از افاضاتِ خلفائے احمدیت

حضرت بانی سلسلہ احمدیہؑ کے کارہائے نمایاں(قسط اوّل)

(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۲۸؍اگست ۱۹۲۵ء)

حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کے کارناموں کے مضمون پر روشنی ڈالی۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)

یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اپنے خیال کے ماتحت نبی کے متعلق کچھ ایسی امیدیں لگائے بیٹھا ہو کہ وہ آئے گا تو یہ کرے گا وہ کرے گا اور ہوں وہ ساری امیدیں ایسی جو کسی صورت میں بھی نبی کی ذات کے ساتھ وابستہ نہیں کی جا سکتیں۔ اس لیے جب نبی کے آنے پر وہ پوری نہ ہوں تو ایسا شخص اس نبی کو نہیں مانے گا اور محض اپنے خیال کے فتور سے وہ تمام رحمتوں کا وارث بننے سے محروم رہ جائے گا جو اس نبی کے ساتھ آتی ہیں

تشهد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

مَیں آج ایک ایسے مضمون کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا تھا جو اس زمانہ میں ہمارے تبلیغی پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے نہایت ہی اہم اور ضروری ہے لیکن چونکہ میری طبیعت کچھ کمزور ہے اور رات سے مجھے کچھ حرارت سی معلوم ہوتی ہے اس لیے مَیں آج اس مضمون کے متعلق مختصر تمہید بیان کروں گا۔ یہ مضمون ایسا اہم ہے کہ ایک مستقل کتاب چاہتا ہے اور ایسا باریک ہے کہ کئی رنگ میں اس پر بحث کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ اسے اچھی طرح سمجھ سکیں لیکن مَیں دیکھ رہا ہوں کہ چونکہ ہماری جماعت کے دوستوں کو اس کی فوری ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور ان کی تبلیغ کے راستے میں بعض دفعہ یہی سوال مشکلات پیدا کر دیتا ہے۔ اس لیے مَیں چاہتا ہوں کہ چند خطبوں میں اس کے بعض حصوں کو بیان کر دیا جائے پھراگر توفیق ملی تو تفصیل کے ساتھ اس پر بحث کر دی جائے گی۔ بعض دوستوں کو اور خود مجھے بھی اس بات کی خواہش رہی ہے کہ اس مضمون کے متعلق ایک کتاب لکھوں لیکن اس وقت مَیں چند خطبوں کے ذریعے اس مضمون کے بعض حصے بیان کرتا ہوں جو اس وقت تک انشاء اللہ تعالیٰ مفید ہوں گے جب تک کہ مجھے یا کسی اور دوست کو اس قسم کی کتاب لکھنے کی توفیق ملے۔

ہمارے بعض دوست جن میں باہر کے دوست بھی شامل ہیں بیان کرتے ہیں اور اب بھی ایک دوست نے جو باہر سے آئے تھے یہ سوال بیان کیا تھا کہ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں۔ حضرت مرزا صاحب نے کیا کیا ہے کہ ہم انہیں مانیں اور ان کی جماعت میں داخل ہوں۔

ایک عام آدمی کے لیے جو کہ مضامین کی گہرائیوں میں نہیں جاتا اتنا ثابت کر دینا کافی ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ خدا کے مامور تھے اور پہلی کتابوں کی پیشگوئیاں ان پر صادق آئیں اوران کی اپنی پیشگوئیاں سچی ثابت ہوئیں اور بعض نشانات بھی ظاہر ہوئے جن سے معلوم ہوا کہ وہ خدا کی طرف سے تھے اور چونکہ وہ خدا کی طرف سے تھے اس لیے ان کو ماننا چاہیے۔

کثیر حصہ ایسا ہے کہ اگر اس پر کسی کا خدا کی طرف سے آنا اور بعض پیشگوئیوں کا اس پر صادق آنا اوراس کی اپنی پیشگوئیوں کا بھی پورا ہونا ثابت کر دیا جائے تو وہ ایمان لے آتا ہے۔ لیکن ہندوستان اور ایشیائی ممالک میں ایسے لوگ بھی ہیں جو محض اتنی بات پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور یورپ و امریکہ میں تو کثرت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم پیشگوئیوں پر کسی کو خدا کی طرف سے مبعوث ہونے والا نہیں مان سکتے۔ کوئی ایسی بات بتاؤ جو بندے اپنے آپ نہ کر سکتے تھے اور وہ اس شخص نے آکر کیا اور خدا کی طرف سے کسی شخص کے آئے بغیر جو کام نہیں ہو سکتا تھا وہ اس شخص نے کر دکھایا۔ کیونکہ پیشگوئیاں ایک نشان ہیں اور بس۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ اس کی ضرورت کیا پڑی کہ خدا یہ پیشگوئیاں کسی شخص کو دے۔ آخر کچھ تو وجہ ہے اور وہ وجہ بجز اس کے اور نہیں کہ ان لوگوں پر اس شخص کی سچائی ظاہر کی جائے جو پیشگوئیوں کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں۔لیکن باوجود اس کے ایک گروہ ایسا بھی ہمیں نظر آتا ہے جو پیشگوئیوں کو باوجود نشان ماننے کے ایمان نہیں لاتا اور باایںہمہ وہ اسی بات پر اڑا رہتا ہے کہ ہمیں ایسے شخص کے آنے کی ضرورت بتاؤ۔ کیونکہ جب کسی کے آنے کی ضرورت ہی ثابت نہ ہو تو اسے ماننے کی کیا ضرورت ہے؟

یہ ان لوگوں کا نقطہ نگاہ ہے گواس کو ہم غلط اور ناقص کہہ دیں لیکن ان کے نزدیک یہ غلط اور ناقص نہیں اور نہ ہی ہمارے اتنا کہہ دینے پر وہ غلط اور ناقص ہو جائے گا۔ وہ صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے دنیا میں آکے کام کیا کیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ ان کے آئے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ پس میرے نزدیک ان کا یہ سوال درست ہے لیکن باوجود اس کے کہ ان کا سوال درست ہے مَیں پھر بھی کہوں گا کہ ان کا حق نہیں کہ وہ یہ سوال کریں ’’حضرت مرزا صاحب نے کیا کیا۔ ‘‘کیونکہ ایسا سوال کرنے میں نقص پیدا ہو جاتا ہے اور یہ سوال غلط ہو جاتا ہے۔

وہ نقص کیا ہے؟ یہ کہ وہ کیوں بغیر سوچے سمجھے اور بغیر تمام انبیاء کے حالات پر نظر دوڑائے ایسا سوال کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ سوال کسی عہدے کے متعلق ہو سکتا ہے نہ کہ ذات کے متعلق اور جب یہ سوال صرف عہدے کے متعلق رہ گیا تو پھر اس کی ضرورت سامنے آئے گی کہ اس عہدہ کی کیا ضرورت تھی یا اس عہدہ پر کسی کو کھڑا کرنے کی کیا حاجت تھی۔ اس صورت میں یہ سوال یکساں طور پر تمام انبیاء پر پڑے گا کہ وہ کیوں آتے رہے اور آکر کیا کرتے رہے۔پس

سوال یہ ہونا چاہیے کہ کسی بھی نبی کو خدا تعالیٰ نے کیوں بھیجا اور اس نے آکر کیا کیا۔

اس میں حضرت مرزا صاحب کی خصوصیت نہیں ہونی چاہیے۔ یہی سوال حضرت عیسیٰؑ کے متعلق ہونا چاہیے۔ یہی سوال حضرت محمدﷺ کے متعلق ہونا چاہیے۔ یہی سوال حضرت زکریاؑ کے متعلق ہونا چاہیے۔ یہی سوال حضرت داؤدؑ کے متعلق ہونا چاہیے۔ یہی سوال حضرت موسیٰؑ کے متعلق ہونا چاہیے یہی سوال حضرت یوشعؑ کے متعلق ہونا چاہیے۔ یہی سوال حضرت ابراہیم، لوط، صالح، شعیب، نوح اورآدم علیہم السلام کے متعلق ہونا چاہیے۔ غرض یہی سوال تمام دوسرے نبیوں کے متعلق ہونا چاہیے۔ خواہ قرآن شریف میں ان کا ذکر مذکور ہو یا نہ ہو کہ کیا غرض پیش آئی جو خدا تعالیٰ نے ان کو بھیجا۔

یہ کہنے سے میری غرض یہ نہیں کہ مَیں الزامی جواب دوں۔ بلکہ یہ غرض ہے کہ ایسے لوگوں کو اس سوال کا جواب سمجھنے میں آسانی ہو جو پہلے انبیاء کو مانتے ہیں۔ پھر یہ طریق مَیں نے اس لیے بھی اختیار کیا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے دماغ میں کسی امر کے متعلق عجیب و غریب نقشہ کھینچ لیتے ہیں۔ مثلاً یہی کہ وہ خیال کر لیتے ہیں۔ نبی وہ ہوتا ہے جو فلاں کام کرے۔ اب اگر وہ دنیا کی کایا بھی پلٹ دے تو بھی وہ اسے نہیں مانیں گے بلکہ یہی کہتے چلے جائیں گے کہ جب تک وہ بات پوری نہیں ہوتی جو ہم کہتے ہیں تب تک ہم نہیں مانیں گے۔

ایسے لوگوں کی مثال حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ اس نٹ سے دیا کرتے تھے جو میں نہ مانوں کہا کرتا ہے۔ تماشا کرنے والا بانس پر چڑھ کر کبھی پھرکی کی طرح پیٹ کے بل اس پر پھرتا ہے، کبھی کھڑا ہوتا ہے ، کبھی سر نیچے کرتا ہے ، کبھی اوپر اٹھتا ہے۔ غرض کہ وہ کئی طرح پر اپنے کمال دکھاتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ کا ہی ایک اَور شخص جو نیچے کھڑا ہوتا ہے تماشہ میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے ہر کھیل کے ختم ہونے پر یہ کہہ دیتا ہے۔ ’’میں نہ مانوں ، میں نہ مانوں‘‘ وہ غریب تو ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ وہ شخص اس کے کرتب کی داد دے لیکن وہ اس کے کسی بھی کمال کو نہیں مانتا اور جب بھی وہ پوچھتا کہ کیا یہ تو مانو گے تب وہ “میں نہ مانوں۔ میں نہ مانوں ”کہہ دیتا ہے۔ پس ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں کہ نبی خواہ کتنا بھی کام کر جائے مگر چونکہ وہ ان کے اس کام کے مطابق نہیں ہوتا جسے وہ اپنے خیال میں نبی کا کام سمجھے بیٹھے ہوتے ہیں اس لیے وہ مانتے نہیں اور اس نٹ کی طرح یہی کہتے چلے جاتے ہیں ’’میں نہ مانوں”۔ “میں نہ مانوں‘‘۔ یہ محض نفس کا دھوکہ ہوتا ہے جس میں انسان پھنس کر کام کو دیکھ کر بھی یہی کہتا ہے کہ کچھ نہیں ہوا۔ پس جب نفس انسان کو دھوکہ دیتا ہے کہ کام ہونے کے باوجود وہ سمجھتا ہے کہ نہیں ہوا تو پھر یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ایسے شخصوں سے یہ پوچھنا چاہیے کہ ان کے نزدیک نبی کا کام کیا ہے اور وہ ایک نبی کے کاموں سے کیا مراد لیتے ہیں۔

ایسے لوگ اگر کہیں کہ نبی وہ ہوتا ہے جو مخالفین کے ساتھ جنگ کرکے فتح پائے ۔تو انہیں کہا جاسکتا ہے کہ یہ بات درست نہیں کیونکہ دنیا میں ایسے لوگ بھی فاتح ہوئے ہیں جنہیں وہ نبی نہیں مانتے اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ہر فاتح نبی ہوتا ہے تو پھر ایسے بھی نبی ہیں جو فاتح نہیں۔

مثلاً حضرت لوطؑ نے کوئی فتح نہیں کی۔ حضرت ابراہیمؑ نے کوئی فتح حاصل نہیں کی۔ حضرت نوحؑ فاتح نہیں تھے۔ حضرت آدمؑ نے بھی کوئی فتح نہیں پائی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی فتح حاصل نہیں ہوئی۔ حتّٰی کہ ان کی قوم کی بزدلی نے لڑائی کا موقع ہی نہ آنے دیا اور لڑنے سے انکار کر دیا۔ رسول کریم ﷺ کو بےشک کامیابی ہوئی۔ آپؐ نے لڑائیاں بھی لڑیں اور فتوحات بھی حاصل کیں لیکن یہ سنت تمام انبیاء کے متعلق نہیں ہے پس معلوم ہوا کہ نبوت سلطنت حاصل کرنے اور فتح پانے کا نام نہیں۔

ایسا ہی ہر نبی کے لیے شریعت لانا بھی ضروری نہیں۔ کیونکہ

اگر شریعت کا لانا ہی نبوت ہوتا تو تمام نبیوں کے پاس شریعتیں ہونی چاہیے تھیں لیکن سب جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ بہت سے نبی ایسے ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب شریعت کی نہیں اتری بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ ان بے اندازہ نبیوں میں سے صرف چند ہی نبی کتاب لائے تو یہ زیادہ موزوں ہوگا۔

حضرت ہارونؑ کوئی شریعت نہیں لائے۔ حضرت یوشعؑ کوئی شریعت نہیں لائے۔ حضرت داؤدؑ کوئی شریعت نہیں لائے۔ حضرت زکریاؑ کوئی شریعت نہیں لائے۔ حضرت یحییٰؑ  کوئی شریعت نہیں لائے۔ حضرت عیسیٰؑ بھی ہمارے عقیدہ کے مطابق کوئی شریعت نہیں لائے۔ ایسا ہی اَور بہت سے نبی ہیں جو کوئی شریعت نہیں لائے لیکن

اگر شریعت نبوت کے لئے ضروری ہوتی اور ہر نبی تب ہی نبی ہوتا جب کہ اس کے پاس شریعت ہوتی تو پھر ان سب نبیوں کی نبوت کا انکار کرنا پڑے گا جن کے پاس شریعت کا ہونا ثابت نہیں

پس پہلے اس سوال کو عام کرکے اس پر غورکرنا چاہیے کہ نبی کا کام کیا ہونا چاہیے اور پھر حضرت مرزا صاحب کے متعلق اسے پیش کرنا چاہیے۔ جب تک یہ سوال عام نہ کیا جائے اور یہ تعین نہ کر لیا جائے کہ اس قسم کے سوال سے سوال کرنے والے کی مراد کیا ہے۔ تب تک یہ فضول ہے کہ اس کے جواب کی طرف توجہ کی جائے۔ کیونکہ

یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اپنے خیال کے ماتحت نبی کے متعلق کچھ ایسی امیدیں لگائے بیٹھا ہو کہ وہ آئے گا تو یہ کرے گا وہ کرے گا اور ہوں وہ ساری امیدیں ایسی جو کسی صورت میں بھی نبی کی ذات کے ساتھ وابستہ نہیں کی جا سکتیں۔ اس لیے جب نبی کے آنے پر وہ پوری نہ ہوں تو ایسا شخص اس نبی کو نہیں مانے گا اور محض اپنے خیال کے فتور سے وہ تمام رحمتوں کا وارث بننے سے محروم رہ جائے گا جو اس نبی کے ساتھ آتی ہیں۔

پس اس سوال کو پہلے عام کرنا چاہیے اور پھر اس قسم کے سوال کرنے والوں کے سوال کی مراد دریافت کرنی چاہیے۔

(جاری ہے)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button