خلاصہ خطبہ جمعہ

توکّل علیٰ اللہ کے حوالے سے سیرت النبیﷺ کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۱۱؍ستمبر ۲۰۲۶ء

٭… آنحضرتؐ کی ہر وقت الله تعالیٰ پر ہی نظر رہتی تھی

٭… رسولِ کریمؐ  کو خدا تعالیٰ پر ایسا توکّل تھا کہ ہر مصیبت اور مشکل کے وقت اُسی پر نظر رکھتے اور اُس کے سوا ہر شے سے توجہ ہٹا دیتے (حضرت مصلح موعودؓ)

٭… چچا! مَیں تو نہیں کہتا کہ آپ میری مدد کریں، آپ بے شک اپنی قوم کا ساتھ دیں، اور مجھے چھوڑ دیں۔خدا کی قسم! اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لا کر کھڑا کر دیں ، تب بھی مَیں خدا کے ذکر سے باز نہیں آؤں گا (حدیث نبویﷺ)

٭… اے زید!تم دیکھو گےکہ الله تعالیٰ ضرور کوئی راہ نکال دے گا۔ اور الله تعالیٰ اپنے دین کا مددگار ہے۔ وہ اپنے نبی کو غالب کر کے رہے گا (حدیث نبویﷺ)

٭… آپؐ کی کمال شجاعت کو دیکھو کہ دشمن سر پر ہے اور آپؐ اپنے رفیقِ صادق صدیق رضی الله عنہ کو فرماتے ہیں:لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۱؍ستمبر ۲۰۲۶ء بمطابق ۱۱؍تبوک ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۱۱؍ستمبر۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔

تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے توکّل علیٰ الله کے حوالے سے گذشتہ جمعے کو بیان کیا تھا۔ آج بھی یہی مضمون ہے۔

مومنوں کو توکّل کی نصیحت کرتے ہوئے آپؐ فرماتے ہیں، جس کی روایت حضرت ابودرداءؓنے کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ جس نے صبح اور شام سات مرتبہ یہ کہا: حَسۡبِیَ اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَھُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ کہ الله میرے لیے کافی ہے، نہیں کوئی قابلِ عبادت مگر وہی، اُس پر مَیں نے توکّل کیا اور وہ عرشِ عظیم کا ربّ ہے۔ تو الله اُس کے لیے کافی ہے، اُس چیز کے لیے جو اِس شخص کو فکر مند کرتی ہے، خواہ وہ اِس میں سچا ہو یا جھوٹا ہو۔

آنحضرتؐ اپنے لیے توکّل کے حوالے سے کس طرح دعا مانگا کرتے تھے۔ اِس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت جابر بن عبدالله رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ جب آپؐ رکوع میں جاتے تو یہ دعا کرتے تھے:اَللّٰھُمَّ لَكَ رَکَعْتُ وَبِكَ اٰمَنْتُ وَلَكَ اَسْلَمْتُ وَعَلَیْكَ تَوَکَّلْتُ اَنْتَ رَبِّیْ خَشَعَ سَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَدَمِیْ وَلَحْمِیْ وَعَظْمِیْ وَعَصْبِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔کہ اے اللہ! مَیں نے تیرے لیے رکوع کیا، اور تجھ پر ہی ایمان لایا، اور مَیں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کیا، اور تجھ پر توکّل کیا۔ تُو ہی میرا ربّ ہے۔ میری سماعت اور بصارت اورخون اور گوشت اور ہڈیاں اور اعصاب اللہ تعالیٰ کے لیے جھک گئے ہیں جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔

پھر ایک روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: جب کبھی مجھے کوئی پریشانی ہوتی تو جبرائیل میرے سامنے ظاہر ہوتا اور کہتا: اے محمد(صلی الله علیہ وسلم)!آپؐ کہیں:تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِیْ لَا يَمُوْتُ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِيْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا۔کہ مَیں نے اُس زندہ ہستی پر توکّل کیا، جو کبھی نہیں مَرے گی۔تمام تعریف الله ہی کے لیے ہے جس نے کبھی کوئی بیٹا اختیار نہیں کیا اور جس کی بادشاہت میں کبھی کوئی شریک نہیں ہوا اَور کبھی اُسے ایسے ساتھی کی ضرورت نہیں پڑی، جو گویا کمزوری کی حالت میں اُس کا مددگار بنتا، اور تُو بڑے زور سے اُس کی بڑائی بیان کیا کر۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ

آنحضرتؐ کی ہر وقت الله تعالیٰ پر ہی نظر رہتی تھی۔

آپؐ کی اِس صفت کے اعلیٰ معیار کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی الله نے ایک تقریر میں بیان فرمایا ہے کہ

رسولِ کریمؐ  کو خدا تعالیٰ پر ایسا توکّل تھا کہ ہر مصیبت اور مشکل کے وقت اُسی پر نظر رکھتے اور اُس کے سوا ہر شے سے توجہ ہٹا دیتے۔

اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپؐ آجکل کے صوفیاءکی طرح اسباب کے تارک نہ تھے۔اسباب کو استعمال کرتے تھے۔ کیونکہ اسباب کا ترک گویا خدا تعالیٰ کی مخلوق کی ہتک کرنا اور اُس کی پیدائش کو لغو قرار دینا ہے۔لیکن اسباب کے مہیا کرنے کے بعد آپؐ بکُلی خدا تعالیٰ پر توکّل کرتے۔ اور گو اسباب مہیا کرتے لیکن اُن پر بھروسہ اور توکّل کبھی نہ کرتے تھے، اور صرف خدا ہی کے فضل کے اُمیدوار رہتے۔

حضرت ابنِ عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ آپؐ ہر ایک گھبراہٹ کے وقت فرماتے: لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبُّ الۡاَرۡضِ وَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الْکَرِیْمِ۔ کوئی معبود نہیں سوائے الله کے، وہ ربّ ہے بڑے تختِ حکومت کا، الله کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ آسمانوں کا ربّ ہے، وہ زمین کا ربّ ہے، وہ بزرگ تخت کا ربّ ہے، یعنی میرا بھروسہ اور توکّل الله تعالیٰ پر ہی ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ مختلف مواقع پر مشرکینِ مکّہ کا آنحضرتؐ کوپیشکش کرنا، یعنی مختلف قسم کے لالچ دینا اور نبی کریمؐ کا الله تعالیٰ پر بے مثال توکّل کرتے ہوئے جواب دینے کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مصلح موعودؓ نےاِن تاریخی واقعات کا نقشہ کھینچتے ہوئے اِس طرح بیان کیا ہے کہ آنحضرتؐ نے جب الله تعالیٰ کی توحید کے متعلق لوگوں کو وعظ کرنا شروع کیا اور شرک کی تردید شروع کی تو مکّے والوں کو یہ بات بہت ناگوار گزری اور آخر ایک دن سمجھوتا کر کےوہ ایک وفد کی صورت میں رسولِ کریمؐ کے چچا ابو طالب کے پاس آئے اور اُنہیں کہا کہ آپ ہماری قوم کے سردار ہیں، آپ کا ہم بہت ادب کرتے ہیں اور آپ کے ادب کی وجہ سے ہم آپ کے بھتیجے کو کچھ نہیں کہتے۔ مگر اب معاملہ حدّ سے گزر گیا ہے۔ اورہم آپ کے پاس اِس لیے آئے ہیں کہ آپ اُس سے اِس معاملہ میں ہماری طرف سے آخری بات کریں، اور پھر وہ باتیں دُہرائیں کہ جو عُتبہ بن ربیعہ نے آنحضرتؐ سے بھی کی تھیں۔ یعنی اعلیٰ گھرانے کا لالچ اور سب سے زیادہ حسین عورت کا لالچ ، روپے کا لالچ، دولت لا لالچ، حکومت کا لالچ ، یہ دے کر اِن لوگوں نے کہا کہ مگر اُس کو کہیں کہ وہ اِتنا لحاظ تو کرے کہ ہمارے بتوں کو بُرا بھلا نہ کہے ۔ہم اُسے یہ نہیں کہتے کہ وہ ہمارے بتوں کو مان لے، ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ ہمارے بتوں کو بُرا بھلا نہ کہے، اور اگروہ اِن باتوں میں سے ہماری ایک بات بھی نہ مانے تو پھر آپ اُس کا ساتھ چھوڑ دیں، ہم خود اُس سے نمٹ لیں گے۔

ابوطالب نے رسولِ کریمؐ  کو بُلوایا اور اِن کی پیشکشوں کا ذکر کرتے ہوئے اُن کے اِس مطالبے کو سامنے رکھا کہ غرض وہ کوئی بھی مطالبہ کرے ، تو ہم اُسے پُورا کرنے کے لیے تیار ہیں ، وہ صرف اِتنا کرے کہ ہمارے بتوں کو بُرا بھلا نہ کہے۔

جب رسولِ کریمؐ نے اپنے چچا کی یہ حالت دیکھی ، تو اُن کے احسانات کو یاد کر کے آپؐ کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ مگر آپؐ نے فرمایا:

چچا! مَیں تو نہیں کہتا کہ آپ میری مدد کریں، آپ بے شک اپنی قوم کا ساتھ دیں، اور مجھے چھوڑ دیں۔خدا کی قسم! اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لا کر کھڑا کر دیں ، تب بھی مَیں خدا کے ذکر سے باز نہیں آؤں گا۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ یہ الله تعالیٰ کی ذات پریقین کامل توکّل کا وہ مقام ہے جو کہیں نظر نہیں آتا۔

اِس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بیان فرماتے ہیںکہ جب یہ آیتیں اُتریں کہ مشرکین رِجس ہیں، پلید ہیں ،شرالبریّہ ہیں یعنی بدّترین مخلوق ہیں ، سفہاء ہیں یعنی بے وقوف لوگ ہیں اور ذریّت ِشیطان ہیں اور اُن کے معبود وَقُوْدُ النَّارِ یعنی آگ کا ایندھن ہیں اور حصبِ جہنم ہیں، جہنّم کا ایندھن ہیں، تو ابوطالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بُلا کر کہا کہ اَے میرے بھتیجے! اب تیری دُشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہو گئی ہے اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کردیں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی۔ تُو نے اُن کے عقلمندوں کو سفیہ قرار دیا اور اُن کے بزرگوں کو شرالبریّہ کہا اور اُن کے قابلِ تعظیم معبودوں کا نام ہیزمِ جہنّم یعنی جہنّم کا ایندھن اور وَقُوْدُ النَّارِ رکھا اور عام طور پر اُن سب کو رجس اور ذُریّت ِشیطان اور پلید ٹھہرایا۔ مَیں تجھے خیر خواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دُشنام دہی سے باز آ جا، ور نہ مَیں قوم کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہا کہ اَے چچا! یہ دُشنام دہی نہیں ہے، بلکہ اظہا رِ واقعہ اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے، اور یہی تو کام ہے جس کےلیےمَیں بھیجا گیا ہوں ۔ اگر اس سے مجھے مرنا در پیش ہے، تو مَیں بخوشی اپنے لیے اِس موت کو قبول کرتا ہوں۔ میری زندگی اسی راہ میں وقف ہے۔ مَیں موت کے ڈر سے اظہارِ حقّ سے رُک نہیں سکتا ۔اور اَے چچا! اگر تجھے اپنی کمزوری اور اپنی تکلیف کا خیال ہے ، تو تُو مجھے پناہ میں رکھنے سے دست بردار ہو جا۔ بخدا ! مجھے تیری کچھ بھی حاجت نہیں۔ مَیں احکام الٰہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رُکوں گا۔ مجھے اپنے مولیٰ کے احکام جان سے زیادہ عزیز ہیں۔ بخدا !اگر مَیں اِس راہ میں مارا جاؤں تو چاہتا ہوں کہ پھر بار بار زندہ ہو کر ہمیشہ اِسی راہ میں مرتار ہوں ۔ یہ خوف کی جگہ نہیں، بلکہ مجھے اس میں بے انتہا لذّت ہے کہ اُس کی راہ میں دُکھ اُٹھاؤں ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر کر رہے تھے اور چہرہ پر سچائی اور نورانیت سے بھری ہوئی رقّت نمایاں ہورہی تھی اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر ختم کر چکے تو حقّ کی روشنی دیکھ کر بے اختیار ابو طالب کے آنسو جاری ہو گئے اور کہا کہ مَیں تیری اس اعلیٰ حالت سے بے خبر تھا۔ تُو اور ہی رنگ میں اور اَور ہی شان میں ہے۔ جا !اپنے کام میں لگارہ ، جب تک مَیں زندہ ہوں، جہاں تک میری طاقت ہے ، مَیں تیرا ساتھ دُوں گا۔

اِسی طرح طائف سے واپسی پر آنحضرتؐ کے توکّل کا ایک واقعہ ہے، آپؐ اکیلے ہیں، طائف کے سرداروں کو تبلیغ کے لیے نکلے ہیں۔جنہوں نے ظلم کی اِنتہا کی۔ واپس آتے ہیں۔ بظاہر مکّہ میں بھی داخل ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ ایک خادم ساتھ ہے۔ اور خادم پریشان ہے کہ اب کیا ہو گا؟ لیکن آپؐ کو اپنے ربّ پر پُورا یقین اور پُورا توکّل ہے۔

چنانچہ اِس کا ذکر کرتے ہوئے وہی خادم حضرت زید بن حارثہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب مَیں نے آپؐ کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ یا رسول اللهؐ! اب آپؐ مکّہ میں کیسے داخل ہوں گے، جبکہ وہ آپؐ کو نکال چکے ہیں، تو رسول اللهؐ نے کس شانِ توکّل سے جواب دیا کہ

اے زید!تم دیکھو گےکہ الله تعالیٰ ضرور کوئی راہ نکال دے گا۔ اور الله تعالیٰ اپنے دین کا مددگار ہے۔ وہ اپنے نبی کو غالب کر کے رہے گا۔

چنانچہ نبی کریمؐ نے سردارانِ قریش کو پیغام بجھوائے کہ آپؐ کو اپنی پناہ میں لے کر مکّہ میں داخلے کا انتظام کریں۔ سارے سرداروں نے انکار کیا۔ آخر ایک شریف سردارمطعم بن عدی نے آپؐ کو اپنی پناہ میں مکّہ میں داخل کرنے کا اعلان کیا۔

ہجرتِ نبوی صلی الله علیہ وسلم کے موقع پر توکّل علیٰ الله کے نمونے کیا تھے۔آنحضرتؐ کو جب ہجرت کی اجازت ملی تو آپؐ نے حضرت علی رضی الله عنہ کو اپنے ہجرت کے پروگرام سے آگاہ کرتے ہوئے ان کے سپرد ایک جاں نثارانہ کام یہ کیا کہ آج رات وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترِ مبارک پر وہی سبز یا ایک روایت کے مطابق سُرخ رنگ کی حضرمی چادر اَوڑھ کر سوئیں گے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود لے کر سویا کرتے تھے اور اپنے اِس جاں نثار فدائی خادم کو خدائی تائید و نصرت کی یقین دہانی کراتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ فکر نہ کرنا اور بڑے آرام سے میرے بستر پر سوئے رہنا، دشمن تمہارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔

اِس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے باہر تشریف لائے، جبکہ کفّارِ مکّہ کے چنیدہ بہادر جن کی آنکھوں میں گویا خون اُترا ہوا تھا ، وہ تلواریں ہاتھ میں لیے عین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے باہر چاق و چوبند پہرہ دے رہے تھے کہ کب رات گہری ہو اور ہم دَھاوا بول کر ایک ہی وَار میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گویا کام تمام کر دیں نعوذبالله! اور ابوجہل جو کہ گویا اُن کا سرغنہ تھا، بڑے تکبر اور تمسخر سے یہ کہہ رہا تھا کہ محمد(صلی الله علیہ وسلم) یہ کہتا ہے کہ اگر تم اُس کے معاملہ میں اُس کی پیروی کرو گے تو تم عرب و عجم کے بادشاہ بن جاؤ گے، پھر تم اپنی موت کے بعد اُٹھائے جاؤ گے، تو تمہارے لیے اُردن کے باغات کی مانند باغات بنائے جائیں گے اور اگر تم ایسا نہیں کروگے تو تمہارے درمیان قتل و غارت گری ہو گی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور فرمایا کہ ہاں! ایسے ہی مَیں کہتا ہوں اور سورت یٰسین کی آیات دو تادس پڑھتے ہوئےاور اِن کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے اِن کے سامنے سے نکل گئے۔لیکن خدا کی قدرت کہ آپؐ جاتے ہوئے کسی کو بھی دکھائی نہ دیے ، بلکہ وہ لوگ گاہے گاہے اندر جھانک کر دیکھ لیتے اور اطمینان کر لیتے کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے بستر پر ہی ہیں۔

خطبہ کے آخر میں حضورِ انور نے فرمایا کہ ہجرت کے واقعہ اور آپؐ کے توکّل اور جرأت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیںکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا صدق اُس آگ کے وقت ظاہر ہوا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محاصرہ کیا گیا، گو بعض کی رائے اخراج کی بھی تھی ، لیکن اصل قتل ہی تھا۔ایسی حالت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے صدق اور وفا کا وہ نمونہ دکھلایا جو ابدا لآباد تک کے لیے نمونہ رہے گا۔اِس مصیبت کی گھڑی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انتخاب ہی حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور اعلیٰ وفاداری کی ایک زبر دست دلیل ہے۔اُس وقت آپؐ کے پاس ستّر اسّی صحابہؓ موجود تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آپؐ کے پاس ہی تھے ۔مگر آپؐ نےاُن سب میں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہی منتخب کیا۔ اس بات میں سِرّ کیاہے؟ کیا بھید ہے؟ کیا راز ہے؟بات یہ ہے کہ نبی خدا تعالیٰ کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور اُس کا فہم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتا ہے ۔ اِس لیے اللہ تعالیٰ نے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کشف اور الہام سے بتا دیا تھاکہ اِس کام کے لیے سب سے بہتر اور موزوں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ہیں۔

دشمن غار پر موجود ہیں اور مختلف قسم کی رائے زنیاں ہو رہی ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اِ س غار کی تلاشی کرو کیونکہ نشان پا یہاں تک ہی آکر ختم ہو جا تا ہے ، لیکن اِن میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہاں انسان کا گزر اور دخل کیسے ہو گا؟ مکڑی نے جالا تنا ہوا ہے ، کبوتر نے انڈے دیے ہوئے ہیں، اِس قسم کی باتوں کی آوازیں اندر پہنچ رہی ہیں۔ اور آپؐ بڑی صفائی سے اُن کو سُن رہے ہیں۔ ایسی حالت میں دشمن آئے ہیں کہ وہ خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور دیوانے کی طرح بڑھتے آئے ہیں ، لیکن

آپؐ کی کمال شجاعت کو دیکھو کہ دشمن سر پر ہے اور آپؐ اپنے رفیقِ صادق صدیق رضی الله عنہ کو فرماتے ہیں:لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔

یہ الفاظ بڑی صفا ئی کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں کہ آپؐ نے زبان ہی سے فرمایا ، کیونکہ یہ آواز کو چاہتے ہیں، اشارہ سے کام نہیں چلتا۔ باہر دشمن مشورہ کر رہے ہیں اور اندر غار میں خادم ومخدوم بھی باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اِس اَمر کی پرواہ نہیں کی گئی کہ دشمن آواز سُن لیں گے۔

یہ اللہ تعالیٰ پر کمال ایمان اور معرفت کا ثبوت ہے۔ خدا تعالیٰ کے وعدوں پر پُورا بھروسہ ہے۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِكْ وَسَلِّمْ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button