نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۶؍ستمبر ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ امینہ یوسف صاحبہ اہلیہ مکرم الحاج یوسف اوسائی (Osei) صاحب مرحوم (Battersea۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور پانچ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرمہ امینہ یوسف صاحبہ اہلیہ مکرم الحاج یوسف اوسائی (Osei) صاحب مرحوم ( Battersea۔یوکے)

۱۰؍ستمبر۲۰۲۶ کو ۷۷؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ ۲۴ مارچ ۱۹۴۹ء کو گھانا میں پیدا ہوئیں۔ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ آپ نے Tailoring میں ٹریننگ حاصل کی۔ ۱۹۹۰ء کی دہائی میں آپ اپنے شو ہر مکرم الحاج یوسف اوسائی صاحب مرحوم کے ساتھ یوکے آئیں۔ مرحومہ پابند صوم و صلوٰۃ، تہجد گزار،ہمدردی اور سخاوت کا جذبہ رکھنے والی غریب پرور،نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ اپنے عزیزوں کی مختلف رنگ میں مالی معاونت کیا کرتی تھیں۔ قرآن کریم کا اچھا علم رکھتی تھیں۔ دوسروں کو قرآن کریم پڑھانے کی توفیق بھی پائی۔ مرحومہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرم سید محمد داؤد صاحب ابن مکرم سید محمد یوسف بھاگلپوری صاحب (کینیڈا)

۲۸؍اگست ۲۰۲۶ء کو ۹۴؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ پیشہ کے اعتبار سے مکینیکل انجینئر تھے۔ اپنی ملازمت کے دوران ہمیشہ محنت، نظم و ضبط، فنی مہارت اور مضبوط اصولوں پر قائم رہے۔ آپ کی زندگی میں دین،انسانیت کی خدمت، سادگی، عاجزی، دیانت داری، نظم و ضبط اور اخلاص نمایاں اوصاف تھے۔۱۹۸۹ء میں آپ اپنے خاندان کے ہمراہ کینیڈا منتقل ہوگئے۔ آپ نے سائق، محصّل اورپھر نیشنل آڈیو ویڈیو ڈیپارٹمنٹ میں معاون کے طور پر انتہائی اخلاص، عاجزی اور فرض شناسی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ اپنی اولاد میں بھی دیانت، محنت، خدمت، قربانی اور جماعت سے وفاداری کاجذبہ پیدا کیا۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں ایک بیٹی، دو بیٹے، دو بہنیں اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔آپ مکرم ڈاکٹر اسلم داؤد صاحب( چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ کینیڈا) کے والد اور مکرمہ امۃالنور داؤد صاحبہ( سابق صدر لجنہ اماءاللہ کینیڈا) کے خسر تھے۔

۲۔مکرمہ زیبا سیفی صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری نسیم احمد سیفی صاحب مرحوم (سابق کارکن دفتر پر ائیویٹ سیکرٹری ربوہ)

۲۱؍جون ۲۰۲۶ء کو ۶۳؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت میاں اللہ بخش صاحب رضی اللہ عنہ کی پڑپوتی اور حضرت مہتاب بی بی صاحبہ رضی اللہ عنھا کی پڑنواسی اور مکرم حاجی صوبیدار محمود احمد بشیر صاحب مرحوم (المعروف مبلغ چترال) کی بیٹی تھیں۔ مرحومہ پنجوقتہ نمازوں کی پابند،تہجد گزار،چندوں میں باقاعدہ، مہمان نواز،سادہ مزاج،خوش اخلاق، بڑی سلیقہ شعار،مخلص اور فدائی خاتون تھیں۔ خلافت سے انتہائی والہانہ عشق کا تعلق تھا۔ ہر ہفتہ اپنے گھر پر لجنہ کا اجلاس کروایا کرتی تھیں۔ گھر میں ہر وقت ایم ٹی اے لگائے رکھتی تھیں۔ جب بھی کوئی جلسہ ہوتا تو ہمسائیوں کو گھر بلاکر تقاریر سنوایا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے، دو بھائی اور دو بہنیں شامل ہیں۔ آپ مکر م حنان احمد سیفی صاحب …کی والدہ تھیں۔

۳۔مکرمہ امۃالرشید بیگ صاحبہ اہلیہ مکرم مرزا نسیم اللہ بیگ صاحب (آف نارووال حال مقیم کینیڈا)

۲۵؍جون ۲۰۲۶کو۸۰؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ مکرم کیپٹن محمد سعید صاحب(آف دار الرحمت غربی ربوہ) کی بیٹی تھیں۔ مرحومہ نے بطور صدر لجنہ نارووال خدمت کی توفیق پائی۔خلافت سے بے انتہا عشق اور محبت کا تعلق تھا۔ اپنی اولاد کو بھی ہمیشہ خلافت اور جماعت سے محبت کی تلقین کیا کرتی تھیں۔ غریبوں اور ضرورت مندوں کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہتیں اور ان پر خرچ کر کے بہت خوشی محسوس کرتی تھیں۔نارووال جماعت میں آپ کا گھر لنگر خانہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ جہاں مرکزی مہمانوں کے علاوہ دیگر مہمان تقریباً ہر وقت موجود رہتے تھے۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں میاں کے علاوہ ایک بیٹی اور چار بیٹے شامل ہیں۔آپ کے ایک بیٹے مکرم مرزا طاہر احمدصاحب ( آف کیلگری کینیڈا) اس وقت جماعتی فوٹوگرافر کے طور پر خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔

۴۔مکرمہ حبیبہ مجید صاحبہ بنت مکرم میاں مجید احمد صاحب (دارالرحمت غربی ربوه)

۱۹؍جنوری ۲۰۲۶ ء کو۸۱؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ نے ۱۹۶۲ء میں فضل عمر جونیئر ماڈل سکول کو بطور ٹیچر جوائن کیا اور ساتھ ساتھ جماعتی خدمت بھی کرتی رہیں۔ فضل عمر سکول میں پڑھانے کی وجہ سے آپ نے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت سے بچوں اور بچیوں کو بھی زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔ آپ کے نمایاں شاگردوں میں مکرم مرزا غلام قادر صاحب شہید بھی شامل تھے۔مرحومہ نے لجنہ اماء اللہ ربوہ میں ناصرات کی نائبہ سیکرٹری مال کے طور پرخدمت کی توفیق پائی۔ ہمیشہ لوگوں کے کام آتیں اور ان کے مسائل کو حل کرتی تھیں۔ نماز اور روزہ کی پابند تھیں اور آخری وقت تک تہجد کو قائم کرنے والی بڑی ہمدرد اور ملنسارخاتون تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ ایک بیٹا شامل ہے۔

۵۔مکرمہ آمنہ بی بی صاحبہ اہلیہ مکرم محمد فیروز صاحب (جھنگ)

۹؍دسمبر ۲۰۲۵ ء کو ۶۳؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ خلافت سے گہری وابستگی رکھتی تھیں جس کے نتیجہ میں آپ کی اولاد اور اہل خانہ کے دلوں میں بھی خلافت سے محبت اور وفاداری نمایاں تھی۔ علاقہ میں شدید مخالفت کے باوجود جماعتی پروگراموں اور خدمتوں میں پیش پیش رہتی تھیں۔ مرحومہ نماز اور روزہ کی پابند، تہجد گزار، نوافل کی ادائیگی اور دعائیہ تحریک پر باقاعدہ عمل کرنے والی ایک متوکّل علی اللہ خاتون تھیں۔آپ بڑی خوش اخلاق، خوش مزاج،خاندان کا خیال رکھنے والی، صابرہ و شاکرہ، دوسروں کی خوشی غمی میں شامل ہونے والی، نیک دل اور باوفا خاتون تھیں۔ مرحومہ سیکرٹری مال لجنہ کی معاونت کرتے ہوئے وصولی چندہ جات کی خدمت سر انجام دیتی تھیں اور بذات خود چندہ جات کی ادائیگی کی بھی بڑی پابند تھیں۔ پسماندگان میں تین بیٹیاں اور پانچ بیٹے شامل ہیں۔آپ کے ایک بیٹے مکرم فرحان احمد صاحب مربی سلسلہ …خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button