وجودِ ملائکہ و شیاطین
خاکسار کے ناقص علم کے مطابق شیء کا لفظ شَاءَ یَشَاءُ سے ہے۔ شَاءَ کا مطلب ہے اُس نے چاہا۔ پس شَیء کا مطلب ہے چاہی ہوئی چیز، اور عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡر کا مطلب ہے اللہ ہر وہ چیز جو وہ چاہتا ہے اس پر قادر ہے
یہ ۱۹۵۰ء کی دہائی کے نصف آخر کی بات ہے، گرمیوں کی تعطیلات میں خاکسار کے ایک دوست ہارون صاحب جو سوہاوہ کے ایک گاؤں میں سکول ٹیچر تھے اور چھٹیوں میں آئے ہوئے تھے، کہنے لگے میرے کچھ ضروری کاغذات سکول میں رہ گئے ہیں جن کی مجھے اب ضرورت ہے، میں کل وہاں جا کر وہ لانا چاہتا ہوں، اگر آپ پسند کریں تو میرے ساتھ چلیں۔ بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سےوہاں موسم خوشگوار ہے، گرمی نام کو نہیں۔ اس گاؤں میں ان دنوں ایک احمدی دوست کی شہادت ہوئی ہے اور حالات کشیدہ ہیں۔ خاکسار نے کہا اللہ مالک ہے، چلیں گے۔
اگلے دن صبح ہم نے بس میں سفر کا آغاز کیا۔ بس میں ایک ملنگ صاحب بھی تھے، گھنگھرو پہنے ہوئے اور اپنے مخصوص چوغے میں ملبوس۔ خاکسار نے انہیں سلام کیا اور ان سے گفتگو شروع کر دی۔ دورانِ گفتگو خاکسار نے کہا کہ آپ نمازیں ادا نہیں کرتے، اس کی کیا وجہ ہے؟ ملنگ صاحب اس سوال پر ناراض نہیں ہوئے اور خندہ پیشانی سے فرمایا: دو دائرے ہیں۔ ایک شریعت کا دائرہ ہے اور ایک طریقت کا۔ شریعت کے دائرے میں نماز، روزہ، وغیرہ ہیں مگر جو لوگ شریعت کے دائرے کو عبور کر کے طریقت کے دائرے میں آ جاتے ہیں تو وہاں شریعت ساقط ہو جاتی ہے، وہاں نمازیں وغیرہ نہیں ہیں۔ بڑے فاتحانہ شان سے انہوں نے جواب مرحمت فرمایا۔ بس کے مسافر دلچسپی سے گفتگو سن رہے تھے۔ عاجز نے عرض کیا کہ آنحضرت ﷺ تو سار ی عمر نمازیں ادا کرتے رہے اور آخری دن تک شریعت کے دائرے کو عبور کر کے اس سے بلند دائرہ طریقت میں نہ داخل ہو سکے۔ اس پر متبسّم ملنگ صاحب یکایک غضبناک ہو گئے، عاجز نے عرض کیا، ملنگ صاحب معقول سوال ہے، اس کا جواب تو دینا چاہیے۔ مگر انہوں نے کافی شور و غوغا کیا اور بات آگے نہ چل سکی۔
ہم گاؤں پہنچ گئے۔ گاؤں کا نام کیا تھا؟ میرے دوست ہارون صاحب نے اتنا ہی کہا تھا کہ سوہاوہ جانا ہے۔ اور مراد تھی سوہاوہ کے قریب ایک گاؤں میں۔ وہاں گرمی کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ موسم خوشگوار، سڑک پر دونوں طرف بلند درختوں کی قطاریں، بڑا دل آویز منظر تھا۔ ہم سکول پہنچے، ان کے پاس کمرے کی چابی تھی، اپنے کاغذات وغیرہ انہوں نے لیے، فائل میں ڈالے۔ کہنے لگے یہاں ایک احمدی دوست نے ہم دونوں کو دوپہر کے کھانے کی دعوت دی ہوئی ہے۔ کچھ آرام کے بعد ہم ان کے ہاں جائیں گے۔
مناسب وقت پر ہم ان کے ہاں جانے کے لیے چل پڑے۔ خاکسار نے اس گاؤں کو بہت منظّم پایا۔ دکانیں بڑی ترتیب سے ایک قطار میں تھیں، ستھرا گاؤں تھا۔ ہم پیدل جارہے تھے۔ دکاندار اور دیگر افراد ہمیں دیکھ کر بالکل خاموش رہے، کسی نےکوئی نازیبا بات نہ کی، مگر فضا بڑی Tense محسوس ہوئی۔ ہم اُس احمدی دوست کے ہاں پہنچے۔ انہوں نے خوش دلی سے استقبال کیا۔ ہارون صاحب نے خاکسار کا تعارف کرایا۔ کھانے کے بعد ہم نے میزبان کا شکریہ ادا کیا اور وہاں سے رخصت ہوئے۔ راستے میں گاؤں کا ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا۔ میرے دوست نے کہا اس ہوٹل میں چلتے ہیں، اس کا مالک اِن سے راہ و رسم رکھتا تھا۔ مگر جونہی ہم داخل ہوئے تو وہاں ایک گھنی داڑھی والے مولوی صاحب نے ہارون صاحب کو دیکھ کر غصے سے کہا تم مرزائی لوگ حضرت عیسیٰ ؑکو وفات یافتہ مانتے ہو اور خدا کی قدرتوں کا انکار کرتے ہو، اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ۔ خدا ہر چیز پر قادر ہے وہ عیسیٰؑ کو آسمان پر لے جانے پر بھی خوب قادر ہے۔
ہارون صاحب تو خاموش رہے، عاجز نے عرض کیا، مولانا! کیا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے؟ رعب دار آواز میں فرمایا ہاں! اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ عاجز نے عرض کیا مولانا!کیا اللہ تعالیٰ مر جانے پر قادر ہے؟ گرج دار آواز میں فرمایا وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہے، عرض کیا، کیا خدا جھوٹ بولنے پر قادر ہے؟ فرمایا نہیں۔ کیا خدا ایک اَور خدا بنانے پر قادر ہے، بالکل نہیں۔ خاکسار نے عرض کیا تو پھر اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ کا کیا مطلب ہوا؟ فرمانے لگے تم بتاؤ کیا مطلب ہے۔ عرض کیا، میں تو ایک عام نوجوان ہوں، آپ مولانا ہیں، آپ ہی اس کا صحیح مطلب بتائیں۔ وہ خاموش رہے۔ عاجز نے عرض کیا کہ خاکسار کے ناقص علم کے مطابق شیء کا لفظ شَاءَ یَشَاءُ سے ہے۔ شَاءَ کا مطلب ہے اُس نے چاہا۔ پس شَیء کا مطلب ہے چاہی ہوئی چیز، اور عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡر کا مطلب ہے اللہ ہر وہ چیز جو وہ چاہتا ہے اس پر قادر ہے۔ خدا مرنا نہیں چاہتا، خدا جھوٹ بولنا نہیں چاہتا، خدا وعدہ خلافی نہیں کرنا چاہتا۔ پس وہ ایسا ہر گزنہیں کرتا۔ اس پر مولانا خاموش رہے۔ چند سننے والے بھی موجود تھے تاثر تھا کہ انہیں بات سمجھ آگئی ہے۔ اس کے بعد ہم وہاں سے روانہ ہوئے اور سکول آگئے۔
شَیۡءٍ کی یہ تشریح حضرت مصلح موعودؓ کی بیان فرمودہ ہے۔
عصر کے بعد ہم ہوا خوری کے لیے باہر نکلے۔ سیر کے لیے عمدہ ماحول تھا۔ سیر کے دوران ہارون صاحب کا ایک دوست مل گیا۔ ان سے تعارف ہوا۔ وہ صاحب سنی مسلمان تھےمگر فرشتوں اور شیاطین وغیرہ کے وجود کے قائل نہ تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ فرشتوں اور شیاطین سے مراد انسان کی نیکی اور بدی کرنے کی طاقتیں ہیں۔ عاجز نے کہا کہ خاکسار فرشتوں اور شیاطین کا وجود ثابت کرسکتا ہے۔ بڑی دلچسپی سے کہنے لگے کیسے؟
عاجز نے عرض کیا، انسان کو اللہ تعالیٰ نے مختلف قویٰ دیے ہیں۔ مثلاً آنکھ ہے۔ اس میں دیکھنے کی قوت ہے۔ مگر آنکھ ہونا دیکھنے کے لیے کافی نہیں، اس کے لیے روشنی کی بھی ضرورت ہے۔ اگر چہ آنکھ نہایت تندرست ہو مگر روشنی نہ ہو تو آنکھ ہرگز نہیں دیکھ سکتی۔ اور روشنی کوئی فرضی چیز نہیں بلکہ فی الواقع ایک الگ چیز ہے جو دنیا میں موجود ہے۔ اسی طرح کان چاہے جتنے شنوا ہوں، لیکن اگر ہوا یا کوئی اور واسطہ (medium) نہ ہو تو صحت مند ترین کان بھی بے کار ہیں، وہ ہرگز سن نہیں سکتے۔ خاکسار نے انہیں بتایا کہ ہم نےکالج کے زمانے میں اِ س بات کا تجربہ پڑھا تھا۔ ایکbell-jar (شیشے کا بڑا برتن) کے اندر بجلی سے بجنے والی گھنٹی رکھیں جس کا بٹن (switch) برتن سے باہر ہو۔ بٹن دبائیں تو گھنٹی بجےگی اور اس کی آواز سنائی دےگی۔ پھر vacuum pump سے اس برتن سے ہوا خارج کر دیں، اورگھنٹی کابٹن دبائیں تو گھنٹی پر موگری ٹکراتی ہوئی نظر آئےگی، مگر آواز ندارد۔ اس سے ثابت ہوا کہ آواز کے travel کرنے کے لیے ہوا وغیرہ واسطے کی ضرورت ہے اور یہ ہوا کوئی فرضی چیز نہیں بلکہ ایک چیز ہے جو وجود رکھتی ہے۔
بالکل اسی طرح انسان میں نیکی اور بدی کرنے کی قوتیں ہیں۔ مگر یہ قوتیں اپنا کام کرنے کے لیے کسی واسطے (medium) کی محتاج ہیں، جس کے بغیر قطعاً کام نہیں کرسکتیں۔ انسان چاہے کتنا ہی نیک ہو اور وہ دل و جان سے نیکی کرنا چاہتا ہو، مگر اس کے لیے اسے کسی واسطے کی ضرورت ہےاور وہ واسطہ فرشتے ہیں۔ فرشتے مجبور نہیں کرتے صرف نیکی کے قویٰ ان کی مدد سے کام کرتے ہیں، ان کے بغیر نہیں۔ اسی طرح انسان بدی کر ہی نہیں سکتا جب تک شیطان کا medium نہ ہو۔ اور روشنی اور ہوا کی طرح فرشتوں اور شیاطین کا وجود بھی فرضی نہیں بلکہ فی الواقعہ وہ موجود ہیں۔ وہ دوست اس تشریح سے بہت متاثر ہوئے۔ کہنے لگے کیا کسی نے یہ تشریح لکھی ہے؟ عرض کیا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی معرکۃ الآراء کتاب آئینہ کمالات اسلام میں یہ تشریح لکھی ہے۔ جسے عاجز نے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ کہنے لگے وہ کتاب مجھے مل سکتی ہے۔ عرض کیا بالکل مل سکتی ہے۔ پھر عاجز نے ہارون صاحب سے کہا کہ انہیں وہ کتاب مہیا کر دیں۔
رات ہم نے سکول کے صحن میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں میں آرام سے خدا کی حفاظت میں گزاری۔ صبح بس کے ذریعہ واپس روانہ ہوئے۔
٭… ۱۹۵۰ء کی دہائی کے نصف ثانی کے ابتدا کی بات ہے۔ ان دنوں خاکسار جہلم میں تھا۔ ہمارے ایک دوست مسٹر ہارون جو سکول ٹیچر تھے کہنے لگے، یہاں ایک صاحب ہیں، ہمارے دوست ہیں، جو یوں تو مسلمان ہیں مگر اب خدا کی ہستی کے قائل نہیں رہے، ان کا کہنا ہے کہ منطق (Logic) سے خدا کا وجود ثابت کرکے دکھاؤ۔ کہنے لگے آپ اُس سے اِس موضوع پر بات کریں۔
خاکسار نے کہا ٹھیک ہے۔ اس کام کے لیے ان سے خاکسار کی ملاقات کی کوئی صورت پیدا کرو لیکن اس طرح کہ انہیں یہ نہ کہا جائے کہ ہستی باری تعالیٰ پر گفتگو ہو گی، بلکہ ملاقات کے دوران باتوں باتوں میں اِس طرف گفتگو کا رخ موڑ دیا جائے گا۔
اس پر ہارون صاحب نے دیگر احمدی دوستوں کے ساتھ مل کر نہر اَپر جہلم کے کنارے سائفن (Syphon) پر پکنک کرنے کا پروگرام بنایا جس میں اُس دوست کوبھی مدعو کیا جو بخوشی آمادہ ہو گئے۔
ہم پروگرام کے مطابق دریائے جہلم پر ایک میل لمبا پل سائیکلوں پر عبور کر کے سرائے عالمگیر پہنچ گئے جو اَپر جہلم کے کنارے پر ہے۔ نہر کے پل پر سے گزرنے کی بجائے اس سے قبل بائیں طرف کی سڑک پر مڑ جائیں تو ہم آزاد کشمیر میں ہوتے ہیں۔ اور دائیں طرف کی سڑک پر مطلوبہ سائفن تھوڑے فاصلے پر ہے، جہاں ہم نے پکنک کرنی تھی۔
اس موقع پر مناسب ہے کہ اختصار سے بیان کر دیا جائے کہ نہروں پر یہ سائفن کیاچیز ہے۔ نہروں کے قریب رہنے والے اس سے واقف ہیں اور عام غیر تعلیم یافتہ لوگ اسے سَیْفَل کہتے ہیں۔ نہر میں پانی ایک معین مقدار میں دریا سے ڈالا جاتا ہے۔ اس کام کے لیے نہر نکلنے کے مقام پر ہیڈ (head) قائم کیا جاتا ہے۔ جیسے نہر اَپر جہلم کے لیے منگلا کے مقام پر head قائم کیا گیا ہے۔ اسی طرح نہر لوئر جہلم کے لیے ہیڈ رسول۔ مشینری لگا کر معین مقدار میں نہر کے لیے پانی چھوڑا جاتا ہے۔ برسات کے موسم میں پہاڑی نالوں سے کثیر پانی بہتا ہوا نہر میں آ گرتا ہے جب کہ نالہ نہر سے کچھ اوپر سطح پر ہو۔ ایسے مقام پر پھر ہیڈ قائم کیا جاتا ہے اور مشینری لگا کر اصل معین مقدار میں پانی آگے نہر میں ڈالا جاتا ہے اور فاضل پانی دوسری طرف دریا میں جا گرتا ہے۔ نہر اَپر جہلم کے تعلق میں فاضل پانی دریائے جہلم میں گرتا ہے۔ ایسے ہیڈ ایک سے زیادہ جگہ قائم ہیں۔
لیکن اگر نالہ نہر کی سطح سے بہت نیچے ہو تو ایسی صورت میں نہر کی کھدائی کے دوران ایسے مقام پر نہر کے نیچے سے نالے کا پانی گزارا جاتا ہے۔ وہاں ہیڈ قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ نالے کے اوپر مضبوط کنکریٹ کی چھت ڈال کر نہر کا پانی گزارا جاتا ہے۔ اس تعمیر کو سائفن کہتے ہیں۔ آپ سائفن میں کھڑے ہوں تو آپ کے سر کے اوپر سے ٹنوں پانی گزر رہا ہوتا ہے۔ نیچے شدید گرمیوں کے موسم میں بھی بڑی ٹھندی A.C جیسی خوشگوار فضاء۔ ہماری پکنک سائفن کے نیچے نہیں بلکہ باہر خشک چوڑے نالے میں ریت کے اوپر تھی۔
پکنک خاصی دلچسپ رہی۔ کبڈی کا میچ بھی ہوا۔ لگتا تھا سب شاملین اناڑی ہیں۔ کبڈی بھی ریت کے اوپر جس پر بھاگ دوڑ آسان نہ تھی۔ خاکسار کو بھی کبڈی کھیلنی پڑی۔ مگر Shingo upande یعنی مجبوراً، نہ چاہتے ہوئے۔ مگر جب ایک بھاری بھرکم ’’پہلوان‘‘ کو دھکا دے کر گرا کے خاکسار کامیابی سے اپنی طرف آ گیا تو سب نے خوب انجوائے کیا۔
کھانے کا وقت ہوا تو اوپر نہر کے اجلی اجلی گھاس پر درختوں کے گھنے سائے میں سب نے مل کر کھانا تناول کیا۔ خاکسار نے کہا دیکھو! اللہ کی قدرت کے نظارے۔ خوبصورت نہر میں شفاف پانی جاری ہے، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں، کیا پیارا نظارہ ہے۔ خدا نے انسان کے لیے کیا کیا نعمتیں پیدا کی ہیں۔ خداتعالیٰ ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتا کیونکہ وہ مادی وجود نہیں رکھتا۔ اور مادی چیزوں میں سے بھی کئی اشیاء ظاہر آنکھ سے نظر نہیں آتیں جیسے ہوا وغیرہ۔ مگر ہوا کو ہم محسوس کرتے ہیں ٹھنڈی ہے یا گرم ہے وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ کا وجود بھی منطقی طور پر ثابت ہوتا ہے۔ یہ جو منطق ہے جسے انگریزی میں Logic کہتے ہیں، اس کا ایک کلیہ ہے کہ جو چیز متغیر ہو وہ لازماً عدم سے وجود میں آئی ہے، یعنی پہلے نہیں تھی پھر بعد میں وجود میں آئی۔ اب کائنات ہی کو دیکھ لیں اس میں طرح طرح کے تغیرات ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی دن ہے کبھی رات، زلزلے، آتش فشاں پہاڑ، زمینی و آسمانی آفات۔ اس سے منطقی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ کائنات عدم سے وجود میں آئی ہے۔
اور منطق کا دوسرا کلیہ یہ ہے کہ جو چیز عدم سے وجود میں آئی ہو، اسے ضرور کوئی طاقت معرضِ وجود میں لائی ہے، یعنی خود بخود معرض وجود میں نہیں آئی۔ اس سے منطقی طور پر یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس کائنات کو کوئی طاقت معرض وجود میں لائی ہے۔ اس طاقت کو آپ خدا کہہ لیں، اللہ کہہ لیں یا گاڈ یا پرمیشر۔
ہمارے مہمان دوست غور سے سنتے رہے اور مکمل خاموشی سے، جس سے خیال تھا کہ متاثر ہوئے ہیں، ورنہ تو ہر دلیل پر شدّومدّ سے بحث کیا کرتے تھے۔ یہ محفل اختتام پذیر ہوئی اور ہم کامیاب پکنک سے بخیریت خوش بخوش لوٹے۔ الحمد للہ
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ’’قرآن کریم جواہرات کی تھیلی ہے‘‘



