خلاصہ خطبہ جمعہ

آنحضرتﷺ کی غلامی میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی عاجزی اور انکساری کے واقعات نیز اپنی جماعت کو عجز و انکسار اختیار کرنے کی نصیحت۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۵؍جون ۲۰۲۶ء

٭… حضورؑ ایسی سادگی سے مہمانوں کو ملا کرتے تھے کہ مَیں نے بعض اوقات حضور ؑکو ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ حضورؑ کے ہاتھ میں قلم ہوتی اور بعض اوقات ہم سے ننگے پاؤں ملنے تشریف لے آتے یعنی جس حالت میں اند ر تشریف فرما ہیں ویسے ہی آ جاتے

٭… مَیں نے اندر جھانکا تو دیکھا کہ ایک آدمی جلدی جلدی چارپائی بُن رہا ہے اور حضرت صاحبؑ اس کے سر پر دیا لیے بیٹھے ہیں۔ مجھے حضور کی حالت دیکھ کر بہت شرم آئی ۔مَیں نے عرض کی کہ حضور! دیا مجھے پکڑا دیں۔ حضورؑ نے فرمایا کہ اب تو ایک ہی پھیرا باقی ہے۔ حضورؑ کے یہ اخلاق دیکھ کر مجھ پر اتنا اثر ہوا کہ میرے آنسو نکل آئے

٭… حضورؑ جب کسی سے ملتے تو مسکراتے ہوئے ملتے کہ اس کی ساری کوفت دور ہو جاتی ۔آپؑ کی مسرّت دیکھ کر ہر احمدی محسوس کرتا تھا کہ آپ کی مجلس میں جا کر دل کے سارے غم دھل جاتے ہیں۔ آپ کی عادت تھی کہ چھوٹے سے چھوٹے آدمی کی بات بھی توجہ سے سنتے تھے اور بڑی محبت سے جواب دیتے ۔ہر آدمی اپنی جگہ سمجھتا تھا کہ حضرت صاحب کو اس سے زیادہ محبت ہے

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۵؍جون ۲۰۲۶ء بمطابق ۵؍احسان ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۵؍جون ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔

تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

گذشتہ خطبے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عجز و انکسار کے واقعات یا نصائح بیان کیے تھے ۔آج بھی اسی حوالے سے کچھ واقعات بیان کروں گا۔

حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے اخلاق حسنہ کا یہ حال تھا کہ قادیان کے جو لوگ ہر وقت آپؑ کے خلاف دشمنی کرنے میں مشغول رہتے تھے اورکوئی دقیقہ فرو گذاشت کا نہ چھوڑتے۔ مگر جب بھی انہو ں نے آپؑ کے آستانے پردستک دی،آپؑ ننگے پاؤں تشریف لاتے اور سلام کا جواب دے کر پوچھتے کہ آپ اچھے تو ہیں اور اس کے گھر والوں کا پوچھتے اور فرماتے کیسے آئے ہیں؟ پھر وہ جو بھی ضرورت پیش کرتا تو آپ پوچھتے کتنی ضرورت ہے اوران کی ضرورت سے زیادہ لا کر دیتے ۔

حضرت مولوی شیر علی صاحب ؓنے ایک مرتبہ بتایا کہ میراں بخش سودائی ایک مخبوط الحواس شخص تھا اس نے ایک دفعہ حضورؑ کو بڑی مسجد سے آتے ہوئے بڑی بد تمیزی سے بلایا اور پیسے مانگے۔آپ نے اپنے رومال سے چاریا آٹھ آنے نکال کر اسے دے دیے وہ خوش ہو کر چلا گیا۔

ماسٹر نذیر حسین صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب کبھی بھی اپنے والد کے ہمراہ قادیان حضورؑ کے پاس میں آیا اور حضور ؑکو اطلاع کرائی گئی کہ حکیم مرہم عیسیٰ صاحب آئے ہیں تو مَیں نے ہمیشہ یہی دیکھا کہ اطلاع ہوتے ہی آپ فوراً تشریف لے آتے اور خود کچھ نہ کچھ کھانے کے لیے پیش کرتے ۔

حضورؑ ایسی سادگی سے مہمانوں کو ملا کرتے تھے کہ مَیں نے بعض اوقات حضور ؑکو ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ حضورؑ کے ہاتھ میں قلم ہوتی اور بعض اوقات ہم سے ننگے پاؤں ملنے تشریف لے آتے یعنی جس حالت میں اند ر تشریف فرما ہیں ویسے ہی آ جاتے۔

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓکہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ مَیں لاہور سے قادیان آیا ہوا تھا۔ حضرت صاحبؑ نے مجھے مسجد مبارک میں بٹھایا اور فرمایابیٹھو میں کھانا لے کر آتا ہوں ۔ پھر چند منٹ بعد خود ایک بڑی پلیٹ میں کھانا لے کرتشریف لائے۔ پھر فرمایا آپ کھائیں میں پانی لاتا ہوں۔مفتی صاحبؓ  کہتے ہیں بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلویؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور ؑکبھی کھلے کواڑ نہ بیٹھتے تھے۔یعنی دروازے کو بند کر کے بیٹھتے۔ کہتے ہیں مَیں حضورؑ کے پاس بیٹھا تھا کہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب کہتے ابا کنڈا کھول ۔آپؑ فوراً اٹھ کر کھول دیتے۔ ایک دفعہ میں حاضر خدمت ہوا حضورؑ بوریے پر بیٹھے تھے۔مجھے دیکھ کر آپؑ نے پلنگ اٹھایا اور اندر لے گئے۔ مَیں نے کہا میں اٹھا لیتا ہوں ۔آپؑ فرمانے لگے بھاری زیادہ ہے ۔آپ سے نہ اٹھے گا۔اندر پلنگ بچھا کر کہا آپ اس پر بیٹھ جائیں مجھے نیچے آرام ہے۔ مَیں نیچے بیٹھوں گا۔مجھے پیاس لگی تو کہا میں اندر سے گلاس لاتا ہوں۔ پھر اندر سے شربت کی دو بوتلیں لے آئے جو کسی نے منی پور سے بھیجی تھیں۔ فرمایا :ان بوتلوں کو رکھے ہوئے بہت دن ہو گئے کیونکہ ہم نے نیت کی تھی کہ پہلے کسی دوست کو بلا کرپلائیں گے پھر خود پیئیں گے۔ مجھے ایک گلاس بنا کر دیا ۔میں نے کہا پہلے حضور اس میں سے تھوڑا سا پی لیں ۔آپؑ نے ایک گھونٹ پیا۔ شربت بہت لذیذتھا ۔ فرمایاایک بوتل آپ لے لیں اور دوسری بوتل باہر مہمانوں کو پلا دیں۔

حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ مَیں وضو کے لیے پانی ڈھونڈ رہا تھا کہ اس مقصد کے لیے اس دروازے کے اندر گیا جواندرونی مکانات تک جاتا تھا۔ اتفاقاً اندر سے آپؑ تشریف لائے مجھے کھڑا دیکھ کر فرمایا کہ آپ کو پانی چاہیے ؟مَیں نے عرض کیا :ہاں۔حضورؑ نے لوٹا میرے ہاتھ سے لے لیا اور فرمایا :مَیں لا دیتا ہوں اور خود اندر سے پانی ڈال کر لے آئے۔

ایک دفعہ لاہور سے معززین جن میں ڈاکٹر علامہ اقبال اور سر شہاب الدین وغیرہ بھی شامل تھے حضرت اقدسؑ سے ملاقات کے لیے آئے ۔اس ملاقات کے بارے میں بابو غلام محمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ رات کو کھانا کھانے کے بعد جب چارپائیاں تقسیم ہوئیں تو مَیں نے مضبوط اور بڑی چارپائی لے لی مگر چودھری شہاب الدین صاحب نے میری چارپائی پر قبضہ کر لیا۔ حضرت صاحبؑ تشریف لائے ۔ہر ایک سے دریا فت فرمایا کہ آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں ۔ہر شخص نے کہا کہ حضرت مجھے کوئی تکلیف نہیں۔ جب میرے پاس پہنچے تو مَیں پریشان کھڑا تھا کیونکہ میری چارپائی پر شہاب الدین صاحب قبضہ کر چکے تھے۔ مجھے دیکھ کر فرمایا کہ ٹھہرو مَیں آپ کے لیے اندر سے چارپائی لاتا ہوں۔ کافی دیر ہو گئی۔ کوئی نہ آیا تو

مَیں نے اندر جھانکا تو دیکھا کہ ایک آدمی جلدی جلدی چارپائی بُن رہا ہے اور حضرت صاحبؑ اس کے سر پر دیا لیے بیٹھے ہیں۔ حضور کی یہ حالت دیکھ کر مجھے بہت شرم آئی ۔مَیں نے عرض کی کہ حضور! دیا مجھے پکڑا دیں۔ حضورؑ نے فرمایا کہ اب تو ایک ہی پھیرا باقی ہے۔ حضورؑ کے یہ اخلاق دیکھ کر مجھ پر اتنا اثر ہوا کہ میرے آنسو نکل آئے

حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ بیان کرتے ہیں کہ غالبا۱۸۹۶ًء کی بات ہے ۔جون کا مہینہ تھا اور اندر مکان نیا نیا بنا تھا ۔دوپہر کے وقت وہاں چارپائی بچھی تھی ۔مَیں لیٹ گیا ۔ حضرت صاحبؑ  ٹہل رہے تھے۔

مَیں جاگا تو دیکھا حضورؑ چارپائی کے نیچے لیٹے ہیں۔ مَیں ادب سے گھبرا کر اُٹھ بیٹھا۔ آپؑ نے فرمایا کیوں اُٹھے ہیں۔عرض کیا کہ آپ نیچے لیٹے ہوئے ہیں ،میں اوپر کیسے سوئے رہوں؟مسکرا کر فرمایا :مَیں تو آپ کا پہرا دے رہا ہوں۔ لڑکے شورکرتے ہیں ۔ انہیں روکتا تھا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آئے۔

حضرت منشی امام دین صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ۱۸۹۴ء میں مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دست مبارک پہ بیعت کی۔ شام کی نماز میں منشی عبدالعزیز صاحب میرے ساتھ تھے ۔ نماز کے بعد منشی صاحب نے میری طرف اشارہ کر کے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور! ان کی بیعت لے لیں۔ حضورؑ نے فرمایا:اندر آجائیں۔

مَیں اندر بیت الفکر میں اکیلا گیا تو حضورؑ نے چارپائی کے سرہانے کی طرف مجھے بٹھایا اور پائنتی کی طرف خود بیٹھ گئے۔

حضورؑ فرماتے ہیں: میری تو یہ حالت ہے کہ اگر کسی کو دردہوتا ہو اور میں نماز میں مصروف ہوں میرے کان میں اس کی آواز پہنچ جاوے تو میں چاہتا ہوں کہ نماز توڑ کر بھی اگر اس کو فائدہ پہنچا سکتا ہوں تو پہنچاؤں اور جہاں تک ممکن ہے اس سے ہمدردی کروں۔ یہ اخلاق کے خلاف ہے کہ کسی بھائی کی مصیبت اور تکلیف میں اس کا ساتھ نہ دیا جاوے۔ اگر تم کچھ بھی اس کے لیے نہیں کر سکتے تو کم از کم دعا ہی کرو۔ اپنے تو درکنار مَیں تو کہتا ہوں کہ غیروں اور ہندوؤں کے ساتھ بھی ایسے اخلاق کا نمونہ دکھاؤ اور ان سے ہمدردی کرو۔ لاابالی مزاج ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ فرماتے ہیں :

حضورؑ جب کسی سے ملتے تو مسکراتے ہوئے ملتے کہ اس کی ساری کوفت دور ہو جاتی ۔آپؑ کی مسرّت دیکھ کر ہر احمدی محسوس کرتا تھا کہ آپ کی مجلس میں جا کر دل کے سارے غم دھل جاتے ہیں۔ آپ کی عادت تھی کہ چھوٹے سے چھوٹے آدمی کی بات بھی توجہ سے سنتے تھے اور بڑی محبت سے جواب دیتے ۔ہر آدمی اپنی جگہ سمجھتا تھا کہ حضرت صاحب کو اس سے زیادہ محبت ہے۔

مجلس میں بعض اوقات آداب مجلس سے لاتعلق لوگ بھی دیر تک اپنی باتیں سناتے رہتے اور حضرت صاحبؑ خاموشی سے سنتے رہتے تھے۔کبھی کسی کو نہ کہتے کہ بس کرو۔ ایک شخص آپؑ کی خدمت میں آیا۔ اس نے سر نیچے جھکا کر آپ کے پاؤں پر رکھنا چاہا۔ حضرت صاحبؑ نے ہاتھ کے ساتھ اس کے سر کو ہٹایا اور فرمایا یہ طریق جائز نہیں۔ السلام علیکم کہنا اور مصافحہ کرنا چاہیے۔

ایک شخص جو فقیروں اور سجادہ نشینوں کا شیفتہ تھا ہماری مسجد میں آیا۔ لوگوں کو آزادی سے گفتگو کرتے دیکھ کر حیران ہوگیا۔ آپؑ سے کہا کہ آپ کی مسجد میں ادب نہیں، لوگ بے محابا بات چیت آپ سے کرتے ہیں۔ آپؑ نے فرمایا:

میرا مسلک نہیں کہ میں ایسا تند خُو اور بھیانک بن کر بیٹھوں کہ لوگ مجھ سے ایسے ڈریں جیسے درندے سے ڈرتے ہیں۔ اور مَیں بُت بننے سے سخت نفرت رکھتا ہوں۔ مَیں توبُت پرستی کے ردّ کرنے کو آیا ہوں نہ یہ کہ مَیں خود بُت بنوں اور لوگ میری پوجا کریں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ میں اپنے نفس کو دوسروں پر ذرّہ بھی ترجیح نہیں دیتا۔ میرے نزدیک متکبر سے زیادہ کوئی بُت پرست اور خبیث نہیں۔ متکبر کسی خدا کی پرستش نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی پرستش کرتا ہے۔

حضرت ملک مولا بخش صاحب کہتے ہیں کہ ایک صاحب جان محمد ہمارے گھر کے سامنے امرتسر میں رہتے تھے۔ وہ حضرت اقدس کی کتاب سرمہ چشم آریہ کے عملا ًحافظ تھے اور باوجود اَن پڑھ ہونے کے آریوں سے بحث کیا کرتے تھے ۔ ان کو مراق کا مرض ہو گیا۔وہ جس کو ملتے اپنے مرض کے طویل حالات سناتے۔اکثر لوگ تنگ آجاتے اور ان کی باتیں سننے سے انہوں نے گریز کرنا شروع کیا۔کسی نے کہا کہ تم قادیان جاؤ اور حضرت مولوی صاحب سے علاج کرواؤ۔ انہوں نے کہا کہ وہ بڑے آدمی ہیں میری داستان کب سنیں گے۔ اس شخص نے کہا کہ نہیں وہ بڑے با اخلاق انسان ہیں ضرور تمہاری باتیں سنیں گے۔ چنانچہ وہ صاحب قادیان آئے ۔ جب وہ یکے سے جا کر اترے تو اسی وقت حضورؑ خدام کے ساتھ سیر سے واپس تشریف لا رہے تھے۔ اس نے آپؑ کو دیکھا تو فوراً مصافحہ کیا اور اپنی بیماری کی طویل کہانی سنانی شروع کر دی۔سب لوگ تنگ آ گئے مگر حضورؑ آرام سے کھڑے رہے۔آخر کار وہ شخص خود تھک گیا تو اس پر حضور ؑنے فرمایا بہت اچھا اب آپ مہمان خانے جائیں اور کھائیں پیئیں۔ پھر مولوی صاحب کو مل کر دوائی لے لیں ۔ جب وہ مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی داستا ن شروع کی تو حضرت مولوی صاحب نے جھٹ سے کہا مجھےپتا ہے تمہیں کیا مرض ہے اور نسخہ لکھ دیا۔ وہ کہتے ہیں

سنا تھا کہ مولوی صاحب بڑے بااخلاق ہیں مگر حضرت مرزا صاحب کے اخلاق سے ان کو کیا نسبت ۔ پھر انہوں نے بیعت کر لی۔

حضرت شیخ عبدالقادر صاحبؓ  تحریر کرتے ہیں کہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ

والد صاحب نے اپنی عمر ایک مغل کے طور پر نہیں گزاری بلکہ فقیر کے طور پر گزاری ہے۔

حضرت مسیح موعود ؑفرماتے ہیں :اہل تقویٰ کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں۔ یہ تقویٰ کی ایک شاخ ہے جس کے ذریعہ سے ہمیں ناجائز غضب کا مقابلہ کرنا ہے۔ بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لیے آخرکڑی منزل غضب سے بچناہی ہے۔ فرمایا کہ عُجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے۔اور ایسا ہی کبھی خود غضب، عُجب وپندار کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ غضب اُس وقت ہوگا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔ مَیں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں، یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں۔ خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔ یہ ایک قسم کی تحقیر ہے۔ جس کے اندرحقارت ہے ڈر ہے کہ یہ حقارت بیج کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جاوے۔ بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں۔ لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے۔ اس کی دلجوئی کرے۔ اس کی بات کی عزت کرے۔ کوئی چِڑ کی بات منہ پرنہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے۔ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ ؕ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِیۡمَانِۚ وَمَنۡ لَّمۡ یَتُبۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ۔(سورۃالحجرات: ۱۲)فرماتے ہیں کہ تم ایک د وسرے کا چِڑ کے نام نہ لو۔ یہ فعل فُسّاق وفُجّار کا ہے۔جو شخص کسی کو چِڑاتا ہے وہ نہ مر ے گا جب تک وہ خود اسی طرح مبتلانہ ہو گا۔

اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔ جب ایک ہی چشمہ سے کُل پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔ مکرّم ومعظّم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہو سکتا۔ خداتعالیٰ کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متّقی ہے۔اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی طور پر عاجزی اور انکساری پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی بیعت میں آکر ہم حقیقی اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوںاور اس کا حق ادا کرنے والے ہوں۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں:
1 جون 2026ء

0614

آنحضرتﷺ کی غلامی میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی عاجزی اور انکساری کے واقعات نیز اپنی جماعت کو عجز و انکسار اختیار کرنے کی نصیحت۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲۹؍مئی ۲۰۲۶ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button