خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 04؍ستمبر 2026ء

’’جیسے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل متبتّل تھے ویسے ہی کامل متوکّل بھی تھے اور یہی وجہ ہے کہ اتنے وجاہت والے اور قوم وقبائل کے سرداروں کی ذرا بھی پروا نہیں کی اور ان کی مخالفت سے کچھ بھی متاثر نہ ہوئے۔ آپؐ میں ایک فوق العادت یقین خدا تعالیٰ کی ذات پر تھا ۔اسی لیے اس قدر عظیم الشان بوجھ کو آپؐ نے اٹھا لیا اور ساری دنیا کی مخالفت کی اور ان کی کچھ بھی ہستی نہ سمجھی۔ یہ بڑا نمونہ ہے توکّل کا جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جب انسانِ کامل بنا کر تمام انسانیت کے لیے اسوۂ حسنہ بنایا تو پھر ہر خُلق کو آپؐ کی ذات میں پیدا فرما کراسے خُلق عظیم بنا دیا اور مومنوں کو نصیحت فرمائی کہ اگر تم اپنے اندر نیک صفات پیدا کرنا چاہتے ہو اور خُلق کے اعلیٰ معیار حاصل کرنا چاہتے ہو تو پھراس عظیم رسولؐ کی پیروی کرو اور یہی تمہیں خداتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہر خُلق کو اعلیٰ معیار تک پہنچایا وہاں مومنوں کو بھی نصیحت فرمائی کہ اس کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرو

اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کریں گے ،اللہ تعالیٰ پر توکّل کریں گے تو نشانات بھی دیکھیں گے۔ جس کا اعلیٰ نمونہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ملتا ہے اور آپؐ کے طفیل آپؐ کے صحابہؓ نے اس سے فیض پایا اور ہمارے سامنے مثالیں پیش فرمائیں

’’یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جو شخص متبتّل ہوگا متوکّل بھی وہی ہوگا۔ گویا متوکّل ہونے کے واسطے متبتّل ہونا شرط ہے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

اگر تم توکّل کرو اللہ پر جیسا اس کے توکّل کا حق ہے تو ضرور تمہیں رزق دیا جائے گا جیسے پرندوں کو دیا جاتا ہے۔ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں(حدیث نبویﷺ)

یہ توکّل ہے کہ اپنے پاس موجود چیز سے زیادہ یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ میری ضرورت پوری کرے گا ۔میری بعض چیزیں تو ضائع ہو سکتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے پاس جو ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا اور حسبِ ضرورت توکّل کرنے والے کو،نیک عمل کرنے والے کو ملتا رہتا ہے

جو شخص اپنی تمام فکروں کو ایک ہی فکر یعنی دین کی فکر بنا لے۔اپنا دین دیکھے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق دیکھے کیا ہے۔ اپنی روحانی حالت کو دیکھے کیا ہے ۔تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت کی باقی تمام فکروں کو کافی ہو جاتا ہے(حدیث نبویﷺ)

’’انسان کو چاہیے کہ تقویٰ کو ہاتھ سے نہ دیوے اور خدا پر بھروسہ رکھے تو پھر اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو سکتی۔ خدا پر بھروسہ کے یہ معنےنہیں ہیں کہ انسان تدبیر کو ہاتھ سے چھوڑ دے بلکہ یہ معنے ہیں کہ تدبیر پوری کر کے پھر انجام کو خدا پر چھوڑے اس کا نام توکّل ہے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کام میں بھی دنیا اور اہل دنیا کی طرف توجہ نہ تھی اور ارضی اسباب کی طرف آپؐ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے تھے بلکہ ہر کا م میں آپؐ کی نظر خدا تعالیٰ ہی کی طرف لگی رہتی کہ وہی کچھ کرے گا گو یا کہ توکّل کا ایک کامل نمونہ تھے جس کی نظیر نہ پہلے انبیاء میں ملتی ہے نہ آپؐ کے بعدآپؐ کے سے تو کّل والا کو ئی انسان پیدا ہوا ہے‘‘ (حضرت مصلح موعودؓ)

’’وہ میرا پیارا زمینی نہیں بلکہ آسمانی تھا۔ بڑھتے ہو ئے لشکر اور دوڑتے ہو ئے گھوڑے، اٹھتے ہو ئے نیزے اور چمکتی ہو ئی تلواریں اس کی آنکھوں میں کچھ حقیقت نہیں رکھتی تھیں۔ وہ ملا ئکہ آسمانی کا نزول دیکھ رہا تھا اور زمین وآسمان کا پیدا کنندہ اس کے کان میں ہر دم تسلی آمیز کلام ڈال رہا تھا۔اس کا دل یقین سے پُر اور سینہ ایمان سے معمور تھا۔ غرضیکہ بجائے دنیاوی اسباب پر بھروسہ کر نے کے اس کا تو کّل خدا پر تھا۔ پھر بھلا ان مصائب سے وہ کب گھبرا سکتا تھا ‘‘(حضرت مصلح موعودؓ)

’’اس غیور دل کی حالت پر غور کرو۔ اس متوکّل انسان کی شا ن پر نظر ڈالو۔ اس یقین سے پُر دل کی کیفیت کا احساس اپنے دلوں کے اندر پیدا کرکے دیکھو کہ کس یقین اور توکّل کے ماتحت وہ مسیلمہ کو جواب دیتا ہے۔ کیا کو ئی بادشاہ ایسے اوقات میں اس جرأت اور دلیری کو کام میں لا سکتا ہے ۔کیا تاریخ کسی گوشت اور پو ست سے بنے ہوئے انسان کو ایسے مواقع میں سے اس سلامتی سے نکلتا ہوا دکھا سکتی ہے۔ اگر نہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ آپؐ کی زندگی سے مقابلہ کر نا ہی غلط ہے کیونکہ آپ نبی تھے۔ اگر آپؐ کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے تو انبیاء ؑسے مگر جو شان آپؐ کو حاصل ہے اس کی نظیر انبیاء میں بھی نہیں مل سکتی کیونکہ آپؐ کو سب انبیاء پر فضیلت ہے‘‘(حضرت مصلح موعودؓ)

مکرم مرزا صفدر محمود صاحب شہید آف منڈی بہاؤالدین ، مکرمہ امة العزیز صاحبہ بنت مکرم سیّد داؤد مظفر شاہ صاحب (مرحوم) و صاحبزادی امۃ الحکیم صاحبہ (مرحومہ) اور مکرم رشید احمد ایاز صاحب پینشنر صدر انجمن احمدیہ کی وفات پر مرحومین کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب

توکّل علیٰ اللہ کے حوالے سے سیرت النبیﷺ کا ایمان افروز تذکرہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 04؍ستمبر 2026ء بمطابق 04؍تبوک1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جب انسانِ کامل بنا کر تمام انسانیت کے لیے اسوۂ حسنہ بنایا تو پھر ہر خُلق کو آپؐ کی ذات میں پیدا فرما کر اسے خُلق عظیم بنا دیا اور مومنوں کو نصیحت فرمائی کہ اگر تم اپنے اندر نیک صفات پیدا کرنا چاہتے ہو اور خُلق کے اعلیٰ معیار حاصل کرنا چاہتے ہو تو پھر اس عظیم رسولؐ کی پیروی کرو اور یہی تمہیں خداتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہر خُلق کو اعلیٰ معیار تک پہنچایا وہاں مومنوں کو بھی نصیحت فرمائی کہ اس کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرو۔

جیسا کہ آج کل آپؐ کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کا ذکر ہو رہا ہے ۔اس ضمن میں

آج توکّل علی اللہ کے حوالے سے آپؐ کی سیرت کے پہلو، آپؐ کے مقام، آپؐ کی مومنوں کو نصیحت، آپؐ کے اپنے عمل کا ذکر کروں گا۔

اللہ تعالیٰ نے توکّل کے بارے میں قرآن کریم میں مختلف حوالوں سے ارشاد فرمایا ہے۔ مختلف موقعوں پر ارشاد فرمایا ہے۔ ایک جگہ آپؐ کو مخاطب فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیۡرًا۔ وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیۡرًا۔ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ فَضۡلًا کَبِیۡرًا۔وَلَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَالۡمُنٰفِقِیۡنَ وَدَعۡ اَذٰٮہُمۡ وَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا۔(الاحزاب:46تا49)یعنی اے نبی! ہم نے تجھ کو اس حال میں بھیجا ہے کہ تُو (دنیا کا) نگران بھی ہے (مومنوں کو) خوشخبری دینے والا بھی ہے اور (کافروں کو) ڈرانے والا بھی ہے۔ اور نیز اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور ایک چمکتا ہوا سورج بنا کر (بھیجا ہے)۔ اور مومنوں کو بشارت دے دے کہ ان کو اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ملے گا۔ اور کافروں اور منافقوں کی بات ہرگز نہ مان، اور ان کی ایذا دہی کو نظر انداز کر دے اور اللہ پر توکّل کر اور اللہ کارسازی میں کافی ہے۔

پس

جہاں یہ آپؐ کو خوشخبری ہے مومنوں کو بھی خوشخبری ہے کہ اگر وہ ایمان پر قائم رہیں گے، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کریں گے، اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل توکّل کریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ ان کے لیے بھی ہر مشکل میں کافی ہوگا۔

پھر مومنوں کو توجہ دلاتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ وَعَلَي اللّٰہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔(التغابن:14) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور مومنوں کو اللہ پر ہی توکّل کرنا چاہیے۔

پس

اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کریں گے ،اللہ تعالیٰ پر توکّل کریں گے تو نشانات بھی دیکھیں گے۔ جس کا اعلیٰ نمونہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ملتا ہے اور آپؐ کے طفیل آپؐ کے صحابہؓ نے اس سے فیض پایا اور ہمارے سامنے مثالیں پیش فرمائیں۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ’’واقعات حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر کرنے سے یہ بات نہایت واضح اور نمایاں اور روشن ہے کہ آنحضرت اعلیٰ درجہ کے یک رنگ اور صاف باطن اور خدا کے لئے جان باز اور خلقت کے بیم وامید‘‘ یعنی خوف اور امید ’’سے بالکل منہ پھیرنے والے اور محض خدا پر توکّل کرنے والے تھے …کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مَوَاضِعَاتِ خطرات‘‘ یعنی خطروں کے ایسے موقعےیا مقامات ’’اور پھر کوئی ایسا خدا پر توکّل کر کے کھلا کھلے شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا اور اس قدر دشمن اور پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 111-112)

آپؑ نے فرمایا کہ نبیوں کا مقام بھی بڑا ہے وہاں بھی یہ مثالیں نہیں ملتیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے توکّل کی مثالیں ہیں۔

پھر آپؑ فرماتے ہیں :’’تبتّل ‘‘یعنی خدا تعالیٰ سے دل لگانا اور دنیا کو چھوڑنااس’’ کا عملی نمونہ ہمارے پیغمبرِخدا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ نہ آپؐ کو کسی کی مدح کی پَروا نہ ذم کی ‘‘یعنی نہ کسی تعریف کی پَرواہ تھی نہ کسی کے برا کہنے کی۔’’ کیا کیا آپؐ کو تکالیف پیش آئیں مگر کچھ بھی پروا نہیں کی۔ کوئی لالچ اور طمع آپؐ کو اس کام سے نہ روک سکا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے کرنے آئے تھے۔ جب تک انسان اس حالت کو اپنے اندر مشاہدہ نہ کر لے اور امتحان میں پاس نہ ہو لے کبھی بھی بے فکر نہ ہو۔‘‘یہاںآپؑ نےنصیحت فرمائی کہ یہ مقام حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بے فکر نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ پر توکّل کرنے کے اس اعلیٰ مقام تک پہنچنا چاہیے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی مدّنظر ہو۔ پھر فرماتے ہیں کہ ’’پھر

یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جو شخص متبتّل ہوگا متوکّل بھی وہی ہوگا۔ گویا متوکّل ہونے کے واسطے متبتّل ہونا شرط ہے۔‘‘

یعنی اگر توکّل کرنا ہے تو اس کے لیے پھر اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا بھی ضروری ہے ’’کیونکہ جب تک اَوروں کے ساتھ تعلقات ایسے ہیں کہ ان پر بھروسہ اور تکیہ کرتا ہے اُس وقت تک خالصۃً اللہ پر توکّل کب ہو سکتا ہے۔ جب خدا کی طرف انقطاع کرتا ہے تو وہ دنیا کی طرف سے توڑتا ہے اور خدا میں پیوند کرتا ہے اور یہ تب ہوتا ہے جب کہ کامل توکّل ہو

جیسے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل متبتّل تھے ویسے ہی کامل متوکّل بھی تھے اور یہی وجہ ہے کہ اتنے وجاہت والے اور قوم وقبائل کے سرداروں کی ذرا بھی پروا نہیں کی اور ان کی مخالفت سے کچھ بھی متاثر نہ ہوئے۔ آپؐ میں ایک فوق العادت یقین خدا تعالیٰ کی ذات پر تھا ۔اسی لیے اس قدر عظیم الشان بوجھ کو آپؐ نے اٹھا لیا اور ساری دنیا کی مخالفت کی اور ان کی کچھ بھی ہستی نہ سمجھی۔ یہ بڑا نمونہ ہے توکّل کا جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔

اس لیے کہ اس میں خدا کو پسند کر کے دنیا کو مخالف بنا لیا جاتا ہے مگر یہ حالت پیدا نہیں ہوتی جب تک گویا خدا کو نہ دیکھ لے ۔جب تک یہ امید نہ ہو کہ اس کے بعد دوسرا دروازہ ضرورکھلنے والا ہے۔ جب یہ امید اور یقین ہو جاتا ہے تو وہ عزیزوں کو خدا کی راہ میں دشمن بنا لیتا ہے۔ اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ خدا اَور دوست بنادے گا۔ جائیداد کھو دیتا ہے کہ اس سے بہتر ملنے کا یقین ہوتا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ

خدا ہی کی رضا کو مقدّم کرنا تو تبتّل ہے اور پھر تبتّل اور توکّل توام ہیں۔‘‘

یعنی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، جڑواں ہیں۔

’’تبتّل کا راز ہے توکّل اور توکّل کی شرط ہے تبتّل ۔ یہی ہمارا مذہب اس امر میں ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد 2 صفحہ 302 ایڈیشن 2022ء)

اللہ تعالیٰ کی طرف مکمل جھکیں گے، دنیا پر انحصار ختم کریں گے تو تبھی حقیقی توکّل کی حالت پیدا ہوگی اور جیسا کہ مَیں نے کہا اور ہم سب جانتے ہیں کہ اس کی اعلیٰ ترین مثال ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :’’یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کمزور ہے۔وہ بڑی طاقت والی ذات ہے۔ جب اس پر کسی امر میں بھروسہ کرو گے وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا۔ وَمَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسۡبُہٗ (الطلاق: 4) ‘‘ اور جو کوئی اللہ پر توکّل کرتا ہے وہ اللہ اس کے لیے کافی ہے ’’لیکن جو لوگ ان آیات کے پہلے مخاطب تھے وہ اہل دین تھے ۔ ان کی ساری فکریں محض دینی امور کے لیے تھیں اور ان کے دنیوی امور حوالہ بخدا تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی کہ مَیں تمہارے ساتھ ہوں۔ غرض برکاتِ تقویٰ میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو ان مصائب سے مَخلصی بخشتا ہے جو دینی امور کے حارج ہوں۔

ایسا ہی اللہ تعالیٰ متقی کو خاص طور پر رزق دیتا ہے۔یہاں میں معارف کے رزق کا ذکر کروں گا۔‘‘آپؑ مادی ذکر نہیں فرما رہے معارف کے رزق کا ذکر کر رہے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو باوجود اُمّی ہونے کے تمام جہان کا مقابلہ کرنا تھا جس میں اہل کتاب، فلاسفر، اعلیٰ درجہ کے علمی مذاق والے لوگ اور عالم فاضل شامل تھے لیکن آپ کو روحانی رزق اس قدر ملا کہ آپؐ سب پر غالب آئے اور ان سب کی غلطیاں نکالیں۔ یہ روحانی رزق تھا کہ جس کی نظیر نہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد 1 صفحہ 11، ایڈیشن 2022ء)

اس بارے میں حضرت عمر بن خطابؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

اگر تم توکّل کرو اللہ پر جیسا اس کے توکّل کا حق ہے تو ضرور تمہیں رزق دیا جائے گا جیسے پرندوں کو دیا جاتا ہے۔

یہاں مادی رزق کا بھی آپؐ نے فرمایا توکّل کرو گے تو ملے گا۔

وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔

(سنن الترمذی ابواب الزھد۔ باب فی التوکّل علی اللّٰہ حدیث نمبر2344)

حضرت ابوذرؓ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں بے رغبتی حلال کو حرام کرنا نہیں ہے اور نہ مال ضائع کرنا ہے کہ ہمیں مال سے رغبت کوئی نہیں۔ جو چیزیں جائز ہیں ان کو بھی کہہ دیا بھئی! ہم تو نہیں مانتے جیسے آج کل کے بعض پیروں فقیروں کا طریق ہے ۔لیکن

دنیا میں بے رغبتی یہ ہے کہ جو تمہارے دونوں ہاتھوں میں ہے وہ اس سے زیادہ قابلِ اعتماد نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

یہ بے رغبتی ہے کہ تمہارے پاس جو اپنا مال ہے اپنے قبضے میں اس سے زیادہ اس بات پر یقین ہو کہ جو اللہ کے پاس ہے اس سے مجھے زیادہ فائدہ پہنچے گا اور مصیبت کے ثواب کے بارے میں تم ایسے ہو کہ جب تمہیں مصیبت پہنچے تو تم اس میں زیادہ راغب ہو کہ کاش! وہ تمہارے لیے باقی رہتی۔

(سنن الترمذی ابواب الزھد۔ باب ماجاء فی الزھادۃ فی الدنیا حدیث 2340)

پس

یہ توکّل ہے کہ اپنے پاس موجود چیز سے زیادہ یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ میری ضرورت پوری کرے گا ۔میری بعض چیزیں تو ضائع ہو سکتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے پاس جو ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا اور حسبِ ضرورت توکّل کرنے والے کو،نیک عمل کرنے والے کو ملتا رہتا ہے۔

حضرت عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابنِ آدم کے دل سے ہر وادی میں ایک راستہ ہے۔ جس شخص کے دل نے اس کی تمام راہوں کی پیروی کی تو اللہ نہیں پرواہ کرتا کہ اس کو کسی وادی میں چلا دے یا ہلاک کر دے ۔اور

جو اللہ پر توکّل کرے تو اللہ اس کے لیے مختلف راہوں پر چلنے میں کافی ہو گا۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب التوکّل و الیقین حدیث 4166)

اس حدیث کی شرح جو ہے اس میں لکھا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اپنے دل کو مختلف خواہشوں، فکروں اور دنیاوی پریشانیوں کا تابع بنا دے اور ہر طرف اس کی توجہ بٹی رہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں رہتی کہ وہ کس وادی میں جا کے ہلاک ہوتا ہے۔ کہاں جیتا ہے کہاں مرتا ہے اس کی اللہ کو پرواہ نہیں۔ وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰہِ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی مختلف اور منتشر ضروریات، پریشانیوں اور حاجتوں کی کفالت فرماتا ہے جو اللہ کی طرف جھکنے والا ہے اور انہیں پورا کر دیتا ہے۔ اسی معنی کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

جو شخص اپنی تمام فکروں کو ایک ہی فکر یعنی دین کی فکر بنا لے۔اپنا دین دیکھے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق دیکھے کیا ہے۔ اپنی روحانی حالت کو دیکھے کیا ہے ۔تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت کی باقی تمام فکروں کو کافی ہو جاتا ہے۔

(مرقاۃ المفاتیح جلد9 صفحہ 498، دار الکتب العلمیۃ بیروت 2001ء)

یہ مطلب ہے اس حدیث کا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس باریکی سے اللہ تعالیٰ پر توکّل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے روزمرّہ کے معاملات کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔

حضرت ام سلمہؓ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر سے نکلتے تھے تو کہتے تھے، [بِسْمِ اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ اللّٰهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَزِلَّ أَوْ نَضِلَّ أَوْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ أَوْ نَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا۔]

ترجمہ پڑھتا ہوں کہ اللہ کے نام کے ساتھ مَیں نے اللہ پر توکّل کیا۔ اے اللہ !ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس سے کہ ہم پھسل جائیں یا ہم بھٹک جائیں یا ہم ظلم کریں یا ہم پر ظلم کیا جائے یا ہم جہالت سے پیش آئیں یا ہمارے ساتھ جہالت سے پیش آیا جائے۔

(سنن ترمذی ابواب الدعوات باب منہ دعاء :بسم اللّٰہ توکّلت علی اللّٰہ حدیث3427)

اسی طرح ایک اَور روایت بھی ہے۔حضرت بُرَیْدَہ ؓنے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر سے باہر تشریف لاتے تو کہتے کہ [بِسْمِ اللّٰهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ۔اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَضِلَّ اَوْ اُضَلَّ اَوْ اَزِلَّ اَوْاُزَلَّ اَوْ اَظْلِمَ اَوْ اُظْلَمَ اَوْ اَجْھَلَ اَوْ یُجْھَلَ عَلَیَّ اَوْ اَبْغیْ اَوْ یُبْغٰی عَلَیَّ۔] اللہ کے نام کے ساتھ مَیں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور اللہ ہی کی توفیق سے نیکی کی طاقت اور برائی سے بچنے کی قوّت حاصل ہوتی ہے۔ اے اللہ! مَیں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ مَیں گمراہ ہو جاؤں یا مجھے گمراہ کیا جائے۔ مَیں لغزش کا شکار ہو جاؤں یا مجھے لغزش میں ڈال دیا جائے۔ مَیں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔ مَیں جہالت کا ارتکاب کروں یا میرے ساتھ جہالت کا برتاؤ کیا جائے اور مَیں کسی پر زیادتی کروں یا میرے خلاف زیادتی کی جائے۔(کنز العمال جلد 7 صفحہ54 روایت 18416 ، دا رالکتب العلمیۃ بیروت) یعنی تمام چیزیںاس میں coverہو گئیں۔ ان سب کا احاطہ ہو گیا۔

اسی طرح گھر میں داخل ہونے کی دعا کا بھی ذکر ملتا ہے۔ حضرت ابو مالک اشعریؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ یہ کہے کہ [اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلِجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ بِسْمِ اللّٰهِ وَلَجْنَا وَبِسْمِ اللّٰهِ خَرَجْنَا وَعَلَى اللّٰهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا] اے اللہ! مَیں تجھ سے گھر میں داخل ہونے کی بھلائی مانگتا ہوں اور گھر سے باہر نکلنے کی بھلائی مانگتا ہوں۔ اللہ کے نام کے ساتھ ہم داخل ہوتے ہیں اور اللہ کے نام کے ساتھ ہم نکلتے ہیں اور اللہ پر جو ہمارا ربّ ہے ہم توکّل کرتے ہیں۔ پھر وہ اپنے گھر والوں کو سلام کرے۔

(سنن ابو داؤد کتاب الادب باب ما یقول الرّجل اذا دخل بیتہ، حدیث : 5096)

یہ دعا پڑھے اور پھر گھر میں داخل ہو کر گھر والوں کو سلام کرے۔پھر آپؐ کے

توکّل اور خدا تعالیٰ کے خوف

کے بارے میں ایک روایت ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلالؓ کے پاس تشریف لے گئے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس کھجوروں کا ایک ڈھیر دیکھا تو فرمایا :اے بلال!یہ کیا ہے؟ حضرت بلالؓ نے عرض کیا :یہ کچھ کھجوریں ہیں جو مَیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ذخیرہ کر رکھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

افسوس ہے تم پر اے بلال !کیا تمہیں یہ خوف نہیں کہ قیامت کے دن اس کا دھواں جہنم میں اٹھے۔یعنی عذاب کاباعث بن جائے۔ اے بلال! خرچ کرو اور عرش کے مالک کی طرف سے تنگدستی کا خوف نہ کرو۔

(المعجم الأوسط جزء 3 صفحہ 86 حدیث:2572 ، الناشر: دار الحرمين القاهرة)

توکّل کرو اس پر۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام اس حوالے سے فرماتے ہیں کہ’’ انسان کے ایمان میں ترقی تب ہی ہو سکتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فرمودہ پر چلے اور خدا پر اپنے توکّل کو قائم کرے۔ ایک دفعہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلالؓ کو دیکھا کہ وہ کھجوریں جمع کرتا تھا ۔آپؐ نے فرمایا کہ کس لیے ایسا کرتا ہے ۔اس نے کہا کہ کل کے لیے جمع کرتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا کہ کیا تُو کل کے خدا پر ایمان نہیں رکھتا؟‘‘ جو خدا تجھے آج دے رہا ہے وہ کل نہیں تجھے دے گا ۔اس پہ ایمان نہیں تیرا ؟لیکن آپؑ نے فرمایا، وضاحت بھی کر دی کہ یہ بھی نہیں کہ فضول خرچیاں کرتے چلے جاؤ۔ بعض لوگوں کے ہاتھ کھلے ہوتے ہیں اور وہ نہیں کرتے۔ فرمایا کہ ’’لیکن یہ بات بلالؓ کو فرمائی ہر کسی کو نہیں فرمائی ۔اور ہر ایک کو وعظ اور نصیحت اس کی برداشت کے مطابق کیا جاتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد 9 صفحہ 210،ایڈیشن 2022ء)

آپؑ نے فرمایا کہ آنحضرتؐ کے بارے میں یہ نصیحت ہے ضرور۔ کیونکہ حدیث میں واضح طور پہ آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہا کہ آپؐ کے لیے اکٹھا کر رہا ہوں تو آپؐ نے کہا میرا تو توکّل ہے اس پر۔ اگر میرے لیے رکھی گئی ہیں تواس کا دھواں تو مجھے پہنچے گا۔ لیکن بعض لوگوں کو اور قرآن شریف کے حکم کے مطابق یہ نصیحت بھی ہے کہ اتنی فضول خرچی نہ کرو کہ کچھ ہو نہ ۔کچھ نہ کچھ اپنے اسباب کا سامان بھی کرو اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکّل بھی کرو کہ وہ ان اسباب کو محفوظ بھی رکھے اور ان سے فیض اٹھانے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔

توکّل کا یہ مطلب نہیں کہ احتیاط سے کام نہ لیا جائے اور اسباب کا استعمال نہ کیا جائے۔ یہ بات بھی اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔

چنانچہ حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں :ایک آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مَیں اونٹ کا گھٹنا باندھوں اور توکّل کروں یا اسے کھلا چھوڑ دوں اور توکّل کروں؟ آپؐ نے فرمایا :

اس کا گھٹنا باندھو اور توکّل کرو۔

(سنن الترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ (والرقائق والورع عن رسول اللّٰہ) باب حدیث اعقلھا و توکّل…، حدیث: 2517)

یہ ایک مثال ہے۔ باقی معاملات میں بھی اسی مثال کو لاگو کیا جا سکتا ہے۔ روایت میں ہے کہ ایسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تب فرمایا تھا کہ جب ایک بدوی نے یا ایک روایت کے مطابق حضرت عمرو بن امیہؓ نے اپنی اونٹنی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے دروازے پر کھلا چھوڑ دیا اور نماز پڑھنے کے لیے اندر چلا گیا۔

(تخريج أحاديث وآثار كتاب في ظلال القرآن صفحہ342 حدیث660 دار الهجرة للنشر والتوزيع 1995 ء) (الجامع لشعب الایمان جلد2 صفحہ 427 حدیث نمبر 1159 مکتبہ الرشد)

اس کی تفصیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے اس طرح بیان فرمائی ہے کہ

’’انسان کو چاہیے کہ تقویٰ کو ہاتھ سے نہ دیوے اور خدا پر بھروسہ رکھے تو پھر اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو سکتی۔ خدا پر بھروسہ کے یہ معنےنہیں ہیں کہ انسان تدبیر کو ہاتھ سے چھوڑ دے بلکہ یہ معنے ہیں کہ تدبیر پوری کر کے پھر انجام کو خدا پر چھوڑے اس کا نام توکّل ہے۔

اگر وہ تدبیر نہیں کرتا اور صرف توکّل کرتا ہے تو اس کا توکّل پھوکا …‘‘یعنی کھوکھلا اور خالی’’ہوگا اور اگر نری تدبیر کر کے اس پر بھروسہ کرتا ہے۔‘‘ کہ مَیں نے تدبیر کر لی ہے اب کافی ہے، اللہ پر بھروسہ کرنے کی ضرورت نہیں ’’اور خدا پر توکّل نہیں ہے تو وہ تدبیر بھی پھوکی …ہو گی‘‘ وہ تدبیر بھی ضائع ہو جائے گی۔ ’’ایک شخص اونٹ پر سوار تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے دیکھا۔تعظیم کے لیے نیچے اُترا اور ارادہ کیا کہ توکّل کرے اور تدبیر نہ کرے ۔چنانچہ اس نے اپنے اونٹ کا گھٹنا نہ باندھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر آیا تو دیکھا کہ اونٹ نہیں ہے۔ واپس آ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ مَیں نے تو توکّل کیا تھا لیکن میرا اونٹ جاتا رہا۔ آپؐ نے فرمایا کہ تُو نے غلطی کی۔ پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھتا اور پھر توکّل کرتا تو ٹھیک ہوتا۔‘‘

(ملفوظات جلد 6 صفحہ 58-59 ایڈیشن 2022ء)

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ دینار آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے سب تقسیم کر دیے۔صرف چھ دینار باقی رہ گئے جنہیں آپؐ نے اپنی ازواجِ مطہرات میں سے ایک کے پاس رکھوا دیا۔ ایک اَور روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری بیماری میں حضرت عائشہؓ کے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے عائشہ !وہ سونے کے دینار کہاں ہیں؟ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ وہ میرے پاس محفوظ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :انہیں اللہ کی راہ میں خرچ کر دو۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیماری کی شدّت کی وجہ سے بے ہوشی طاری ہو گئی۔ (وہ بھی جو آپؐ نے رکھوائے تھے وہ اس لیے تھے کہ کسی وقت میں تقسیم کرنے ہیں) جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہؓ کے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہوا تو دوبارہ دریافت فرمایا۔ اے عائشہ !کیا وہ سونے کے دینار خرچ کر دیے؟ انہوں نے عرض کیا :نہیں اللہ کی قسم یا رسول اللہؐ! ابھی نہیں کیے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دینار منگوائے۔ جب وہ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی ہتھیلی پر رکھا ،گِنا تو وہ چھ دینار تھے۔ پھر فرمایا کہ

محمد کا اپنے ربّ پر کیا توکّل ہوا اگر خدا سے ملاقات اور دنیا سے رخصت ہوتے وقت یہ دینار اس کے پاس ہوں۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تمام دینار اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیے اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔

(ماخوذ از الطبقات الکبریٰ جلد 2 صفحہ 182 – 183 دارالکتب العلمیہ)

اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے: قُلۡ لَّنۡ یُّصِیۡبَنَاۤ اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ۚ ہُوَ مَوۡلٰٮنَا ۚ وَعَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۔(التوبۃ: 51) یعنی تُو ان سے کہہ دے ہم کو تو وہی پہنچتا ہے جو اللہ نے ہمارے لیے مقرر کر چھوڑا ہے۔ وہ ہمارا کارساز ہے اور مومنوں کو چاہیے کہ وہ اللہ پر ہی توکّل رکھیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح آپؐ نے توکّل کی اعلیٰ مثال ایک موقع پر قائم فرمائی۔ اللہ کا اللہ تعالیٰ پرتوکّل کا ہی حکم ہے توآپؐ خود بھی کس طرح عمل کرتے تھے۔ جب مسیلمہ کذاب نے اپنے لشکر کے ساتھ آپؐ کی اطاعت میں آنے کا کہا لیکن شرط لگا دی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شرط کوئی قبول نہیں ہے بلکہ سختی سے ردّ فرمایا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا مسیلمہ کذاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آیا اور کہنے لگا اگر محمد اپنے بعد مجھے جانشین بنائیں تو مَیں ان کا پیرو ہوں گا اور وہ مدینہ میں اپنی فوج کے بہت سے لوگوں کے ساتھ آیا تھا۔ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ ایک لاکھ لوگ تھے۔ یعنی اس کے ماننے والے تھے۔ آئے تو کم ہی ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور آپؐ کے ساتھ حضرت ثابتؓ بن قیس بن شَمَّاسْ تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کھجور کی ایک چھڑی تھی۔ آپؐ آ کر مسیلمہ کے سامنے جب کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا تھا ،کھڑے ہو گئے اور آپؐ نے فرمایا :اگر تُو مجھ سے یہ لکڑی کا ٹکڑا بھی مانگے تو مَیں تمہیں یہ بھی نہ دوں گا اور تُو ہرگز اللہ کے فیصلے سے آگے نہیں بڑھ سکے گا جو تیرے لیے مقدر ہے۔ اگر تُو پیٹھ پھیر کر چلا گیا تو اللہ تعالیٰ تمہاری جڑ کاٹ دے گا اور مَیں تمہیں وہ شخص دیکھ رہا ہوں جس کے متعلق مجھے خواب میں بہت کچھ دکھایا گیا ہے۔ وہ اس سے پہلے یہ بات کر چکا تھا کہ آپؐ مجھے اپنا جانشین بنائیں۔ تو بہرحال آپؐ نے کہا اس چھڑی کے برابر بھی تمہیں نہیں ملے گا ۔اب تو مَیں دیکھ رہا ہوں کہ جو مَیں نے خواب میں دیکھا تھا ۔اور یہ ثابتؓ ہیں۔مجھے دکھایا گیا ہے اور یہ ثابتؓ ہیں۔ ہاں ثابت لفظ نہیں بلکہ ثابتؓ صحابی تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپؐ نے فرمایا اور یہ ثابتؓ ہیں یعنی میرا نمائندہ ہے۔ یہ حضرت ثابتؓ ہیں جو میری طرف سے تمہیں جواب دیں گے اور یہ کہہ کر آپؐ اس کو چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے متعلق پوچھا کہ تم کو مَیں وہی شخص دیکھ رہا ہوں جس کے متعلق مجھے خواب میں وہ کچھ دکھایا گیا جو دکھایا گیا۔ حضرت ابو ہریرہ ؓنے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک بار مَیں سویا ہوا تھا کہ اسی اثنا میں مَیں نے اپنے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن دیکھے ۔ان کی کیفیت نے مجھے فکر میں ڈال دیا۔ پھر مجھے خواب میں وحی کی گئی کہ مَیں ان پر پھونکوں۔ چنانچہ مَیں نے ان پر پھونکا اور وہ اڑ گئے۔ مَیں نے ان کی تعبیر دو جھوٹے شخص سمجھے جو بعد میں ظاہر ہوں گے۔ ان میں سے ایک عنسی ہے اور دوسرا مسیلمہ۔

(صحیح البخاری کتاب المغازی باب وفد بنی حنیفہ حدیث 4373 – 4374 مترجم جلد 9 صفحہ 257 – 258 شائع کردہ نظارت اشاعت) (البدایۃ و النھایۃ جزء 9صفحہ 333،ھجر1998ء)

اسود عنسی اور مسیلمہ یہ دونوں وہ تھے جنہوں نے باغیانہ رویّہ اختیار کیا اور وہاں سے اس وقت چلے گئے اور حضرت ابوبکرؓ کے زمانے میں پھر انہوں نے جنگ بھی کی۔

حضرت مصلح موعودؓ اس حوالے سے لکھتے ہیں بڑی تفصیل میںلکھا ہے کہ

’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کام میں بھی دنیا اور اہل دنیا کی طرف توجہ نہ تھی اور ارضی اسباب کی طرف آپؐ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے تھے بلکہ ہر کا م میں آپؐ کی نظر خدا تعالیٰ ہی کی طرف لگی رہتی کہ وہی کچھ کرے گا گو یا کہ توکّل کا ایک کامل نمونہ تھے جس کی نظیر نہ پہلے انبیاء میں ملتی ہے نہ آپؐ کے بعد آپؐ کے سے تو کل والا کو ئی انسان پیدا ہوا ہے…۔‘‘

چنانچہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ’’ مسیلمہ رسول کریمؐ کی زندگی میں ایک لشکرِ جرّار لے کر آپؐ کے پاس مدینہ میں آیا اور آپؐ سے اس بات کی درخواست کی کہ اگر آپؐ اسے اپنے بعد خلیفہ بنا لیں تو وہ اپنی جماعت سمیت آپؐ کی اتّباع اختیار کر لے گا اور اسلام کی حالت چاہتی تھی‘‘ کیونکہ اس وقت اسلام کی کمزور حالت تھی ’’ کہ آپؐ اس ذریعہ کو اختیار کر لیتے اور اس کی مدد سے فائدہ اٹھا لیتے لیکن جس پاک وجود کو خدا تعالیٰ کی طاقت پر بھروسہ اور توکّل تھا اور وہ انسانی منصوبوں کی ذرّہ بھر بھی پرواہ نہ کرسکتا تھا آپؐ نے اس کی در خواست کو فوراً ردّ کر دیا۔‘‘ کہ یہ نہیں ہو سکتا۔

’’ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں… رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں۔‘‘ یہ وہی حدیث ہے جو میں نے بیان کی ہے۔ اس کو یہاں quote کیا ہے کہ’’ مسیلمہ کذاب آیا اور کہنے لگا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد مجھے حاکم مقرر کر دیں تو میں ان کا متبع ہو جاؤں اور اس وقت وہ اپنے ساتھ اپنی قوم میں سے ایک جماعتِ کثیر لا یا تھا۔ رسول کریمؐ یہ بات سن کر اس کی طرف آئے اور ثابت ابن قیس ابن شماس رضی اللہ عنہ آپ کے سا تھ تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہا تھ میں کھجور کی ایک شاخ کا ٹکڑا تھا۔ آپؐ آئے یہاں تک کہ مسیلمہ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور وہ اپنے ساتھیوں میں بیٹھا تھا۔ آپؐ نے فر ما یا کہ اگر تُو مجھ سے یہ شاخ بھی مانگے تو مَیں تجھے نہ دوں اور جو کچھ خد انے تیرے لئے مقدر کیا ہے تُو اس سے آگے نہیں بڑھے گا اور اگر تُو پیٹھ پھیر کر چلا جائے گا تو اللہ تعالیٰ تیری کو نچیں کاٹ دے گا او رمَیں تو تجھے وہی شخص پا تا ہوں جس کی نسبت مجھے وہ نظارہ دکھا یا گیا تھا جو مَیں نے دیکھا اور یہ ثابتؓ ہیں میری طرف سے تجھے جواب دیں گے۔ پھر آپؐ وہاں سے چلے گئے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں‘‘ جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ’’مَیں نے پوچھا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فر ما یا ہے کہ مَیں تو تجھے وہی شخص پاتا ہوں جس کی نسبت وہ نظارہ دکھا یا گیا تھا جو میں نے دیکھا ۔اس پر مجھے حضرت ابوہریرہؓ نے بتا یا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا کہ ایک دفعہ مَیں سو رہا تھا کہ مَیں نے دیکھا میرے دونوں ہاتھوں میں دو کڑے ہیں جو سونے کے ہیں ان کا ہو نا مجھے کچھ ناپسند سا معلوم ہوا ۔اس پر مجھے خواب میں وحی نازل ہو ئی کہ مَیں ان پر پھونکوں۔ جب مَیں نے پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے۔ پس مَیں نے تعبیر کی کہ دو جھوٹے ہوں گے جو میرے بعد نکلیں گے۔ایک تو عنسی ہے اور دوسرا مسیلمہ۔

اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ پر کیسا یقین تھا اور آپؐ خدا تعالیٰ کی مدد پر کیسے مطمئن تھے۔

آپؐ کے چاروں طرف کافروں کا زور تھا جو ہر وقت آپؐ کو دکھ دیتے اور ایذاء پہنچانے میں مشغول رہتے تھے اور جن جن ذرائع سے ممکن ہوتا آپؐ کو تکلیف پہنچاتے تھے۔ قیصر و کسریٰ بھی اپنے اپنے حکام کو آپ کے مقابلہ کے لئے احکام پراحکام بھیج رہے تھے۔ بنی غَسَّان لڑنے کے لئے تیاریاں کر رہے تھے۔ایرانی اس بڑھتی ہو ئی طاقت کو حسدو حیرت کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ہر ایک حکومت اس نئی تحریک پر شک و شبہ کی نگاہیں ڈال رہی تھی۔ ایسے وقت میں جب تک ایک لشکرِ جرّار آنحضرتؐ کے ارد گرد جمع نہ ہو تا آپؐ کے لئے اپنے دشمنوں کی زد سے بچنا بظا ہر مشکل بلکہ ناممکن نظر آتا تھا۔ مدینہ منورہ سے لے کر مکہ مکرمہ تک کی فتوحات نے آپؐ کو ہر ایک آس پا س کی حکومت کے مدّ مقابل کھڑا کر دیا تھا اور دُور بیں نگا ہیں ابتداءِ امر میں ہی اس بڑھنے والی طاقت کو تباہ کر دینے کی فکر میں تھیں کیونکہ انہیں یقین تھا کہ یہ طاقت اگراَور زیادہ بڑھ گئی تو ہمارے بڑے بڑے قصور محلات کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گی۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان عظیم الشان مظاہروں کے مقابلہ کے لئے جو کچھ بھی تیاری کرتے کم تھی۔ انسانی عقل ایسی حالت میں جس طرح دوست و دشمن کو اپنے ساتھ ملانا چاہتی ہے اور جن جن تدابیر سے غیروں کو بھی اپنے اندر شامل کر نا چاہتی ہے وہ تاریخ کے پڑھنے والوں کو آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہیں ۔لیکن

وہ میرا پیارا زمینی نہیں بلکہ آسمانی تھا۔ بڑھتے ہو ئے لشکر اور دوڑتے ہو ئے گھوڑے، اٹھتے ہو ئے نیزے اور چمکتی ہو ئی تلواریں اس کی آنکھوں میں کچھ حقیقت نہیں رکھتی تھیں۔ وہ ملا ئکہ آسمانی کا نزول دیکھ رہا تھا اور زمین وآسمان کا پیدا کنندہ اس کے کان میں ہر دم تسلی آمیز کلام ڈال رہا تھا۔اس کا دل یقین سے پُر اور سینہ ایمان سے معمور تھا۔ غرضیکہ بجائے دنیاوی اسباب پر بھروسہ کر نے کے اس کا تو کّل خدا پر تھا۔ پھر بھلا ان مصائب سے وہ کب گھبرا سکتا تھا۔

اس نے مسیلمہ اور اس کے لشکر پر بھروسہ کر نا ایک دم کے لئے بھی مناسب نہ جانا اور صاف کہہ دیا کہ خلافت کا دھوکہ دے کر تجھے اپنے سا تھ ملانا اور تیری قوم کی اعانت حاصل کر نی تو علیحدہ امر ہے ایک کھجور کی شاخ کے بدلہ میں بھی اگر تیری حمایت حاصل کرنی پڑے تو مَیں اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھوں ۔

اس غیور دل کی حالت پر غور کرو۔ اس متوکّل انسان کی شا ن پر نظر ڈالو۔ اس یقین سے پُر دل کی کیفیت کا احساس اپنے دلوں کے اندر پیدا کرکے دیکھو کہ کس یقین اور توکّل کے ماتحت وہ مسیلمہ کو جواب دیتا ہے۔ کیا کو ئی بادشاہ ایسے اوقات میں اس جرأت اور دلیری کو کام میں لا سکتا ہے ۔کیا تاریخ کسی گوشت اور پو ست سے بنے ہوئے انسان کو ایسے مواقع میں سے اس سلامتی سے نکلتا ہوا دکھا سکتی ہے۔ اگر نہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ آپؐ کی زندگی سے مقابلہ کر نا ہی غلط ہے کیونکہ آپ نبی تھے۔ اگر آپؐ کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے تو انبیاء ؑسے مگر جو شان آپؐ کو حاصل ہے اس کی نظیر انبیاء میں بھی نہیں مل سکتی کیونکہ آپؐ کو سب انبیاء پر فضیلت ہے۔

اس جگہ یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ مسیلمہ کو جواب دیتے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ مدّنظر نہ تھا کہ آپؐ حکومت کے حق کو اپنی اولاد کے لئے محفوظ رکھنا چاہتے تھے کیونکہ اگر ایسا ہو تا تو آپؐ کا انکارتوکّل علی اللہ کے با عث نہیں بلکہ اپنی اولاد کی محبت کی وجہ سے قرار دیا جاتا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اولاد کو اپنے بعد اپنا جانشین نہیں بنا یا بلکہ حضرت ابوبکر ؓکی خلافت کی طرف اشارہ فر مایا جس سے معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ کا انکار کسی دنیاوی غرض کے لئے نہ تھا بلکہ ایک بےپایاں یقین کا نتیجہ تھا۔

اسی طرح یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ مسیلمہ کذاب کی مدد حاصل کر نا بظاہر مذہبی لحاظ سے بھی مضرّ نہ تھا کیونکہ اگر وہ یہ شرط پیش کرتا کہ مَیں آپ کی اتباع اس شرط پر کر تا ہوں کہ آپؐ فلاں فلاں دینی باتوں میں میری مان لیں تو بھی یہ کہا جا سکتا تھا کہ اپنی با ت کی پچ‘‘طرفداری یا جانب داری ’’کی وجہ سے آپؐ نے اس کے مطالبہ کا انکار کر دیا ۔‘‘ یعنی جو اس نے بات کی تھی میری مان لو صرف اس کی پچ رکھنے کے لیے آپؐ نے انکار کر دیا۔ ’’لیکن اس نے کو ئی ایسی بات نہیں کی جس سے معلوم ہو کہ وہ مذہب میں تبدیلی چاہتا تھا۔ پس

آپؐ کا انکار صرف اس تو کّل اور یقین کا نتیجہ تھا جو آپؐ کو خدا تعالیٰ پر تھا۔

ایک اَور بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ آپؐ اگر چاہتے تو اس وقت مسیلمہ کو پکڑ کر مروا دیتے کیونکہ گو وہ ایک کثیر جماعت کے سا تھ آیا تھا مگر پھر بھی مدینہ میں تھا اور آپؐ کے ہاتھ کے نیچے لیکن اس معاملہ میں بھی آپؐ نے اللہ تعالیٰ پر توکّل کیا کہ وہ خود اس موذی کو ہلاک کرے گا۔ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔‘‘

( سیرۃ النبی ﷺ انوار العلوم جلد1 صفحہ500تا 504)

اب میں نماز کے بعد بعض

جنازہ غائب

پڑھاؤں گا ،جن مرحومین کا ذکر ہے ان میں پہلا ذکر

مکرم مرزا صفدر محمود صاحب ابن مکرم غلام رسول صاحب

کا ہے۔ منڈی بہاؤالدین کے رہنے والے تھے۔ ان کو گذشتہ دنوں 2؍ستمبر کو منڈی بہاؤالدین میں شہید کر دیا گیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔ کسی نامعلوم شخص نے تعاقب کر کے پیچھے سے فائر کر کے آپ کو شہید کیا۔ شہادت کے وقت مرحوم کی عمر پینسٹھ (65)سال تھی۔

تفصیلات کے مطابق اس روز جس دن یہ واقعہ ہوا مرزا صفدر محمود صاحب اپنی ورکشاپ سے نماز مغرب کی ادائیگی کے لیے موٹر سائیکل پر روانہ ہوئے اور راستے میں ایک ویران جگہ آتی تھی وہاں سے گزرتے ہوئے کسی نامعلوم شخص نے موٹر سائیکل کا تعاقب کر کے پیچھے سے فائر کیا اور مرحوم کو تین گولیاں لگیں جس کے نتیجے میں موقع پر وفات ہو گئی۔ وقوعہ کے بعد حملہ آور تو فرار ہو گیا۔

شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کی نانی محترمہ حسین بی بی صاحبہ آف کھاریاں ضلع گجرات کے توسّط سے ہوا تھا۔ لوگوں کے خاندانوں میں مردوں کے ذریعے سے نفوذ ہوتا ہے لیکن یہاں ایک خاتون کے ذریعے سے ان کے خاندان میں احمدیت آئی جنہوں نے خلافت ثانیہ کے ابتدائی دَور میں بیعت کی سعادت حاصل کی تھی۔ بعد میں نانی محترمہ حسین بی بی صاحبہ کی تحریک اور تبلیغ سے شہید مرحوم کے دادا مکرم نواب دین صاحب جو باہمی رشتہ دار تھے، انہوں نے بھی بیعت کر لی۔ اپنے علاقہ میں شہید نمایاں احمدی تھے اور اپنے پیشہ اور مہارت کے لحاظ سے خصوصی شہرت رکھتے تھے۔ مکینک تھے اور ان کی اپنی وَرکشاپ تھی۔ اچھا کاروبار تھا۔ راست گوئی، اصولوں کی پابندی اور جھوٹ سے نفرت نمایاں وصف تھا۔ ہر آنے والے سے نہایت بشاشت اور محبت سے ملتے۔ بڑے تپاک سے سلام کرتے۔ ان کی دکان سے کوئی سوالی کبھی خالی ہاتھ نہ جاتا۔

شہید مرحوم کی اہلیہ نویدہ صاحبہ بیان کرتی ہیںکہ خلافت سے بے پناہ عشق تھا۔ پنجگانہ نماز کے علاوہ تہجد گزار اور باقاعدگی سے ایم ٹی اے کے پروگراموں سے مستفیض ہوتے۔ ہر ماہ کی یکم تاریخ کو اپنا آمد کا حساب مکمل کر کے سیکرٹری صاحب مال سے رابطہ کر کے باقاعدگی سے چندہ ادا کرتے۔ سیکرٹری مال کے گھر میں جاکے دیتے۔روزانہ باقاعدگی سے صدقہ دیتے۔ ہر ماہ صدقہ بکرا بھی دیتے۔ مسجد کی اور دوسری مالی تحریکات میں پہلے اپنا حصہ ڈالتے۔ نظامِ وصیت میں خود بھی شامل تھے اور سب اہل خانہ کو بھی نظامِ وصیت میں شامل کروایا اور ملازمین کا بھی بڑا خیال رکھتے تھے ۔ ان کو کوئی ضرورت پڑتی، مالی ضروریات ہوتیں یا کوئی بیمار ہوتا تو وہ پورا کرتے۔ان کے بچوں کا خیال رکھتے ۔ان کے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کرتے۔ ورکشاپ تھی، لوگ عام طور پر کمانے کی طرف توجہ کرتے ہیں لیکن کسی مسافر کی گاڑی اگر خراب ہو جاتی تو بہت کم معاوضے پر کام کرتے اور بعض دفعہ تو بعض لوگوں کے مفت کام کر دیتے۔ کتنی بھی مصروفیت ہوتی جماعتی پروگراموں کو ترجیح دیتے تھے۔

امیر صاحب ضلع منڈی بہاؤالدین کہتے ہیں کہ شہید مرحوم وقتِ شہادت بطور نائب صدر جماعت، سیکرٹری جائیداد، نائب زعیم انصار اللہ ،منتظم مال انصار اللہ منڈی بہاؤ الدین شہر کی خدمت کی توفیق پارہے تھے۔ کافی ساری خدمات ان کے سپرد تھیں۔ مسجد کا انصرام یعنی انتظام بھی ان کے سپرد تھا اور چابی ان کے پاس تھی۔ ہر نماز پہ جا کے مسجد کھولاکرتے تھے۔کاروباری لوگ عام طور پر اس طرف توجہ نہیں دیتے لیکن یہ ہر نماز کے وقت جا کے مسجد کھولتے تھے۔

مظفر محمود صاحب مربی سلسلہ ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں گذشتہ 25؍سال سے ہر روز ورکشاپ پہ آنے سے پہلے دو نفل نماز پڑھتا ہوں۔

شہید مرحوم کے پسماندگان میں اہلیہ مکرمہ نویدہ صفدر صاحبہ کے علاوہ دو بیٹے کامران صفدر اور لقمان صفدر شامل ہیں۔ یہ شادی شدہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ شہید مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔ جملہ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کا حامی و ناصر ہو۔

دوسرا ذکر

عزیزہ امة العزیز

کا ہے۔ ان کی گذشتہ دنوں باسٹھ (62)سال کی عمر میں وفات ہو گئی۔ کچھ عرصے سے کافی بیمار تھیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سیدہ اُمّ طاہر صاحبہ کی نواسی تھیں اور صاحبزادی امة الحکیم صاحبہ اور مکرم سید داؤد مظفر شاہ صاحب کی بیٹی تھیں۔ سید داؤد مظفر شاہ صاحب اُمّ طاہر کے بھتیجے اور سید محمود اللہ شاہ صاحب کے بیٹے تھے۔ میری خالہ زاد بھی تھیں اور میری اہلیہ کی سب سے چھوٹی بہن بھی تھیں۔ ان کا نکاح حضرت خلیفةالمسیح الرابعؒ نے خالد زُفر صاحب سے پڑھایا تھا۔ ان کی پہلی اہلیہ کی وفات ہو گئی تھی اور عزیزہ امةالعزیز سے ان کی دوسری شادی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے عزیزہ کو دو بیٹوں سے نوازا اور دونوں بیٹے لائق ہیں۔ وکالت کرکے ایک تو واقف زندگی ہیں اور ربوہ میں نظارت امور عامہ میں کام کر رہے ہیں اور اچھے لائق وکیل ہیں۔ دوسرے حاشر زُفر ہیں۔ پہلا بیٹا ہے محمود افتخار اور دوسرا حاشر احمد۔ یہ بھی جرمنی میں پڑھا لکھا ہے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔ اپنی ماں کی بھی دونوں بیٹوں نے حتّی المقدور بہت خدمت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزا دے اور آئندہ بھی ماں کی دعاؤں کا وارث بنائے اور نیکیوں پہ قائم رکھے۔

عزیزہ کی زندگی گو بڑی تکلیف میں گزری ہے لیکن بڑے صبر سے انہوں نے زندگی گزاری ہے۔

مَیں نے ان جیسی صبر کرنے والی شاذ ہی کوئی دیکھی ہیں۔

عزیزہ کے بھائی سید خالد احمد شاہ صاحب کہتے ہیں کہ ہماری اس بہن نے اپنے والدین کی بہت خدمت کی اور والدہ کی وفات کے بعد تو ابا کی بہت خدمت کی۔ ہمدردی اور غریب پروری میں اپنی والدہ کے نقش قدم پر تھیں۔ خلافت سے محبت اور عقیدت بے مثال تھی۔ بچوں کی تربیت بھی عمدہ انداز میں کی۔ ان کی ایک خوبی یہ تھی کہ کسی کے خلاف کوئی بات نہیں کرتی تھیں اور نہ ہی سنتی تھیں۔ اپنے دل کو صاف رکھا کرتی تھیں۔ کسی کی تکلیف دیکھ نہیں سکتی تھیں۔ اپنی تکلیف برداشت کرنے کا حوصلہ اور صبر بہت تھا۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ بہت صبر کیا۔ جھگڑوں سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو دنیا کے جھنجھٹوں سے علیحدہ کر لیا۔ لوگوں نے ان کے بارے میں غلط باتیں بھی کیں اور غلط تبصرےبھی کیے لیکن کسی سے جھگڑا نہیں کیا۔ ہر جگہ تھوڑی بہت مخالفت چل رہی ہوتی ہے۔ بہرحال انہوں نے کسی کو نہ جواب دیا نہ جھگڑا کیا اور نہ کسی کو جذباتی تکلیف پہنچائی۔ دوسروں کی تکلیف ان کو برداشت نہیں ہوتی تھی۔ ان کی مدد کے لیے بے چین رہتی تھیں۔ چھوٹے بچوں سے بہت پیار کرتی تھیں۔ خوددار بہت تھیں۔ اپنی ضرورت کو اپنے دل میں چھپائے رکھتیں۔ کسی سے اظہار نہ کرتیں۔ اللہ تعالیٰ پر غیر معمولی توکّل تھا اور اللہ تعالیٰ بھی ان کی خودداری کا بھرم رکھتا تھا اور غیب سے ان کے سامان مہیا فرما دیتا تھا۔

ان کی ہمشیرہ امة الرؤوف صاحبہ جو ڈاکٹر تاثیر مجتبیٰ مرحوم کی اہلیہ ہیں کہتی ہیں کہ ہماری بہن بہت خاموش طبیعت، بے ضرر، صابر، نہایت خوددار طبیعت کی مالک تھیں۔ غرباء کا خیال رکھنے والی، بہت زیادہ صدقہ و خیرات کرنے والی تھیں۔ خلافت کا غیر معمولی احترام اور عزّت کرنے والی تھیں اور کبھی کوئی اگر کوئی بات کہہ دیتا تو فوراً مان لیا کرتی تھیں۔ بیمار ہوئی ہیں تو ان کو اندازہ تھا کہ مَیں ایسی بیماری میں ہوں کہ اب بچنا مشکل ہے۔ ہسپتال جانے کا فائدہ کوئی نہیں لیکن مَیں نے ان کو کہا کہ آپ ہسپتال جائیں اور علاج کروائیں ۔ فوری طور پر پہلے تو انکار کیا تھا اور پھر مان گئیں اور ہسپتال جا کے پھر علاج بھی کروایا۔

ان کے بیٹے محمود افتخار کہتے ہیں کہ والدہ مجھے نصیحت کرتے ہوئے کہتی تھیں کہ خاندان حضرت مسیح موعودسے تمہارا تعلق ہے اس وجہ سے تمہارا دوگنا فرض ہے کہ جماعت کی خدمت کرو ۔اور کہتے ہیں کہ خلافت خامسہ میں شروع میں ہی جب ہم چھوٹے بچے تھے تو ہم دونوں سے فوری طور پر خط لکھوایا کہ خلیفہ وقت کو خط لکھو اور پھر ہمیں نصیحت کرتی تھیں کہ باقاعدہ خط لکھا کرو ۔ نماز اور خطبہ سننے کی تلقین ہمیشہ کیا کرتی تھیں۔ نظامِ جماعت کے بارے میں بہت غیرت تھی اور یہ بات برداشت نہیں کرتی تھیں کہ نظام کے خلاف بات ہو یا تنقید ہو۔ ان کے یہ بیٹے کہتے ہیں کہ اپنے والدین کی اولاد میں سے جو بھی وقف کرتا ان کو بہت خوشی ہوتی تھی اور یہی کہتی تھیں کہ جنہوں نے وقف کیا ہےان کو کبھی مالی تنگی نہیں ہوتی اور یہی ان کی خواہش تھی اپنے دونوں بیٹوں کے بارے میں کہ یہ وقف کریں۔ ایک نے تو وقف کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ مَیں نے جب وقف کیا تو مجھے نصیحت کی کہ اب تم نے وقف تو کر دیاہے لیکن اسے اچھی طرح نبھانا ہے اور جب ترقی ہوئی اور نائب ناظر بنایا تو کہا کہ اب اس بات پہ کوئی فخر نہیں کرنا بلکہ عاجزی سے کام کرنا ہے۔

دفتری امور کے حوالے سے کہتے ہیں میرے لیے بڑی دعا کیا کرتی تھیں۔ جماعتی حالات کے بارے میں پوچھتی بھی رہتی تھیں۔ جمعہ والے دن خیریت پوچھتی تھیں ۔اور کوئی کام اگر ہوتا تو مجھے پوچھتیں کیا کر رہے ہو۔ اگر مَیں بتاتا کہ جماعتی کام اس وقت کر رہا ہوں تو کہتیںٹھیک ہے پہلے اپنا جماعتی کام ختم کرو پھر میرا یہ کام ہے کر دینا۔ آپ کو اپنے سے زیادہ لوگوں کی فکر ہوتی تھی اور ان کی ضروریات کا خیال رکھا کرتی تھیں۔ یہ بیٹا لکھتا ہے کہ کوئی مدد مانگتا تو اُمی ضرور مدد کرتی تھیں۔ ان میں برداشت اور صبر بہت تھا۔ اپنی تکلیف برداشت کر لیتیںلیکن کسی دوسرے کی تکلیف برداشت نہیں کرتی تھیں اور چاہتی تھیں کہ کبھی کسی دوسرے کو تکلیف نہ ہو اور اس کی تکلیف دور کرنے کی کوشش میں رہتیں۔ اپنے سب بہن بھائیوں سے، ان کے بچوں سے اور میرے والد کی پہلی اہلیہ کے بچوں سے بہت محبت اور پیار کا تعلق تھا اور ہمیشہ ان کا خیال رکھتیں اور ہم بھائیوں کو بھی کہتیں کہ تم نے ہمیشہ اکٹھے رہنا ہے۔ دونوں ماؤں کے بچے جو ہیں تم لوگ اکٹھے رہو اور یک جان ہو کے رہو اور لڑائی بالکل نہیں کرنی۔ انہوں نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے میرے والد کی پہلی اہلیہ کے بچوں اور ہمارے درمیان کوئی فرق پیدا ہوا ہو بلکہ ہمیشہ پیار اور محبت سے رہنے کی تلقین کرتی تھیں۔ اس بارے میں مَیں نے بھی ان کو دیکھا ہے کہ انہوں نے اپنے خاوند کی پہلی بیوی کے بچوں کا بہت خیال رکھا ہے جو چھوٹے بچے چھوڑ کے وہ فوت ہو گئی تھیں اور بالکل اپنے بچوں کی طرح ان کا خیال رکھا ہے جتنا موقع تھا جتنےحالات تھے اس کے مطابق جو کچھ کر سکتی تھیں انہوں نے ان کے لیے کیا۔ ان کا یہ بیٹا لکھتا ہے کہ ہمارے بچپن میں آپ کو ہمارے بارے میں سب سے زیادہ فکر یہ تھی کہ قرآن کریم ہم نے ختم کرنا ہے، پڑھنا ہے اور اس کے لیے ہمیں باقاعدہ قرآن کریم پڑھانے والے کے پاس لے کے جاتیں اور چھوڑ کر آتیں، لے کر آتیں۔ نماز وقت پر ادا کرنے کی طرف توجہ دلاتیں۔ اپنے والدین کا ذکر بھی کرتیں تو ان کی خدمات کا ذکر بہت کرتیں اور اس بات پر بھی کہتیں کہ کاش! وہ زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ انہوں نے تو مشکل حالات میں گزارا کیا ہے لیکن آج کل ہمارے حالات بہت بہتر ہیںاور اس کے مقابلے میں کشائش ہے۔ اپنے والدین کے خدمت گزاروں کی بھی خدمت بہت کرتیں اور شکر گزاری کرتیں۔ اور پھر یہ بیٹا کہتا ہے کہ جو ہمیں کہتی تھیں اس پر خود عمل کرتی تھیں اور بزرگوں کے نصیحت آمیز واقعات سنایا کرتی تھیں۔ انہوں نے پڑھنا سیکھا تو بچپن میں پہلی کتاب جو ہمیں پڑھنے کے لیے انہوں نے دی وہ سیدنا بلالؓ اور شہزادہ عبداللطیف صاحبؓ کے بارے میں تھی۔

اسی طرح چندوں کی بہت فکر تھی کہ آغاز میں ہی ادا ہو جائیں اور کوئی چندہ لیٹ نہ ہو۔ کہتی تھیں ایک دفعہ مَیں نے وعدہ لکھوایا لیکن رقم نہیں تھی۔ بہت فکر تھی تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے جلد ہی انتظام کر دیا۔ کہتے ہیں ہمیں بھی نصیحت کیا کرتی تھیں کہ چندے باقاعدہ دیا کرو۔ سچی خوابیں آتی تھیں۔ دوسروں کے راز ہمیشہ رازرکھتی تھیں۔ طبیعت میں ستّاری بہت زیادہ تھی۔ اسی طرح کہتے ہیں کہ سچی خوابوں میں ایک خواب یہ بھی ہے کہ میرا نام محمود افتخار انہوں نے خواب میں دیکھا تھا حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے خواب میں ان کو یہ نام دیا۔ اس کے بعد یہ نام رکھا گیا ۔اور لکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں بہت سی مشکلات دیکھی ہیں لیکن کبھی کسی بھی تکلیف کا اظہار نہیں کیا اور ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کرتیں۔آخری بیماری میں بھی ہمارا خیال رکھا۔ اگر مَیں ہسپتال یا گھر ان کے لیے جاگ رہا ہوتا تو مجھے کہتیں کہ سو جاؤ۔ جب سویا ہوتا تھا تو خود نہیں جگاتی تھیں بلکہ انتظار کرتی تھیں کہ جب جاگ جاؤں تو پھر مجھے کام کہیں۔پھر لکھتا ہے بیٹا کہ انہوں نے اپنی خوشیاں قربان کر کے دوسروں کی خوشیوں کو اہمیت دی اور واقفین زندگی کی بہت عزت کیا کرتی تھیں۔

اسی طرح ان کا دوسرا چھوٹا بیٹا حاشر بھی انہی باتوں کا اعادہ کر رہا ہے جو پہلے بیٹے نے لکھی ہیں کہ نانی کی طرح کھلے دل کی مالک تھیں اور کبھی غریبوں پر مال خرچ کرنے میں کمی نہیں کرتی تھیں اور مجھے بھی کہا کرتی تھیں گو تم باقاعدہ وقف نہیں ہولیکن دین کی خدمت کرو اور جب مَیں نے بتایا کہ میں جرمنی میں خدمت کر رہا ہوں تو اس پر بہت خوش ہوئیں۔

اللہ تعالیٰ عزیزہ سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے، درجات بلند فرمائے۔

تیسرے جنازہ کا جو ذکر ہے وہ ہے

مکرم رشید احمد ایاز صاحب۔ صدر انجمن احمدیہ کے پینشنر ہیں

جو گذشتہ دنوں چھیاسی(86)سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور چار بیٹے شامل ہیں۔ ان کے ایک بیٹے طاہر احمد ظفر صاحب مربی سلسلہ ہیں اور جامعة المبشرین گھانا کے وائس پرنسپل ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کی وجہ سے، میدان عمل میں ہونے کی وجہ سے اپنے والد کے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔ یہی مربی صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ہمارے پڑدادا مکرم میاں اللہ دتہ صاحب مرحوم ابصار چُور کے ذریعہ سے ہوا تھا اور پھر ان کے خاندان میں احمدیت پھیلی۔ رشید ایاز صاحب صدر انجمن احمدیہ کے مختلف شعبہ جات میں خدمت کرتے رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد پھر دوسرے کام بھی انہوں نے کیے۔ یہ کہتے ہیں کہ التزام کے ساتھ نوافل ادا کرتے تھے۔ نمازوں کی پابندی کرتے تھے۔ اذکار بہت کثرت سے کرتے تھے۔ دعائیں بہت کیا کرتے تھے۔ خلافت سے گہری عقیدت رکھنے والے انسان تھے۔ تلاوت قرآن کریم باقاعدگی سے کرنے والے۔چندوں میں بڑے باقاعدہ اور اس کا پورا ریکارڈ رکھتے تھے۔ موصی تھے اور حصہ جائیداد بھی اپنی زندگی میں ادا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کاسلوک فرمائے۔

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 28؍اگست 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button