لجنہ اماءاللہ نیوزی لینڈ کے تحت امن سمپوزیم ۲۰۲۶ء کا انعقاد
مکرمہ رضوانہ ریڈی صاحبہ نیشنل سیکرٹری تبلیغ لجنہ اماءاللہ نیوزی لینڈ تحریر کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے لجنہ اماء اللہ نیوزی لینڈ کا ۱۳؍واں امن سمپوزیم مسجد بیت المقیت، آکلینڈ میں ۸؍اگست ۲۰۲۶ء کو منعقد ہوا۔ لجنہ اماء اللہ نیوزی لینڈ گذشتہ ۱۳؍سال سے بین المذاہب ہم آہنگی اور قیام امن کے لیے مختلف سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ اس سلسلہ میں خواتین اراکین پارلیمنٹ، مذہبی راہنماؤں، غیر سرکاری تنظیموں اور کمیونٹی راہنماؤں کو مختلف موضوعات، بالخصوص امن اور خواتین سے متعلق امور پر اظہار خیال کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔

اس عرصہ میں سمپوزیم کے موضوعات میں معاشرہ میں خواتین کا کردار، تعلیم کا حق، شادی میں خواتین کے حقوق، پائیدار امن کے قیام میں خواتین کا کردار اور جدید دور میں اپنی اقدار کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت جیسے موضوعات شامل رہے ہیں۔ امسال نیوزی لینڈ میں تارکین وطن، بالخصوص بھارتی اور مسلمان تارکین وطن، کے خلاف بڑھتے ہوئے بیانیے کے تناظر میں سمپوزیم کا موضوع ’’تنوّع کو اپنانے سے ایک مضبوط قوم کی تعمیر‘‘ رکھا گیا۔
سمپوزیم کا مقصد مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر تنوع، باہمی احترام اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔
اس موقع پر ریس ریلیشنز کمشنر ڈاکٹر ملیسا ڈربی (Dr Melissa Derby) جو نیوزی لینڈ ہیومن رائٹس کمیشن سے وابستہ ہیں اور ڈاکٹر انمار توفیق (Dr Anmar Tofiq) بانی Good Deed Group نے اظہار خیال کیا۔ Good Deed Group مسلم اصول صدقات و خیرات کی بنیاد پر کمیونٹی میں فلاحی و رضاکارانہ خدمات انجام دینے والی تنظیم ہے جس میں زیادہ تر ریٹائرڈ مسلمان خواتین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس ایک بین المذاہب پینل بھی تھا جس میں بدھ مت، عیسائیت اور اسلام سے تعلق رکھنے والے مقررین نے اپنے اپنے مذاہب کے نقطۂ نظر سے اپنے خیالات پیش کیے۔
ڈاکٹر ملیسا ڈربی نے دوسروں کی آراء کو احترام سے سننے اور ہر فرد کو عزت و وقار کے ساتھ معاشرہ کا حصہ محسوس کرنے کی اہمیت بیان کی۔ ڈاکٹر انمار توفیق نے Good Deed Group کی فلاحی خدمات کا ذکر کیا اور خواتین کی قیادت کو ہمدردی اور خدمت کے ذریعہ معاشرہ کی ترقی کا وسیلہ قرار دیا۔ عیسائی مقررہ شانی ہیٹیٹو (Shani Hatito) نے اپنے یورپی، ماؤری اور ٹونگن ورثہ کے باعث شناخت سے متعلق تجربات بیان کیے، جبکہ بدھ مت سے تعلق رکھنے والی گُنیت سچدیو (Guneet Sachdev) نے اپنی نیورو ڈائیورسٹی اور بدھ مت کی تعلیمات کے ذریعے مثبت ذہنیت پیدا کرنے کے تجربات بیان کیے۔ انہوں نے تنوع کو معاشرہ کی مضبوطی کا ذریعہ قرار دیا۔ اسی طرح لجنہ اماء اللہ نیوزی لینڈ کی نمائندہ مکرمہ عافیہ نجم صاحبہ نے قومی یکجہتی اور معاشرتی ہم آہنگی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے تانگاتا فینوا (ماؤری ورثہ) کو راہنما اصول کے طور پر تسلیم کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
مقررین کی تقاریر سے یہ امر اجاگر ہوا کہ مذہبی، نسلی اور انفرادی تنوع معاشرہ کی کمزوری نہیں بلکہ مثبت طور پر بروئے کار لانے سے اس کی قوت بن سکتا ہے۔
دعا کے ساتھ تقریب کا اختتام ہوا۔ بعد ازاں کھانے کا وقفہ ہوا اور لجنہ اماءاللہ کو مختلف سٹالز کے ذریعہ اپنی مثبت اور مفید خدمات پیش کرنے کا موقع ملا۔ لجنہ اماء اللہ کی جانب سے تبلیغ، خدمت خلق اور ہیومینٹی فرسٹ کے سٹالز بھی لگائے گئے جو شاملین کی توجہ کا مرکز رہے۔
اس تقریب میں ۱۰۶؍خواتین شامل ہوئیں جن میں ۲۷؍مہمان خواتین تھیں۔ مقررین اور شرکاء کی جانب سے تقریب کے حوالے سے مثبت آرا کا اظہار کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ لجنہ اماء اللہ نیوزی لینڈ کو مزید احسن رنگ میں اسلام احمدیت کی خوبصورت پُر امن تعلیمات کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(رپورٹ:مبارک احمد خان۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: لجنہ اماء اللہ ہالینڈ کا تینتالیسواں سالانہ نیشنل اجتماع ۲۰۲۶ء




