توکّل علیٰ اللہ کے حوالے سے حضرت مسیح موعودؑ کا پاکیزہ نمونہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ۹؍اکتوبر ۲۰۲۶ء
٭… کسی کو خوشی ہے کہ میرے پاس مال ہے، کسی کو خوشی ہے کہ میری اولاد بہت ہے اور کسی کو خوشی ہے کہ میرا جتھہ بہت ہے۔ مگر مَیں خوش ہوں کہ میرا خدا جو ہے وہ قادرِ مطلق ہے (حضرت مسیح موعودؑ)
٭… خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکّل کرے مَیں اُس کے لیے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں۔ پس چاہیے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے (حضرت مسیح موعودؑ)
٭… اسلام کی خدمت جو شخص درویشی اور قناعت سے کرتا ہے وہ ایک معجزہ اور نشان ہو جاتا ہے ۔جو شخص جمعیت کے ساتھ کرتا ہے اُس کا مزہ نہیں آتا کیونکہ توکّل علیٰ اللہ کا پورا لطف نہیں رہتا اور جب توکّل پر کام کیا جائے تواللہ مدد کرتا ہے اور یہ باتیں روحانیت سے پیدا ہوتی ہیں (حضرت مسیح موعودؑ)
٭… اصل میں توکّل ہی ایک ایسی چیز ہے کہ جو انسان کو کامیاب اور بامراد بنا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو اللہ پر توکّل کرتا ہے اللہ اُس کو کافی ہوجاتا ہے بشرطیکہ سچے دل سے توکّل کے اصلی مفہوم کو سمجھ کر صدقِ دل سے قدم رکھنے والا ہوا ور صبر کرنے والا مستقل مزاج ہو۔ مشکلات سے ڈر کر پیچھے نہ ہٹ جائے (حضرت مسیح موعودؑ)
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۹؍اکتوبر ۲۰۲۶ء بمطابق ۹؍اخاء ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۹؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت صہیب احمد صاحب(مربی سلسلہ )کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
حضرت مسیح موعودؑ کے توکّل کے واقعات بیان کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؓ تحریرفرماتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ نے بیان کیا کہ علاج معالجے میں حضورؑ کاطریق تھا کہ کبھی ایک ہی قسم کا علاج نہیں کرتے تھے، بلکہ ایک ہی بیماری میں انگریزی دوا بھی دیتے رہتے تھے اور یونانی بھی، جو کوئی شخص مفید بات کہہ دے اُس پر بھی عمل کرتے تھے۔ اگر کسی کو خواب میں کچھ علم ہوا ہو تو بعض دفعہ اس پر بھی عمل فرماتے تھے۔ ساتھ دعا بھی کرتے تھے اور ایک ہی وقت میں ڈاکٹروں اور حکیموں سے مشورہ بھی لیتے تھے۔ طب کی کتاب دیکھ کر بھی علاج میں مدد لیتے تھے۔ غرض علاج کو ایک مرکب بنادیتے تھے اور اصل بھروسہ آپؑ کا اللہ تعالیٰ پر ہوتا تھا۔
انبیاء اور عام آدمی کی بےچینی کا فرق واضح کرتے ہوئے حضورؑ فرماتے ہیں کہ اگرچہ انسان کو بشریت کے تقاضے سے اضطراب ہوتا ہے مگر وہ خاصۂ بشریت ہے اور سب انبیاء بھی اس میں شریک ہیں۔ جیسا کہ جنگِ بدر میں آنحضرتﷺ کو اضطراب ہوا تھا۔ عام لوگوں اور انبیاء میں یہ فرق ہے کہ عام لوگوں کی طرح انبیاء کے اضطراب میں یاس کبھی نہیں ہوتی۔ ان کو اس امر پر یقین ہوتا ہے کہ خدا کبھی انہیں ضائع نہیں کرے گا۔ فرمایا :
میرا اپنا یہ حال ہے کہ اگر مجھے جلتی آگ میں بھی ڈالا جائے تو بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ ضائع کبھی نہیں ہوں گا۔ اضطراب تو ہوگا کہ آگ ہے۔ اس سے انسان جل جاتا ہے، مگر امید ہوتی ہے کہ ابھی آواز آئے گی کہ اے آگ! تُو ابراہیم کے لیے ٹھنڈی بھی ہوجا اور اس کے لیے سلامتی کا باعث بھی بن جا۔
حضرت خلیفة المسیح الاوّل ؓبیان کرتے ہیں کہ ہمارے حضرت صاحب(حضرت مسیح موعودؑ) فرمایا کرتے تھے کہ
کسی کو خوشی ہے کہ میرے پاس مال ہے، کسی کو خوشی ہے کہ میری اولاد بہت ہے اور کسی کو خوشی ہے کہ میرا جتھہ بہت ہے۔ مگر مَیں خوش ہوں کہ میرا خدا جو ہے وہ قادرِ مطلق ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ اصل رازق خدا تعالیٰ ہے۔ وہ شخص جو اُس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر توکّل کرنے والے شخص کےلیے رزق پہنچاتا ہے۔
خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکّل کرے مَیں اُس کے لیے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں۔ پس چاہیے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔
حضرت مسیح موعودؑ فرمایا کرتے تھے کہ میرے نزدیک سب سے بڑے مشرک کیمیا گر ہیں۔ یہ رزق کی تلاش میں یوں مارے مارے پھرتے ہیں اور اُن اسباب سے کام نہیں لیتے جو رزق کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ نےجائز طور پر مقرر کیے ہیں۔ فرمایا :
تقویٰ ایک ایسی چیز ہے کہ جسے یہ حاصل ہو اسے گویا تمام جہان کی نعمتیں حاصل ہوگئیں۔ یاد رکھو! متقی کبھی کسی کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ وہ اُس مقام پر ہوتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے خدا اُس کے مانگنے سےپہلے مہیا کردیتا ہے۔
مَیں نے ایک کشف میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا کہ میرے گلےمیں ہاتھ ڈال کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
جے توں میرا ہورہیں سب جگ تیرا ہو۔
پس یہ وہ نسخہ ہے جو تمام انبیاء اور اولیاء اور صلحاء کا آزمایا ہوا ہے ۔نادان لوگ اسے چھوڑ کر بوٹیوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ اتنی محنت اگر وہ بوٹیوں کے پیدا کرنے والے کے لیے کرتے تو سب من مانی مرادیں پا لیتے۔
پادری عبداللہ آتھم کے لیے پندرہ ماہ میں ہلاکت کی پیشگوئی تھی۔ جب پندرہ ماہ کی میعاد پوری ہورہی تھی تو اُس وقت بعض احباب رورو کر دعائیں کر رہے تھے کہ آتھم مر جائے۔ مگر حضورؑ نے اُن احباب کے اس فعل کو ناپسند کیا اور فرمایا کہ
کیا کسی کو خدا سے بھی بڑھ کر اُس کے کلام کےلیے غیرت ہوسکتی ہے؟ فرمایا کہ جب تم نے خدا کے فرستادے کو قبول کرلیا ہے تو چاہیے کہ اُس کے ساتھ مضبوطی سے چمٹ جاؤ۔
عبداللہ آتھم کے ساتھ مباحثے کے دوران جب ایک موقعے پر بعض ایسے سوالات رکھے گئے جن کے جوابات بعض احباب کے نزدیک مشکل تھےاور اُن کی دانست میں ان کے جواب کے لیے مشورہ کیا جاسکتا تھا۔ ایسے میں مفید مطلب حوالے تلاش کرکے حضورؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ حضورؑ! کل کے مباحثے کے لیے مشورہ کیا جاسکتا ہے۔ حضورؑ مسکرائے اور فرمایا:آپ کی دعا کافی ہے۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ
انبیاء اکثر اُمور میں مشورہ لیتے ہیں اور اُن سے بڑھ کر کوئی مشورہ نہیں لیتا مگر بعض ایسے اوقات ہوتے ہیں کہ جن میں دوسرے واسطوں کو چھوڑ کر وہ محض خدا کی امداد پر بھروسہ کرنا پسند کرتے ہیں۔
جب حضرت مسیح موعودؑ آئینہ کمالاتِ اسلام کا عربی حصّہ تصنیف فرمارہے تھے تو آپؑ نے ایک بڑا دو ورقہ حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ کو دیا تاکہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ کو فارسی ترجمہ کرنے کے لیےپہنچادیا جائے ۔ وہ ایسا مضمون تھا کہ اُس کی فصاحت و بلاغت پر حضرت مسیح موعودؑ کو ناز تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت اچھا مضمون سجھایا ہے۔ مگر حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ سے یہ دو ورقہ کہیں گِر گیا۔ جب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ نے اُن صفحات کے متعلق پوچھا تو حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کا رنگ فق ہوگیا۔ بےحد تلاش کیا گیا مگر وہ نہ ملا۔ حضورؑ کو اطلاع ہوئی تو حسبِ معمول ہشاش بشاش باہر تشریف لائے اور خفا ہونا تو دُور کی بات، آپؑ اپنی طرف سے معذرت فرمانے لگے کہ مسودہ گم ہونے سے مولوی صاحب کو ناحق تشویش ہوئی۔ مجھے مولوی صاحب کی تکلیف کی وجہ سے بہت افسوس ہے۔
میرا تو یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے گم شدہ کاغذ سے بہتر مضمون لکھنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ
اسلام کی خدمت جو شخص درویشی اور قناعت سے کرتا ہے وہ ایک معجزہ اور نشان ہو جاتا ہے۔جو شخص جمعیت کے ساتھ کرتا ہے اُس کا مزہ نہیں آتا کیونکہ توکّل علیٰ اللہ کا پورا لطف نہیں رہتا اور جب توکّل پر کام کیا جائے تواللہ مدد کرتا ہے اور یہ باتیں روحانیت سے پیدا ہوتی ہیں۔
فرمایا کہ
اصل میں توکّل ہی ایک ایسی چیز ہے کہ جو انسان کو کامیاب اور بامراد بنا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو اللہ پر توکّل کرتا ہے اللہ اُس کو کافی ہوجاتا ہے بشرطیکہ سچے دل سے توکّل کے اصلی مفہوم کو سمجھ کر صدقِ دل سے قدم رکھنے والا ہوا ور صبر کرنے والا مستقل مزاج ہو۔ مشکلات سے ڈر کر پیچھے نہ ہٹ جائے۔
حضورؑ فرماتے ہیں کہ اگر انسان پر دین کے غم غالب آجائیں تو دنیا کے کاروبار کا خدا خود متکفّل ہوجاتا ہے ۔ افسوس ہے کہ بڑے بڑے حوادث روز ہورہے ہیں مگر لوگ ہیں کہ پرواہ نہیں کرتے، توجہ نہیں کرتے۔ موسیٰ ؑکے کافر ہی اچھے تھے کہ جب اُن پر عذاب نازل ہوتے تھے اُس وقت تو توجہ کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ ٹل جائے تو مان لیں گے۔ مگر آج کل کے کافر اِن سے بھی زیادہ سخت جان ہیں کہ نِت نئے عذاب آتے ہیں، نئی نئی صورت میں خدا کا قہر نازل ہوتا ہے لیکن یہ ہیں کہ کان پر جوں نہیں چلتی۔ اللہ تعالیٰ کا قدیم سے یہ وعدہ تھا کہ آخری زمانے میں طرح طرح کے عذاب آئیں گے ،اس وقت بعض ہدایت پاجائیں گے اور اکثر ہلاک ہوں گے۔ نشان تو خدا دکھاتا ہے مگر نشان سے وہی فائدہ اٹھاتے ہیں جو مومن ہوتے ہیں۔
حضورِانور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان دنیا داروں کو عقل دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اپنی دنیا اور آخرت سنوارنے والے ہوں اور ہم جوحضرت مسیح موعودؑ کو ماننے والے ہیں ہمیں بھی ایمان اور یقین میں بڑھائے اور ہم دعاؤں کے ساتھ توکّل کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے والے اور اُس میں بڑھنے والے بھی ہوں۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: توکّل علیٰ اللہ کے حوالے سے حضرت مسیح موعودؑ کا پاکیزہ نمونہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲؍اکتوبر ۲۰۲۶ء




