حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

مومن کو اپنی عبادات میں دوام اختیار کرنا چاہیے

(خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۳؍اپریل ۲۰۰۷ء)

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَاللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔ الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ۔(الانفال:3-4)

اللہ تعالیٰ نے مومن کی یہ نشانی بتائی ہے کہ جب بھی خداتعالیٰ کے حوالے سے ان کے سامنے کوئی بات رکھی جائے، کوئی نصیحت کی جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔ اس نصیحت کا ان پر اثر ہوتا ہے اور یہ نصیحت ان کے ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہے، بعض دفعہ ذاتی مصروفیات، ذاتی مسائل یا کئی دوسری وجوہات کی وجہ سے ایک مومن اللہ تعالیٰ کے دئیے گئے احکامات پر پوری طرح توجہ نہیں دے سکتا۔ انسانی فطری کمزوریاں غالب آ جاتی ہیں۔ بعض دفعہ شیطان سستیاں پیدا کردیتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے وقتاً فوقتاً یاددہانی کرانے کا اور نصیحت کرنے کا ارشاد فرمایا ہے تاکہ جو حقیقی مومن ہے اس کو اپنی کمزوریوں کی طرف توجہ پیدا ہو۔ اگر حقیقی عذر ہیں تب بھی اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے ان کو دور کرنے کے لئے دعا کرے۔ اگر خود ساختہ بہانے ہیں تو نصیحت اور یاددہانی اس کو جھنجوڑنے اور ہوشیار کرنے کے لئے کافی ہو جائے اور اُسے ہوشیار کرے کہ دیکھو جس رستے پہ تم چل رہے ہو یہ غلط راستہ ہے، شیطان کی گود میں گر رہے ہو، بعض حکموں پر عمل نہ کرنے کے لئے شیطان تمہیں بہکا رہا ہے تو یاد رکھو اصل پناہ گاہ خداتعالیٰ کی ذات ہے اور تمہاری ضروریات کو پوری کرنے والی اور اپنے بندوں سے پیار کرنے والی بھی خداتعالیٰ کے علاوہ کوئی اور ہستی نہیں ہے۔ پس ہرحالت میں، تنگی میں، آسائش میں، عسر میں، یسر میں، مجبوری میں یا سہولت میں اگر کسی پر توکّل کیا جا سکتا ہے تو وہ خداتعالیٰ کی ذات ہے۔ پس جب حقیقی مومن کو اس خدا کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو یہ بات اسے ایمان میں بڑھاتی ہے اور ظاہر ہے جب ایمان میں بڑھے گا، جب احساس پیدا ہو گا کہ او ہو! ہم دنیاوی مصروفیات اور خود ساختہ مجبوریوں کی وجہ سے خداتعالیٰ کی بجائے دنیاوی سہاروں پر توکل کرنے لگ گئے تھے تو پھر وہ اپنے حقیقی اور اصل سہارے کی طرف لوٹے گا اور تمام تر توکل اس واحد ویگانہ پر ہو گا جو ربّ ہے، رحمٰن ہے، رحیم ہے، اپنے بندوں کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ ان کی د عاؤں کو سنتا ہے، مالک یوم الدین ہے، اپنے بندوں کے نیک اعمال کی جزا دیتا ہے، اپنی راہ میں کئے گئے ہر فعل اور ہر عمل کا بہترین بدلہ دیتا ہے۔ یہی ایک مومن کی نشانی ہوتی ہے۔

یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں، ان میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ایمان میں بڑھنے والوں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والوں کی دو بڑی واضح نشانیاں ہیں۔ ایک تو نماز قائم کرتے ہیں، دوسرے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ گویا یہ دو بنیادی چیزیں ہیں جو مومن کے ایمان اور توکل علی اللہ کو بڑھاتی ہیں۔ نمازوں کے ساتھ مالی قربانی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور بھی کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔ قرآن کریم کی ابتدا میں، سورۃ بقرہ (آیت:4) کے شروع میں ہر متقی کی یہ نشانی بتائی ہے کہ نماز قائم کرتا ہے اور اس مال میں سے جو خدا نے اسے دیا ہے اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ اس طرح جیسا کہ میں نے کہا بے شمار جگہ نمازوں اور مالی قربانی کو یکجا کیا گیا ہے تاکہ ایک مومن روح اور نفس کی پاکیزگی کے سامان پیدا کرے۔ ایک جگہ اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ سرًّا وَّ عَلَانِیَۃً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْہِ وَلَا خِلٰلٌ۔(ابراہیم :32) تُو میرے ان بندوں سے کہہ دے جو ایمان لائے ہیں کہ وہ نماز کو قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطاکیا ہے اس میں سے مخفی طور پر بھی اور اعلانیہ طور پر بھی خرچ کریں، پیشتر اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں کوئی خرید و فروخت نہیں ہو گی اور نہ کوئی دوستی کام آئے گی۔

پس جو جزا سزا کے دن پر یقین رکھتے ہیں، جن کو اس بات کا مکمل فہم و ادراک ہے کہ اللہ تعالیٰ مالک یوم الدین ہے وہ یاد رکھیں کہ نمازیں اور خداتعالیٰ کی راہ میں کی گئی قربانیاں ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک انسان کی بچت کے سامان کرنے والی ہوں گی۔ اس کے علاوہ نہ کوئی تجارت کام آئے گی، نہ مال کازیادہ ہونا کام آئے گا۔ نہ خداتعالیٰ یہ پوچھے گا کہ کتنا بینک بیلنس چھوڑاہے۔ نہ یہ پوچھے گا کہ تمہارے دوست کون کون سے بڑے لوگ تھے۔ نہ یہ دنیاوی دوستیاں کسی قسم کے بچت کے سامان کر سکتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر حقیقی مومن ہو تو ان دو چیزوں کی طرف بہت توجہ دو۔ یہ نمازیں اور قربانیاں ظاہراً بھی ہوں اور چھپ کر بھی ہوں۔ چھپ کر کی گئی عبادتیں اور قربانیاں ایمان میں مزید مضبوطی کا باعث بنیں گی اور پہلے سے بڑھ کر خداتعالیٰ کا پیار حاصل کرنے والی ہوں گی اور ظاہراً کی گئی قربانیاں، نہ اس لئے کہ بڑائی ظاہر ہو بلکہ اس لئے کہ دوسروں کو بھی تحریک ہو، یہ بھی خداتعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والی ہوتی ہیں، کیونکہ یہ نیک نیتی سے کی گئی ہوتی ہیں۔ پس ہر احمدی کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مان کر اپنے آپ کو مومنین کی جماعت میں شامل سمجھتا ہے ان دو امور کی طرف خاص طور پر بہت توجہ دینی چاہئے۔ پہلی چیزنماز کا اہتمام، باقاعدگی سے ادائیگی ہے۔ حتی الوسع باجماعت نماز ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پھر ان نمازوں کو نوافل کے ساتھ سجایا بھی جائے۔

آنحضرتﷺ سے ایک روایت ہے آپؐ نے فرمایا کہ بَیْنَ الْکُفْرِ وَالْاِیْمَانِ تَرْکُ الصَّلٰوۃِ۔ (ترمذی کتاب الایمان باب ما جاء فی ترک الصلٰوۃ حدیث:2618)کہ کفر اور صلوٰۃ کے درمیان فرق کرنے والی چیز ترک نماز ہے۔ پس اس بات کو معمولی نہیں سمجھناچاہئے۔ صرف اتنا نہیں کہ تارک نماز، نماز کو چھوڑنے والا یا نمازوں میں کمزوری دکھانے والا، کمزور ایمان والا ہے۔ بلکہ آپؐ نے فرمایا کہ کفر اور ایمان میں فرق کرنے والی چیز ترک نماز ہے۔ پھر اس بات کا صحابہ کو اس قدر خیال تھا کیونکہ آنحضرتﷺ نے اپنے صحابہ میں یہ بات راسخ فرما دی تھی، ان کو اس بات پر بڑا پکّا کر دیا تھا۔ اور ان کو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کا اس درجہ احساس دلا دیا تھا کہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن شقیق عُقَیْلی روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کے صحابہ ؓ نماز کے علاوہ کسی عمل کو بھی ترک کرنا کفر نہ سمجھتے تھے۔ (ترمذی ابواب الایمان باب ما جاء فی ترک الصلوٰۃ حدیث:2622)

پھر ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرتﷺ سے پوچھا، کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟ آپؐ نے فرمایا: وقت پر نماز پڑھنا۔ میں نے عرض کی اس کے بعد کون سا ؟ آپؐ نے فرمایا: ماں باپ سے نیک سلوک کرنا۔ پھر میں نے عرض کی کہ اس کے بعد کون سا؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے پوری پوری کوشش کرنا۔ (بخاری کتاب الجہاد باب فضل الجہاد و السیر حدیث:2782)

پھر ایک روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا بندوں سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے۔ اگر یہ حساب ٹھیک رہا تو وہ کامیاب ہو گیا اور اس نے نجات پائی۔ اگر یہ حساب خراب ہوا تو وہ ناکام ہو گیا اور گھاٹے میں رہا۔ اگر اس کے فرضوں میں کوئی کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو میرے بندے کے کچھ نوافل بھی ہیں؟اگر نوافل ہوئے تو فرضوں کی کمی نوافل کے ذریعہ پوری کر دی جائے گی۔ اسی طرح اس کے باقی اعمال کا معائنہ ہو گا اور ان کا جائزہ لیاجائے گا۔ (ترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ان اوّل مایحاسب بہ العبد حدیث:413)

پس یہ جو اللہ تعالیٰ نے سِرًّا بھی عبادت اور قربانی کی طرف توجہ دلائی ہے یہ نوافل ہی ہیں۔ بعض دفعہ بعض مصروفیات کی وجہ سے نمازیں آگے پیچھے ہوجاتی ہیں یا پورے خشوع سے اد انہیں کی جا سکتیں تو فرمایا کہ نوافل کی ادائیگی کرو وہ اس کمی کو پوری کر دے گی۔

نماز باجماعت کے ضمن میں ہی ایک اہم بات یہ ہے کہ مسجد میں آ کے ہم نماز پڑھتے ہیں تو مسجد کے کچھ آداب ہیں جسے ہر مسجد میں آنے والے کو یاد رکھناچاہیئے۔ نماز باجماعت جب کھڑی ہوتی ہے تو آداب میں سے ایک بنیادی چیز صفوں کو سیدھا رکھنا ہے اور اس کو آنحضرتﷺ نے بڑی اہمیت دی ہے کیونکہ اس سے ایک وحدت کی شکل پیدا ہوتی ہے۔

حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں آنحضرتﷺ نمازوں کی صفوں کو سیدھا کرنے کے لئے ہمارے کندھوں پر ہاتھ رکھتے اور فرماتے صفیں سیدھی بناؤ اور آگے پیچھے نہ ہو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف بھر جائے گا۔ میرے قریب زیادہ علم والے سمجھدار لوگ کھڑے ہوں پھر وہ لوگ جو رتبے میں ان سے قریب ہوں۔ پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہوں۔ (مسلم کتاب الصلوٰۃ باب تسویۃ الصفوف حدیث:858) تو صفیں سیدھی کرنے کی بڑی اہمیت ہے۔ آپس میں تعلقات کے لئے بھی اور ایک ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے کے لئے بھی۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: مسلمان ممالک کے مسائل کا حل

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button