خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭… امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور ایران پر پابندیوں کے نئے قانون پر دستخط کردیے۔ امریکی میڈیا کے مطابق قانون کے تحت ایران پر موجودہ پابندیوں میں توسیع جبکہ روس کے خلاف پابندیوں، محصولات اور دیگر اقتصادی اقدامات کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔ قانون امریکی صدر کو پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک پر ۱۰۰؍ فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ اس سے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے بل کو ۱۵۹؍کے مقابلے میں ۲۶۲؍ووٹوں سے منظور کیا جبکہ سینیٹ نے بھی ۱۱؍کے مقابلے میں ۸۶؍ ووٹوں سے اس کی منظوری دی تھی۔ نئے قانون کے نتیجے میں روس اور ایران کے خلاف امریکی اقتصادی دباؤ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
٭… افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان پاکستان سے بات چیت اور تعاون جاری رکھنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا۔ انہوں نے پاک افغان تنازعات کے حل کے لیے سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کی ثالثی اور کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ ان کے مطابق سعودی عرب دونوں ممالک کا دوست ہونے کی حیثیت سے مثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے سعودی عرب اور مقدس مساجد کے لیے افغان عوام کی محبت اور احترام کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سعودی حکام اپنی ثالثی کی کوششیں مؤثر انداز میں جاری رکھتے ہوئے افغانستان اور پاکستان کے درمیان مسائل کے حل میں مدد کریں گے۔
٭… ترکی کے وزیر خارجہ خاقان فیدان نے کہا ہے کہ ترکی اور دیگر ممالک نے امریکہ اور ایران کے سامنے جنگ کے خاتمے اور مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے نئی تجاویز پیش کی ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک پہلے پاکستان میں ایک مفاہمت تک پہنچے تھے تاہم عمل درآمد کے مرحلے میں اختلافات پیدا ہوگئے۔ فیدان نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان شدید عدم اعتماد کے باعث مذاکرات میں تعطل ہے جبکہ کشیدگی یمن اور سعودی عرب تک پھیل رہی ہے۔ ترکی فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ علاقائی بحران کے معاشی اثرات بڑھ رہے ہیں اور توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کو مشکلات کا سامنا ہے۔
٭… ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو ایران کی جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق شرائط سے آگاہ کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایران تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی بحالی اور بحری ناکہ بندی اٹھانے کا مطالبہ کر رہا ہے اور اب صدر ٹرمپ کے جواب کا انتظار ہے۔ رضائی نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکی فوج کی کمزوریوں سے واقف اور فضائی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے حال ہی میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب بحری جہاز شکن میزائل کا تجربہ بھی کیا۔ ان کے مطابق حملے کی صورت میں ایران امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنائے گا۔
٭… ایران میں خواتین کے دو مختلف مارچ توجہ کا مرکز بن گئے۔ تہران میں دس کلومیٹر کی دوڑ میں کئی خواتین نے کھلے بالوں کے ساتھ شرکت کی۔ دوڑ ولایت پارک سے شروع ہوئی اور خواتین و مردوں کے لیے الگ الگ مقابلے منعقد کیے گئے۔ دوسری جانب ’’جان فدایان‘‘ریلی میں حجاب پہننے والی خواتین نے حکومت اور جنگی کوششوں کی حمایت میں مارچ کیا۔ ریلی میں پاسداران انقلاب، بسیج کے ارکان اور رضاکاروں نے ملک کے دفاع کے لیے تیاری کا عہد کیا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی ریلی میں شرکت کی۔ یوں ایک ہی وقت میں ہونے والے دونوں اجتماعات میں خواتین کی شرکت کے مختلف انداز نمایاں ہوئے۔
٭… ایرانی وزارتِ داخلہ کے ترجمان علی زینی وند نے کہا ہے کہ مسائل کے حل اور اسلام آباد معاہدے پر واپس آنے کے لیے سفارتی کوششیں اور بین الاقوامی ثالثی جاری ہے۔ ان کے مطابق ایران دوسرے فریق سے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فعال سفارت کاری کے ساتھ صدر کی مختلف بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت اور مشاورت بھی جاری ہے۔ زینی وند نے مہنگائی اور بڑھتی قیمتوں کو عوام کے لیے اہم تشویش قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ کے بعد تباہ شدہ شہری بنیادی ڈھانچے کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق مختلف صوبوں میں تقریباً ۷۵؍ہزار رہائشی یونٹس، بنیادی ڈھانچے اور رابطہ پل متاثر ہوئے ہیں۔
٭… ایرانی عدلیہ کے مطابق اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دے دی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص نے گذشتہ برس ایران اور اسرائیل کے درمیان ۱۲؍روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کو میزائل تنصیبات سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری خفیہ کشمکش کے دوران ایران ایسے متعدد افراد کو سزائیں دے چکا ہے جن پر موساد سے روابط اور ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
٭……٭…٭




