایک روایت میں ہے۔ اسود نے بیان کیا کہ مَیں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ آپؐ اپنے گھر والوں کے کام کاج میں رہتے تھے ۔یعنی ان کے کاموں میں مدد کیا کرتے تھے ۔جب نماز کا وقت ہوتا تو آپؐ نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔

(صحیح البخاری کتاب الاذان باب من كان في حاجة أهلہ …،مترجم جلد 02 صفحہ 73 حدیث 676شائع کردہ نظارت اشاعت)

پس

یہ ان مَردوں کے لیے بھی سبق ہے جو گھر کے کام کاج سے بالکل انکاری ہو جاتے ہیں اور بیویوں کو بھی شکایت ہوتی ہے اور شکایت کا موقع ملتا ہے۔

اسی طرح ہِشَام بِن عُرْوَہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کوئی کام کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتے کی مرمّت کر لیتے تھے۔اپنا کپڑا سی لیتے تھے اور اپنے گھر میں اسی طرح کام کرتے تھے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھر میں کام کرتا ہے۔

(مسند امام احمد بن حنبل جلد 8 صفحہ 313 مسند عائشہ حدیث :25855 عالم الکتب 1998ء)

اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ

صحابہ ؓبھی آپؐ کے اسوہ کو دیکھ کے اپنے گھر کے کاموں میں اپنی بیویوں کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ لیکن یہ بھی واضح ہو کہ گھر کے کام کی اصل ذمہ داری بیویوں کی ہے اور یہ بات سن کے یہ نہ سمجھ جائیں کہ وہ اپنے فرض سے فارغ ہو گئیں لیکن مَردوں کی ذمہ داری ہے کہ ان کا ہاتھ بٹائیں۔

اسی طرح ایک اَور روایت میں آتا ہے۔ قاسم سے روایت ہے۔ حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کام کرتے تھے؟ تو انہوں نے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں میں سے ایک انسان تھے ۔اپنے کپڑے خود جھاڑتے تھے ۔اپنی بکری خود دوہتے تھے اور اپنا کام خود سر انجام دیتے تھے۔

(مسند امام احمد بن حنبل جلد8 صفحہ507 مسند عائشۃ روایت 26724 عالم الکتب بیروت 1998ء)

ایک روایت حضرت ابو بُرْدَہ ؓسے ہے۔ پہلے بھی اس کی ملتی جلتی روایتیں بیان ہوئی ہیں۔ اس میں اس کے علاوہ یہ ذکر ملتا ہے کہ آپؐ اون کا لباس پہنتے تھے ۔مویشیوں کو باندھ لیتے تھے اور مہمان کی خبرگیری کے لیے خود تشریف لے جاتے تھے۔

(دلائل النبوۃ للبیہقی جلد 01 صفحہ 329 دارالکتب العلمیۃ 1988ء)

مہمان نوازی بھی خود کرتے تھے اور ہر قسم کالباس چاہے موٹا کھردرا بھی ہو آپؐ پہن لیا کرتے تھے کوئی کسی قسم کا وہ نہیں تھا سادہ لباس تھا آپؐ کا۔

حضرت عامر بن ربیعہؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے کہا کہ مَیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد کی طرف نکلا۔ اس دوران آپؐ کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا تو میں آپؐ کا جوتا لے کر اسے ٹھیک کرنے لگا ۔آپؐ نے میرے ہاتھ سے وہ جوتا واپس لے لیا اور فرمایا :

یہ ترجیحی سلوک ہے اور مجھے ترجیحی سلوک پسند نہیں۔

(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد للہیثمی جلد8 صفحہ422کتاب علاماۃ النبوۃ باب فی تواضعہﷺ روایت14232 دار الکتب العلمیۃ بیروت 2001ء)

حَسَنَہ بن خالد اور سُوَاءَ بنِ خالدرضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی دیوار یا اپنے کسی مکان کی مرمت میں مصروف تھے۔ (سبل الھدیٰ و الرشاد جلد 7 صفحہ 36 دارالکتب العلمیۃ بیروت) ہاتھ سے اپنے گھر کا کام کر رہے تھے۔

اسی طرح صحیح بخاری میں مسجد نبوی کی تعمیر کی تفصیل ہے کہ جب آپؐ کی اونٹنی وہاں جا کے ٹھہر گئی جہاں دو لڑکوں کی زمین تھی توآپؐ نے فرمایا یہ جگہ ہمارے لیے مناسب ہے ۔اور پھر آپؐ نے ان لڑکوں کو باوجود ان کے انکار کرنے کے اس زمین کی قیمت بھی ادا کی ۔اور پھر جب مسجد بنانے کا معاملہ شروع ہوا تو لوگوں کے ساتھ آپؐ مل گئے اور اینٹیں ڈھونے لگے۔ (صحیح البخاری کتاب مناقب الانصار باب هجرة النبي ﷺ وأصحابہ الى المدينہ مترجم جلد 07 صفحہ 401 روایت 3906 شائع کردہ نظارت اشاعت) جو کام تھا مسجد کی تعمیر کا اس میں بھی آپؐ نے حصہ لیا۔

اسی طرح حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا :مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خندق کے روز دیکھا۔ آپؐ مٹی ڈھو رہے تھے۔ حالت یہ تھی کہ مٹی نے آپؐ کے سینے کے بالوں کو چھپا رکھا تھا۔

(صحیح البخاری کتاب الجہاد والسیر باب الرجز فی الحرب مترجم جلد 05 صفحہ 378-379 روایت 3034شائع کردہ نظارت اشاعت)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عبداللہ بن ابی طلحہ کو لے کر گیا کہ آپؐ اس کو گھٹی دیں ۔یعنی بچہ پیدا ہوا تھا تو شروع میں شہد کی گھٹی دینے کے لیے، چٹانے کے لیے لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو گھٹی دی۔ میں نے آپؐ کو پایا کہ آپؐ اس وقت کام کر رہے تھے۔ آپؐ کے ہاتھ میں داغ لگانے والا وہ آلہ تھا جس سے جانوروں کے داغ لگاتے ہیں تاکہ نمبر لگ جائیں اور آپ صدقے کے اونٹوں کو داغ لگا رہے تھے۔

(صحیح البخاری کتاب الزکاۃ باب وسم الامام ابل الصدقۃ … مترجم جلد 03 صفحہ 154 روایت 1502شائع کردہ نظارت اشاعت)

تو یہ تھا کہ جہاں موقع ملے کام کرنےوالا ہو تو وہ کر سکیں بجائے اس کے کہ آپؐ مددگاروں کو بلائیں۔

ایک روایت میں آتا ہے حضرت اَبُو اُمَامَہ البَاھِلیؓ بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپؐ عصا کاسہارا لیے ہوئے تھے۔ ہم نے جب آپؐ کو دیکھا۔ ہم کھڑےہوگئے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا :ایسا نہ کرو جیسے اہلِ فارس اپنے بڑوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ہم نے عرض کیا یارسول اللہؐ  !آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا کریں۔ آپؐ نے فرمایا :

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا وَارْضَ عَنَّا وَتَقَبَّلْ مِنَّا

وَاَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَنَجِّنَا مِنَ النَّارِ وَاَصْلِحْ لَنَا شَاْنَنَا کُلَّہُ۔

اے اللہ !ہمیں بخش دے ۔ہم پر رحم فرما اور ہم سے راضی ہو جا اور ہم سے قبول فرما اور ہمیں جنت میں داخل فرما اور ہمیں آگ سے بچا اور ہمارے سارے کام ٹھیک کر دے۔

راوی نے کہا تو گویا ہم نے یہ پسند کیا کہ آپؐ ہمیں اَور زیادہ دعا دیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

کیا میں نے تمہارے لیے تمام باتیں جمع نہیں کر دیں ۔

یعنی بڑی جامع دعا ہے ۔اس کو کیا کرو۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الدعاء باب دعاءرسول اللہﷺ روایت نمبر 3836)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

’’ آپؐ کے انکسار کی یہ حالت تھی کہ آپؐ اپنے آنے پر لوگوں کو کھڑے ہونے سے منع فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے یہ تو ایرانیوں کا رواج ہے میں بادشاہ نہیں بلکہ خداتعالیٰ نے مجھے نبی بنایا ہے۔ ‘‘

(تفسیر کبیر جلد 15 صفحہ 157، ایڈیشن 2023ء)

پس

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاجزی کےوہ معیار تھے جن کی مثال کہیں اَور نہیں ملتی۔ اور یہی وہ اسوہ ہے جس پہ چلنے کی کوشش ہمیں کرنی چاہیے تاکہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے بنیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام آپؐ کے اسوہ کی روشنی میں ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

’’میرے نزدیک پاک ہونے کا یہ عمدہ طریق ہے اور ممکن نہیں کہ اس سے بہتر کوئی اَور طریق مل سکے کہ انسان کسی قسم کا تکبر اور فخر نہ کرے۔ نہ علمی، نہ خاندانی ،نہ مالی جب خدا تعالیٰ کسی کو آنکھ عطا کرتا ہے تو وہ دیکھ لیتا ہے کہ ہر ایک روشنی جو ان ظلمتوں سے نجات دے سکتی ہے وہ آسمان سے ہی آتی ہے اور انسان ہر وقت آسمانی روشنی کا محتاج ہے۔ آنکھ بھی دیکھ نہیں سکتی جب تک سورج کی روشنی جو آسمان سے آتی ہے نہ آئے۔ اسی طرح باطنی روشنی جو ہر ایک قسم کی ظلمت کو دور کرتی ہے اور اس کی بجائے تقویٰ اور طہارت کا نور پیدا کرتی ہے آسمان ہی سے آتی ہے

مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا تقویٰ، ایمان،عبادت، طہارت سب کچھ آسمان سے آتا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے وہ چاہے تو اس کو قائم رکھے اور چاہے تو دور کر دے۔

پس

سچی معرفت اسی کا نام ہے کہ انسان اپنے نفس کو مسلوب اور لاشے محض سمجھے اور آستانہ الوہیت پر گر کر انکسار اور عجز کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کو طلب کرے اور اس نور معرفت کو مانگے جو جذبات نفس کو جلا دیتا ہے اور اندر ایک روشنی اور نیکیوں کے لیے قوّت اور حرارت پیدا کرتا ہے۔

پھر اگر اس کے فضل سے اس کو حصہ مل جاوے اور کسی وقت کسی قسم کا بسط اور شرح صدر حاصل ہو جاوے تو اس پر تکبر اور ناز نہ کرے بلکہ اس کی فروتنی اور انکسار میں اَور بھی ترقی ہو کیونکہ جس قدر وہ اپنے آپ کو لا شے سمجھے گا اسی قدر کیفیات اور انوار خدا تعالیٰ سے اتریں گے جو اس کو روشنی اور قوّت پہنچائیں گے۔ اگر انسان یہ عقیدہ رکھے گا تو امید ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی اخلاقی حالت عمدہ ہو جائے گی۔ دنیا میں اپنے آپ کو کچھ سمجھنا بھی تکبر ہے اور یہی حالت بنا دیتا ہے۔ پھر انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ دوسرے پر لعنت کرتا ہے اور اسے حقیر سمجھتا ہے ۔‘‘

(ملفوظات جلد 7 صفحہ 59-60ایڈیشن 2022ء)

پھر آپؑ نے فرمایا:

’’ انسان جو ایک عاجز مخلوق ہے اپنے تئیں شامت اعمال سے بڑا سمجھنے لگ جاتا ہے ۔کبر اور رعونت اس میں آ جاتی ہے۔ اللہ کی راہ میں جب تک انسان اپنے آپ کو سب سے چھوٹا نہ سمجھے چھٹکارا نہیں پا سکتا۔‘‘ کبیر (بھگت کبیر) ہندوستان میں ایک صوفی شاعر تھے کہتے ہیں ’’کبیر نے سچ کہا ہے کہ

بھلا ہوا ہم نیچ بھلے ہر کو کیا سلام

جے ہوتے گھر اونچ کے ملتا کہاں بھگوان

یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم چھوٹے گھر میں پیدا ہوئے۔ اگر عالی خاندان میں پیدا ہوتے تو خدا نہ ملتا۔ جب لوگ اپنی اعلیٰ ذات پر فخر کرتے تو کبیر اپنی ذات’’ پہ جو کپڑے بننے والے تھے ‘‘بافندہ پر نظر کر کے شکر کرتا ۔ پس انسان کو چاہیے کہ ہر دم اپنے آپ کو دیکھے کہ میں کیسا ہیچ ہوں۔ میری کیا ہستی ہے۔ ہر ایک انسان خواہ کتنا ہی عالی نسب ہو مگر جب وہ اپنے آپ کو دیکھے گا بہر نہج وہ کسی نہ کسی پہلو میں بشرطیکہ آنکھیں رکھتا ہو تمام کائنات سے اپنے آپ کو ضرور بالضرور ناقابل و ہیچ جان لے گا۔

انسان جب تک ایک غریب و بے کس بڑھیا کے ساتھ وہ اخلاق نہ برتے جو ایک اعلیٰ نسب عالی جاہ انسان کے ساتھ برتتا ہے یا برتنے چاہئیں اور ہر ایک طرح کے غرور اور رَعونت اور کبر سے اپنے آپ کو نہ بچاوے وہ ہرگز ہرگز خداتعالیٰ کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ ‘‘

(ملفوظات جلد 5 صفحہ 138ایڈیشن 2022ء)

خدا تعالیٰ کو پانا ہے تو عاجزی ضروری شرط ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عاجزی کی حقیقت کو سمجھنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو ہمیشہ سامنے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 08؍مئی 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button