چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۲۱)
۱۸۷۔ یہ نورِ خدا ہے خدا سے ملا
ارے جلد آنکھوں سے اپنے لگا
نور noor: روشنی Light
یہ اللہ تعالیٰ کا نور ہے جو اس ذات پاک نے عطا فرمایا ہے یہ مقدس چیز ہے اسے جلدی اپنی آنکھوں سے لگاؤ۔ اس کی قدر کو پہچاننے میں تاخیر نہ کرو۔
۱۸۸۔ ارے لوگو تم کو نہیں کچھ خبر
جو کہتا ہوں میں اُس پہ رکھنا نظر
لوگوں کو اس کی حقیقی قدرو قیمت کا اندازہ نہیں ہے۔ میں اللہ سے خبر پاکر جو بتا رہا ہوں اس پر غور کرنا۔ اس کو یاد رکھنا۔
۱۸۹۔ زمانہ تعصب سے رکھتا ہے رنگ
کریں حق کی تکذیب سب بیدرنگ
تعصب taassub: بےجا حمایت، طرفداری، ضد، ہٹ دھرمی Religious prejudice، bias
تکذیب takzeeb: جھوٹا قرار دینا To deny the truth
بے درنگ be deraNg: جلدی، بغیر تامل کے Without any hesitation، without any qualms of conscience
لوگوں کا دستور ہے کہ وہ اپنے پرانے راستوں پر چلتے رہنے کی ضد پر ڈٹے رہنے کی وجہ سےحق کو جلدی قبول نہیں کرتے سچائی کو بے خوف ہوکر بغیر کسی تأمل کے جھٹلادیتے ہیں۔
۱۹۰۔ وہی دیں کے راہوں کی سنتا ہے بات
کہ ہو متقی مرد اور نیک ذات
متقی muttaqi: پارسا نیک، Pious
دین کی باتیں وہی سنتا ہے جس کا دل صاف ہو، خوف خدا رکھتا ہو، فطرت میں نیکی ہو
۱۹۱۔ مگر دوسرے سارے ہیں پُرعناد
پیارا ہے ان کو غرور اور فساد
پُرعناد pur‘inaad: دُشمنی سے بھرپور، Full of enmity
غرور ghuroor: تکبر، گھمنڈ Pride، haughtiness، vanity، vainglory
مگر ان کے علاوہ سب کے دل دین کی دشمنی سے بھرے ہوتے ہیں وہ متکبر ہوتے ہیں، خود پسند ہوتے ہیں اور لڑائی جھگڑا ان کو پسند ہوتا ہے۔
۱۹۲۔ بناتے ہیں باتیں سراسر دروغ
نہیں بات میں اُن کی کچھ بھی فروغ
دروغ durogh: جھوٹ، کذب، بہتان Falsehood
فروغ furogh: روشنی، منطق brightness، Logic
اپنے دل سے جھوٹی باتیں بنا لیتے ہیں ان کی باتوں میں کوئی منطق ،سچائی اور روشنی نہیں ہوتی
۱۹۳۔ بھلا بعد چولے کے اے پُرغرور
وہ کیا کسر باقی ہے جس سے تو دور
غرور ghuroor: تکبر، گھمنڈ، گمان Haughtiness، conceit، arrogance، pride
اے متکبر شحص چولہ پر لکھی سچائی دیکھ لینے کے بعد کیا کسر باقی ہے جس نے تجھے دور رکھا ہواہے۔
۱۹۴۔ تو ڈرتاہے لوگوں سے اے بے ہنر
خدا سے تجھے کیوں نہیں ہے خطر؟
بے ہنر be hunar: نا لائق Unskillfull، inapt
khatar خطر: خوف، خطرہ، ڈر Fear، danger
اے نالائق ! سب کچھ جان لینے کے بعد تجھے کس بات نے حق سے دور رکھا ہوا ہے۔ تم اس بات سے خوف زدہ ہوتے ہو کہ دنیا کیا کہے گی اس بات سے کیوں نہیں ڈرتے کہ اللہ تعالیٰ کیا کہے گا۔
۱۹۵۔ یہ تحریر چولہ کی ہے اک زبان
سنو وہ زباں سے کرے کیا بیان
چولے کی تحریر زبان حال سے ایک پیغام دے رہی ہے۔ کان لگا کر سنو وہ اپنی زبان سے کیا بیان کر رہی ہے؟
۱۹۶۔ کہ دین خدا دین اسلام ہے
جو ہو منکر اس کا بد انجام ہے
Munkirمنکر: انکار کرنے والا ، نہ ماننے والا One who denies
چولے کی تحریر یہ بیان کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دین اسلام ہے۔ جو اس کا انکار کرے اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔
۱۹۷۔ محمدؐ وہ نبیوں کا سردار ہے
کہ جس کا عدو مثل مردار ہے
عدو’adoo: دُشمن Enemy
مثل misl: مثال، مانند Like، similar
مردار murdaar: فوت شدہ، Dead، a carcass
چولے کی تحریر یہ بیان کر رہی ہے کہ محمد مصطفیﷺ سب نبیوں سے افضل نبی ہیں۔ جو آپؐ انکار کرے وہ ایک لاش کی طرح ہے، اسے زندہ نہیں کہہ سکتے۔
۱۹۸۔ تجھے چولے سے کچھ تو آوے حیا
ذرا دیکھ ظالم کہ کرتا ہے کیا
چولے کو دیکھ کر اپنے انکار پر کچھ تو شرم کرو، ایک کھلی کھلی سچائی کو نہ ماننا بڑا ظلم ہے۔
۱۹۹۔ کہو جو رضا ہو مگر سن لو بات
وہ کہنا کہ جس میں نہیں پکش پات
رضا razaa: خوشنودی، مرضی، آرزو، چاہت، راضی ہونا Pleasure، will، longing، desire، agreeableness
پکش پات pakash paat: جانب داری Bias، partisanship
ہمارا کام تو پیغام پہنچانا ہے آگے جو بھی تم کہو تمہاری مرضی ہے۔ مگر وہ بات کہنا جو حق ہو کسی کی طرف داری یا نا انصافی نہ ہو۔
مزید پڑھیں: وجودِ ملائکہ و شیاطین




