حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصار الله امریکہ کے ساؤتھ ویسٹ ریجن کی مجلس لاس اینجلس کے ایک وفد کی ملاقات

ہمارا کام تو نصیحت کرنا ہے۔ توجہ دلانا ہے۔ وہ کام آپ کرتے چلے جائیں۔ اپنی نسلوں میں یہ بات ڈال دیں تاکہ اگلی نسلوں میں بھی یہ سلسلہ چلتا رہے۔ تو یہ نسلوں میں قائم ہونے والی بات ہے۔
ہر شخص کا فرض ہے۔ انصار میں چلے گئے ہیں تو اپنے بچوں میں یہ باتیں ڈالیں۔ وہ اپنے بچوں میں ڈالیں تو یہ باتیں قائم رہیں گی ۔ نہیں تو پھر جس طرح دنیا دار ہیں، ویسے آپ بھی ہو جائیں گے

مورخہ ۱۳؍ جون ۲۰۲۶ء، بروزہفتہ، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصارالله امریکہ کے ساؤتھ ویسٹ ریجن کی ایک مجلس لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والے پچیس(۲۵) رکنی ایک وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ بابرکت ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے امریکہ سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

تمام شاملین مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔

مزید برآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک ناصر نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں راہنمائی کی درخواست کی کہ کوئی ایک ایسا کُلیہ بتا دیں کہ جس سے دین اور دنیا میں سچی کامیابی حاصل ہو جائے؟

اس پر حضورِ انور نے حقیقی کامیابی کی بنیاد اور نماز کے صحیح مفہوم کو واضح فرماتے ہوئے اس کی روحانی اور عملی اہمیت کی طرف توجہ دلائی کہ پانچ وقت کی نمازیں ٹھیک طرح پڑھنا۔ ٹکریں مار کے نہیں پڑھنا۔اسی میں دعا کریں، اسی سے مانگیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس لیے تو رکھا ہے تاکہ انسان کی جو زندگی ہے وہdisciplined ہو جائے اور پھر الله تعالیٰ ساتھ ساتھ دعائیں بھی قبول کرتا ہے۔

حضورِ انور نے عبادت کے حقیقی مفہوم کو عملی زندگی کے تمام دینی تقاضوں کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے اس کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ اور نمازیں صحیح طرح پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ باقی کام جو اللہ تعالیٰ نے فرمائے ہیں ان پربھی عمل کرنا۔ تبھی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔نہیں تو اللہ تعالیٰ دوسری جگہ قرآنِ شریف میں فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نمازیں ان کے منہ پر مارے گا، کیونکہ وہ باقی کام نہیں کر رہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا نہیں کر رہے۔ تو یہ سب کچھ کریں۔ ایک چھوٹا سا کلیہ تو کوئی نہیں ہے۔ محنت کرنی پڑتی ہے ۔

اسی ضمن میں جب سائل کے پیشے کے حوالے سے حضورِ انور نےدریافت فرمایا تو سائل نے عرض کیا کہ وہ ڈینٹسٹ ہیں۔جس پر حضورِ انور نے کسی بھی اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے آسان یا مختصر راستہ اختیار کرنے کی بجائے مسلسل محنت اور تدریجی تعلیم کی ضرورت کو اس انداز میں واضح فرمایا کہ آپ کوئی ایسا کلیہ بتائیں کہ پرائمری پاس کر کےdentistبن گئے؟ پڑھنا پڑا۔ اگر پاکستان سے کیا تو ایف ایس سی کیا۔ پھر ڈینٹل کالج میں گئے۔ پھر یہاں آ کے آپ نے کوالیفائی کیا اور یہاں ڈگری لی۔ محنت کرنی پڑی۔ تو پھر محنت کریں۔ کوئی کلیہ ایسا نہیں ہے کہ جو دو لفظوں میں آپ کو ولی اللہ بنا دے۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ پیارے حضور! میرا سوال ہے کہ آجکل مغربی معاشرے میں انفرادیت پسندی اور صرف اپنی ذات تک محدود رہنے کا رجحان بہت بڑھ رہا ہے۔ ایسے ماحول میں ایک احمدی مسلمان کے لیےاپنی اسلامی اور جماعتی شناخت یعنی دوسروں کے کام آنا اور اجتماعیت کو مقدّم اور برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ نیز اس ضمن میں راہنمائی کی عاجزانہ درخواست کی کہ ہم کس طرح توازن پیدا کریں کہ اپنی اسلامی اقدار بھی قائم رہے اور معاشرے سے بھی کٹ کے نہ رہیں؟

اس پر حضورِ انور نے خود غرضی کی حقیقت، اس کے اسباب اور اس کے معاشرتی و روحانی اثرات کو واضح فرماتے ہوئے توجہ دلائی کہ خودغرضی ہی ہوتی ہے کہ اپنے حق کو مقدّم سمجھنا اور دوسرے کو حق نہ دینا۔تو یہ خودغرضی کیا پاکستان میں نہیں ہے۔ انڈیا میں نہیں ہے اور third world ملکوں میں نہیں ہے؟ وہاں بھی ہے۔عمومی طور پر جب خدا تعالیٰ سے انسان دُور ہوتا ہےتو یہ خود غرضی پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس لیے دو حکم دیے ہیں کہ میرا بھی حق ادا کرو اور میری مخلوق کا بھی حق ادا کرو۔

حضورِ انور نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے باہمی تعلق، ایک احمدی مسلمان کی ذمہ داریوں اور دین کو دنیا پر مقدّم رکھنے کے عہد کے عملی تقاضوں کو واضح فرماتے ہوئے یاد دلایا کہ آجکل مَیں خطبات کا سلسلہ جو دے رہا ہوں، ان میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے عمل سے ان باتوں کی طرف ہی توجہ دلا رہا ہوں ۔ آپؑ نے بھی یہی فرمایا کہ میرے دنیا میں آنے کے دو مقصد ہیں۔ ایک یہ ہے کہ بندوں کوخدا کے قریب لاؤ تاکہ اس کی عبادت کا حق ادا کریں اور جو اللہ تعالیٰ کا عبادت کا صحیح طریقہ ہے وہ ادا ہو۔ دوسرے اس کی مخلوق کے حق ادا کریں۔ سو!اگر ایک احمدی، صحیح احمدی ہے، حقیقی مومن ہے توقرآنِ کریم کی تعلیم پر عمل کرنے والا ہے۔ دین کو دنیا پر مقدّم کرنے والا جو آپ عہد ہر دفعہ دُہراتے ہیں، تو ظاہر ہے وہ پھر اللہ کا بھی حق ادا کرے گا، بندوں کابھی حق ادا کرے گا اور پھر سسٹم کو نہیں دیکھے گا۔ خود غرضی نہیں ہوگی، وہ جو ضرورت مند ہیں، ان کو بھی دیکھے گا۔

اسی طرح حضورِ انور نے موجودہ معاشرتی تحقیق اور مشاہدات کے تناظر میں دیندار افراد، خصوصاً مسلمانوں میں خدمتِ خلق کے رجحان کی نشاندہی کرتے ہوئے اس وصف کو برقرار رکھنے کی تلقین فرمائی کہ ویسے اب تک جو دنیا کی ریسرچ ہے وہ یہاں بھی اور مغرب کے دوسرے ملکوں میں بھی یہی ہے کہ عام طور پر جو چیریٹی دینے والے لوگ ہیں یا دوسروں کا خیال رکھنے والے لوگ ہیں، وہ وہ ہیں جو زیادہ دیندار ہیں اور ان میں بھی مسلمان زیادہ ہیں۔ اس کا مطلب ابھی تک مسلمانوں میں یہ خصوصیت بہرحال باقی ہے کہ وہ صدقہ و خیرات دینے والے اور دوسروں کی مدد کرنے والے ہیں۔ تو اس کو برقرار رکھنا تو اب آپ لوگوں کا کام ہے ۔

بعدازاں حضورِ انور نے دین کو دنیا پر مقدّم رکھنے کے عہد اور خطابات کے اصل مقصد کو محض سماعت تک محدود رکھنے کی بجائے عملی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ ایک طرف یہ عہد کرتے ہیں کہ مَیں دین کو دنیا پرمقدّم رکھوں گا ۔ لیکچرز ہوتے ہیں، اتنے بڑے بڑے اجتماع کرتے ہیں، تقریریں کرتے ہیں، جلسوں پر آپ کی تقریریں ہوتی ہیں تو تقریریں سُن کے محظوظ ہونا تو کوئی فائدہ نہیں ۔ یا مَیں بھی بیان کر دیتا ہوں ۔ کل مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جُود و سخا کے بارے میں بھی بتایا۔تو یہی باتیں، اگر پتا لگے کہ ہم صحیح مسلمان ہیں ، اسلام پر عمل کرنے والے ہیں تو ظاہر ہے کہ پھر عمل بھی کریں گے اور اس پر قائم بھی رہیں گے اور اگر دنیا داری میں پڑ جائیں گے تو پھر دین سے بھی ہٹ جاتے ہیں۔

مزید برآں حضورِ انور نے عبادات میں غفلت اور عملی کمزوری کی نشاندہی کرتے ہوئے مکمل دینی زندگی، باقاعدہ عبادات اور حقوق اللہ و حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اکثر آپ میں سے وہی ہوں گے کہ جو کہتے ہیں کہ تین چار نمازیں مَیں پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ تین نمازیں پڑھنے کے بعد کہتے ہیں کہ کوشش کرتا ہوں کہ پڑھ لوں ، حالانکہ بڈّھے ہو گئے، قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے ہیں، انصار کی عمر بڑھ رہی ہے تو اصل توہونا یہ چاہیے تھا کہ کہتے کہ مَیں پانچ نمازیں پڑھنے کے علاوہ نفل بھی پڑھتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے بندوں کے حق ادا کرنے کی کوشش بھی کرتا ہوں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے ان دینی اقدار کو آئندہ نسلوں میں منتقل کرنے، انہیں عملی تربیت کا حصہ بنانے اور اس نیکی کے تسلسل کو قائم رکھنے کی مستقل ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس اَمر پر زور دیا کہ تو یہ سوچ پیدا کرنی ہے۔ یہ مستقل سوچ پیدا کرتے رہیں۔ ہمارا کام تو نصیحت کرنا ہے۔ توجہ دلانا ہے۔ وہ کام آپ کرتے چلے جائیں۔ اپنی نسلوں میں یہ بات ڈال دیں تاکہ اگلی نسلوں میں بھی یہ سلسلہ چلتا رہے۔ تو یہ نسلوں میں قائم ہونے والی بات ہے۔ ہر شخص کا فرض ہے۔ انصار میں چلے گئے ہیں تو اپنے بچوں میں یہ باتیں ڈالیں۔ وہ اپنے بچوں میں ڈالیں تو یہ باتیں قائم رہیں گی ۔ نہیں تو پھر جس طرح دنیا دار ہیں، ویسے آپ بھی ہو جائیں گے۔

ایک سائل نے حضورِ انور سے سوال کیا کہ آپ نظامِ وصیّت کو کس طرح ترقی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔جب زیادہ سے زیادہ ممالک میں ان شاء اللہ احمدی مسلمانوں کی اکثریت ہو گی اور وہ اسلامی معاشی اُصولوں پر عمل کرنا چاہیں گے؟

اس پر حضورِ انور نے نظامِ وصیّت کی اہمیت، اس کے فلاحی مقاصد اور جماعتی اخراجات کے ساتھ مستحقین کی ضروریات پوری کرنے میں اس کے عملی کردار کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ مَیں نے ۲۰۰۵ءمیں اعلان کیا تھا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نظام وصیّت میں شامل کرنا چاہیے۔ اس سے ہمیں جماعتی اخراجات پُورا کرنے میں مدد ملے گی اور ضرورت مند لوگوں، طلبہ، بیماروں، مریضوں، بیواؤں اور دیگر مستحقین کی ضروریات پوری کرنے میں بھی سہولت حاصل ہو گی۔

پھر حضورِ انور نے نظامِ وصیّت کے تحت جماعت کے اندر مضبوط معاشی نظام کے قیام اور اس کے مستقبل میں بتدریج وُسعت اختیار کرنے کے حوالے سے روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اس لیے رسالہ الوصیّت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وصیّت کے مقاصد بیان فرمائے ہیں۔ چنانچہ جتنے زیادہ سے زیادہ لوگ اس نظام میں شامل ہوتے جائیں گے اتنا ہی ہمارے پاس اپنی جماعت کے اندر ایک بہتر معاشی نظام قائم ہو جائے گا، اور جیسے جیسے زیادہ لوگ احمدیت میں داخل ہوں گے اور مزید ممالک احمدیت کو قبول کریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ یہی نظام وُسعت اختیار کرتا جائے گا تا کہ لوگوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں اور محتاجوں اور یتیموں کی مدد کی جا سکے۔ پس یہ اسی طرح کام کرے گا۔

اسی طرح حضورِ انور نے مزید راہنمائی کے لیے سائل کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی تصنیف ’’نظامِ نَو‘‘ کے مطالعہ کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی تصنیف نظامِ نَو میں اس بارے میں ذکر فرمایا ہے۔ آپ وہ کتاب پڑھیں۔اس میں آپ کو اس موضوع کے بارے میں مزید معلومات مل جائیں گی۔

[قارئین کی معلومات کے لیے تحریر کیا جاتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نےمورخہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۴۲ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر’’نظامِ نَو کی تعمیر ‘‘کے عنوان سے ایک بصیرت افروز اور تاریخی خطاب ارشاد فرمایا تھا۔ اس خطاب میں آپؓ نے اہم سیاسی و دنیاوی تحریکات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے ان کے بنیادی نقائص کی نشاندہی فرمائی۔ یہ معرکہ آراء خطاب’’نظامِ نَو ‘‘کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہو کر زینتِ طباعت بن چکا ہے جس سے قارئین استفادہ کر سکتے ہیں۔

اس میں آپؓ نے غرباء کی فلاح و بہبود کے حوالے سے یہودیت، عیسائیت اور ہندو مت کی پیش کردہ تجاویز کا تنقیدی جائزہ پیش کیا۔ اختتام پر آپؓ نے اسلام کی جامع اور بے مثال تعلیم کو بیان کرتے ہوئے ایک ایسے نئے عالمی نظام کا نقشہ پیش فرمایا کہ جو نہایت دلکش، عملی اور مؤثر تھا۔

اسی تناظر میں آپؓ نے نظامِ وصیّت اور تحریکِ جدید جیسی عظیم الشان اور مبارک الٰہی تحریکات کے مستقبل کا تذکرہ بھی فرمایا تھا۔]

مزید برآں حضورِ انور نے نظامِ وصیّت کے بنیادی مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کے ساتھ خدمتِ خلق اور ضرورت مندوں کی اعانت کو بھی اس کی اہم اغراض میں شامل قرار دیا کہ الوصیّت کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود بھی یہ بیان فرمایا ہے کہ اسلامی تعلیمات کی تبلیغ میں معاون بننے کے علاوہ اس کا ایک اَور مقصد لوگوں کی مدد کرنا بھی ہے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے نظامِ وصیّت کے بنیادی مقاصد کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی سے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا کہ پس نظام وصیّت کا ایک مقصد اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا ہے اور دوسرا اپنے بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرنا ہے۔یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد دنوں کی ادائیگی۔

ایک ناصر نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ حفظانِ صحت کے بارے میں متضاد معلومات پائی جاتی ہیں۔مثال کے طور پر عمومی طبّی ہدایات کے مطابق ہائی کولیسٹرول کا علاج کرنے کی تجویز دی جاتی ہےلیکن بعض معالجین اور ڈاکٹر اس بات پر یقین نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر آیورویدک، نیچرو پیتھی اور چینی طبّ۔ آیورویدک ڈاکٹر کہتے ہیں کہ کولیسٹرول کا دل پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ نیز اس سلسلے میں راہنمائی کی عاجزانہ درخواست کی کہ ہم یہ کیسے طے کریں کہ کس کی رائے پر عمل کیا جائے؟

اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ وہ تو ظاہر ہے، کولیسٹرول ہائی ہوتا ہے تو اس کے لیےہومیو پیتھی میں دوائیں ہیں ۔

جس پرسائل نے مزید عرض کیا کہ چینی اور آیورویدک لوگ اس پر یقین نہیں رکھتے۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ “آیوروید” (Ayurveda) سنسکرت کے دو الفاظ’’آیُو؍آیُس‘‘ (زندگی) اور “وید” (علم) سے ماخوذ ہے، اور اس کے لفظی معنی’’زندگی کا علم ‘‘ ہیں۔ آیورویدک طبّ برِّصغیر، خصوصاً ہندوستان، کا ایک قدیم روایتی نظامِ علاج ہے جو صحت کو جسم، ذہن اور طرزِ زندگی کے توازن سے وابستہ سمجھتا ہے۔ اس کے مطابق بیماری جسم کے تین بنیادی’’دوشوں ‘‘وات، پِت اور کَف کے عدمِ توازن سے پیدا ہوتی ہے، جبکہ علاج میں غذا، پرہیز، جڑی بوٹیوں، ورزش اور طرزِ زندگی کی اصلاح کو اہمیت دی جاتی ہے۔’’دوش‘‘آیوروید کا ایک روایتی نظریاتی تصوّر ہے، جدید سائنسی طبّ اسے اسی اصطلاحی صورت میں تسلیم نہیں کرتی، اگرچہ آیوروید بطور ایک روایتی نظامِ علاج آج بھی رائج ہے۔]

سائل کے اس موقف کی تردید کرتے ہوئے حضورِ انور نے آیورویدک اور چینی طبّ کے نظام میں بھی علاج اور پرہیز کے اصول موجود ہونے کی بابت واضح فرمایا کہ ان کے پاس بھی دوائیاں ہیں۔ وہ بھی کہتے ہیں کہ اپنے جسم کی چربی کو کم کرنے کے لیے کیا دوائیاں استعمال کرنی ہیں۔ چاہے اس کو کولیسٹرول کا نام دیں یا جسم کی چربی کا نام دیں یا ویسے آیورویدک دوائیوں اور ان کے پُرانےtraditionalطبّ میں بھی وہ پرہیز بتاتے ہیں۔ وہ حکیم یا آیورویدک ڈاکٹر یہی آپ کو بتائے گا کہ آپ یہ دوائی کھاؤ اور ساتھ بتائے گا کہ کھانے میں یہ یہ چیز نہیں کھانی۔ جب اس نے ساتھ ہی پرہیز بتا دیا کہ یہ چیز نہیں کھانی تو آپ believe کیوں نہیں کرتے۔ وہ تو پھر باتیں رہ گئیں کہ کچھ نہیں ہوتا ؟ ساتھ روک دیتے ہیں کہ تم نے بینگن نہیں کھانا ، تم نے کدّو نہیں کھانا ، تم نے فلاں دال نہیں کھانی، تم نے مکھن اس سے زیادہ مقدار میں نہیں کھانا، دودھ اتنا نہیں پینا۔ تو پھر آپ کہتے ہیں کہ وہbelieveنہیں کرتے، کیوں نہیں کرتے، کرتے ہیں۔ وہ تو ان کا ایک بزنس ہے جو انہوں نے صرف اپنا اثر ڈالنے کے لیےکیا ہوا ہے کہ جی! ہمbelieveنہیں کرتے۔

اسی طرح حضورِ انور نے کولیسٹرول کے اثرات اور ہومیوپیتھی سمیت مختلف طبّی طریقہ ہائے علاج کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ظاہر ہے کولیسٹرول جب زیادہ ہوتا ہے تو دل کی بیماریاں بھی ہوتی ہیں۔ جن کا کولیسٹرول ہائی ہوتا ہے ان کے دل کی شریانیں بند ہوتی ہیں اور بعض دفعہ پھر آپ کو دل کی تکلیفیں بھی ہوتی ہیں۔ اس کے کھولنے کے لیے پھر دوائیاں دی جاتی ہیں یا آپریشن کیا جاتا ہے یا اینجوپلاسٹی وغیرہ کرتے ہیں۔ یہ سارے حقائق جب سامنے آتے ہیں اور یہ ہم کر رہے ہیں تو یہ کہنا کہ جی! ڈاکٹر یہ کہتے ہیں۔ ہومیوپیتھک والے تو یہ نہیں کہتے۔ ہومیو پیتھی والے تو کہتے ہیں کہ ہاں! کولیسٹرول ہوتا ہے اور ’’کولیسٹیرینم‘‘ (Cholesterinum) ہومیوپیتھک میں ایک دوائی بھی ہے ۔ توپھر یہ کس طرح کہا جا سکتا ہےکہ ہومیوپیتھی والے نہیں کہتے؟

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ مذکورہ ہومیوپیتھک دوا کولیسٹیرینم(Cholesterinum) کے بارے میں حضرت خلیفة المسیح الرّابع رحمہ اللہ نے اپنی معرکہ آراء تصنیف’’ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘ میں ذکر فرمایا ہے کہ یہ دوا صفراء سے بنائی جاتی ہے۔ جگر اور پتّے کی بیماریوں میں بہت مفید ہے۔ پتّہ کے درد کے لیے بہترین دوا ہے۔ مَیں نے اپنے تجربہ سے اسے جگر، پتّہ، تلی اور لبلبہ کی امراض میں بہت مفید پایا ہے۔ جگر کے کینسر میں بھی بہت فائدہ مند ہے۔ جسم میں چربی جمنے کے رجحان کو بھی دُور کرتی ہے۔ اگر خون میں چکنائی زیادہ ہو جائے یعنی کولیسٹرول(Cholesterol)کا تناسب بڑھ جائے تو اس کو ٹھیک کرنے میں بھی کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ امریکہ میں بعض مریضوں نے کولیسٹرول کم کرنے کے لیے جدید ترین طریقوں سے ایجاد کی گئی دوائیں استعمال کیں لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ جبکہ کولیسٹیرینم کے استعمال سے انہیں نمایاں فرق محسوس ہوا۔ (ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل۔ صفحہ ٢٨٩)]

بعدازاں حضورِ انور نے آیورویدک طبّ میں پرہیز کے اصول کے حوالے سے فرمایا کہ ہاں! آیورویدک کا مَیں زیاد ہ نہیں جانتا۔ لیکن یہ ہمیں پتا ہے کہ وہ لوگ پرہیز بتاتے ہیں کہ یہ یہ پرہیز کرو۔ جب خوراک کا پرہیز کرو تو انسان آپ ہی ٹھیک ہو جائے گا ۔

مزید برآں حضورِ انور نے طبِّ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں دل کی بیماریوں اور شریانوں کی بندش کے حوالے سے ایک نسخے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ باقی نالیاں بند ہونے کے لیےطبِّ نبوی صلی الله علیہ وسلم جو ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ایک طبّ ہے، جس کو حضرت خلیفة المسیح الاوّل رضی الله عنہ نے بھی کافی highlightکیاہے۔اس میں ایک شخص کے بارے میں آیا کہ اس کو دل کی تکلیف ہے یا اس کا دل بند ہو رہا ہے اور سانس مشکل سے آ رہا ہے یا ایک ایسی کیفیت طاری ہو رہی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ یہ دل کی تکلیف ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ عجوہ کھجور جو ہے اس کو گٹھلی سمیت پیس کے اس کو کھلاؤ۔اور جب کھلائی تو وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور بہت سارے حکیم عجوہ کا نسخہ اب بھی استعمال کرتے ہیں جو نالیاں بھی کھولتا ہے اور کولیسٹرول کو بھی کم کرتا ہے۔ تو دوائیاں تو وہ کولیسٹرول کم کرنے کی دیتے ہیں۔اب مانو یا نہ مانو یہ اَور بات ہے۔

[قارئین کی معلومات کے لیے تحریر کیا جاتا ہے کہ عجوہ کھجور مدینہ منورہ کی ایک معروف ، بابرکت اور اعلیٰ قسم کی کھجور ہے۔ یہ عموماً گہرے بھورے یا سیاہ رنگ کی، نرم اور ہلکی مٹھاس والی ہوتی ہے۔ احادیثِ نبویہ صلی الله علیہ وسلم میں اس کا خاص ذکر ملتا ہے۔]

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے عمر کے تقاضوں کے مطابق پرہیز اور روزمرہ چہل قدمی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اس عمر میں پرہیز کرنا چاہیے۔ اگر دل کی نالیاں کھلی ہیں توبے شک کھائیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ لیکن روزانہ پانچ میلwalkکریں۔

ایک ناصر نے عرض کیا کہ میرا سوال ہے کہ جب کوئی شخص زندگی کے آخری ایام میں ہو تو ہم عموماً اس کے انجام بخیر کےلیے دعا کرتے ہیں۔کیا پیارے حضوراس کے وسیع معنی بیان فرما سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ یہ تو بڑی زیادتی ہے کہ جب آخر میں ہو توتبھی انجام بخیر کی دعا کریں۔

پھر حضورِ انور نے انجام بخیر کی دعا کے وسیع مفہوم اور اس کی ہمہ گیر ضرورت کوواضح کرتے ہوئے فرمایا کہ انجام بخیر کی دعا تو انسان کو اپنے لیے، اپنے پیاروں کے لیےاور دوسروں کے لیےبھی ہمیشہ کرنی چاہیے۔ کوئی ایسا وقت نہ آجائے کہ زندگی کا تو کوئی پتا نہیں کس وقت انسان کادماغ اُلٹ جائے۔ اچھا بھلا ایک نیک آدمی ہوتا ہے، جماعت کے کام کر رہا ہوتا ہے اور اس کا دماغ اُلٹےتو وہ کہہ دیتا ہے کہ مَیں نہ خدا کو مانتا ہوں اور نہ دین کو مانتا ہوں۔ تو اس کے لیے خود اللہ تعالیٰ اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا ہے کہ اپنے انجام بخیر کی دعا کیا کرو۔ کَل بھی مَیں نے دعائیں سکھائی ہیں ، ان میں جو شروع میں دو دعائیں پڑھی تھیںان میں بھی خُلق کے ساتھ ساتھ انجام بخیر کی دعائیں بھی تھیں۔ تودعا تو ہمیشہ انسان کو اپنے لیے کرتے رہنا چاہیے۔ کوئی پتا نہیں ہوتا، انسان کا دماغ اُلٹے اور کیا ہو جائے۔ تو اس لیے انجام بخیر کی دعا اپنے لیے زندگی میں بھی کرنی چاہیے، اپنے پیاروں کے لیے زندگی میں کرنی چاہیے، اپنے دوستوں کےلیے زندگی میں کرنی چاہیے۔

[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ جُود و سخا کے حوالے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ فاضلہ کا دل آویز تذکرہ کرتے ہوئے حضورِ انور نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۲؍جون ۲۰۲۶ء میں انجام بخیر کے ضمن میں جن دعاؤں کی طرف توجہ دلائی، وہ درجِ ذیل ہیں:

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان دعائیہ کلمات کے ساتھ دعا کیا کرتے کہ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْکَسَلِ وَ اَرْذَلِ الْعُمُرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَالْفِتْنَةِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ۔کہ اے اللہ! مَیں بخل سے، سستی سے، بدّترین عمر سے اور قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔اسی طرح اس بارےمیں ایک یہ دعا بھی ہے، حضرت انس رضی الله عنہ سے ہی روایت ہے، کہتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم وہ دعا کرتے تھے کہ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحَزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَضَلَعِ الدَّیْنِ وَغَلَبَۃِ الرِّجَالِ ۔کہ اے اللہ! مَیں تیری پناہ لیتا ہوں فکر اور غمّ سے، عاجزی اور سستی سے اور بزدلی اور کنجوسی سے اور قرضے کے زیادہ ہونے سے اور لوگوں کے غلبے سے۔اس خطبے کا خلاصہ ۱۵؍جون ۲۰۲۶ء کے روزنامہ الفضل انٹرنیشنل کے شمارے کی زینت بھی بن چکا ہے جس سے مزید استفادہ کیا جا سکتا ہے۔]

اسی طرح حضورِ انور نے انجام بخیر کو صرف آخری وقت سے وابستہ سمجھنے کے تصوّر کی نفی کرتے ہوئے سورت یٰسین کی تلاوت کے مقصد کو وسیع تر تناظر میں بیان فرمایا کہ اس کا فوت ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔ ہاں! فوت ہوتے ہوئے ہم سورۂ یٰسین پڑھتے ہیں، جب آدمی ایسی حالت میں ہو جب پتا ہو کہ آخری حالت ہے ۔ اس میں بھی اس لیے نہیں کہ کوئی اَور وجہ ہے بلکہ تسکین کے لیےضروری ہے۔ عام حالات میں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ بیماروں پر بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ مطلب یہ تھا کہ اگر یہ اس کا آخری وقت ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تسکین کے سامان پیدا کرے ۔اور اگر اس کی زندگی اَور ہے تو تب بھی اس کے لیے سکون مہیا ہو جائے۔ اس لیے پڑھی جاتی ہے۔

مزید برآں حضورِ انور نے انجام بخیر کی دعا کے ہمہ وقتی اور ہر حال سے متعلق ہونے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ باقی دعا تو چاہے انسان صحت مند ہو یا بیمار ہو یا آخری وقت ہو یا جوانی کا پُورا عروج ہو، تب بھی اپنے انجام بخیر کی دعا کرنی چاہیے۔

بعدازاں حضورِ انور نے سائل کو انجام بخیر کی دعا کی عملی اہمیت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ اپنے انجام بخیر کی دعا نہیں کرتے؟اس پر سائل نے عرض کیا کہ اب مَیں کروں گا اور ہمیشہ کرنی چاہیے۔

جس پر حضورِ انور نے ایک مثال کے ذریعے انجام بخیر کی دعا کو صرف آخری وقت سے وابستہ سمجھنے کے تصوّر کی اصلاح فرمائی کہ یہ تو نہیں ہےکہ آپ مرتے ہوئے کہیں کہ میراانجام بخیر ہو جائے؟ اپنے مرتے ہوئے انجام بخیر والی تو پھر وہی بات ہو گئی کہ جو بندہ سو قتل کر کے کہتا تھا کہ میرا انجام بخیر ہو جائے۔ یہ تو نہیں ہے۔ کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے بخش تو دینا ہی ہے تو ساری عمر آدمی فضول کام کرتا رہے اس کے بعد کہے کہ انجا م بخیر ہو جائے۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملین مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے اور حضورِ انور کے دستِ مبارک سے قلم بطورتبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصار الله ویسٹرن نیویارک ریجن کے ایک وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button