حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

مَردوں کی ذمہ داریاں

(خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲؍جولائی ۲۰۰۴ء)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میاں بیوی کو ایک دوسرے میں خوبیاں تلاش کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی کو دوسرے میں عیب نظر آتا ہے یا اس کی کوئی اور ادا ناپسند ہے تو کئی باتیں اس کی پسند بھی ہوں گی جو اچھی بھی لگیں گی۔ تو وہ پسندیدہ باتیں جو ہیں ان کو مدنظر رکھ کر ایثار کا پہلو اختیار کرتے ہوئے موافقت کی فضا پیدا کرنی چاہئے۔ آپس میں صلح و صفائی کی فضا پیدا کرنی چاہئے تو یہ میاں بیوی دونوں کونصیحت ہے کہ اگر دونوں ہی اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھیں تو چھوٹی چھوٹی جو ہر وقت گھروں میں لڑائیاں، چخ چخ ہوتی رہتی ہیں وہ نہ ہوں اور بچے بھی برباد نہ ہوں۔ ذرا ذرا سی بات پر معاملات بعض دفعہ اس قدر تکلیف دہ صورت اختیار کر جاتے ہیں کہ انسان سوچ کر پریشان ہوجاتا ہے کہ ایسے لوگ بھی اس دنیا میں موجود ہیں کہ جو کہنے کو تو انسان ہیں مگر جانوروں سے بھی بدتر۔ (مسلم کتاب الرضاع باب الوصیۃ بالنسآء)

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تقریباً پندرہ سال کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد حضرت خدیجہ ؓ نے پہلی وحی کے موقع پہ جو گواہی دی، جب وحی ہوئی اور آنحضرتﷺ بہت پریشان تھے کہ کیا ہو گیا تو حضرت خدیجہؓ نے عرض کیا کہ بخدا اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے اور رشتہ داروں سے حسن سلوک فرماتے ہیں اور غریبوں ناداروں کے بوجھ اٹھاتے ہیں اور معدوم ہوجانے والی نیکیوں کو زندہ کرنے والے ہیں ‘‘ یعنی جو نیکیاں ختم ہو گئی ہیں ان کو دوبارہ زندہ کرنے والے ہیں ’’اور سچ بولنے کے نتیجہ میں پیش آنے والی مشکلات کے باوجود حق کے ہی معین و مددگار ہیں ‘‘۔ یعنی سچی بات ہی کہتے ہیں ’’ اور مہمان نواز بھی ہیں ‘‘۔ (بخاری بدء الوحی کیف کان بدء الوحی)

تو ایک انسان میں جو خصوصیات ہونی چاہئیں خاص طور پر ایک مرد میں جن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے جس سے پاک معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے وہ یہی ہے جن کا ذکر حضرت خدیجہ ؓ نے آپؐ کے خلق کے ضمن میں فرمایا کہ صلہ رحمی اور حسن سلوک، رشتہ داروں کا خیال، ان کی ضروریات کا خیال، ان کی تکالیف کو دور کرنے کی کوشش۔ اب صلہ رحمی بھی بڑا وسیع لفظ ہے اس میں بیوی کے رشتہ داروں کے بھی وہی حقوق ہیں جو مرد کے اپنے رشتے داروں کے ہیں۔ ان سے بھی صلہ رحمی اتنی ہی ضروری ہے جتنی اپنوں سے۔ اگر یہ عادت پیدا ہو جائے اور دونوں طرف سے صلہ رحمی کے یہ نمونے قائم ہو جائیں تو پھر کیا کبھی اس گھر میں تُو تکار ہو سکتی ہے؟ کوئی لڑائی جھگڑا ہو سکتا ہے؟ کبھی نہیں۔ کیونکہ اکثر جھگڑے ہی اس بات سے ہوتے ہیں کہ ذرا سی بات ہوئی یا ماں باپ کی طرف سے کوئی رنجش پیدا ہوئی یا کسی کی ماں نے یا کسی کے باپ نے کوئی بات کہہ دی، اگر مذاق میں ہی کہہ دی اور کسی کو بری لگی تو فوراً ناراض ہو گیا کہ میں تمہاری ماں سے بات نہیں کروں گا، میں تمہارے باپ سے بات نہیں کروں گا۔ میں تمہارے بھائی سے بات نہیں کروں گا پھر الزام تراشیاں کہ وہ یہ ہیں اور وہ ہیں تو یہ زود رنجیاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر، یہی پھربڑے جھگڑوں کی بنیاد بنتی ہیں۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر اپنی بیویوں کے رشتہ داروں سے اور ان کی سہیلیوں سے حسن سلوک فرمایا کرتے تھے۔ بے شمار مثالوں میں سے ایک یہاں دیتا ہوں۔ راوی نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ ؓ کی بہن ہالہ کی آواز کان میں پڑتے ہی کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے اور خوش ہو کر فرماتے یہ تو خدیجہ کی بہن ہالہ آئی ہے۔ اور آپ کا یہ دستور تھا کہ گھر میں کبھی کوئی جانور ذبح ہوتا تو اس کا گوشت حضرت خدیجہ ؓ کی سہیلیوں میں بھجوانے کی تاکید فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل خدیجہ)

لیکن یہاں تھوڑی سی وضاحت بھی کر دوں اس کی تشریح میں۔ بعض باتیں سامنے آتی ہیں جن کی وجہ سے وضاحت کرنی پڑ رہی ہے۔ کیونکہ معاشرے میں عورتیں اور مرد زیادہ Mixup ہونے لگ گئے ہیں۔ اس سے کوئی یہ مطلب نہ لے لے کہ عورتوں کی مجلسوں میں بھی بیٹھنے کی اجازت مل گئی ہے اور بیویوں کی سہیلیوں کے ساتھ بیٹھنے کی بھی کھلی چھٹی مل گئی ہے۔ خیال رکھنا بالکل اور چیز ہے اور بیوی کی سہیلیوں کے ساتھ دوستانہ کرلینا بالکل اور چیز ہے۔ اس سے بہت سی قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔ کئی واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ پھر بیوی تو ایک طرف رہ جاتی ہے اور سہیلی جو ہے وہ بیوی کا مقام حاصل کر لیتی ہے۔ مرد تو پھر اپنی دنیا بسا لیتا ہے لیکن وہ پہلی بیوی بیچاری روتی رہتی ہے۔ اور یہ حرکت سراسر ظلم ہے اور اس قسم کی اجازت اسلام نے قطعاً نہیں دی۔ کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں شادی کرنے کی اجازت ہے یہاں ان معاشروں میں خاص طور پر احتیاط کرنی چاہئے۔ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں، اُس بیوی کا بھی خیال رکھیں جس نے ایک لمبا عرصہ تنگی ترشی میں آپ کے ساتھ گزارا ہے۔ آج یہاں پہنچ کر اگر حالات ٹھیک ہو گئے ہیں تو اس کو دھتکار دیں، یہ کسی طرح بھی انصاف نہیں ہے۔

حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے ایک دفعہ آپؐ کو کہا کہ اے اللہ کے رسول! خدا نے آپؐ کو اس قدر اچھی اچھی بیویاں عطا فرمائی ہیں۔ اب اس بڑھیا(یعنی حضرت خدیجہؓ ) کا ذکر جانے بھی دیں۔ توآپؐ نے فرماتے تھے کہ نہیں، نہیں۔ خدیجہ اس وقت میری ساتھی بنی جب میں تنہا تھا۔ وہ اس وقت میری سِپر بنی جب میں بے یارو مددگار تھا۔ وہ اپنے مال کے ساتھ مجھ پر فدا ہو گئیں اور اللہ تعالیٰ نے ان سے مجھے اولاد بھی عطا کی۔ انہوں نے اس وقت میری تصدیق کی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا۔ (مسند احمد بن حنبل جلد نمبر۶ صفحہ ۸ ۱۱مطبوعہ بیروت)

تو یہ ہے اسوۂ حسنہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے اور ایسے معاملات سن کر بڑی تکلیف ہوتی ہے، طبیعت بعض دفعہ بے چین ہو جاتی ہے کہ ہم میں سے بعض کس طرف چل پڑے ہیں۔ بیوی کی ساری قربانیاں بھول جاتے ہیں حتیٰ کہ بعض تواس حد تک کمینگی پر آتے ہیں کہ بیوی سے رقم لے کر اس پر دباؤ ڈال کر اس کے ماں باپ سے رقم وصول کرکے کاروبار کرتے ہیں یا زبردستی بیوی کے پیسوں سے خریدے ہوئے مکان میں اپنا حصہ ڈال لیتے ہیں اور پھر اس کو مستقل دھمکیاں ہوتی ہیں۔ اور بعض دفعہ تو حیرت ہوتی ہے کہ اچھے بھلے شریف خاندانوں کے لڑکے بھی ایسی حرکتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ کچھ خوف خدا کریں اور اپنی اصلاح کریں۔ ورنہ یہ واضح ہو کہ نظام جماعت، اگر نظام کے پاس معاملہ آ جائے تو، کبھی ایسے بیہودہ لوگوں کا ساتھ نہیں دیتا، نہ دے گا۔ اور پھر یہی نہیں کہ لڑکے خود کرتے ہیں بلکہ ایسے لڑکوں کے ماں باپ بھی ان پر دباؤ ڈال کے ایسی حرکتیں کرواتے ہیں۔ وہ بھی یاد رکھیں کہ ان کی بھی بیٹیاں ہیں اور ان سے بھی یہی سلوک ہو سکتا ہے۔ اور اگر بیٹیاں نہیں ہیں جن کی تکلیف کا احساس ہو، بعضوں کے بیٹے ہوتے ہیں اس لئے ان کو بیٹیوں کی تکلیف کا پتہ ہی نہیں لگتا۔ تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کو تو جان دینی ہے، اس کے حضور تو حاضر ہونا ہے۔

حضرت عائشہؓ ایک روایت کرتی ہیں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دیر سے گھر لوٹتے تو کسی کو زحمت دئیے یا جگائے بغیر خود ہی کھانا لے کر تناول فرما لیتے یا دودھ ہوتا تو خود ہی لے کرنوش فرما لیتے۔ (مسلم کتاب الاشربہ باب اکرام الضیف)

یہ اُسوہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لیکن بعض مثالیں ایسی سامنے آتی ہیں، عموماً اب یہ ہوتا ہے کہ مرد لیٹ کام سے واپس آتے ہیں اور یہ روز کا معمول ہے اور اگر بیوی کسی دن طبیعت کی خرابی کی وجہ سے پہلے کھانا کھا لے تو ایک قیامت برپا ہو جاتی ہے۔ موڈ بگڑ جاتے ہیں کہ تم نے میرا انتظار کیوں نہیں کیا۔ ہمارے معاشرے میں پاکستانی، ہندوستانی اس مشرقی معاشرے میں یہ بات زیادہ پیدا ہوتی جا رہی ہے، پہلے بھی تھی لیکن پڑھے لکھے ہونے کے ساتھ ساتھ ختم ہونی چاہئے تھی، اس کی بھی اصلاح کرنی چاہئے۔

مزید پڑھیں: مَردوں کی ذمہ داریاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button