جلسہ سالانہ

احمدیہ آرکائیو اینڈ ریسرچ سینٹر (ARC) کی تاریخی نمائش

Ahmadiyya Archive and Research Centre میں جماعت احمدیہ کی تاریخ سے متعلق ایک منفرد اور معلوماتی نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ نمائش جماعت احمدیہ کے تاریخی، علمی، صحافتی اور ثقافتی ورثے کے ان متعدد گوشوں کو اجاگر کرتی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہو گئے ہیں۔ نادر کتب، قدیم اخباری تراشوں، تاریخی نقشہ جات، نایاب تصاویر اور محفوظ آڈیو ریکارڈنگز پر مشتمل یہ نمائش ماضی سے حال کے درمیان ایک ایسا پُل فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے احباب، جماعت احمدیہ کی تاریخ کے مختلف ادوار اور اہم مراحل سے واقف ہو سکتے ہیں۔

نمائش میں جماعت احمدیہ کے بارے میں مغربی دنیا میں شائع ہونے والے ابتدائی تاریخی مواد کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ مغربی اخبارات میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی عظیم الشان تصنیف براہین احمدیہ کے حوالے سے شائع ہونے والے مضامین اور خبروں کے تراشے اس امر کا تاریخی ثبوت پیش کرتے ہیں کہ آپؑ کی دعوت اور جماعت احمدیہ کی سرگرمیوں نے اپنے ابتدائی دور ہی سے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔ اسی سلسلہ میں جماعت احمدیہ کے بارے میں شائع ہونے والی بعض قدیم انگریزی کتب کے نایاب نسخے بھی نمائش میں پیش کیے گئے ہیں۔ ان میں والٹر کی کتاب The Ahmadiyya Movement، مطبوعہ ۱۹۱۸ء، اور The Religious Quest of India، مطبوعہ ۱۹۳۰ء، خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ یہ قدیم کتب جماعت احمدیہ کے بارے میں ابتدائی مغربی مطالعات اور اس دور کے فکری و مذہبی ماحول کا ایک اہم تاریخی ریکارڈ ہیں۔

نمائش کا ایک دل چسپ اور قابلِ توجہ حصہ ان ممتاز شخصیات کی تصاویر اور تعارف پر مشتمل ہے جنہوں نے قادیان کا دورہ کیا۔ ان میں معروف شاعر و مفکر محمد اقبال، سر فضل حسین، خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان اور متعدد مغربی شخصیات شامل ہیں۔ یہ تصاویر اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ قادیان نہ صرف جماعت احمدیہ کا روحانی مرکز ہے بلکہ مختلف علمی، سیاسی، ادبی اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے لیے بھی تاریخی اہمیت کا حامل رہا ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تصانیف کے اولین مطبوعہ نسخوں کی تصاویر بھی اس نمائش کی ایک نمایاں خصوصیت ہیں۔ ان کے ذریعے احباب کو جماعت احمدیہ کے عظیم علمی ورثے کے ابتدائی اشاعتی سفر کی ایک جھلک دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اسی طرح بٹالہ اور قادیان کے نادر و نایاب تاریخی نقشہ جات بھی نمائش میں شامل ہیں جو ان علاقوں کی جغرافیائی اور تاریخی اہمیت کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

نمائش کے ایک حصے میں منتخب تاریخی آڈیوز سننے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ ان میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی منتخب تقاریر شامل ہیں۔ علاوہ ازیں حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی جلسہ سالانہ ۱۹۵۶ء، حضرت فتح محمد سیال صاحبؓ کی جلسہ سالانہ ۱۹۵۹ء، حضرت قدرت اللہ سنوری صاحبؓ کی جلسہ سالانہ ۱۹۶۴ء، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی جلسہ سالانہ ۱۹۵۹ء اور ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب ؓکی جلسہ سالانہ ۱۹۶۴ء کی تقاریر بھی تصاویر اور تعارف کے ساتھ پیش کی گئی ہیں۔

نمائش میں شامل بعض اہم اخباری تراشے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دورۂ یورپ اور لندن میں مسجد فضل کے حوالے سے شائع ہونے والے تاریخی مواد پر مشتمل ہیں۔ یوں یہ نمائش محض تاریخی اشیا کی نمائش نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کے علمی، روحانی اور تاریخی ورثے کی ایک جامع جھلک ہے۔ اس کے ذریعے محفوظ کیے گئے یہ نادر آثار نہ صرف ماضی کے اہم واقعات کو زندہ رکھتے ہیں بلکہ آئندہ نسلوں، محققین اور تاریخ سے شغف رکھنے والے قارئین کے لیے بھی ایک قیمتی علمی سرمایہ ہیں۔

(رپورٹ:احسان احمد۔ ٹیم الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button