از افاضاتِ خلفائے احمدیت

جلسہ سالانہ پر آنے والے دوست

سردی سے بچاؤ کے لیے پورا بستر اور کپڑے ہمراہ لائیں

کھانے کے سلسلے میں اگر دوستوں کو کوئی تکلیف ہو تو اُسے ثواب سمجھ کر برداشت کریں

(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۱۲؍دسمبر ۱۹۵۸ء)

حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے احباب جماعت کو جلسہ سالانہ کی اغراض و مقاصد اور جلسہ پر تیاری کے ساتھ آنے کی نصیحت فرمائی ہے۔ جلسہ سالانہ کے ایام کی مناسبت سے قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)

جلسے میں شمولیت بڑے ثواب کا کام ہے لیکن ساتھ ہی دوستوں کو یہ خیال بھی رکھنا چاہیے کہ جماعت کو بڑھانا اور حق کی اشاعت کرنا اِس سے بھی بڑا کام ہے

تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

اِس سال موسم بہت خراب رہا ہے اور اب تک بھی خراب ہی چل رہا ہے اور جلسہ سالانہ کے دن بہت قریب آگئے ہیں۔ پہلے جلسہ کے دنوں میں ربوہ میں کچھ گرمی ہو جاتی تھی مگر اس سال جس طرح گرمی زیادہ پڑی تھی خشک سردی بھی زیادہ پڑ رہی ہے۔ اس لیے قرآن شریف کے اِس حکم کے ماتحت کہ لَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ (البقرہ: ۱۹۶) اور اس حکم کے ماتحت کہ خُذُوۡا حِذۡرَکُمۡ (النساء: ۱۰۲) ہمیں بہت زیادہ احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ نماز ایک بڑا اہم فریضہ ہے مگر خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر جنگ کے موقع پر تم نماز پڑھنے لگو تو ہتھیار ساتھ رکھ لیا کرو تا کہ وقت پر کام آ سکیں۔ اب چونکہ جنگ کا زمانہ نہیں بلکہ ارشاد و اصلاح کا زمانہ ہے اس لیے اب ’’حِذْر‘‘ سے مُراد تلوار نہیں بلکہ اِس موسم کو مدّنظر رکھتے ہوئے خُذُوۡا حِذۡرَکُمۡ سے مُراد یہ ہے کہ تم اپنے کپڑے تیار رکھا کرو۔ سو میں دوستوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ جب وہ جلسہ سالانہ کے موقع پر ربوہ آئیں تو اپنا بستر اور پورے کپڑے ساتھ لائیں کیونکہ کئی جلسوں پر دیکھا گیا ہے کہ کمزور آدمی جلسہ کے دنوں میں سردی کی برداشت نہ کرنے کی وجہ سے واپس جاتے ہی نمونیا یا کسی اَور مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور آپ لوگ جانتے ہیں کہ ایک ایک آدمی کا احمدی بنانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ سالہاسال کے بعد کہیں جا کر ایک آدمی تیار ہوتا ہے۔ پس اس کے ضائع ہونے پر اتنا ہی افسوس ہوتا ہے۔

سو ہماری جماعت کو اپنی جانوں کی حفاظت اور بچاؤ کے لیے پوری کوشش کرنی چاہیے۔

جنگ کے ماہرین کہتے ہیں کہ اسلامی جنگوں میں اسلامی لشکر اور غیر اسلامی لشکر میں یہی فرق ہوتا تھا کہ غیراسلامی لشکر تہوّر سے کام لیتا تھا اور اسلامی لشکر جرأت سے کام لیتا تھا۔ جاپانیوں میں بھی یہی ہے کہ جو مر جائے اُس کی بڑی قدر کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص بڑا بہادر ہے کیونکہ وہ قوم اور ملک کی خاطر مر گیا۔ مگر اسلامی جنگوں میں مرنے والے سے مارنے والے کی زیادہ قدر کی جاتی ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس نے کتنے آدمی مارے ہیں۔ اِسی طرح

جلسہ کے دنوں میں قربان ہو جانا زیادہ قابلِ قدر چیز نہیں بلکہ جلسہ کے بعد لوگوں کو ہدایت کی طرف لانا قابلِ قدر چیز ہے تا کہ جماعت جتنی زیادہ پھیل سکے پھیل جائے۔ پس ہماری جماعت کو تہوّر نہیں دکھانا چاہیے بلکہ شجاعت دکھانی چاہیے۔

عربی زبان میں تہوّر اِس بات کو کہتے ہیں کہ جان کی پروا نہ کی جائے اور اندھا دھند قربانی کی جائے اور شجاعت اِس کو کہتے ہیں کہ ایسی دلیری سے کام کیا جائے کہ کام کرنے والا اپنی جان بھی بچائے اور دشمن کو بھی زیر کرنے کی کوشش کرے۔ غیرقوموں میں بےشک تہوّر کو بڑی قابلِ قدر چیز سمجھا جاتا ہے لیکن عرب قوموں اوراسلام میں شجاعت کو بڑا سمجھا جاتا ہے۔ پس

ہمارا صرف یہ کام نہیں کہ ہم اسلام کے لیے اپنی جان قربان کر دیں بلکہ یہ کام بھی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ ایسے آدمی کھینچ کر لائیں جو اسلام کے لیے قربانیاں کرنے والے ہوں۔

غرض

جلسہ میں شمولیت بڑے ثواب کا کام ہے لیکن ساتھ ہی دوستوں کو یہ خیال بھی رکھنا چاہیے کہ جماعت کو بڑھانا اور حق کی اشاعت کرنا اِس سے بھی بڑا کام ہے۔

اپنی جان کی حفاظت کرنا بزدلی نہیں بلکہ بہادری ہے۔ پس ہماری جماعت کو جلسہ کے دنوں میں اچھی طرح تیاری کر کے آنا چاہیے۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ جب جلسہ لمبا ہو جاتا ہے تو شام کے وقت سردی میں بھی دوست بیٹھے رہتے ہیں۔ میرے بہنوئی عبداﷲ خان صاحب دو دفعہ جلسہ پر ربوہ آئے اور دونوں دفعہ ہی اُنہیں دل کا دورہ ہو گیا کیونکہ وہ شوق میں جلسہ سننے چلے جاتے تھے اور جلسہ میں سردی لگ جاتی تھی۔ مَیں نے پچھلے سال جلسہ سالانہ کے دنوں میں اپنے پہرہ داروں کو کہہ دیا کہ وہ دوپہر تک تو بیشک وہاں رہیں لیکن ذرا دھوپ کم ہو تو اُنہیں واپس بھیج دیا کریں کیونکہ وہ بیمار ہیں۔ ان کے لیے اَور حکم ہے اور تندرستوں کےلیے اَور حکم ہے۔ تندرستوں کے لیے تو یہ حکم ہے کہ وہ جلسہ سے پوری طرح فائدہ اٹھائیں اور ساری تقریریں سنیں۔

مجھے یاد ہے جب میں تندرست تھا تو بڑی لمبی لمبی تقریریں کرتا تھا۔ ایک دفعہ مولوی محمداسماعیل صاحب چِٹھی مسیح والے آئے اور کہنے لگے کہ آپ غریبوں کا بھی خیال رکھا کریں۔ وہ بہت بوڑھے ہو گئے تھے اور ان کے پراسٹیٹ گلینڈز بڑھ گئے تھے جس کی وجہ سے انہیں باربار پیشاب آتا تھا۔ کہنے لگے آپ ہمارا بھی خیال رکھا کریں۔ مَیں نے کہا آپ ضرورت پر چلے جایا کریں۔ کہنے لگے مصیبت تو یہی ہے کہ جب میں اٹھنے لگتا ہوں تو آپ کوئی نیا نکتہ بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں اور میں کہتا ہوں یہ سن لوں۔ اس کے بعد جب پھر اٹھنا چاہتا ہوں تو آپ کوئی اَور نکتہ شروع کر دیتے ہیں پھر مَیں بیٹھ جاتا ہوں کہ یہ سن لوں۔ اِسی طرح ہوتے ہوتے یہ کیفیّت ہو جاتی ہے کہ مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ پیشاب کی وجہ سے میرا مثانہ پھٹ جائے گا۔ بہرحال جو دوست بیمار ہیں اُنہیں اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے اور جو بیمار نہیں وہ بھی احتیاط رکھیں۔ دیکھو میں تندرستی میں ڈیڑھ ڈیڑھ، دو دو گھنٹہ بھی خطبہ کہہ لیتا تھا لیکن اب بعض دفعہ پانچ چھ منٹ ہی بول سکتا ہوں کیونکہ بیماری کی وجہ سے مجبوری ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے جب قادیان میں احرار کا جلسہ ہوا تو کئی دفعہ ایسا ہوا کہ مَیں خطبہ دینے کے لیے کھڑا ہوا تو عصر کا وقت آگیا اور لوگوں نے کہا کہ جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز بھی پڑھا دیں۔ تو یہ چیز تندرستی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ دوستوں کو چاہیے کہ سردی سے بچاؤ کے لیے اپنے پورے بستر ساتھ لائیں اور کپڑوں کا بھی خیال رکھیں۔

پھر دوستوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اِس دفعہ حکومت کی طرف سے بعض ایسی پابندیاں عائد ہیں جن کی وجہ سے ممکن ہے ہمیں کھانے میں کچھ ردّوبدل کرنا پڑے۔ مثلاً کچھ دن گوشت کے ناغہ کے مقرر ہیں۔ افسرانِ جلسہ سالانہ حکومت کے افسروں سے مل کر کوشش تو کر رہے ہیں کہ ناغہ کے دنوں میں گوشت کی اجازت مل جائے لیکن اگر اجازت نہ ملی تو دال اور آلوؤں پر گزارہ کرنا پڑے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مچھلی کا انتظام کر لیں لیکن اِتنی مچھلی بھی نہیں مل سکتی جو جلسہ سالانہ پر آنے والوں کے لیے کافی ہو سکے۔ آٹے کے متعلق حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ اگر ہم ثابت کر دیں کہ ہمارا خرچ زیادہ ہے تو وہ گندم کی مقدار بڑھا دیں گے مگر سرِدست جو اجازت انہوں نے دی ہے ہمارا خرچ اُس سے زیادہ ہوتا ہے۔ غرض

کھانے میں اگر دوستوں کو کوئی تکلیف ہو تو اُسے برداشت کرنا چاہیے اور اِس کو ثواب سمجھنا چاہیے۔ یہ بھی ایک رنگ کی قربانی ہی ہے۔

اگر گورنمنٹ گوشت کی اجازت نہ دے تو دال اور آلوؤں پر گزارہ کرنا چاہیے۔ اور اگر گندم کی اجازت نہ دے تو دو روٹیوں کی بجائے ایک روٹی پر ہی گزارہ کر لینا چاہیے۔

قادیان میں بھی بعض اوقات گندم کے حصول میں ہمیں مشکلات پیش آجاتی تھیں لیکن باہر سے گندم لانے کی اجازت ہوتی تھی تو مَیں اعلان کر دیا کرتا تھا کہ باہر سے جو احمدی آئیں وہ آٹا یا غلّہ وغیرہ ساتھ لائیں۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر جب مہمان آرہے تھے تو ایک احمدی دوست بوری اٹھائے ہوئے آئے۔ وہ امیر آدمی تھے اور ڈاکٹر تھے۔ مَیں نے کہا ڈاکٹرصاحب! آپ نے یہ بوری کیسی اٹھائی ہوئی ہے؟ انہوں نے کہا آپ نے جو کہا تھا کہ غلّہ لے آؤ۔مَیں آٹا لے آیا ہوں تاکہ جلسہ کے کام آ جائے۔ چنانچہ انہوں نے میرے سامنے ہی آٹا ایک طرف اُتار کر رکھ دیا۔ اب تو وہ فوت ہو چکے ہیں۔ بہرحال بڑے اخلاص سے لوگ آٹا ساتھ لے آتے تھے۔ لیکن اب تو باہر سے گندم لانا بھی منع ہے کیونکہ ہمارے ملک میں غلہ کی بہت کمی ہے۔ حکومت کوشش تو کر رہی ہے کہ پیداوار زیادہ ہو جائے لیکن وہ تو اگلے سال ہی ہو سکتی ہے۔اِس سال کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ اگلے سال کے حالات بھی اِس وقت تک تو خراب ہی نظر آتے ہیں کیونکہ ابھی تک بارش نہیں ہوئی۔ بارش کا یہ اصول ہے کہ اگر دس فروری سے پہلے پہلے ہو جائے تو غلّہ زیادہ ہوتا ہے اور اگر بعد میں ہو تو نئی شاخ نہیں نکلتی اور دانہ موٹا ہو جاتا ہے حالانکہ دانے کی زیادتی شاخ کے پیدا ہونے سے ہوتی ہے۔ اگر اﷲ تعالیٰ فضل کر دے اور دس فروری سے پہلے پہلے بارش ہو جائے تو پھر دانہ بھی موٹا ہو گا اور سِِٹے بھی زیادہ لگ جائیں گے اور اِس طرح پیداوار میں زیادتی ہو جائے گی۔ ٭ مگر یہ حال صرف ہمارے ملک کا ہی نہیں بلکہ بعض دوسرے ممالک کا بھی یہی حال ہے۔ چنانچہ شام کے مبلغ کا خط آیا ہے کہ میں یہاں کے سابق پریذیڈنٹ سے ملا اور اُس سے کہا کہ تم احمدیوں سے دُعا کراؤ کہ بارش ہو جائے۔ اُس نے مجھے لکھا کہ جنرل ناصر (جمال عبدالناصر) کو بھی تحریک کی جائے کہ ہم سے دُعا کرائیں کہ بارش ہو جائے کیونکہ اگر دُعا قبول ہو گئی تو انہیں ہم سے عقیدت ہوجائے گی۔ مَیں نے اُسے لکھا کہ اگرجنرل ناصر کو معجزہ دیکھنے کی خواہش ہوتی تو وہ آپ لکھتے، ہمیں لکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ جس کو اﷲ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتا ہے اُس کے دل میں وہ آپ تحریک کرتا ہے کہ دُعا کی درخواست کرے۔ اگر جنرل ناصر خود لکھتے کہ دُعا کریں مصر اور شام میں بارش ہو جائے تو پھر ہم دُعا بھی کرتے اور خدا کے فضل سے فائدہ بھی ہو جاتا لیکن اگر اُن کے دل میں خود یہ خواہش پیدا نہیں ہوئی تو ہمارا اُنہیں یہ بات لکھنا اپنے آپ کو ذلیل کرنا ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ جو معجزات پہلے ظاہر ہو چکے ہیں اُن سے اُنہوں نے کیا فائدہ اٹھایا ہے؟

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اوراُس نے کہا حضور! میں نے معجزہ دیکھنا ہے۔ مَیں بچہ ہی تھا اور آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمانے لگے پہلے یہ بتائیے کہ خداتعالیٰ جو ہزاروں معجزات دکھا چکا ہے اُن سے آپ نے کیا فائدہ اٹھایا ہے؟ اگر آپ نے اُن معجزات سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا تو خداتعالیٰ آپ کے لیے نیا معجزہ کیوں دکھائے؟ اﷲ تعالیٰ تو اپنے معجزات اُسے دکھاتا ہے جو اُن سے فائدہ اٹھائے۔ خداتعالیٰ ہزاروں معجزات دکھا چکا ہے مگر آپ نے اُن سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور اب آپ نیا معجزہ مانگنے آگئے ہیں، یہ تو اﷲ تعالیٰ کا امتحان لینے والی بات ہے۔ اور خداتعالیٰ طالب علم نہیں کہ اُس کا امتحان لیا جائے۔ آپ خداتعالیٰ کے بندے ہیں۔ اُس نے آپ کے لیے پہلے ہزاروں معجزات دکھائے ہیں مگر آپ نے اُن سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا پھر وہ آپ کو نیا معجزہ کیوں دکھائے؟ (الفضل ۱۹؍دسمبر۱۹۵۸ء)

٭خدا تعالیٰ کے فضل سے اس خطبہ کے بعد کچھ بارش ہوگئی اور گو زیادہ بارش نہیں ہوئی مگر بہرحال کچھ نہ کچھ بارش ہوگئی ہے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: اگر تم چاہتے ہو کہ خداتعالیٰ تمہارے حق میں بھی وہی نشانات دکھائے جو اُس نے انبیاء اور بزرگان کے حق میں دکھائے تھے تو ان کے واقعات کو باربار دہراؤ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button