میری ماں میری جنت۔ مریم محمود صاحبہ
(قرة العین بشریٰ۔ لندن)
دنیا بھی اک سرا ہے بچھڑے گا جو ملا ہے
گر سو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے
دنیا کے ہر انسان کو لازماً اپنے والدین سے بہت پیار ہوتا ہے۔ خصوصًا ماں کا رشتہ اپنے بچوں سے ایک الگ نمایاں اور خاص ہو تا ہے اور جیسا پیار ماں اپنے بچوں سے کرتی ہے اس کی مثال کسی اَور رشتے میں نظر آہی نہیں سکتی ہے۔ تبھی خدا نے اپنے بندوں سے پیار کے اظہار کو ماں کے پیار سے تشبیہ دی ہے جو کہ سب سے اعلیٰ اور افضل ہے اور کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ستّر ماؤں سے بڑھ کر اپنے بندے کو پیار کرتا ہے۔
ہماری امی کو ہم سے بچھڑے تین سال سے زائدعرصہ بیت گیا ہے۔ ہماری امی ایک بہت ہی پیار کرنے والی اور ایک بہت پیارا وجود تھیں۔ میرا مقصد اپنی امی کے بارے میں لکھنے کا ایک طرف تو ان کی یادیں تازہ کرنا ہے اور دوسری طرف ایک صدقہ جاریہ کے طور پر رقم کرنا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ ہم بہن بھائیوں کو بھی توفیق دے کہ ہم امی کی طرح اپنے بچوں کے لیے نیک مثال بن سکیں۔
میری امی مریم محمود صاحبہ اہلیہ محمود مجیب اصغر صاحب کی پیدائش یکم جنوری ۱۹۴۹ء کو ہوئی۔آپ ایک بہت ہی قابل احترام، با اخلاق، بہادر ، باہمت، خوب سیرت، خوب صورت، دل کی بےحد نرم، در گزر کرنے والی، زندہ دل، ہنس مکھ اور غریب پرور خاتون تھیں۔یہ سب خصوصیات مبالغہ نہیں ہے بلکہ یہ سب تمام صفات اللہ کے فضل سے امی میں پائی جاتی تھیں۔ میں نے بچپن سے ہی امی کو بہت ہی پیارے طریقے سے نماز کو سنوار سنوار کے ادا کرتے ہوئے دیکھا اور ہمیشہ جماعت کے کام کرتے اور دعائیں کرتے دیکھا۔ ابو جان بتاتے ہیں کہ شادی کے بعد سب سے اچھی چیز جو میں نے تمہاری ماں میں دیکھی وہ یہ تھی نماز وقت پر اور بہت اچھے طریقے سے ادا کیا کرتی تھیں۔
میں نے امی کو ہمیشہ جماعتی کاموں میں مصروف پا یا۔ مثلاً جماعتی ڈیوٹیاں دینا، محلے کے بچوں کو قرآن کریم پڑھانا، ربوہ کے گردونواح میں دعوت الی اللہ کے لیے جانا، تربیتی کلاسز میں پڑھانا اور جو بھی جماعتی کام یاڈیوٹی ہونی اس کے لیے خوشی خوشی اپنے آپ کو پیش کرنا اور یہ سب کام تو امی کی زندگی کا معمول تھے اور امی دین کو ہمیشہ دنیا پر ترجیح دیا کرتی تھیں اور اللہ تعالیٰ نے امی کو اپنے فضل سے دنیا کی بے حد نعمتوں سے بھی خوب نوازا تھا۔الحمدللہ
امی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حلقہ دارالصدر شمالی حلقہ الف میں بطور صدر لجنہ آٹھ سال خدمت کرنے کی توفیق دی۔ اس سے پہلے بطور جنرل سیکر ٹری اور بطور سیکرٹری تحریک جدید اور وقف جدید کے طور پر بھی خدمت کرنے کا موقع ملا۔
ہمارا گھر ہمیشہ جماعتی پروگراموں کے لیے حاضر رہتا تھا اور امی کو اس بات کی بے حد خوشی ہوتی تھی کہ ان کا گھر جماعتی کاموں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور امی کے گھر نہ صرف حلقہ کے بلکہ پورے صدر بلاک کے بھی کئی پروگرام ہوئے ہیں۔ امی کہتی تھیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعتی سرگرمیوں کی لیے میر اگھر استعمال ہو رہا ہے۔
ایک بار کسی جماعتی پروگرام کی تیاری کی لیے میٹنگ ہو رہی تھی اور مشورہ جات لیے جارہے تھے کہ کس کے گھر پر پروگرام رکھا جائے تو امی نےکہا کہ میر اگھر حاضر ہے۔ اس پر ایک ممبر نے برجستہ کہا کہ “ آپا مریم! تھوڑی میٹنگز اور پروگرام ہوئے ہیں آپ کے گھر میں؟‘‘
دعوت الی اللہ کا شوق تو امی کو وراثت میں اپنے دادا حضرت ماسٹر سردار عبد الرحمان مہر سنگھؓ صحابی حضرت مسیح موعودؑ اور اپنے ابا ڈا کٹر سردار نذیراحمد صاحب سے ملا تھا اور بہت جذبے اور خوشی کے ساتھ امی کسی نہ کسی حلقے کی ممبر کولے کر دعوت الی اللہ کرنے جایا کرتی تھیں۔ بعض اوقات سخت گرمی کے موسم میں بھی چلی جایا کرتی تھیں جو کہ بظاہر بہت مشکل ہو تا تھا مگر امی بہت شوق سے جاتی تھیں اور کہتی تھیں کہ میں تبلیغ کرنے جاتی ہوں تو پیچھے سے میرا اللہ میرے سب کام کر دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے امی کے کام ہو بھی جاتے تھے۔ امی کو اللہ تعالیٰ پر تو کل بھی بے حد تھا۔
جب امی صدر تھیں تو وقت بے وقت گھر کی گھنٹی بجنی جس میں جماعتی کاموں کے علاوہ لوگ اپنی ذاتی پریشانیاں بھی لے کر امی کے پاس آیا کرتے تھے۔ بعض اوقات گرمیوں میں دو پہر کو بھی لوگ آجایا کرتے تھے اور مجھے ہو تا تھا کہ کیوں لوگ دو پہر کو آرام کرنے کے وقت آجاتے ہیں تو امی مجھ کو ڈانٹ دیا کرتی تھیں کہ میر افرض ہے کہ میں سب کی بات سنوں وہ جس وقت مرضی آئیں۔
امی میرے پاس گرمیوں میں آجایا کرتی تھیں اور جب بھی موقع ملتالوگوں کو تبلیغ کرنا شروع کر دیتی تھیں۔ جماعتی لیف لیٹس دیا کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ دیکھو یہاں پر کتنی آزادی سے انسان تبلیغ کر سکتا ہے۔ پاکستان میں تو اب ہم ایسے کھلم کھلا تبلیغ نہیں کر سکتے ہیں۔ اس بات کا فائدہ ہر احمدی کو اٹھانا چاہیے اور یہاں پر خوب تبلیغ کرنی چاہیے اور میرے بچوں کے ساتھ جا کر کئی جگہوں پر امی نے لیف لیٹس تقسیم کیے اور جماعت کاتعارف کروایا۔
امی کی بہت سی خوبیوں میں ایک نمایاں خوبی یہ تھی کہ امی بہت غریب پرور تھیں۔ گھر پر ہر وقت غرباء کا آنا جانا لگارہتا تھا اور امی سب کی مدد کرنے کی حتّی الوسع کوشش کرتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے توفیق بھی دی ہوئی تھی اور ابو نے بھی کبھی منع نہیں کیا اور نہ کبھی پوچھا کہ کتنی رقم کب اور کہاں خرچ کی ہے۔ امی کہتی تھیں کہ اللہ مجھے بغیر گنے دیتا ہے تو میں کیوں حساب کروں؟
امی کو اپنا کام نہ صرف خود کرنے کی عادت تھی بلکہ وہ تو اپنے بچوں اور بچوں کے بچوں کے بھی کام کر دیا کرتی تھیں۔ اپنے بچوں کے گھروں میں جب جاتیں تو نہ صرف اپنے کام کرتیں بلکہ ان کے کام بھی کر دیا کرتیں۔ بجائے یہ کہ ہم امی کی خدمت کرتے الٹا امی نے ہماری خدمت کی۔ سوائے اپنی بیماری کے امی نے ساری زندگی اپنے بچوں کی خدمت کی۔ اب سوچتی ہوں تو رونا آتا ہے کہ ہم نے تو امی کے لیےکچھ بھی نہیں کیا۔ میرے پاس جب آتیںتو سارا کچن سنبھال لیتی تھیں اور بے شمار دوسرے کام بھی اپنے ذمے لے لیتیں۔ میرے بچوں کو کئی دفعہ سکول چھوڑنا اور لینا۔ میرے بچوں سے تو امی کو بے حد پیار تھا۔ ان کا بہت خیال رکھا کرتی تھیں۔ میرے بچے بھی اپنی نانو سے بہت پیار کرتے تھے اور بہت زیادہ یاد کرتے ہیں۔
امی کو دوسروں کا بھی بے حد خیال رہتا تھا۔ میرے پاس جب آتی تھیں تو اپنے لیے زیادہ کچھ نہیں لیتی تھیں بلکہ غرباء اور جاننے والوں کے لیے کچھ نہ کچھ لے کر جاتی تھیں۔ غرباء کی تو با قاعد ہ لسٹ ہوا کرتی تھی کہ فلاں فلاں کے لیے یہ یہ چیز لے کر جانی ہے۔ ایک بار خاص طور پر کہا کہ بازار لے کر چلو خادم مسجد کی بیوی کے لیے تحفہ خریدنا ہے۔
امی نہ صرف ہم سب کی ہر دلعزیز تھیں بلکہ کسی کی پسندیدہ خالہ، کسی کی پسندیدہ پھوپھی، کسی کی پسندیدہ آپا مریم ،کسی کی پسندیدہ آنٹی تو کسی کی پسندیدہ بڑی باجی تھیں۔ جو بھی امی سے ایک بار ملتا ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔ امی کی وفات پر میری ربوہ والی بہن کو بہت سے لوگوں نے کہا کہ آپا مریم کی ایک بہت بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بہت با اخلاق خاتون تھیں۔
مجھے اور میرے بہن بھائیوں کو ہمیشہ نصیحت کیا کرتی تھیں کہ اللہ سے دل لگاؤ یہ دنیا عارضی ہے اور قرآن کریم بہت پڑھا کرو۔ ہماری امی ہم سب بہنوں کی ماں ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھی سہیلی بھی تھیں۔ میری پیاری امی، میری سہیلی، میری غمگسار، اب ہم میں نہیں ہیں۔ امی کی یاد ہر وقت آتی ہے اور دل بے قرار ہو جاتا ہے۔
بلانے والا ہے سب سے پیارا
اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر
مرکز میں رہنے کی وجہ سے اکثر رشتہ دار اور خصوصاً ابو کے جاننے والے ربوہ آتے تھے تو امی سب کی بہت اچھے طریقے سے مہمان نوازی کیا کرتی تھیں جس پر مہمان ازحد شکرگزار ہوتے۔
امی کو چونکہ اللہ تعالیٰ پر بےحد تو کل تھا اس لیے اپنی آخری بیماری کے باوجود کبھی بھی مایوسی کا اظہار نہیں کیا بلکہ اللہ کا شکر ہی ادا کرتی تھیں۔ آپ کووفات سے کچھ ماہ پہلے جب چھوٹے بھائی کے پاس سویڈن لایا گیا تو وہاں پر جب علاج کے لیے ہسپتال جاتی تھیں یا گھر پر نرسیں آتی تھیں تو امی ان کو بھی تبلیغ کیا کرتی تھیں اور جماعت کا تعارف کرواتی تھیں۔ نرسیں بھی امی کو مل کر بہت خوش ہوتی تھیں اور کہتی تھیں کہ آپ بہت اچھی خاتون ہیں۔
امی کو چونکہ قرآن کریم پڑھنے اور پڑھانے کا بہت شوق تھا اس لیے اپنی بیماری میں جب طبیعت ذرا بہتر ہوتی تو اپنے پوتے کو قرآن کریم پڑھاتی تھیں۔ اس کو مطلب سمجھاتیںاور بتاتی تھیں کہ دیکھو اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہ کہہ رہا ہے۔
امی کہا کرتی تھیں کہ دعا کرو میں ٹھیک ہو جاؤں، اللہ مجھے صحت دے تاکہ میں پہلے کی طرح گھر کے کام کاج کروں، بچوں کو قرآن کریم پڑھاؤں اور یہاں پر تبلیغ کروں۔ یہ بھی اللہ کا فضل اور احسان ہے کہ شدید بیماری کے باوجود اللہ نے امی کو ہمت سے رکھا ہوا تھا۔ آخری وقت تک سب کو فون پر مشورے دینا، سب بچوں سے بات کرنا جاری رہا ۔
امی نے اپنی زندگی میں بہت سے ممالک کی سیر کی۔ اس پر وہ بہت خوش بھی ہوتی تھیں مگر کہا کرتی تھیں کہ مجھے اصل سکون ربوہ جا کر ہی آتا ہے۔ آخری دنوں میں اپنے گھر، اپنے بچوں اورربوہ کو بہت زیادہ یاد کرتی تھیں۔ آپ کے کُل نو بچے تھے۔ سات بیٹیاں اور دو بیٹے۔
امی کو چندہ جات وقت پر ادا کرنے کی ہمیشہ سے عادت تھی اور سب بہن بھائیوں کو بھی یہی عادت ڈالی کہ وقت پر چندہ جات ادا کیا کرو۔ مجھے یاد ہے کہ جب حضور انور کا تحریک جدید اور پھر وقف جدید کے نئے سال کا خطبہ جمعہ آتا تھا تو امی خطبے کے فورا ً بعد سیکرٹری صاحبہ کو فون کر کے اپنا وعدہ لکھوا دیا کرتی تھیں اور بہت جلد اس کی ادائیگی بھی کردیا کرتی تھیں۔
آپ کی وفات۲؍مئی ۲۰۲۳ء کو ہوئی۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ آپ کی خواہش تھی کہ بہشتی مقبرہ دارالفضل میں آپ کی تدفین ہو۔ چنانچہ اللہ کے فضل سے امی کی یہ خواہش بھی پوری ہوئی اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی شفقت اور اجازت سے امی کی تدفین بہشتی مقبرہ دار الفضل میں ہی ہوئی۔
امی کی وفات پر بے شمار لوگوں نے ہم سب سے تعزیت کی اور امی کی بے شمار اچھائیاں بیان کیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی زوجہ محترمہ آپا جان امۃ السبوح بیگم صاحبہ امی کی بچپن سے جاننے والی اور اچھی سہیلی ہیں۔ انہوں نے مجھے امی کے حوالے سےکہا کہ وہ ایک بہت اچھی خاتون تھیں اور انہوں نے جماعت کی بہت خدمت کی ہے۔ اور دعا دی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب بہنوں کو آپ کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میری امی کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین ثم آمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خدا نے ثابت کیا کہ میں ہوں!



