کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

اقتداری معجزات کے ملنے پر بھی حضورؐ کے شاملِ حال ہمیشہ عبودیت ہی رہی

دیکھو! ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابیاں اگرچہ ایسی تھیں کہ تمام انبیائے سابقین میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ مگر آپؐ کو خدا تعالیٰ نے جیسی جیسی کامیابیاں عطا کیں آپ اتنی ہی فروتنی اختیار کرتے گئے۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص حضورؐ کے حضور پکڑ کر لایا گیا۔ آپؐ نے دیکھا تو وہ بہت کانپتا تھا اور خوف کھاتا تھا مگر جب وہ قریب آیا تو آپؐ نے نہایت نرمی اور لطف سے دریافت کیا اور فرمایا کہ تم ایسے ڈرتے کیوں ہو؟ آخر میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں اور ایک بڑھیا کا فرزند ہوں۔(ملفوظات جلد۱۰ صفحہ ۲۱۷ تا ۲۱۸، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

خالی شیخیوں سے اور بے جا تکبر اور بڑائی سے پرہیز کرنا چاہیے اور انکساری اور تواضع اختیار کرنی چاہیے۔ دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ حقیقتاً سب سے بڑے اور مستحقِ بزرگی تھے ان کے انکسار اور تواضع کا ایک نمونہ قرآن شریف میں موجود ہے۔ لکھا ہے کہ ایک اندھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر قرآن شریف پڑھا کرتا تھا۔ ایک دن آپؐ کے پاس عمائد مکہ اور رؤسائے شہر جمع تھے اور آپؐ ان سے گفتگو میں مشغول تھے۔ باتوں میں مصروفیت کی وجہ سے کچھ دیر ہو جانے سے وہ نابینا اٹھ کر چلا گیا۔ یہ ایک معمولی بات تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق سورۃ نازل فرما دی۔ اس پر آنحضرتؐ اس کے گھر میں گئے اور اسے ساتھ لا کر اپنی چادر مبارک بچھا کر بٹھایا۔

اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں عظمتِ الٰہی ہوتی ہے ان کو لازماً خاکسار اور متواضع بننا ہی پڑتا ہے کیونکہ وہ خدا کی بے نیازی سے ہمیشہ ترساں و لرزاں رہتے ہیں۔(ملفوظات جلد ۱۰ صفحہ ۲۹۸، ایڈیشن۲۰۲۲ء)

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر دنیا میں کسی کامل انسان کا نمونہ موجود نہیں اور نہ آئندہ قیامت تک ہو سکتا ہے۔ پھر دیکھو کہ اقتداری معجزات کے ملنے پر بھی حضورؐ کے شامل حال ہمیشہ عبودیت ہی رہی اور باربار اِنَّمَآاَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ(الکہف:۱۱۱) ہی فرماتے رہے۔ یہاں تک کہ کلمہ ٔ توحید میں اپنی عبودیت کے اقرار کا ایک جزو لازم قرار دیا۔ جس کے بدوں مسلمان، مسلمان ہی نہیں ہو سکتا۔ سوچو! اور پھر سوچو!! پس جس حال میں ہادیٔ اکمل کی طرز زندگی ہم کو یہ سبق دے رہی ہے کہ اعلیٰ ترین مقام قرب پر بھی پہنچ کر عبودیت کے اعتراف کو ہاتھ سے نہیں دیا تو اور کسی کا تو ایسا خیال کرنا اور ایسی باتوں کا دل میں لانا ہی فضول اور عبث ہے۔(ملفوظات جلداوّل صفحہ۱۰۰ ،۱۰۱)

بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں

شاید اسی سے دخل ہو دارالوصال میں

(براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلدنمبر۲۱ صفحہ۱۸)

مزید پڑھیں: جمعہ کی عصر اور مغرب کے درمیان بہت دعا کرو

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button