آنحضورﷺ کے غلام صادق حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی غریب پروری اور جُود و سخاکا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲۶؍جون ۲۰۲۶ء
٭… جو تنخواہ مرزا صاحبؑ کوملتی تھی وہ محتاجوں میں تقسیم کر دیتے ،کپڑے بنوا دیتے یا نقد دے دیتے اور اپنے لیے صرف کھانے کا خرچ رکھ لیتے
٭…مَیں نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نے سائل کو تانبے کا سکہ یعنی پیسہ دیا۔ آپ ہمیشہ چاندی کا سکہ دیتے تھے یعنی زیادہ پیسے دیتے تھے
٭…حضرت صاحب بہت صدقہ دیا کرتے تھے اور عموماً ایسا خفیہ دیتے کہ ہمیں بھی پتہ نہیں لگتا تھا (روایت حضرت اماں جانؓ)
٭… مَیں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے آپ سے بہتر ،آپ سے زیادہ خوش اخلاق ،آپ سے زیادہ نیک ،آپ سے زیادہ بزرگانہ شفقت رکھنے والا ،آپ سے زیادہ اللہ اور رسول کی محبت میں غرق رہنے والا کوئی شخص نہیں دیکھا(روایت حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ)
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۶؍جون ۲۰۲۶ء بمطابق ۲۶؍احسان ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۲۶؍جون ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
اللہ تعالیٰ کے ارشاد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں ہمیں غریب پروی اور جود وسخا کے بہت سے واقعات ملتے ہیں۔
آپؑ کے دعویٰ کے اعتبار سے ہی نہیں بلکہ آپؑ کی زندگی کے ابتدائی حصے اور جوانی کی عمر میں بھی ہمیں آپؑ کے اعلیٰ اخلاق کے واقعات ملتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی جس ماں کی گود میں پرورش فرمائی ان کی زندگی کو بھی ہم دیکھتے ہیں تو وہاں بھی ہمیں غریب پروری اور جُودو سخا کے واقعات ملتے ہیں گویا آپؑ نے ایک ایسی ماں کی گودمیں پرورش پائی جنہوں نے آپؑ کو اعلیٰ اخلاق بھی سکھائے۔
حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ تحریر کرتے ہیں کہ حضرت مائی چراغ صاحبہ یعنی والدہ ماجدہ حضرت اقدس علیہ السلام کا خاندان موضع آئمہ ضلع ہوشیار پور میں ایک معزز اور صحیح مغل خاندان تھا۔آپ کی طبیعت میں جُودو سخا اور مہمان نوازی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔ایک عفت و عصمت کی دیوی خاتون میں جو صفات عالیہ ہونی چاہئیں وہ آپ میں موجود تھیں ۔وہ ہمیشہ بشاش اور متین حالت میں رہتی تھیں۔مہمان نوازی کے لیے ان کے دل میں نہایت جوش اور سینے میں وسعت تھی۔اگر ان کو اطلاع ملتی کہ چار آدمیوں کے لیے کھانا بھیجیں تو جب کھانا جاتا تو آٹھ سے بھی سے زائد لوگوں کے لیے ہوتا۔اپنے شہر کے غرباءاور ضعفاء کا خصوصیت سے خیال رکھتی تھی اور ان کے معمولات میں ایک یہ خاص بات تھی کہ غرباءکے مُردوں کو کفن ان کے ہاں سے ملتا۔
حضرت میاں اللہ یار صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ جس وقت حضورؑ سیالکوٹ میں ملازم تھے ایک دفعہ حضورؑ کے لیے حضور ؑکی والدہ نے دو پوشاکیں یعنی کپڑے اور کچھ پنیاں ایک شخص منگل حجام کے ساتھ روانہ کیں۔ جب مَیں یہ چیزیں لے کر سیالکوٹ گیا اور حضورؑ کے آگے رکھ دیں تو حضور علیہ السلام نے فرمایا:جو تیرے حصے میں آتا ہے تم لے لو اور جو میرا حصہ ہے مجھے دے دو۔مَیں نے کہا کہ حضور! یہ آپ کے لیے ہیں ۔والدہ نے آپ کے لیے بھیجی ہے ۔ فرمایا کہ تم ساری چیزیں اتنی دور اٹھا کر لائے ہو تو اپنا نصف حصہ ضرور لے لو۔ خیر مجھے ایک پوشاک اور کچھ پنیاں دے دیں اور فرمایا کہ اماں جان کو جا کر کہنا کہ مجھے یہاں سے جلد واپس منگوا لیں میرا دل یہاں نہیں لگتا۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحبؑ سیالکوٹ میں مقیم تھے وہ گھر میں کسی سے نہیں ملتے تھے اور
جو تنخواہ مرزا صاحبؑ کوملتی تھی وہ محتاجوں میں تقسیم کر دیتے ،کپڑے بنوا دیتے یا نقد دے دیتے اور اپنے لیے صرف کھانے کا خرچ رکھ لیتے ۔
ابتدائی زمانہ میں چونکہ آپؑ گوشہ نشین رہتے تھے اوریہی آپؑ کا رجحان تھا اس لیے اس قسم کے اخلاق کا ظہوربہت مخفی طور پر ہوتا تھا۔ لیکن جب خدا تعالیٰ نے آپؑ کو پبلک میں نکالااور لوگوں کی آمد کثرت سے ہونے لگی اورآپؑ کے حالات پبلک ہونے لگے تو ان واقعات کو دیکھنے والے اور بیان کرنے والے بھی پیدا ہو گئے ۔
آپؑ سائل کو کبھی رد نہ کرتے۔
حضرت مولانا عبد الکریم صاحبؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن ایسا ہوا کہ نماز عصر کے بعد آپؑ اٹھے اور مسجد کی کھڑکی میں اندر جانے کے لیے پاؤں رکھا ۔اتنے میں ایک سائل نے آہستہ سے کہا کہ مَیں سوالی ہوں۔ حضرت ؑکو اس وقت کوئی ضروری کام بھی تھا اور کچھ اس کی آواز دوسرے لوگوں کی آوازوں میں مل جل گئی تھی۔آپؑ اندر چلے گئے تو وہی دھیمی آواز نے آپؑ کے قلب پر نمایاں اثر کیا۔ آپؑ نے خلیفہ نور الدین صاحب ؓکو آواز دی کہ ایک سائل تھا اس کو دیکھو۔مگر وہ ڈھونڈنے سے نہ ملا۔شام کو نماز کے بعد آپؑ دوبارہ بیٹھے تو وہی سوالی پھر آگیا اور سوال کیا ۔حضرت ؑنے بہت جلدی سےجیب سے کچھ نکالا اور اس کے ہاتھ میں رکھ دیا اور اب ایسا معلوم ہوا کہ آپؑ ایسے خوش ہوئے ہیں کہ گویا کوئی بوجھ آپ کے اوپر سے اتر گیا۔
قادیان سے چھ میل کے فاصلے پر سٹھیالی ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔وہاں سے ایک جٹ فقیر آیا کرتا تھا ۔وہ مسجد مبارک کی چھت کے نیچے آکر کھڑکی کے پاس آواز لگایا کرتا تھا ۔ غلام احمد!ایک روپیہ لینا ہے۔اور وہاں بیٹھ جاتا تھا۔اگر حضرت صاحبؑ مصروف ہوں تو ہر تھوڑی دیر کے بعد آوازیں لگاتا۔ اکثر لوگوں کو ناگوار معلوم ہوتا ۔اگر حضرت اقدس ؑکو معلوم ہو جاتا کہ کسی نے اس سے کچھ کہا ہے تو آپؑ ناپسند فرماتے اور ہنستے ہوئے اس کو روپیہ دے دیا کرتے تھے ۔
۱۹۰۵ میں حضورؑ آخری مرتبہ دہلی تشریف لے گئے ۔ ایک روز آپؑ دہلی کے مزارات وغیرہ پر جانے کی ارادے سے نکلے۔ کسی نے بیان کیا کہ حضورؑ! اس طرف راستہ میں اس قدر گداگر ہوتے ہیں کہ گزرنا مشکل ہو جاتا ہے۔آپؑ نے فرمایا :آج ہم چلتے ہیں ۔ہم سب کو دیں گے۔اس روز اتنے سوالی تو نہ ملے جتنا سنا تھا تاہم بعض ملے اور ہر ایک نے اپنا سوال کا جواب عملی طور پر حاصل کیا۔
حضرت حافظ احمد اللہ صاحب ناگپوری ؓکہتے ہیں کہ ایک دن حضور ؑگول کمرے میں تشریف فرما تھے۔تقریباً ۲۰ یا ۲۵؍لوگ وہاں موجود تھے۔ حضور ؑکچھ تقریر فرما رہے تھے کہ ایک فقیر آیا اور زور سے سوال کیا۔ کہتے ہیں مجھے بڑا ناگوار معلوم ہوا کہ حضور ؑکی آوازمیں مخل ہوتا ہے۔ مَیں نے دروازہ بند کر دیا۔آپؑ نے تقریر روک کر مجھے کہا اندر دروازے پر دستک دو اور اس سائل کو اندر سےکچھ دلواؤ اورفرمایا کہ
ایسا کرنا اچھا نہیں کہ سائل کے سوال پر دروازہ بند کر دو۔
شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ لکھتے ہیں کہ میں ۱۸۹۲ء سے قادیان آتا تھااور۱۸۹۸ء سے مستقل طور پر حضرت کی خدمت میں آگیا۔میرے سامنے اکثر لوگوں نے سوال کیا۔
مَیں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نے سائل کو تانبے کا سکہ یعنی پیسہ دیا۔آپ ہمیشہ چاندی کا سکہ دیتے تھے یعنی زیادہ پیسے دیتے تھے۔
ایک فقیر نے ایک مرتبہ حضرت صاحبؑ سے خلوت میں آ کر سوال کیا کہ مَیں جنگل میں ایک کنواں لگوانا چاہتا ہوں۔وہاں مسافروں کو آرام ملے گا اور وہ پانی پیئیں گے ۔ حضرت صاحبؑ نے اس کو اس غرض کے لیے ۲۰۰؍روپیہ دے دیا کہ لوگوں کی خدمت کے لیے تم یہ کام کر رہے ہو مَیں پیسے دیتا ہوں ۔پس
خدمت خلق کا ناصر ف حکم دیا بلکہ عملی نمونہ بن کے دکھایا۔
حضرت عبد السمیع صاحب ؓبیان کرتے ہیں کہ میاں شریف احمد صاحبؓ کا عقیقہ تھا اور مہمان خانے میں سب مہمان کھانا کھا رہے تھے کہ ایک فقیر مہمان خانے کے اندر مانگنے کے لیے آگیا ہے۔لوگ اس کو نکالنے لگے تو
حضورؑ نے فقیر کو خود کھانا پکڑایا اور لوگوں کو فقیر کے جھڑکنے سے منع کیا کہ کھانا کھانے آیا ہے، جھڑکنا نہیں۔
حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ ایک مولوی قادیان آیا اور حضورؑ سے بحث کرنے لگا۔وفات حیات عیسیٰ علیہ السلام پر گفتگو تھی۔حضورؑ نے اسے جواب دینا شروع کیا تو وہ خاموش ہو گیا۔آپؑ نے جب اس کو سمجھایا اور پوچھا کہ سمجھ گئے ہو تو اس نے انتہائی دریدہ ذہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا میں سمجھ گیا ہوں کہ آپ دجال ہیں۔( نعوذ باللہ) کیونکہ دجال کی صفت ہے کہ وہ بحث میں دوسروں کو لاجواب کر دے گا۔آپؑ نے پھر کچھ نہیں فرمایا اور وہ چلا گیا ۔امرتسر جا کر اس نے ایک اشتہار چھپوایا اور یہ واقعہ بیان کر کے کہا کہ جب آپ اندر تشریف لے گئے تو میں نے ایک رقعہ بھیجا کہ میں ضرورت مند ہوں اور میرے ساتھ کچھ حسن سلوک فرمائیں۔ آپ نے فوراً ۱۵؍روپے بھیج دیے۔آپ بہت سخی ہیں۔
حضرت قاضی عبدالغفور صاحبؓ بیان کرتے ہیں ۱۹۰۶ء میں مَیں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ راولپنڈی سے قادیان گیا ۔حضور ؑمسجد کی سیڑھیوں سے اتر رہے تھے۔ایک شخص حکیم شاہ نواز نے حضور کو ایک تھیلی میں ۱۷؍پاونڈ بطور نذرانہ دیے ۔ حضورؑ نے تھیلی لے کر جیب میں ڈال لی ۔نیچے ایک سائل کھڑا تھا ۔اس نے سوال کر دیا ۔حضورؑ نے وہی تھیلی جیب سے نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھ دی ۔حکیم صاحب نے عرض کیا کہ حضور! اس میں ۱۷؍پاؤنڈ تھے۔ فرمایا یہ اس کے تھے اسی کو پہنچ گئے۔ یہ ا س زمانے میں بہت بڑی رقم تھی۔
حضرت ام المومنین ؓسے حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے روایت بیان کی ہے ۔ لکھتے ہیں کہ مجھ سے والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ
حضرت صاحب بہت صدقہ دیا کرتے تھے اور عموماً ایسا خفیہ دیتے کہ ہمیں بھی پتہ نہیں لگتا تھا۔
خاکسار نے دریافت کیا کہ کتنا صدقہ دیا کرتے تھے؟ تو والدہ صاحبہ نے فرمایا بہت دیا کرتے تھے اور
آخری ایام میں جتنا روپے آتا تھا اس کا دسواں حصہ صدقہ کے لیے الگ کر لیتے۔
اس سے یہ مراد نہیں کہ دسویں حصے سے زیادہ نہیں دیتے تھے بلکہ بعض اوقات اخراجات ضرورت سے زائد ہو جاتے اور صدقے میں کوتاہی نہ ہو جائے اس لیے
پہلے ہی کم از کم دسواں حصہ الگ کر لیتے تاکہ وہ روپیہ کسی اَور مَصرف میں نہ آجائے ۔صدقہ دینے میں احمدی غیر احمدی کا لحاظ نہیں رکھتے تھے۔ آپؑ کی عادت تھی سوالی کو کبھی ردّ نہ کرتے ۔ یہ بھی آپ کی عادت میں تھا کہ سوال کی باریک درباریک صورتوں کو بھی خوب سمجھتے تھے۔
ایک مرتبہ کسی شخص نےآپؑ کو ایک خوبصورت ٹوپی بھیجی ۔جب یہ پارسل حضرت کی خدمت میں پہنچا تو اتفاق سے ایک ہندو بھی تھا۔آپؑ نے پارسل کو کھولا تو ٹوپی نکلی ۔اس ہندو نے اس کی بہت تعریف کی ۔آپ نے وہ ٹوپی اسی کو دے دی۔
ایک احمدی سرفراز خان نے بیان کیا کہ ہم جلسے پر آئے اور حضور کو کسی نے گھوڑی دی تو میرے دل میں آیا کہ گھوڑی مجھ کو مل جائے اور میں اس کو لے جاؤں اور کہوں کہ مسیح کی گھوڑی میں لےآیا ہوں۔ جلسے کے بعد میں نے عرض کیا کہ حضور! مَیں واپس جانا چاہتا ہوں ۔ فرمایا ٹھہرو۔چند روز بعد میں نے پھر ایسا ہی کہا تو حضور نے فرمایا کہ چودھری صاحب! یہ گھوڑی لے جاؤ۔مَیں نے عرض کی کہ حضور! اس گھوڑی کی قیمت کیا ہے؟آپؑ نے فرمایا اس کو گھاس اور دانہ ڈالو اور اس پر چڑھو اس کی یہی قیمت ہے۔
مولوی عبدالرحمان صاحب شہید افغانستان سے آئے ۔حضور سے ملاقات کی۔ وہ بہت سی چیزیں لائے اور بہت اعلیٰ پوستین یعنی (ایک لمبا کوٹ /چوغا)حضور کی خدمت میں پیش کیں۔ حضرت صاحبؑ نے بڑی خوشی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ مولوی صاحب!آپ نے بہت تکلیف کی۔انہوں نے عرض کیا کہ یہ پوستین حضور کی خاطر لایا ہوں اور دل چاہتا ہے کہ حضور میرے سامنے پہنیں۔ حضرت صاحب کھڑے ہو گئے اور پہنی ۔شام کو خواجہ کمال الدین صاحب نے عرض کیا حضور!وہ پوستین مجھے دے دیں تو آپؑ نے وہ خواجہ صاحب کو دے دی۔
آپؑ اپنے دوستوں کی خوشیوں میں خود بھی حصہ ڈالتے ۔حضرت منشی عبد اللہ سنوری صاحب کے نام خطوط کے مطالعہ سے یہی ثابت ہوتا ہے ۔حضرت صاحب نے ایک مرتبہ منشی صاحب کے ولیمے میں اور دوسری مرتبہ فرزند کے عقیقہ میں اپنی طرف سے ایک رقم خرچ کی ۔
بعض لوگ حضور کو اس قسم کی تقریبوں کے لیے کچھ رقم بھجوا دیتے کہ وہاں دوستوں کی ایک دعوت کر دیں۔ جو رقم وہ بھیجتے وہ زیادہ نہ ہوتی تو حضرتؑ اپنی گرہ سے رقم شامل کر کے ان کی تمنا پوری کر دیتے اور کہتے یہ فلاں دوست کی طرف سے دعوت ہے۔
حضرت احمد نور کابلی صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۰۲ء میں جب مَیں قادیان آیا اسی وقت حضرت صاحبؑ نے میری بیعت لی۔مجھے مکان کے لیے زمین بھی دی اور میری شادی بھی کروائی۔میرے گزارہ کے لیے لنگر سے ایک بوری آٹا کی مقرر فرما دی کہ جب تک احمد نور زندہ ہے میرے حساب میں یہ آٹا اسے دے دیا کرو۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ ہمارے بڑے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ مرحوم نے میری تحریک پر حضرت مسیح موعود ؑکے اخلاق و اوصاف کے متعلق ایک مضمون لکھا تھا ۔اس مضمون میں فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نہایت رؤوف و رحیم تھے، سخی،مہمان نواز تھے، اشجع الناس تھے، چشم پوشی ،فیاضی ،خاکساری ،وفاداری، سادگی، عشق الٰہی، محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، ادب بزرگان، ایفائے عہد ،حُسن معاشرت ،وقار اولو العزمی کی مثال تھے۔
مَیں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے آپ سے بہتر ،آپ سے زیادہ خوش اخلاق ،آپ سے زیادہ نیک ،آپ سے زیادہ بزرگانہ شفقت رکھنے والا ،آپ سے زیادہ اللہ اور رسول کی محبت میں غرق رہنے والا کوئی شخص نہیں دیکھا۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کہتےہیں میری بھی یہی گواہی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان اخلاق کا حامل بنائے جن کے پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آپؑ کو بھیجا تھا۔
٭…٭…٭
