خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍ستمبر 2026ء

’’آپؐ کی کمال شجاعت کو دیکھو کہ دشمن سر پر ہے اور آپؐ اپنے رفیقِ صادق صدیقؓ کو فرماتے ہیں۔لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔
یہ الفاظ بڑی صفائی کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں کہ آپؐ نے زبان ہی سے فرمایا کیونکہ یہ آواز کو چاہتے ہیں۔ اشارہ سے کام نہیں چلتا۔
باہر دشمن مشورہ کر رہے ہیں اور اندر غار میں خادم ومخدوم بھی باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس امر کی پروا نہیں کی گئی کہ دشمن آواز سن لیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ پر کمال ایمان اور معرفت کا ثبوت ہے۔ خدا تعالیٰ کے وعدوں پر پورا بھروسہ ہے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

’’محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے توکّل نے آپؐ کے ساتھی پر بھی ایسا اثر ڈالا کہ اس کی زبان سے بھی یہ الفاظ نہ نکلے کہ ہم پکڑے گئے بلکہ اس نے کہا تو صرف یہ کہ دشمن اتنا قریب آ چکا ہے کہ اگر وہ ہمیں دیکھنا چاہے تو دیکھ سکتا ہے ۔
مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واہمہ کو بھی برداشت نہ کیا اور فرمایا کہ ایسا خیال بھی مت کرو ہم اس وقت دو نہیں بلکہ ہمارے ساتھ ایک اَور بھی ہستی ہے اور وہ ہمارا خدا ہے‘‘ (حضرت مصلح موعودؓ)

’’ رسول کریمؐ  کو خدا تعالیٰ پر ایسا توکّل تھا کہ ہر مصیبت اور مشکل کے وقت اسی پر نظر رکھتے اور اس کے سوا ہر شئے سے توجہ ہٹا لیتے‘‘ (حضرت مصلح موعودؓ)

’’اسباب کے مہیا کرنے کے بعد آپؐ بکلّی خدا تعالیٰ پر توکّل کرتے اور گو اسباب مہیا کرتے لیکن ان پر بھروسہ اور توکّل کبھی نہ کرتے تھے
اور صرف خدا ہی کے فضل کے امیدوار رہتے‘‘ (حضرت مصلح موعودؓ)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ پر کامل یقین اور توکّل ہر روز ایک نئی شان سے ظاہر ہوتا تھا

آپؐ فرماتے ہیں اگر یہ سورج کو اس کی جگہ سے ہلا دیں اور میرے پاس لا کر کھڑا کر دیں۔ اگر یہ چاند کو اس کی جگہ سے ہلا دیں اور میرے پاس لا کر کھڑا کر دیں تب بھی خدا تعالیٰ کی ذات پر مجھے ایسا یقین اور وثوق ہے کہ مَیں ان چیزوں کو شعبدہ بازی سمجھوں گا اور مَیں ان کی بُت پرستی پر ہمیشہ اعتراض کروں گا اور اپنے کام سے کبھی باز نہیں آؤں گا۔یہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین اور کامل توکّل کا وہ مقام ہے جو کہیں نظر نہیں آتا

’’اے چچایہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہارِ واقعہ اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو کام ہے جس کے لئے مَیں بھیجا گیا ہوں۔ اگر اس سے مجھے مرنا درپیش ہے تو مَیں بخوشی اپنے لئے اس موت کو قبول کرتا ہوں۔ میری زندگی اسی راہ میں وقف ہے۔ مَیں موت کے ڈر سے اظہار حق سے رک نہیں سکتا ۔اور اے چچا! اگر تجھے اپنی کمزوری اور اپنی تکلیف کا خیال ہے تو تُو مجھے پناہ میں رکھنے سے دستبردار ہو جا۔ بخدا مجھے تیری کچھ بھی حاجت نہیں۔مَیں احکامِ الٰہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رکوں گا۔ مجھے اپنے مولیٰ کے احکام جان سے زیادہ عزیز ہیں۔ بخدا اگر مَیں اس راہ میں مارا جاؤں تو چاہتا ہوں کہ پھر بار بار زندہ ہو کر ہمیشہ اسی راہ میں مرتا رہوں۔ یہ خوف کی جگہ نہیں بلکہ مجھے اس میں بے انتہاء لذّت ہے کہ اس کی راہ میں دکھ اٹھاؤں‘‘ (از تحریر ات حضرت مسیح موعودؑ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس شانِ توکّل سے جواب دیا کہ اے زید !تم دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ ضرور کوئی راہ نکال دے گا۔
اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کا مددگار ہے۔وہ اپنے نبی کو غالب کر کے رہے گا

توکّل علیٰ اللہ کے حوالے سے سیرت النبیﷺ کا ایمان افروز تذکرہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍ستمبر 2026ء بمطابق 11؍تبوک1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے توکّل علیٰ اللہ

کے حوالے سے گذشتہ جمعہ کو بیان کیا تھا۔ آج بھی یہی مضمون ہے۔

مومنوں کو توکّل کی نصیحت

کرتے ہوئے آپؐ فرماتے ہیں جس کی روایت حضرت ابو درداءؓ نے کی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ

جس نے صبح اور شام سات مرتبہ یہ کہا :حَسْبِیَ اللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ۔ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔کہ اللہ میرے لیے کافی ہے۔ نہیں کوئی قابلِ عبادت مگر وہی۔ اس پر میں نے توکّل کیا اور وہ عرش ِعظیم کا ربّ ہے۔ تو اللہ اس کے لیے کافی ہے اس چیز کے لیے جو اس شخص کو فکر مند کرتی ہے خواہ وہ اس میں سچا ہو یا جھوٹا ہو۔

(سنن ابوداؤد کتاب الادب ابواب النوم باب ما یقول اذا اصبح حدیث 5081 )

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے توکّل کے حوالے سےکس طرح دعا مانگا کرتے تھے ۔

اس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ جب آپؐ رکوع میں جاتے تو یہ دعا کرتے تھے کہ اَللّٰھُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَلَکَ اَسْلَمْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ اَنْتَ رَبِّیْخَشَعَسَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَدَمِیْ وَلَحْمِیْ وَعَظْمِیْ وَعَصَبِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ کہ اے اللہ! مَیں نے تیرے لیے رکوع کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور مَیں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کیا اور تجھ پر توکّل کیا۔ تُو ہی میرا ربّ ہے۔ میری سماعت اور بصارت اور خون اور گوشت اور ہڈیاں اور اعصاب اللہ تعالیٰ کے لیے جھک گئے ہیں جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔

(سنن النسائی کتاب التطبیق باب نوع آخر، حدیث 1051)

پھر ایک روایت میں حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کبھی مجھے کوئی پریشانی ہوتی تو جبرئیلؑ میرے پاس میرے سامنے ظاہر ہوتا اور کہتا اے محمدؐ! آپ کہیں: تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیْرًا۔کہ میں نے اس زندہ ہستی پر توکّل کیا جو کبھی نہیں مرے گی۔ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے کبھی کوئی بیٹا اختیار نہیں کیا اور جس کی بادشاہت میں کبھی کوئی شریک نہیں ہوا اور کبھی اسے ایسے ساتھی کی ضرورت نہیں پڑی جو گویا کمزوری کی حالت میں اس کا مددگار بنتا اور تُو بڑے زور سے اس کی بڑائی بیان کیا کر۔

(المستدرک علی الصحیحین کتاب الدعاء و التکبیر و التھلیل و التسبیح و الذکرحدیث نمبر 1876۔ جلد 1۔ صفحہ 689 دار الکتب العلمیۃبیروت)

طاؤس سے مروی ہے ۔انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنا ۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد پڑھنے کے لیے اٹھتے تو فرماتے تھے۔

[اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيْهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ لَكَ مُلْكُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُالسَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِیْھِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِکُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ، وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صلَّى اللّٰه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللّٰهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْلِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ]

لمبی دعا ہے۔ اس کا ترجمہ یوں ہے کہ اے اللہ!سب خوبیاں تیرے لیے ہیں۔ تُو آسمان اور زمین کا قائم رکھنے والا ہے اور ان کا بھی جو ان میں موجود ہیں ۔اور سب خوبیاں تیرے ہی لیے ہیں۔ تیرے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے اور جو کچھ ان میں ہے اس کی بھی ۔اور تمام خوبیاں تیرے ہی لیے ہیں ۔تُو آسمانوں کا نور ہے اور زمین کا نور ہے اور جو کچھ ان میں ہے ان کا بھی ۔اور سب خوبیاں تیرے ہی لیے ہیں ۔تُو آسمانوں کا بادشاہ ہے اور زمین کا اور ان کا بھی جو اُن میں موجود ہیں ۔اور سب خوبیاں تیرے ہی لیے ہیں ۔تُو ہی برحق ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تیری ملاقات بھی ضرور ہوگی اور تیری باتیں سچی ہیں اور جنت بھی حق ہے اور دوزخ بھی حق ہے اور تمام نبی سچے ہیں اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سچے ہیں اور قیامت کی گھڑی بھی برحق ہے ۔اے اللہ! مَیں نے تیرے سامنے سرِتسلیم خم کیا اور تجھ پر ایمان لایا ہوں اور تجھی پر مَیں نے بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف مَیں جھکا ہوں اور تیری ہی خاطر مَیں نے یہ جھگڑا اٹھایا ہے یا تیری ہی مدد سے مَیں نے مخالفوں کا مقابلہ کیا ہے اور تیرے ہی حضور فیصلہ چاہا ہے۔ میری مغفرت فرما اس تقدیم وتاخیرمیں جو مَیں نے کی ہے اور اس میں بھی جسے مَیں نے پوشیدہ رکھا اور جس کا مَیں نے اظہار کیا۔ تُو ہی مُقَدِّم کرنے والا اور تُو ہی مُؤَخِّر کرنے والا ہے۔ کوئی معبود نہیں مگر تُو ہی ہے۔ یا فرماتے کہ لَا اِلٰہَ غَیْرُکَ۔کہ تیرے سوا اَور کوئی معبود نہیں۔ یہ بخاری کی روایت ہے۔

(صحیح البخاری کتاب التہجد باب التہجد باللیل حدیث 1120)

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے کہ اے اللہ! مَیں تیری فرمانبرداری اختیار کرتا ہوںاور مَیں تجھ پر ایمان لاتا ہوں اور مَیں تجھ پر توکّل کرتا ہوں اور مَیں تیری طرف جھکتا ہوں۔ تیری مدد سے ہی مَیں مقابلہ کرتا ہوں۔ اے اللہ! مَیں تیری عزّت کی پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ تُو مجھے گمراہ ٹھہرا دے۔ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ تُو ہی زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں آئے گی جبکہ جِنّ و اِنس مر جائیں گے۔

(صحیح مسلم کتاب الذکر و الدعا و التوبہ و الاستغفار باب التعوذ من شر ما عمل ومن شر ما لم يعمل مترجم جلد 14 صفحہ 91 حدیث 4880 شائع کردہ نور فاؤنڈیشن)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر وقت اللہ تعالیٰ پر ہی نظر رہتی تھی۔

آپؐ کی اس صفت کے اعلیٰ معیار کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ لکھا ہے بلکہ تقریرمیں بیان فرمایا ہے کہ

’’ رسول کریمؐ  کو خدا تعالیٰ پر ایسا توکّل تھا کہ ہر مصیبت اور مشکل کے وقت اسی پر نظر رکھتے اور اس کے سوا ہر شئے سے توجہ ہٹا لیتے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ آپؐ آج کل کے صوفیاء کی طرح اسباب کے تارک نہ تھے‘‘ یعنی جو صوفی آج کل کہتے ہیں کہ چیزوں کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف توکّل ضروری ہے۔ اسباب کو استعمال کرتے تھے ’’کیونکہ اسباب کا ترک گویا خدا تعالیٰ کی مخلوق کی ہتک کرنا اور اس کی پیدائش کو لغو قرار دینا ہے ۔لیکن

اسباب کے مہیا کرنے کے بعد آپؐ بکلّی خدا تعالیٰ پر توکّل کرتے اور گو اسباب مہیا کرتے لیکن ان پر بھروسہ اور توکّل کبھی نہ کرتے تھے اور صرف خدا ہی کے فضل کے امیدوار رہتے‘‘

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ ہر ایک گھبراہٹ کے وقت فرماتے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ۔لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَرَبُّ الْاَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْش الْکَریْمِ…۔ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے ۔وہ ربّ ہے بڑے تختِ حکومت کا ۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔وہ آسمانوں کا ربّ ہے ۔وہ زمین کا ربّ ہے ۔وہ بزرگ تخت کا ربّ ہے‘‘

(سیرۃ النبیﷺ، انوار العلوم جلد1 صفحہ496 – 497)

یعنی میرا بھروسہ اور توکّل اللہ تعالیٰ پر ہی ہے۔

حضرت ابن عباس سے روایت ہے حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ۔ اللہ ہی ہمارے لیے کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا جس وقت وہ آگ میں ڈالے گئے۔اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کہا تھا جب لوگوں نے کہا: ان لوگوں نے تمہارے لیے بڑی تیاری کی ہے۔ یعنی کافروں نے۔ اس لیے ان سے ڈرو۔ شارحین کے مطابق جو حدیثوں کی شرح کرنے والے ہیں کہ یہ غزوۂ اُحد یا حمراء الاَسَد یا غزوۂ خندق وغیرہ کے موقع پر کہا تھا۔ تو اس بات نے ان کو ایمان میں اَور بڑھا دیا اور انہوں نے کہا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ۔ اللہ ہی ہمارے لیے کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔ بخاری میں یہ روایت آتی ہے۔

(صحیح البخاری كتاب التفسیر باب قولہ الذین قال لھم الناس … حدیث نمبر 4563 ) (فتح الباری جلد 8 صفحہ 290 قدیمی کتب خابہ مقابل آرام باغ کراچی) ( تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر سورۃ آل عمران زیر آیت 174 جلد 2 صفحہ 149-150 دار الکتب العلمیۃ بیروت) (التفسیر المظہری ، سورۃ الاحزاب آیت 10 جلد 5 صفحہ 487 دار الکتب العلمیۃ) ( تفسير البغوي (معالم التنزیل) جلد1 صفحہ 374 سورۃ آل عمران زیر آیت 174، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان)

مختلف مواقع پر مشرکینِ مکہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشکش کرنا یعنی مختلف قسم کی لالچ دینا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ پر بے مثال توکّل کرتے ہوئے جواب دینا۔

یہ کیا ہوتا تھا؟ ایسے ہی ایک موقع کا ذکر ابنِ اسحاق نے کیا ہے کہ ایک دن قریش کے سردار عُتبہ بن ربیعہ قریش کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے مسجد ِحرام میں تشریف فرما تھے۔ عُتبہ نے کہا : اے گروہ ِقریش !کیا مَیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر ان سے گفتگو نہ کروں؟ مَیں ان کے سامنے کچھ تجاویز پیش کرتا ہوں۔شاید وہ ان میں سے کوئی قبول کر لیں۔ ہم ان کی خواہش پوری کر دیں اور وہ ہمارے خلاف اپنی دعوت سے باز آ جائیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت حمزہؓ اسلام قبول کرچکے تھے اور قریش دیکھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی روز بروز بڑھتے جارہے ہیں ۔تو قریش نے کہا :ضرور اے ابوالولید! آپ ہی ان سے بات کیجئے۔ چنانچہ عُتْبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آپؐ کے قریب بیٹھا اور کہنے لگا :بھتیجے!تم اچھی طرح جانتے ہو کہ اپنے خاندان میں تمہارا مقام و مرتبہ بلند ہے۔ تم نسب کے لحاظ سے بھی عزّت والے ہو لیکن تم اپنی قوم کے سامنے ایک ایسی بڑی بات لے آئے ہو جس نے ان کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ ان کی عقلوں کو حقیر ٹھہرایا ہے۔ ان کے معبودوں اور دین کو بُرا کہا ہے اور ان کے گزرے ہوئے آباؤ اجداد کو کافر قرار دیا ہے۔ اب میری چند باتیں غور سے سنو۔ مَیں تمہارے سامنے چند تجاویز رکھتا ہوں۔ شاید تم ان میں سے کسی ایک کو قبول کر لو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہو ابوالولید! مَیں سن رہا ہوں۔ عُتبہ نے کہا کہ بھتیجے! اگر اس دعوت سے تمہارا مقصد مال حاصل کرنا ہے تو ہم اپنے مال جمع کر کے تمہیں اتنا مال دے دیں گے کہ تم ہم سب سے زیادہ مالدار ہو جاؤ گے۔ اگر تم عزّت اور سرداری چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا سردار بنا لیں گے۔ پھر تمہارے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔ اگر تم بادشاہت چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا بادشاہ تسلیم کر لیتے ہیں۔ اور اگر تم پر کوئی ایسی روح یا جن غالب آگیا ہے جسے تم اپنے اوپر سے ہٹا نہیں سکتے۔ ان لوگوں میں بھی رواج تھا۔ تَوَہَّمْ پرست تھے کہ شاید جِنّ نے قبضہ کر لیا ہے۔ تو ہم بہترین طبیبوں سے تمہارا علاج کرائیں گے اور اس پر اپنا مال خرچ کریں گے یہاں تک کہ تم مکمل صحتیاب ہو جاؤ کیونکہ بعض اوقات ایسی کیفیت انسان پر غالب آ جاتی ہے جس کا علاج کرانا پڑتا ہے۔ عُتبہ اپنی گفتگو مکمل کر چکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات سنتے رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے ابو الولید!کیا تم اپنی بات مکمل کر چکے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اب میری بات سنو۔ اس نے کہا :ضرور! مَیں سن رہا ہوں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ حٰم السجدہ کی یہ آیات پڑھیں: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔حٰمٓ ۔تَنۡزِیۡلٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔ کِتٰبٌ فُصِّلَتۡ اٰیٰتُہٗ قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ۔ بَشِیۡرًا وَّنَذِیۡرًا ۚ فَاَعۡرَضَ اَکۡثَرُہُمۡ فَہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡنَ۔ وَقَالُوۡا قُلُوۡبُنَا فِیۡۤ اَکِنَّۃٍ مِّمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَیۡہِ…۔(حٰم السجدۃ:1-6)کہ مَیں اللہ کا نام لے کرجو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (پڑھتا ہوں۔ ) حمید اور مجید (خد اکی صفات اس سورۃ میں بیان کی گئی ہیں)۔ یہ قرآن بے انتہا رحم کرنے والے اور بار بار کرم کرنے والے (خدا) کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ (اور) ایسی کتاب ہے جس کی آیات خوب تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں اور جو (کتاب) خوب پڑھی جائے گی اور (وہ ایسی زبان میں ہے جو) اپنا مطلب آپ کھول کر بیان کرتی ہے مگر (یہ کتاب) انہی کو فائدہ دیتی ہے جو (روحانی) علم رکھتے ہیں۔ (نیکوں کو) خوشخبری دینے والی اور (بدوں کو) ہوشیار کرنے والی ہے۔ پھر (بھی) ان میں سے اکثر نے اعراض کیا اور وہ اس کے سننے کو بھی تیار نہیں۔اور کہتے ہیں جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس کے ماننے سے ہمارے دل پَرْدوں میں ہیں (یعنی وہ ہمارے دلوں پر اثر نہیں کر سکتی)…۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیات کی تلاوت فرماتے رہے ۔عُتبہ خاموش ہو کر پوری توجہ سے سنتا رہا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے ٹیک لیے اور اس وقت انہماک سے قرآن سنتا رہا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیت سجدہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ فرمایا۔ پھر عُتبہ سے فرمایا :اے ابو الولید!تم نے وہ سب کچھ سن لیا جو سننا تھا۔ اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ تمہاری بات مَیں نے سن لی ،تم نے میری بات سن لی ،اب تم فیصلہ کرو۔ مَیں نے کیا فیصلہ کرنا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ پر کامل یقین اور توکّل جو تھا وہ ہر روز ایک نئی شان سے ظاہر ہوتا تھا۔

چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب آپؐ نے عُتبہ کو یہ جواب دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دے کر اپنی اسی حالت پر قائم رہے۔ آپؐ نے اس کو کہا کہ تم بدلو اپنے آپ کو اور فیصلہ خود کر لو ۔اورآپؐ تو اللہ کے دین کی اشاعت اور اس کی طرف دعوت دیتے رہے۔ پھر وہ سب لوگ، یہ جو کفار کا گروہ تھا، مل کر ابوطالب کے پاس گئے اور ان سے کہا ہم نے آپ سے استدعا کی تھی کہ آپ اپنے بھتیجے کو روکیں لیکن آپ نے ان کو نہیں روکا ۔یا تو ہم اسے اپنے متعلق ایسی باتیں کرنے سے روک دیں گے یا پھر اس سے اور آپ سے مقابلہ کریں گے یہاں تک کہ دونوں میں سے ایک فریق ہلاک ہو جائے گا۔ قریش نے جب ابو طالب سے یہ بات کہی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا اور آپؐ سے کہا :اے میرے بھائی کے بیٹے !مجھ پر ایسا بار نہ ڈالو جسے مَیں برداشت نہ کر سکوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال فرمایا کہ ان کے چچا آپؐ کی مدد ترک کر دیں گے اور آپؐ کو قریش کے حوالے کر دیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

چچا جان! خدا کی قسم !اگر یہ لوگ میری دائیں جانب سورج اور بائیں جانب چاند رکھ دیں تب بھی مَیں اپنے فرض سے باز نہیں رہوں گا اور مَیں اپنے کام میں لگا رہوں گا حتّٰی کہ خدا اسے پورا کرے یا مَیں اس کوشش میں ہلاک ہو جاؤں۔

پھر آپؐ اٹھ کھڑے ہوئے اور وہاں سے جانے لگے تو ابو طالب نے آپؐ کو پکارا اور کہا :اے میرے بھتیجے! جو چاہو کہو ۔اللہ کی قسم !کسی معاوضے پر بھی مَیں تمہیں ان کے حوالے ہرگز نہ کروں گا۔

(السیرۃ النبویہ لابن ہشام صفحہ200-201 و 220 دارالکتب العلمیۃ 2001ء)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان حقیقی تاریخی واقعات کا نقشہ کھینچتے ہوئے اس طرح بیان کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اللہ تعالیٰ کی توحید کے متعلق لوگوں کو وعظ کرنا شروع کیا اور شرک کی تردید شروع کی تو مکہ والوں کو یہ بات بہت ناگوار گزری اور آخر ایک دن سمجھوتہ کر کے وہ ایک وفد کی صورت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کے پاس آئے اور انہیں کہا کہ آپ ہماری قوم کے سردار ہیں۔ آپ کا ہم بہت ادب کرتے ہیں اور آپ کے ادب کی وجہ سے ہم آپ کے بھتیجے کو کچھ نہیں کہتے۔ مگر اب معاملہ حدسے گزر گیا ہے اور ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ آپ اس سے اس معاملہ میں ہماری طرف سے آخری بات کریں۔ اور پھر وہ باتیں دہرائیں جو عُتبہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کی تھیں۔ یعنی اعلیٰ گھرانے کی اور سب سے زیادہ حسین عورت کا لالچ، روپیہ کا لالچ، دولت کا لالچ، حکومت کا لالچ۔ یہ دیکھ کے ان لوگوں نے اس کو کہا کہ مگر اس کو کہیں کہ وہ اتنا لحاظ تو کرے کہ ہمارے بتوں کو بُرا بھلا نہ کہے۔ ہم اسے یہ نہیں کہتے کہ وہ ہمارے بتوں کو مان لے۔ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ ہمارے بتوں کو بُرا بھلا نہ کہے۔اور اگر وہ ہماری ان باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی نہ مانے تو پھر آپ اس کا ساتھ چھوڑ دیں ہم خود اس سے نمٹ لیں گے۔ ابوطالب بڑے نیک آدمی تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی محبت رکھتے تھے مگر انہیں اپنی سرداری بھی بڑی پیاری تھی۔ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا اور کہا :آج تیری قوم میرے پاس آئی تھی اور وہ کہتی تھی کہ ابوطالب! ہمیں تیرا لحاظ ہے اور تیرے لحاظ کی وجہ سے ہم نے تیرے بھتیجے کو اب تک کچھ نہیں کہا مگر اب بات حد سے گزر گئی ہے۔ وہ اگر اَور کوئی بات نہیں مانتا تو اسے صرف اتنا کہہ دیا جائے کہ وہ ہمارے بتوں کو بُرا بھلا نہ کہے۔ہم اسے اپنا بادشاہ بنانے کے لیے تیار ہیں ۔دولت چاہیے تو دولت دینے کے لیے تیار ہیں۔ عرب میں اس سے بڑھ کر اَور کوئی مالدار نہ رہے گا ۔ہم آپ کو یہ سب دینے کو تیار ہیں۔ کوئی حسین بیوی چاہیے تو ہم اچھی سے اچھی عورت سے اس کی شادی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ غرض وہ کوئی بھی مطالبہ کرے ہم اسے پورا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ صرف اتنا کرے کہ ہمارے بتوں کو بُرا بھلا نہ کہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ابو طالب کے بڑے احسانات تھے ۔انہوں نے آپؐ کو بچپن سے بڑی محبت اور پیار کے ساتھ پالا تھا اور ہر دکھ اور مصیبت میں انہوں نے آپؐ کا ساتھ دیا تھا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کی یہ حالت دیکھی تو ان کے احسانات کو یاد کر کے آپؐ کی آنکھوں میں آنسو آگئے مگر آپؐ نے فرمایا :چچا! مَیں تو نہیں کہتا کہ آپ میری مدد کریں ۔آپ بے شک اپنی قوم کاساتھ دیں اور مجھے چھوڑ دیں۔ خدا کی قَسم! اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لا کر کھڑا کر دیں تب بھی مَیں ایک خدا کے ذکر سے باز نہیں آؤں گا۔ دیکھو !کتنا وثوق اور کتنا یقین ہے خدا تعالیٰ کی ذات پر ۔حالانکہ سورج کا اپنی جگہ سے ہلنا اتنا بڑا معجزہ ہے کہ اگر یہ واقعہ ہو تو انسان حیران ہو کر رہ جائے۔مگر

آپؐ فرماتے ہیں اگر یہ سورج کو اس کی جگہ سے ہلا دیں اور میرے پاس لا کر کھڑا کر دیں۔ اگر یہ چاند کو اس کی جگہ سے ہلا دیں اور میرے پاس لا کر کھڑا کر دیں تب بھی خدا تعالیٰ کی ذات پر مجھے ایسا یقین اور وثوق ہے کہ مَیں ان چیزوں کو شعبدہ بازی سمجھوں گا اور مَیں ان کی بُت پرستی پر ہمیشہ اعتراض کروں گا اور اپنے کام سے کبھی باز نہیں آؤں گا۔

(ماخوذ از اسوۂ حسنہ ، انوار العلوم جلد 17 صفحہ 105، 106)

یہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین اور کامل توکّل کا وہ مقام ہے جو کہیں نظر نہیں آتا۔

اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں کہ’’جب یہ آیتیں اتریں کہ مشرکین رجس ہیں۔ پلید ہیں۔ شر البریہ ہیں‘‘ یعنی بدترین مخلوق ہیں ’’سفہاء ہیں‘‘ بے وقوف لوگ ہیں ’’اور ذرّیتِ شیطان ہیں اور ان کے معبود وَقُوْدُ النَّار‘‘ ہیں یعنی آگ کے ایندھن ہیں ’’اور حَصَبُ جَہَنَّم ہیں۔‘‘ جہنم کا ایندھن ہیں ’’تو ابو طالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر کہا کہ اے میرے بھتیجے اب تیری دشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہو گئی ہے اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی۔ تُو نے ان کے عقلمندوں کو سَفِیْہ قرار دیا اور ان کے بزرگوں کو شر البریہ کہا اور ان کے قابل تعظیم معبودوں کا نام ہَیْزَمِ جہنم‘‘ یعنی جہنم کا ایندھن ’’اور وَقُودُ النَّار رکھا اور عام طور پر ان سب کو رجس اور ذرّیتِ شیطان اور پلید ٹھہرایا۔ میں تجھے خیرخواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آجا ورنہ مَیں قوم کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہا کہ

اے چچا!یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہارِ واقعہ اور نَفْسُ الْاَمْر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو کام ہے جس کے لئے مَیں بھیجا گیا ہوں۔ اگر اس سے مجھے مرنا درپیش ہے تو مَیں بخوشی اپنے لئے اس موت کو قبول کرتا ہوں۔ میری زندگی اسی راہ میں وقف ہے۔ مَیں موت کے ڈر سے اظہار حق سے رک نہیں سکتا۔ اور اے چچا! اگر تجھے اپنی کمزوری اور اپنی تکلیف کا خیال ہے تو تُو مجھے پناہ میں رکھنے سے دستبردار ہو جا۔بخدا مجھے تیری کچھ بھی حاجت نہیں۔مَیں احکامِ الٰہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رکوں گا۔ مجھے اپنے مولیٰ کے احکام جان سے زیادہ عزیز ہیں۔ بخدا اگر مَیں اس راہ میں مارا جاؤں تو چاہتا ہوں کہ پھر بار بار زندہ ہو کر ہمیشہ اسی راہ میں مرتا رہوں۔ یہ خوف کی جگہ نہیں بلکہ مجھے اس میں بےانتہاء لذّت ہے کہ اس کی راہ میں دکھ اٹھاؤں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر کر رہے تھے اور چہرہ پر سچائی اور نورانیت سے بھری ہوئی رِقَّت نمایاں ہو رہی تھی اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر ختم کر چکے تو حق کی روشنی دیکھ کر بےاختیار ابو طالب کے آنسو جاری ہو گئے اور کہا کہ مَیں تیری اس اعلیٰ حالت سے بے خبر تھا۔ تُو اَور ہی رنگ میں اور اَور ہی شان میں ہے ۔جا اپنے کام میں لگا رہ۔ جب تک مَیں زندہ ہوں جہاں تک میری طاقت ہے مَیں تیرا ساتھ دوں گا۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ اول روحانی خزائن جلد3 صفحہ110 – 111)

اسی طرح

طائف سے واپسی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے توکّل کا ایک واقعہ ہے۔

آپؐ اکیلےہیں۔ طائف کے سرداروں کو تبلیغ کے لیے نکلےہیں جنہوں نے ظلم کی انتہا کی۔ واپس آتے ہیں بظاہر مکہ میں بھی داخل ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ ایک خادم ساتھ ہیں اور خادم پریشان ہے کہ اب کیا ہوگا؟ لیکن آپؐ کو اپنے ربّ پر پورا توکّل ہے۔چنانچہ اس کا ذکر کرتے ہوئے وہی خادم حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب مَیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ! اب آپؐ مکہ میں کیسے داخل ہوں گے جبکہ وہ آپؐ کو نکال چکے ہیں؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس شانِ توکّل سے جواب دیا کہ اے زید !تم دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ ضرور کوئی راہ نکال دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کا مددگار ہے۔وہ اپنے نبی کو غالب کر کے رہے گا۔

چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سردارانِ قریش کو پیغام بھجوائے کہ آپؐ کو پناہ میں لے کر مکہ میں داخلے کا انتظام کریں۔ سارے سرداروں نے انکار کیا ۔آخر ایک شریف سردار مُطْعِمْ بِن عَدِی نے آپؐ کو اپنی پناہ میں مکہ میں داخل کرنے کا اعلان کیا۔

(ماخوذ از الطبقات الکبریٰ ذکر سبب رسول اللہﷺ الی الطائف جلد 1 صفحہ 165 دارالکتب العلمیۃ 1990ء) (سبل الھدیٰ جلد2 صفحہ 440 دارالکتب العلمیۃ)

ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر توکّل علیٰ اللہ کے نمونے کیا تھے!

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ہجرت کی اجازت ملی تو آپؐ نے حضرت علی ؓکو اپنی ہجرت کے پروگرام سے آگاہ کرتے ہوئے ان کے سپرد ایک جان نثارانہ کام یہ کیا کہ آج رات وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر مبارک پر وہی سبز یا ایک روایت کے مطابق سرخ رنگ کی حضرمی چادر اوڑھ کر سوئیں گے۔ یمن کی چادر تھی۔اس علاقے کی وجہ سے اس کو حضرمی کہا جاتا تھا۔ بہرحال وہ چادر لے کر سوئیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود لے کر سویا کرتے تھے اور اپنے اس جانثار فدائی خادم کو خدائی تائید و نصرت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ فکر نہ کرنا اور بڑے آرام سے میرے بستر پرسوئے رہنا۔ دشمن تمہارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ نیز صادق و امین رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ اہالیانِ مکہ کی دی ہوئی امانتوں کا بھی فکر اور ذمہ داری کا احساس تھا اس لیے فرمایا کہ وہ لوگوں کو امانتیں واپس کرتے ہوئے میرے پیچھے آ جائیں ۔ حضرت علیؓ بعد میں وہاں آ جائیں ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے باہر تشریف لائے جبکہ کفارِ مکہ کے چنیدہ بہادر جن کی آنکھوں میں گویا خون اترا ہوا تھا وہ تلواریں ہاتھ میں لیے عین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے باہر چاک وچوبند پہرا دے رہے تھے کہ کب رات گہری ہو اور ہم دھاوا بول کر ایک ہی وار میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گویا کام تمام کر دیں نعوذ باللہ ۔اور ابو جہل جو کہ گویا ان کا سرغنہ تھا بڑے تکبر اور تمسخر سے یہ کہہ رہا تھا کہ محمد یہ کہتا ہے کہ اگر تم اس کے معاملہ میں اس کی پیروی کرو گے تو تم عرب و عجم کے بادشاہ بن جاؤ گے۔ پھر تم اپنی موت کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو تمہارے لیے اُردن کے باغات کی مانند باغات بنائے جائیں گے اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تمہارے درمیان قتل و غارت گری ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانگی کے لیے گھر سے باہر نکلے اور فرمایا: ہاں! ایسے ہی مَیں کہتا ہوں اور سورۂ یاسین کی یہ آیات پڑھتے ہوئے (نکلے)کہ یٰسٓ ۔ وَالۡقُرۡاٰنِ الۡحَکِیۡمِ۔ اِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ۔ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ۔تَنۡزِیۡلَ الۡعَزِیۡزِ الرَّحِیۡمِ ۔ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُہُمۡ فَہُمۡ غٰفِلُوۡنَ ۔ لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤی اَکۡثَرِہِمۡ فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ۔ اِنَّا جَعَلۡنَا فِیۡۤ اَعۡنَاقِہِمۡ اَغۡلٰلًا فَہِیَ اِلَی الۡاَذۡقَانِ فَہُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ۔ وَجَعَلۡنَا مِنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ سَدًّا وَّمِنۡ خَلۡفِہِمۡ سَدًّا فَاَغۡشَیۡنٰہُمۡ فَہُمۡ لَا یُبۡصِرُوۡنَ ۔ (یٰس:2-10)اس کا ترجمہ یہ ہے کہ یَا سَیِّدُ: اے سردار! حکمتوں والے قرآن کی قَسم ہے۔ (کہ) تُو یقیناً مرسلین میں سے ہے۔ صراطِ مستقیم پر (گامزن ہے)۔ (یہ) کامل غلبہ والے (اور) بار بار رحم کرنے والے کی تنزِیل (ہے)۔ تاکہ تُو ایک ایسی قوم کو ڈرائے جن کے آباءواجداد نہیں ڈرائے گئے۔ پس وہ غافل پڑے ہیں۔ یقیناً ان میں سے اکثر پر قول صادق آگیا ہے۔ پس وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ یقیناً ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں اور وہ ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہیں اس لئے وہ سر اونچا اٹھائے ہوئے ہیں۔ اور ہم نے ان کے سامنے بھی ایک روک بنا دی ہے اور ان کے پیچھے بھی ایک روک بنا دی ہے۔ اور اُن پر پردہ ڈال دیا ہے اس لئے وہ دیکھ نہیں سکتے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے یہ پڑھتے ہوئے ان کے سامنے سے نکل گئے لیکن خدا کی قدرت کہ آپؐ جاتے ہوئے کسی کو بھی دکھائی نہ دیے۔ بلکہ وہ لوگ گاہے گاہے اندر جھانک کر دیکھ لیتے اور اطمینان کر لیتے کہ محمدؐ اپنے بستر پر ہی ہیں۔

(ماخوذ از السیرۃ النبویۃ لابن ہشام صفحہ342، باب ھجرۃ الرسول ﷺ، دار الکتب العلمیۃ 2001ء۔ محمد رسول اللہ والذین معہ جلد 3صفحہ74 باب الہجرۃ، مطبوعہ مکتبہ مصر۔ الطبقات الکبری لابن سعد جلد1 صفحہ 176۔ نخب الأفكار في تنقيح مباني الأخبار في شرح معاني الآثار تالیف امام بدر الدين العينى جلد 6 صفحہ 111مطبوعہ وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية قطر2008ء)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت اور آپؐ کے اس توکّل کو بیان کرتے ہوئے تاریخی حوالوں سے حضرت مصلح موعودؓ نے جس طرح بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ ’’جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کا حکم ملا تو آپؐ حضرت ابوبکرؓ  کو اپنے ساتھ لے کر جبلِ ثور کی طرف تشریف لے گئے جو مکہ سے کوئی چھ سات میل کے فاصلے پر ہے اور اس پہاڑ کی چوٹی پر ایک غار میں چھپ کر بیٹھ گئے۔ صبح جب کفار نے دیکھا کہ آپؐ اپنے گھر میں موجود نہیں اور ہر قسم کے پہرہ کے باوجود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامیابی کے ساتھ نکل گئے ہیں تو وہ فوراً آپؐ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے مکہ کے چند بہترین کھوجی جو پاؤں کے نشانات پہچاننے میں بڑی بھاری دسترس رکھتے تھے اپنے ساتھ لئے جو انہیں جبلِ ثور تک لے آئے اور انہوں نے کہا کہ بس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ہیں تو یہیں ہیں۔اس سے آگے اَور کہیں نشان نہیں ملتا۔ اس وقت یہ کیفیت تھی کہ دشمن غار کے عین سر پر کھڑا تھا ۔اور غار کا منہ تنگ نہیں تھا جس کے اندر جھانکنا مشکل ہو مگر وہ ایک فراخ منہ کی کھلی غار ہے جس کے اندر جھانک کر بڑی آسانی سے معلوم کیا جا سکتا تھا کہ کوئی شخص اندر بیٹھا ہے یا نہیں مگر ایسی حالت میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی خوف طاری نہیں ہوتا بلکہ آپؐ کی قوّتِ قدسیہ کی برکت سے حضرت ابوبکرؓ کا دل بھی مضبوط رہتا ہے اور وہ موسیٰؑ کے ساتھیوں کی طرح یہ نہیں کہتے کہ ہم پکڑے گئے بلکہ انہوں نے اگر کچھ کہا تھا تو یہ کہ یا رسول اللہؐ! دشمن اتنا قریب پہنچ چکا ہے کہ وہ اگر ذرا بھی نظر نیچی کرے تو ہمیں دیکھ سکتا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُسْکُتْ یَا اَبَابَکْرٍ اِثْنَانِ اللّٰہُ ثَالِثُھُمَا۔ ابوبکر!خاموش رہو۔ ہم اس وقت دو نہیں بلکہ ہمارے ساتھ ایک تیسرا خدا بھی ہے پھر وہ کیونکر ہمیں دیکھ سکتے ہیں… چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ باوجود اس کے کہ دشمن غار کے سر تک پہنچ چکا تھا پھر بھی اسے یہ توفیق نہ ملی کہ وہ آگے بڑھ کر جھانک سکتا اور وہ وہیں سے بڑبڑاتے واہی تباہی‘‘بکتا ہوا لغو’’ باتیں کرتے ہوئے واپس چلا گیا۔ غرض اس واقعہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ موسیٰ ؑکے ساتھیوں نے گھبرا کر یہ کہا کہ اے موسیٰؑ!ہم پکڑے گئے ۔گویا انہوں نے اپنے ساتھ موسیٰؑ  کو بھی لپیٹ لیا اور خیال کیا کہ اب ہم سب فرعون کی گرفت میں آنے والے ہیں ۔مگر

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے توکّل نے آپؐ کے ساتھی پر بھی ایسا اثر ڈالا کہ اس کی زبان سے بھی یہ الفاظ نہ نکلے کہ ہم پکڑے گئے بلکہ اس نے کہا تو صرف یہ کہ دشمن اتنا قریب آ چکا ہے کہ اگر وہ ہمیں دیکھنا چاہے تو دیکھ سکتا ہے ۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واہمہ‘‘ یا اس خیال ’’کو بھی برداشت نہ کیا اور فرمایا کہ ایسا خیال بھی مت کرو۔ ہم اس وقت دو نہیں بلکہ ہمارے ساتھ ایک اَور بھی ہستی ہے اور وہ ہمارا خدا ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد 9 صفحہ 416-417،ایڈیشن 2023ء)

ہجرت کے واقعہ اور آپؐ کے توکّل اور جرأت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:’’ابوبکر صدیقؓ  کا صدق اس آگ کے وقت ظاہر ہوا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محاصرہ کیا گیا۔ گو بعض کی رائے اخراج کی بھی تھی لیکن اصل قتل ہی تھا۔ ایسی حالت میں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے صدق و وفا کا وہ نمونہ دکھایا جو ابدالآباد کے لئے نمونہ رہے گا۔ اس مصیبت کی گھڑی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انتخاب ہی حضرت صدیقؓ  کی فضیلت اور اعلیٰ وفاداری کی ایک زبردست دلیل ہے…۔‘‘ آپؑ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بھی حوالے سے اوصاف بیان فرما رہے ہیں۔

’’اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب تھا۔ اس وقت آپ کے پاس ستر 70 اسّی 80 صحابہ موجود تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پاس ہی تھے مگر آپؐ نے ان سب میں سے حضرت ابوبکرؓ ہی کو منتخب کیا۔ اس میں سرّ کیا ہے؟ ‘‘ کیا بھید ہے ،کیا راز ہے؟ ’’ بات یہ ہے کہ نبی خدا تعالیٰ کی آنکھ سے دیکھتا ہے۔ اس کا فہم خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کشف اور الہام سے بتا دیا تھا کہ اس کام کے لئے سب سے بہتر اور موزوں حضرت ابوبکر صدیقؓ ہی ہیں۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس ساعتِ عُسر میں آپؐ کے ساتھ ہوئے۔ یہ وقت خطرناک آزمائش کا تھا۔ حضرت مسیح ؑپر جب اس قسم کا وقت آیا تو ان کے شاگرد ان کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور ایک نے سامنے ہی لعنت بھی کی۔مگر صحابہ کرامؓ میں سے ہر ایک نے پوری وفاداری کا نمونہ دکھایا۔ غرض حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آپؐ کا پورا ساتھ دیا اور ایک غار میں جس کو غارِ ثور کہتے ہیں آپ جا چھپے۔ شریر کفار جو آپؐ کی ایذا رسانی کے لئے منصوبے کر چکے تھے تلاش کرتے ہوئے اس غار تک پہنچ گئے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عرض کی کہ اب تو یہ بالکل سر پر ہی آ پہنچے ہیں اور اگر کسی نے ذرا نیچے نگاہ کی تو وہ دیکھ لے گا اور ہم پکڑے جاویں گے۔ اس وقت آپؐ نے فرمایا لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔ (التوبۃ:40) کچھ غم نہ کھاؤ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ اس لفظ پر غور کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیقؓ  کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں۔یہ فرمایا اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔ مَعَنَا میں آپ دونوں شریک ۔یعنی تیرے اور میرے ساتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک پلّہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رکھا اور دوسرے پر حضرت صدیقؓ  کو۔ اس وقت دونوں ابتلا میں ہیں کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں سے یا تو اسلام کی بنیاد پڑنے والی ہے یا خاتمہ ہو جانے والا ہے۔ دشمن غار پر موجود ہیں اور مختلف قسم کی رائے زنیاں ہو رہی ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس غار کی تلاشی کرو کیونکہ نشانِ پا یہاں تک ہی آ کر ختم ہو جاتا ہے لیکن ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہاں انسان کا گزر اور دخل کیسے ہوگا ۔مکڑی نے جالا تنا ہوا ہے، کبوتر نے انڈے دئیے ہوئے ہیں۔ اس قسم کی باتوں کی آوازیں اندر پہنچ رہی ہیں اور آپ بڑی صفائی سے ان کو سن رہے ہیں۔ ایسی حالت میں دشمن آئے ہیں کہ وہ خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور دیوانے کی طرح بڑھے آئے ہیں لیکن

آپؐ کی کمال شجاعت کو دیکھو کہ دشمن سر پر ہے اور آپؐ اپنے رفیقِ صادق صدیقؓ کو فرماتے ہیں۔لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔یہ الفاظ بڑی صفائی کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں کہ آپؐ نے زبان ہی سے فرمایا کیونکہ یہ آواز کو چاہتے ہیں۔ اشارہ سے کام نہیں چلتا۔ باہر دشمن مشورہ کر رہے ہیں اور اندر غار میں خادم ومخدوم بھی باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس امر کی پروا نہیں کی گئی کہ دشمن آواز سن لیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ پر کمال ایمان اور معرفت کا ثبوت ہے۔ خدا تعالیٰ کے وعدوں پر پورا بھروسہ ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد 1 صفحہ 339تا 341،ایڈیشن 2022ء)

اس ہجرت کے سفر میں آپؐ کے اَور بھی واقعات ہیں جس میں توکّل نظر آتا ہے۔ان شاء اللہ آئندہ بیان ہوں گے۔ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی وَ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 04؍ستمبر 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button