نظام جماعت سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہافراد اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کی اصلاح کریں(قسط دوم)
خلیفۂ وقت کے مقرر کردہ عہدیداروں کی اطاعت بھی ضروری ہے
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۱۳؍ستمبر ۱۹۴۰ء)
حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے احباب جماعت کو عہدیداران کی اطاعت کرنے کی نصیحت فرمائی ہے۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
جماعت کے ذمہ دار کارکنوں کو میں ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنے عہدے لوگوں کو ڈرانے کے لئے استعمال نہ کیا کریں
[گذشتہ سے پیوستہ] مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میرے پاس ایسی رپورٹیں پہنچتی رہتی ہیں کہ بعض آدمی ذاتی کام لیتے وقت اپنے عہدہ کے جتانے کے عادی ہیں اور وہ بات کرتے وقت دوسروں سے کہہ دیتے ہیں کہ تم جانتے ہو مَیں کون ہوں۔ میں ناظر امور عامہ ہوں یا ناظر تعلیم و تربیت ہوں یا ناظر اعلیٰ ہوں یا فلاں عہدے دار ہوں۔ اس قسم کے الفاظ کا دہرانا یقیناً اس ذمہ داری کے ادا کرنے کے خلاف ہے جس کا اسلام ان سے مطالبہ کرتا ہے۔ ہر شخص جسے خدا نے بعض معاملات میں آزادی دے رکھی ہے اس کے متعلق ہم یہ حق نہیں رکھتے کہ اس کی آزادی کو سلب کریں۔ رسول کریمﷺ کی مثال موجود ہے۔ آپ نے ذاتی معاملات میں کبھی دخل نہیں دیا۔ آپ نے بریرہ سے یہ نہیں کہا کہ مَیں خدا کا رسول ہوں۔ تم میری بات مان لو بلکہ فرمایا کہ یہ میرا ذاتی مشورہ ہے، اسے ماننا یا نہ ماننا تمہارے اختیار کی بات ہے۔ اسی طرح بعض سودے ہوئے جن کے متعلق آپؐ نے صحابہؓ سے یہی فرمایا کہ لوگوں سے مشورہ کر لو اور جو کچھ صحیح سمجھو اس کے مطابق کام کرو۔
تو
جماعت کے ذمہ دار کارکنوں کو میں ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنے عہدے لوگوں کو ڈرانے کے لئے استعمال نہ کیا کریں۔
جو شخص کسی جھگڑے کے موقع پر یہ کہتا ہے کہ تم جانتے ہو میں کون ہوں؟ میں ناظر امور عامہ ہوں یا ناظر تعلیم و تربیت ہوں یا ناظر اعلیٰ ہوں وہ اپنے عمل سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نظارت کو دوسرے معاملات میں بالا سمجھتا ہے حالانکہ نظارت کا اپنا ایک محدود دائرہ ہے۔ اس دائرہ سے باہر اس کے اختیارات نہیں یا سلسلہ کا کوئی مربی اور کارکن ایسے مواقع پر اگر یہ کہتا ہے کہ تم جانتے ہو میں کون ہوں۔ میں سلسلہ کا مربی ہوں یا سلسلہ کا کارکن ہوں تو وہ اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتا ہے۔ مثلاً دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے ہوں تو اگر ایک ایسا شخص جسے نظام نے لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کے لئے مقرر نہیں کیا وہاں جا کر کہتاہے کہ میں سلسلہ کا مربی ہوں یا سلسلہ کا کارکن ہوں تو اس کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ اس نے اپنا عہدہ دوسروں پر رعب جتانے کے لئے استعمال کیا ہے کیونکہ
مربی کا کام لوگوں کی تربیت و اصلاح کرنا ہے نہ کہ جھگڑوں کا فیصلہ کرنا۔ اس کا یہ ہرگز حق نہیں کہ وہ لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرے یا اپنا فیصلہ لوگوں سے منوائے۔
ہاں اگر کوئی قاضی ہو تو وہ ایسا کہہ سکتا اور اپنا فیصلہ بھی اس جھگڑے کے متعلق دے سکتا ہے تو یہ ایک ایسی غلطی ہے جس کی اصلاح نہایت ضروری ہے۔
پس میں جماعت کے تمام عہدیداروں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اس بار ہ میں احتیاط ملحوظ رکھیں اور عَلَی الْاِعْلَان خطبۂ جمعہ میں مَیں نے اس کا اظہار اس لئے کیا ہے تا دوسرے لوگ بھی نگران رہیں اور جب سلسلہ کے کارکنوں میں سے کوئی اس کی خلاف ورزی کرے تو اس کی فوری طور پر میرے پاس رپورٹ کریں۔
میں اس بارہ میں اپنا ہی ایک واقعہ سنا دیتا ہوں جس میں میرا نام ایک موقع پر ناجائز طور پر استعمال کیا گیا تھا مگر جب مجھے معلوم ہؤا تو میں نے اس افسر کو سختی سے ڈانٹا۔ وہ واقعہ یہ ہے جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے ہم قادیان کے اردگرد دیہات میں اپنے لئے زمینیں خریدتے رہتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں ہماری طرف سے ایک زمین کا سودا ہؤا مگر ابھی یہ سودا ہو ہی رہا تھا کہ ننگل کے ایک شخص نے ہم سے زیادہ قیمت دے کر اس زمین کو خرید لینا چاہا۔ اس پر ہمارے مختار نے اسے کہا کہ تم خلیفۃ المسیح الثانی کا مقابلہ کرتے ہو یہ تمہارے لئے اچھی بات نہیں۔ مجھے جب اس بات کا علم ہؤا تو میں نے انہیں ڈانٹا اور کہا کہ اس میں خلیفۃ المسیح کا کیا تعلق ہے۔ یہ سودا ’’خلیفۃالمسیح‘‘ سے نہیں بلکہ مرزا محمود سے ہو رہا تھا اور دوسرا فریق اس بات کا حق رکھتا تھا کہ اگر وہ چاہے تو سودے سے انکار کر کے کسی دوسرے سے سودا شروع کر دے۔ یہ زمیندارہ معاملہ ہے اور اس میں دوسرا شخص اختیار رکھتا ہے کہ وہ چاہے تو مان لے اور چاہے تو نہ مانے۔ اس میں خلافت یا خلیفۃ المسیح کا کوئی سوال نہیں اور نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ دوسرے نے خلیفۃ المسیح کا مقابلہ کیا۔ گو اخلاقی طور پر میرے نزدیک دوسرے فریق کی ہی غلطی تھی کیونکہ جب کوئی شخص سودا کر رہا ہو تو دوسرے کو اس میں دخل نہیں دینا چاہیئے مگر شریعت میں چونکہ یہ بھی مسئلہ ہے کہ جب تک کچھ پیشگی رقم نہ دے دی جائے اس وقت تک سودا مکمل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے دوسرے کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ چاہے تو سودے سے انکار کر دے اور کسی دوسرے شخص کو زیادہ قیمت پر دے دے۔ بہرحال ہمارے ملک میں چونکہ عام طور پر لوگوں کو اپنے عہدے جتانے کی عادت ہے جیسے تحصیلدار کہہ دیا کرتے ہیں کہ تم جانتے ہو ہم کون ہیں ہم تحصیلدار ہیں یا ڈپٹی کمشنر کہہ دیا کرتے ہیں تم جانتے ہو ہم کون ہیں ہم ڈپٹی کمشنر ہیں۔ اسی طرح انہوں نے بھی دھمکی دے دی اور کہا کہ تم جانتے ہو یہ سودا خلیفۃ المسیح کر رہے ہیں۔ پس تم کسی اور سے نہیں بلکہ خلیفۃ المسیح کا مقابلہ کر رہے ہو۔ حالانکہ یہ زمین خلیفۃالمسیح نہیں بلکہ مرزا محمود احمد خرید رہا تھا اور مرزا محمود احمد کے مقابلہ میں ایسے معاملات میں ہر شخص خواہ وہ احمدی ہو یا نہ ہو اس بات کا حق رکھتا ہے کہ و ہ اگر چاہے تو انکار کر دے۔ غرض اخلاقی طور پر گو اس سے غلطی ہوئی مگر میں نے پسند نہ کیا کہ میں واقف ہو کر اس کی ناواقفیت سے فائدہ اٹھا لوں۔ تو لوگ بلا وجہ اپنے عہدوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح جو عہدیدار ہیں ان کی عورتوں کے متعلق میرے پاس شکایات آتی رہتی ہیں کہ وہ بھی دوسروں پر رعب جمانا چاہتی ہیں۔ گویا جو احترام ناظر امور عامہ کو حاصل ہے وہی ناظر امور عامہ کی بیوی بھی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اور جس طرح ملکہ کو ایک حق حاصل ہوتا ہے اسی طرح وہ بھی اپنا حق جتانا چاہتی ہے۔ حالانکہ ناظر امورعامہ کی بیوی کو کوئی حق نہیں کہ وہ لوگوں پر رعب جتائے۔ وہ جماعت میں محض ایک فرد کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر جماعت سے لوگ اس لحاظ سے کہ اس کا خاوند قوم کا ایک خادم ہے اس کی عزت کریں تو یہ ایک اچھی بات ہے لیکن محض اس وجہ سے کہ وہ ناظر امور عامہ کی بیوی ہے یا ناظر امور خارجہ کی بیوی ہے یا ناظر ضیافت کی بیوی ہے یا ناظر بیت المال کی بیوی ہے یا ناظر تعلیم و تربیت کی بیوی ہے یا ناظر اعلیٰ کی بیوی ہے اس کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ دوسروں پر رعب جتائے۔ وہ جماعت کا ایک ویسا ہی فرد ہے جیسے کوئی معمولی سے معمولی شخص کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بعض لوگوں کو حکومت اور رتبہ دیا ہے وہ کام کے لحاظ سے دیا ہے اور ان سے تعلق رکھنے والوں کو یہ قطعاً حق حاصل نہیں کہ وہ ان کے رتبہ سے ناجائز فائدہ اٹھا کر لوگوں پر اپنی حکومت جتانی شروع کردیں۔ (الفضل ۲۷؍جولائی ۱۹۶۰ء)
میری جب وصیت شائع ہوئی تو بعض انگریزی اخبارات کے نمائندے مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔ ان کے آنے کی بڑی غرض یہ تھی کہ وہ مجھ سے یہ کہلوانا چاہتے تھے کہ میرے بعد یا تو چوہدری ظفر اللہ خان صاحب خلیفہ ہوں گے یا میرا بیٹا ناصر احمد۔ وہ بار بار اِدھر اُدھر کی باتیں کر کے پھر یہی سوال میرے سامنے پیش کر دیتے اور کہتے کہ آپ کے بعد کون خلیفہ ہو گا؟ کیا چوہدری ظفر اللہ خان ہوں گے یا ناصر احمد؟ میں نے انہیں کہا کہ
خلافت تو خدا تعالیٰ کی ایک دین ہے۔ اس میں چوہدری ظفراللہ خان اور ناصر احمد کا ویسا ہی حق ہے جیسے ایک نومسلم چوہڑے کا۔
میں نے انہیں کہا کہ مجھے کیا معلوم اللہ تعالیٰ میرے بعد یہ مرتبہ کس کو دے گا۔ کسی بڑے آدمی کو یا ایک معمولی اور حقیر نظر آنے والے انسان کو۔ مگر وہ دنیاداری کے لحاظ سے سمجھتے تھے کہ میرے بعد خلافت کے اہل یا تو چوہدری ظفر اللہ خان ہیں یا ناصر احمد۔ چنانچہ چکر کھا کر وہ پھر یہی سوال کر دیتے کہ اچھاتو پھر آپ کے بعد کیا صورت ہو گی؟ مگر میں انہیں یہی کہتا رہا کہ مجھے کچھ علم نہیں اللہ تعالیٰ میرے بعد یہ نعمت کس کو عطا کرے گا۔ آخر انہیں میرے جوابوں سے اتنی مایوسی ہوئی کہ انہوں نے ملاقات کا ذکر شائع کرتے وقت اس سوال کو ہی اڑا دیا۔ ایک اخبار والے نے تو میرے ساتھ اس سوال پر بڑی بحث کی اور کہا کہ آخر کچھ تو کہیں۔ میں نے کہا میں اس بارہ میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔ پھر میں نے انہیں بتایا کہ حضرت خلیفہ اوّل جب فوت ہوئے اور جماعت میں خلافت کے متعلق جھگڑا شروع ہؤا تو بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید میں نے اپنی خلافت کے لئے یہ جھگڑا کھڑا کر رکھا ہے۔ میں نے اُسی وقت اپنے رشتہ داروں کو جمع کیا، ان رشتہ داروں میں میرے بزرگ بھی تھے، میرے برابر کے بھی تھے اور مجھ سے چھوٹے بھی تھے۔ نانا جان صاحب مرحوم بھی موجود تھے، میرے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب بھی موجود تھے، اسی طرح میرے چھوٹے بھائی بھی تھے اور گھر کے دوسرے افراد بھی۔ میں نے ان سب کو جمع کر کے کہا کہ دیکھو یہ وقت ایسا نہیں کہ ہم ذاتیات کا سوال لے بیٹھیں اس وقت جو لوگ خلافت کی مخالفت کر رہے ہیں انہیں یہ وہم ہو گیا ہے کہ چونکہ خلافت سے ہم فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اس لئے ہم یہ جھگڑا پیدا کر رہے ہیں۔ یہ وہم خواہ کیسا ہی غلط اور بے بنیاد ہو ہمیں اپنے وجود سے سلسلہ میں تفریق پیدا نہیں کرنی چاہیئے اور اگر وہ اس بات پر متفق ہیں کہ کسی نہ کسی کو ضرور خلیفہ ہونا چاہیئے تو اول تو یہی مناسب ہے کہ اس کے متعلق لوگوں کی عام رائے لے لی جائے لیکن اگر انہیں اس سے اتفاق نہ ہو تو ایسے لوگوں کو چھوڑ کر جیسے خواجہ کمال الدین صاحب یا مولوی محمد علی صاحب ہیں کسی ایسے آدمی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے جو دونوں فریق کے نزدیک بےتعلق ہو اور اگر وہ اسے بھی نہ مانیں تو پھر ان لوگوں میں سے ہی کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلی جائے۔ میں نے اس پر اتنا زور دیا کہ میں نے اپنے رشتہ داروں سے کہا اگر آپ لوگ میری اس بات کو نہیں مانتے تو پھر میں باہر جاتا ہوں اور باہر جا کر عام لوگوں کے سامنے اپنی اس بات کو پیش کر دیتا ہوں۔ نتیجہ یہ ہؤا کہ سب میری بات پر متفق ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ اول تو یہی کوشش کرنی چاہیے کہ دونوں فریق کسی ایسے آدمی کے ہاتھ پر اکٹھے ہوں جو واضح طور پر گزشتہ جھگڑوں میں شامل نہ ہؤا ہو اور جو دونوں کے نزدیک بے تعلق ہو اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر اتحاد کے خیال سے انہی لوگوں میں سے کسی کو منتخب کر لیا جائے۔ تو میں نے اسے کہا کہ میں نے تو حضرت خلیفہ اوّل کی وفات پر بھی خلیفہ کے انتخاب میں اسی حد تک دخل دیا تھا اور کسی کا نام بالتصریح نہیں لیا تھا پھر تم کس طرح سمجھ سکتے ہو کہ اب میں کسی کا نام لے لوں گا اور اس کے متعلق کہہ دوں گا کہ وہ میرے بعد خلیفہ ہو گا۔ پھر اس میں میری مرضی کا بھی سوال نہیں۔
ہمارا تو یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور جب خلیفہ بنانا خدا نے اپنے ذمہ لیا ہؤا ہے تو میرا اس میں دخل دینا کیسی حماقت ہو گی۔
پھر اس نے کہا کہ کیا آپ کو یہ اختیار حاصل ہے یا نہیں کہ آپ اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر کر جائیں؟ میں نے کہا اختیار تو ہے مگر میں اس اختیار کو استعمال نہیں کرنا چاہتا اور آئندہ کے متعلق مجھے معلوم نہیں کہ حالات کیا صورت اختیار کریں۔ غرض ان کی ساری کوشش اسی امر پر مرکوز رہی کہ میں یا تو اپنے رشتہ داروں میں سے کسی کے متعلق کہہ دوں کہ میرے بعد وہ خلیفہ ہو گا یا دنیوی لحاظ سے ان کی نگاہ چونکہ چوہدری ظفراللہ خان صاحب پر پڑ سکتی تھی اس لئے انہوں نے سمجھا کہ اگر کوئی رشتہ دار خلیفہ نہ ہؤا تو شاید وہ ہو جائیں مگر میں نے انہیں کہا کہ یہ میرا کام نہیں کہ میں انتخاب کرتا پھروں۔
یہ خدا کا کام ہے اور میں تو محض سلسلہ کے ایک خادم کے طور پر کام کر رہا ہوں۔
غرض ہم میں سے کوئی بھی نہیں جسے اس قسم کا اختیار حاصل ہو۔
ہمیں جو حکومت حاصل ہے وہ شریعت کے ماتحت اُولِی الْاَمْر ہونے کے لحاظ سے ہے۔ پس جتنا امر ہو گا اتنی ہی حکومت ہو گی اور جو شخص اس حکومت کے دائرہ کو وسیع کرے گا وہ نظام کا دشمن قرار پائے گا۔
پس عام دنیوی معاملات میں دوسروں سے یہ کہنا کہ میں ناظر امور عامہ ہوں یا ناظر اعلیٰ ہوں نظارت کے جامہ کی ہتک ہے۔ وہاں وہ ناظر نہیں بلکہ ایک فرد کی حیثیت رکھے گا اور اسے دوسروں پر کوئی تفوّق حاصل نہیں ہو گا۔ اسلام میں اس کی کئی مثالیں بھی موجود ہیں۔ چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ خلفاء پر دیوانی نالشیں ہوئیں اور انہیں قضاء میں جواب کے لئے بلایا گیا۔ اب فرض کرو کہ کسی کو میرے خلاف کوئی شکایت ہو مثلاً وہ کہے کہ انہوں نے میرا اتنا روپیہ دینا ہے مگر دیتے نہیں یا اتنا دیا ہے اور اتنا نہیں دیا تو اسے اس بات کا پور احق ہے کہ وہ اگر چاہے تو قضاء میں میرے خلاف دعویٰ دائر کردے۔ وہاں مجھے اسی طرح جواب دینا پڑے گا جس طرح ایک عام شخص قضاء کے سامنے جوابدہ ہو تا ہے لیکن جہاں خدا نے مجھے کوئی حق دیا ہے وہاں وہ میرا حق چھین نہیں سکتا۔‘‘
(جاری ہے)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: نظام جماعت سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ افراد اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کی اصلاح کریں(قسط اوّل)




