جلسہ سالانہ

جلسہ سالانہ پر Exhibition مارکی میں نمائش روزنامہ الفضل انٹرنیشنل بعنوان ’’الفضل تاریخ احمدیت کا بنیادی ماخذ‘‘ (نمبر تین)(۱۹۵۵ء تا ۱۹۸۲ء)

ادارہ الفضل انٹرنیشنل نے امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی پُرشفقت اجازت سے ’’الفضل—تاریخِ احمدیت کا بنیادی ماخذ‘‘ کے عنوان سے اپنی تیسری تاریخی نمائش کا اہتمام کیا ہے۔ یہ نمائش جلسہ سالانہ برطانیہ کے تینوں دنوں کے لیے پیش کی گئی ہے اور آن لائن استفادہ کے لیے بھی مہیا کی گئی ہے۔ اس سلسلہ کی پہلی نمائش میں ۱۹۱۳ء سے ۱۹۳۴ء اور دوسری نمائش میں ۱۹۳۴ء سے ۱۹۵۵ء تک کے واقعات پیش کیے گئے تھے، جبکہ موجودہ نمائش میں ۱۹۵۵ء سے ۱۹۸۲ء تک کے دور، یعنی حضرت مصلح موعودؓ کے سفرِ یورپ کے بعد سے خلافتِ ثالثہ کے اختتام تک، جماعتی تاریخ کو الفضل کے اصل صفحات کے ذریعے تاریخی انداز میں پیش کیا گیاہے۔

اس نمائش کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں تاریخ محض بیان نہیں کی گئی بلکہ الفضل کے اصل شماروں، سرخیوں، تصویروں، اعلانات، اداریوں اور خصوصی نمبروں کی صورت میں ناظرین کے سامنے رکھ دی گئی ہے۔ یوں ہر صفحہ اپنے عہد کی ایک زندہ دستاویز بن کر سامنے آتا ہے۔ یہ صفحات صرف واقعات کی خبریں نہیں بلکہ اپنے زمانے کے جذبات، حالات، جماعتی جدوجہد، قربانیوں، کامیابیوں اور آزمائشوں کے بھی آئینہ دار ہیں۔ ایک اخبار جب کئی دہائیوں تک کسی جماعت کے فکری، روحانی اور اجتماعی سفر کو محفوظ کرتا ہے تو وقت گزرنے کے ساتھ اس کی حیثیت محض اخبار کی نہیں رہتی بلکہ وہ تاریخ کا ایک معتبر ماخذ بن جاتا ہے۔

موجودہ نمائش میں ۱۹۵۵ء سے ۱۹۸۲ء تک کے ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن دور کو مختلف موضوعات کے تحت پیش کیا گیا ہے۔ اس عرصہ میں جماعت احمدیہ نے خلافتِ ثانیہ کے آخری برسوں، خلافتِ ثالثہ کے آغاز اور ایک نئے عالمی تبلیغی دور کا مشاہدہ کیا۔ افریقہ میں جماعتی خدمات کا دائرہ وسیع ہوا، نئی مساجد اور مشن ہاؤسز قائم ہوئے، تبلیغی مراکز مضبوط ہوئے اور جماعت نے مختلف ممالک میں اسلام احمدیت کا پیغام پہنچانے کے لیے نمایاں پیش رفت کی۔

نمائش میں درج ذیل اہم موضوعات کو خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا ہے:

٭… ’’حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے دستِ مبارک سے مساجد و مشن ہاؤسز کا سنگِ بنیاد و افتتاح‘‘

٭… ’’حضرت مصلح موعودؓ کے انتقالِ پُرملال پر احبابِ جماعت اور مرکز کے درمیان رابطے میں الفضل کا کردار‘‘

٭… ’’حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے انتقالِ پُرملال پر احبابِ جماعت اور مرکز کے رابطے میں الفضل کا کردار‘‘

٭… ’’اسلام احمدیت کے نامور سپوت ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کا دنیائے سائنس میں اعلیٰ ترین اعزاز—نوبیل انعام‘‘

٭… ’’حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے دورہ جاتِ مغربی افریقہ ۱۹۷۰ء و ۱۹۸۰ء‘‘

٭… ۱۹۵۵ء سے ۱۹۸۲ء تک شائع ہونے والے الفضل کے بعض خصوصی شمارہ جات

٭… ’’نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم اور نصرت جہاں ریزرو فنڈ کا قیام اور ان کے شیریں ثمرات‘‘

٭… ’’الفضل میں شائع ہونے والی بعض نادر و نایاب تصاویر‘‘

٭… ’’۱۹۷۴ء کے پُرآشوب ایام کا پس منظر و تاریخ، الفضل کے اوراق کی زبانی‘‘

٭… ’’۱۹۷۴ء میں دوسری آئینی ترمیم پر جماعت احمدیہ کا پاکیزہ ردِعمل‘‘

٭… ’’بعض تحریکات‘‘

٭… ’’روزنامہ الفضل کی تاریخ کے چند سنگِ میل‘‘

٭… ’’تبرکات‘‘

٭… ’’صدسالہ احمدیہ جوبلی فنڈ‘‘

٭… ’’خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض پُرمسرت تقریبات کے اعلانات‘‘

٭… بعض بزرگانِ سلسلہ کے اعلاناتِ وفات

۱۹۶۵ء اور ۱۹۷۱ء کی پاک بھارت جنگوں میں ملکی دفاع کے لیے الفضل کی مثبت رپورٹنگ

٭… تحریک وقفِ جدید کا آغاز اور اس کے ثمرات

٭… خلافتِ ثانیہ کے آخری دس سال کے چیدہ چیدہ واقعات

٭… اطلاعات، اعلانات اور اشتہارات کی الفضل میں اشاعت

ان موضوعات کے ذریعے ناظرین کو یہ دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ الفضل نے کس طرح مختلف ادوار میں جماعتی زندگی کے ہر اہم پہلو کو محفوظ کیا۔ کہیں یہ امامِ وقت کی آواز بن کر سامنے آتا ہے، کہیں افرادِ جماعت کو اہم تحریکات اور منصوبوں سے آگاہ کرتا ہے، کہیں جماعتی کامیابیوں کی خوشخبری سناتا ہے اور کہیں آزمائش کے وقت صبر، دعا اور قربانی کا پیغام پہنچاتا ہے۔

نمائش کا ایک اہم حصہ حضرت مصلح موعودؓ کے انتقالِ پُرملال کے بعد جماعتی حالات اور مرکز و افرادِ جماعت کے درمیان رابطے میں الفضل کے کردار سے متعلق ہے۔ ایسے مواقع پر اخبار نے نہ صرف خبریں پہنچائیں بلکہ جماعت کے افراد کے جذبات کی ترجمانی بھی کی۔ اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے انتقال کے موقع پر بھی الفضل نے جماعتی تاریخ کے اس عظیم اور غم انگیز مرحلے کو محفوظ کیا۔ ان صفحات میں غم، وفا، اطاعت اور خلافت سے وابستگی کے جذبات نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

نمائش میں ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی عالمی سطح پر عظیم کامیابی کو بھی نمایاں مقام دیا گیا ہے۔ ان کا نوبیل انعام حاصل کرنا دنیائے سائنس میں ایک غیر معمولی واقعہ تھا اور جماعت احمدیہ کے لیے بھی ایک تاریخی اعزاز کی حیثیت رکھتا تھا۔ الفضل کے صفحات نے اس کامیابی کو محفوظ کر کے آنے والی نسلوں کے لیے یہ پیغام محفوظ کر دیا کہ علم، تحقیق، محنت اور بلند مقصد کے ساتھ وابستگی انسان کو عالمی سطح پر نمایاں مقام عطا کر سکتی ہے۔

اسی طرح نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم، نصرت جہاں ریزرو فنڈ اور تحریک وقفِ جدید جیسے منصوبے جماعتی تاریخ میں خدمتِ دین اور تبلیغ کے نئے ابواب کھولنے والے ثابت ہوئے۔ ان تحریکات کے نتیجے میں افریقہ اور دنیا کے دیگر خطوں میں جماعتی خدمات کا دائرہ وسیع ہوا۔ الفضل نے ان تحریکات کے مقاصد، پیش رفت اور ثمرات کو اپنے صفحات میں جگہ دی اور افرادِ جماعت کو ان عظیم منصوبوں میں عملی شرکت کی طرف متوجہ کیا۔

۱۹۷۴ء کے پُرآشوب حالات بھی اس نمائش کا ایک اہم موضوع ہیں۔ الفضل کے صفحات میں اس دور کے واقعات، جماعتی ردِعمل اور افرادِ جماعت کے جذبات محفوظ ہیں۔ ان صفحات کا مطالعہ یہ احساس دلاتا ہے کہ تاریخ صرف بڑے سیاسی فیصلوں کا نام نہیں بلکہ ان فیصلوں کے نتیجے میں پیش آنے والے حالات، افراد کی قربانیاں اور جماعتی ثابت قدمی بھی تاریخ کا لازمی حصہ ہیں۔

۱۹۶۵ء اور ۱۹۷۱ء کی پاک بھارت جنگوں کے دوران الفضل کی رپورٹنگ بھی اس امر کی عکاس ہے کہ اخبار نے قومی حالات سے خود کو الگ نہیں رکھا۔ ملکی دفاع، قومی سلامتی اور عوامی حوصلے کے حوالے سے مثبت اور ذمہ دارانہ اندازِ تحریر اپنایا گیا۔ اس طرح الفضل نے اپنے قارئین کو نہ صرف جماعتی حالات سے باخبر رکھا بلکہ قومی حالات کے بارے میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔

نمائش کا مجموعی تاثر

یہ نمائش دراصل ۱۹۵۵ء سے ۱۹۸۲ء تک جماعت احمدیہ کی اجتماعی زندگی کا ایک جامع منظرنامہ پیش کرتی ہے۔ اس میں خلافتِ ثانیہ کے آخری دور، خلافتِ ثالثہ کے آغاز، عالمی تبلیغ، افریقہ میں خدمتِ انسانیت، مساجد کے قیام، علمی اعزازات، قومی بحرانوں، مخالفت، قربانی، تحریکات اور جماعتی خوشیوں کو اصل اخباری صفحات کے ذریعے محفوظ کیا گیا ہے۔

الفضل نے اس عرصہ میں امامِ وقت کی آواز کو دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچایا، افرادِ جماعت کو حالات سے باخبر رکھا، مخالفانہ پروپیگنڈا کا جواب دیا، جماعتی اتحاد کو مضبوط کیا اور تاریخِ احمدیت کے ایک بڑے حصے کو محفوظ کر دیا۔ اسی بنا پر نمائش کا عنوان ’’الفضل—تاریخِ احمدیت کا بنیادی ماخذ‘‘نہایت موزوں اور حقیقت پر مبنی معلوم ہوتا ہے۔

یہ نمائش نئی نسل کے لیے ایک دعوتِ مطالعہ بھی ہے کہ وہ الفضل کو صرف ایک اخبار نہ سمجھے بلکہ اسے خلافت، جماعت اور تاریخِ احمدیت کے درمیان قائم ایک زندہ، معتبر اور مسلسل رابطہ سمجھے۔ آج جب معلومات کے ذرائع بے شمار ہیں اور خبریں لمحوں میں دنیا بھر میں پھیل جاتی ہیں، ایسے میں ماضی کے ان اصل اخباری صفحات کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ صفحات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تاریخ کو محفوظ کرنا دراصل اپنی شناخت، اپنی روایات اور اپنے اجتماعی حافظے کو محفوظ کرنا ہے۔

اس اعتبار سے الفضل کی تاریخی نمائشیں صرف ماضی کی جھلکیاں دکھانے کا ذریعہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو اپنے شاندار ماضی سے جوڑنے کی ایک مؤثر کوشش ہیں۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا اور تاریخِ احمدیت کے مزید ادوار الفضل کے صفحات کی روشنی میں ناظرین کے سامنے پیش کیے جاتے رہیں گے۔ ان شاءاللہ

(رپورٹ:احسان احمد۔ ٹیم الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button