غزل

کیے ہیں بند دشمن نے جو پاکستان سے جلسے
مگر جاری ہیں دنیا میں خدا کی شان سے جلسے
عجب چَرکے لگاتے ہیں یہ بدخواہوں کے سینوں میں
انہیں دو چار کرتے ہیں کڑے نقصان سے جلسے
لگے رہتے ہیں ٹی وی کے سبھی رنگین پردوں سے
وہ دیوانے کہ سنتے ہیں بڑے ارمان سے جلسے
خدا کا ذکر ہوتا تھا اور اس کے برگزیدوں کا
مزین تھے حدیثوں سے نصِ قرآن سے جلسے
ثنا تعریف یزداں کی سیہ پرچم کے سائے میں
ہوا کرتے تھے ربوہ میں اِسی عنوان سے جلسے
کسی کو بعد مدت کے اگر توفیق دے مولا
گلے ملتے ہیں ہر ترسے ہوئے مہمان سے جلسے
فلک کو چیرتے نعرے دعاؤں کی طوالت بھی
حرارت سے چھلکتے ہیں عظیم الشان سے جلسے
دلوں کو باندھ رکھتے ہیں یہ آپس کی محبت سے
کہیں بولو جو دیکھے ہیں مگر! ایمان سے جلسے
کبھی دیکھو جو آ کر تم ہمارا ایک دن جلسہ
خدا کا دیں سکھائیں گے بڑے جی جان سے جلسے
پکڑ کے ہاتھ امی کا جو انجانے سے دیکھے تھے
مِری یادوں پہ حاوی ہیں وہی انجان سے جلسے
(کے۔ سعید)
مزید پڑھیں: مناجات



