آنحضرت ﷺ کا اللہ تعالیٰ سے عشق و محبت
اللہ تعالیٰ سے عشق و محبت کے مقابلے پر آپؐ کو اپنی جان کی بھی پروا نہیں تھی۔ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ کرنے لگے تو قریش ابوطالب کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ آپ اپنے بھتیجے کو ہمارے معبودوں کی عیب جوئی سے روکیں۔ نہیں تو ہم اسے خود روکیں گے پھر آپ اس میں دخل نہ دینا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ سے استدعا کی تھی کہ آپ اپنے بھتیجے کو روکیں پہلے بھی ہم نے کہا تھا آپ کو لیکن آپ نے انہیں نہیں روکا۔ اب دوبارہ ہم آئے ہیں یا تو ہم اسے اپنے متعلق ایسی باتیں کرنے سے روک دیں گے یا پھر اس سے اور آپ سے مقابلہ کریں گے یہاں تک کہ دونوں میں سے ایک فریق ہلاک ہو جائے گا۔ قریش نے جب ابوطالب سے یہ بات کہی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا اور آپ سے کہا اے میرے بھائی کے بیٹے! مجھ پر ایسا بار نہ ڈالو جسے میں برداشت نہ کر سکوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال فرمایا کہ ان کے چچا آپؐ کی مدد ترک کر دیں گے اور آپؐ کو قریش کے حوالے کر دیں گے۔ اس پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
چچا جان، خدا کی قسم !اگر یہ لوگ میری دائیں جانب سورج اور بائیں جانب چاند رکھ دیں تب بھی مَیں اپنے فرض سے باز نہیں رہوں گا اور مَیں اپنے کام میں لگا رہوں گا حتّی کہ خدا اسے پورا کرے یا مَیں اس کوشش میں ہلاک ہو جاؤں۔
پھر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور وہاں سے جانے لگے توابوطالب نے آپؐ کو پکارا اور کہا اے میرے بھتیجے !جو چاہو کرو۔ اللہ کی قَسم !کسی معاوضے پر بھی مَیں تمہیں ان کے حوالے ہرگز نہیں کروں گا۔ (السیرۃ النبویہ لابن ہشام صفحہ199-201مکتبہ دار الکتب العلمیۃ بیروت لبنان)
(خطبہ جمعہ ۲۳؍ جنوری ۲۰۲۶ء مطبوعہ روزنامہ الفضل انٹرنیشنل۱۳؍فروری ۲۰۲۶ء)
مزید پڑھیں: بد ظنی سے ہر احمدی کو بچنا چاہیے




