قناعت اور سادگی کے حوالے سےسیرت النبیﷺ کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۱۶؍اکتوبر ۲۰۲۶ء
٭… یقیناًسادگی ایمان کا حصہ ہے ۔ یقیناًسادگی ایمان کا حصہ ہے (حدیث نبویﷺ)
٭… آج کل دنیاوی چیزوں کی اس قدر لالچ ہے کہ انسان کی سوچوں میں سے یہی چیز بسنے لگ گئی ہے کہ دنیا ہی دنیا ہے۔ ایسے میں جو آپ ﷺکے ارشاد پہ چلنے والے ہوں گے وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے ہوں گے
٭… حضورﷺ نے اس بادشاہت سے دنیاوی فائدہ کوئی بھی حاصل نہیں تھی کیونکہ حضورﷺ نے اپنی تمام تر زندگی میں لوگوں کے لیے قربانی پیش کی ۔ حضورؐ نے ممالک مفتوحہ اور جائیدادوں کو اپنا ہرگز قرار نہیں دیا (حضرت مصلح موعودؓ)
٭… پاکستان اور ملائیشیا کے احمدیوں کے لیے دعا کی تازہ تحریک
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۶؍اکتوبر ۲۰۲۶ء بمطابق ۱۶؍اخاء ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۱۶؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے سورت ص کی آیت ۸۷؍کی تلاوت فرمائی ۔ بعد ازاں اس آیت کریمہ کا ترجمہ بیان فرمایا کہتُو کہہ دے کہ میں اس (تبلیغ) پر تم سےکوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف سے بات کرنے کا عادی ہوں۔
حضور انور نے فرمایا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺسے اعلان کروا رہا ہے کہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ مَیں تمہیں جو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا رہا ہوں، تمہاری بہتری کے راستے دکھا رہا ہوں یہ صرف اور صرف تمہاری دنیا وعاقبت سنوارنے کے لیے ہے ۔مجھے اس کام کے بدلے تمہارے سے کچھ نہیں چاہیے ۔ میری زندگی پاک ہے اور جب زندگی تکلّفات سے پاک ہو تو پھر دنیا وی اجر کی کیا ضرورت ہے۔
یہ وہ سادگی کا معیار ہے جس کا اظہار مختلف موقعوں پر آپؐ کی زندگی میں ہمیں نظر آتا ہے۔آپؐ نے مومنوں کو بھی یہی نصائح فرمائیں کہ سادگی سے زندگی بسر کرو۔
حضرت عثمان بن عفان ؓنے بیان کیا ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا :ابن آدم کے لیے کوئی حق نہیں ان باتوں کے سواکہ ایک گھر ہو جس میں وہ رہے۔اور اس قدر کپڑے ہوں جو اس کے ننگ کو ڈھانپ سکیں ۔اور روکھی سوکھی روٹی۔اور پانی ہو۔
آنحضور ﷺ اس میں اپنی زندگی کا نقشہ کھینچ رہے ہیں کہ میری سادگی کا یہ مقام ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ مَیں نے رسول اللہ ؐکو اپنی دعا میں یہ کہتے سنا کہ اے اللہ! مجھے مسکین کے طور پر زندہ رکھنا اور مسکین کے طور پر موت دینا اور مسکینوں کے گروہ میں میرا حشر کرنا ۔
حضرت ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ کے صحابہؓ نے آپؐ کے سامنے دنیا کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
کیا تم نہیں سنتے۔کیا تم نہیں سنتے۔ یقیناًسادگی ایمان کا حصہ ہے۔
یقیناًسادگی ایمان کا حصہ ہے ۔
حضرت عمران بن حسینؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: یقیناً اللہ اپنے اس بندے سے محبت کرتا ہے جو مومن ہو،نادار ہو، سوال سے بچنے والا ہو اور عیال دار ہو۔
حضور انور نے اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ
سوال سے انسان تب بچ سکتا ہے جب سادگی ہو ۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ غرباء مہاجرین نے رسول اللہ ﷺکے پاس شکایت کی جو اللہ تعالیٰ نے دولت مندوں کو ان پر فضیلت دی ہے ۔آپؐ نے فرمایا :اے غریبو! کیا میں تمہیں بشارت نہ دوں کہ غریب مومن جنت میں دولت مندوں سے نصف دن یعنی پانچ سو سال پہلے داخل ہو گا ۔
حضورانور نے فرمایا کہ
آج کل دنیاوی چیزوں کی اس قدر لالچ ہے کہ انسان کی سوچوں میں سے یہی چیز بسنے لگ گئی ہے کہ دنیا ہی دنیا ہے۔ ایسے میں جو آپ ﷺکے ارشاد پر چلنے والے ہوں گے وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے ہوں گے
لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اور کام نہ کرے۔
اپنی پوری توجہ اور محنت سے کام کرنا اور پھر سادہ زندگی گزارنا اور قناعت کرنا اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا یہ ایک مومن کا شیوہ ہے جو اس کے ایمان میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا:
تُو دنیا میں اس طرح بسر کر گویا کہ تُو پردیسی ہے یاراہ پہ چلتا مسافر ہے ۔
آنحضرتﷺ اپنی سادگی اور عاجزی کا اظہار ہر موقع پر کس طرح فرماتے ۔ اس بارے میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو جیسے نصاریٰ نے ابن مریم ؑکی تعریف میں مبالغہ کیا ۔مَیں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں۔اور تم یہی کہا کرو کہ اس کا بندہ اور اس کا رسولؐ۔
آپؐ کے مکان اور رہائش کے بارے میں ذکر ملتا ہے کہ مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد مسجد نبویؐ کے ساتھ آنحضرت ﷺکی رہائش کے لیے مکان تیار کیا گیا ۔مکان کیا تھا۔دس ضرب پندرہ فٹ کا ایک چھوٹا کمرہ تھا ۔ اس ہجرے اور مسجد کے درمیان ایک دروازہ رکھا گیا تھا جس میں سے گزر کر آپؐ نماز وغیرہ کے لیےمسجد تشریف لاتے ۔جب آپؐ نے اَور شادیاں کیںتو اسی حجرے کے ساتھ ساتھ دوسرے حجرات یعنی کمرے تیار ہوتے گئے۔
دوسری جگہ اس کی مزید تفصیل ملتی ہے کہ آپؐ کے ایک مخلص صحابی حارثہ بن نعمان ؓکے چند مکانات اس جگہ تھے ۔ جب آپؐ کے عقد میں نئی زوجہ آتیں تووہ اپنا ایک مکان دے دیتے یہاں تک کہ حارثہؓ کے تمام مکانات رسول اللہ ﷺ کے تصرف میں آ گئے۔یہ چھوٹے چھوٹے کُل نَو مکان تھے۔ان میں رسول اللہﷺ نے زندگی کے آخر ی دس سال گزارے اور انہی میں سے ایک میں آپؐ دفن ہوئے۔
یہ مکان ایک چھوٹے سے کمرے(چار میٹر چوڑائی اور پانچ میٹر لمبائی) پر مشتمل تھے اور ساتھ اس سے بھی چھوٹا ایک صحن ہوتا۔ اینٹ اور پتھر کا استعمال نہ ہوا تھا ۔ صحن کی چار دیواری کھجور کی ٹہنیوں اور پتوں کی تھی۔ کمرے کی اونچائی اتنی تھی کہ ہاتھ اوپر اٹھا ئیں توچھت کو لگ جاتا۔آپؐ کے کمرے میں ایک رسی لگی ہوتی۔ اگر کوئی ملنے آتا تو اس پر کپڑا ڈال کر ملاقات کے وقت میں ملنے والوں سے علیحدہ بیٹھ کر گفتگو کر لیا کرتے تھے۔
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ کے گھر کی سادگی کے بارے میں یوں بیان ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے شکایت کی کہ چکی پیسنے سے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ اسی عرصے میں آنحضرت ﷺ کےپاس غلام آئے ۔حضرت فاطمہؓ آپؐ کے پاس تشریف لے گئیں لیکن آپؐ کو گھر پر نہ پایا۔اس لیے حضرت عائشہ ؓکو آپنی آمد کی وجہ کی اطلاع دے کر گھر لوٹ آئیں ۔ جب آنحضرتﷺ گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے آنجناب ﷺ کو حضرت فاطمہ ؓکی آمد کی اطلاع دی ۔ حضرت فاطمہ ؓکہتی ہیں کہ آپؐ ہمارے پاس تشریف لائے جب ہم اپنے بستروں میں لیٹ چکے تھے۔ مَیں نے آپؐ کو آتے دیکھ کر چاہا کہ اٹھوں مگر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنی جگہ لیٹے رہو۔ پھر ہم دونوں کے درمیان آ کے بیٹھ گئے یہاں تک کہ آپؐ کے قدموں کی خنکی میرے سینے میں محسوس ہونے لگی۔ جب آپؐ بیٹھ گئے تو آپؐ نے فرمایا کہ مَیں تمہیں کوئی ایسی بات نہ بتاؤں جو اس چیز سے جس کا تم نے سوال کیا ہے بہتر ہے ۔وہ یہ ہے کہ جب تم اپنے بستروں پر لیٹ جاؤ تو ۳۴؍دفعہ تکبیر کہو۔ ۳۳؍دفعہ سبحان اللہ کہو اور ۳۳؍ دفعہ الحمدللہ کہو۔حضرت مصلح موعود ؓلکھتے ہیں کہ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ
آنحضرت ﷺ اموال کی تقسیم میں ایسے محتاط تھے کہ باوجود اس کے کہ حضرت فاطمہ ؓکو ایک خادم کی ضرورت تھی اور چکی پیسنے سے آپؓ کے ہاتھوں کو تکلیف ہوتی تھی مگر پھر بھی آپؐ نے خادم نہ دیا بلکہ دعا کی تحریک کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی متوجہ کیا ۔
اپنی بیٹی کے جہیز میں آپﷺ نے ان کو کیا دیا ۔ حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ ؓکی شادی کی تو انہیں سامان بھیجا جس میں ایک ر یشمی چادر تھی ،چمڑے کا گدیلاجس میں کھجور کے ریشے تھے ۔ دو چکیاں ،مشکیزہ اور دو گھڑے تھے ۔
اگر آپؐ زیادہ دینا چاہتے تو بہت کچھ دے سکتے تھے مگر آپؐ نے ایسا نہ کیا۔
حضرت مصلح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ آخری عمر میں ایک بادشاہ تھے ۔اس میں کسی کو شک نہیں ہو سکتا ۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس بادشاہت سے حضورؐ نے دنیاوی فوائدکیا حاصل کیے۔ مثلاً بیوی بچوں کی آسائش ،دوستوں کی آسائش اور رشتہ داروں کی آسائش ،اس بادشاہت کے دور میں کہاں تک حاصل کی؟ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ
حضورﷺ نے اس بادشاہت سے کوئی بھی دنیاوی فائدہ حاصل نہیں کیا کیونکہ حضورﷺ نے اپنی تمام تر زندگی میں لوگوں کے لیے قربانی پیش کی ۔حضورؐ نے ممالک مفتوحہ اور جائیدادوں کو اپنا ہرگز قرار نہیں دیا۔
حضورؐ کی وفات کے بعد سنی شیعہ کا جو اختلاف پیدا ہوا اس عظیم الشان اختلاف کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ حضور ﷺ نے جائیدادوں اور ممالک مفتوحہ کواپنی ذاتی چیز اور ملکیت قرار نہیں دیا اور یہ جائز نہیں رکھا کہ یہ اشیاء حضور ؐکے خاندان کی طرف بطور ورثہ منتقل ہوں۔
رسول اللہ ﷺ کی گھریلو زندگی کے بارے میں روایات میں آتا ہے ۔اسود کہتے ہیں کہ مَیں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ اپنے گھر میںکیا کیا کرتے تھے ؟انہوں نے فرمایا کہ آپﷺ اپنے گھر والوں کے کام کاج میں رہتے ۔یعنی ان کے کاموں میں مدد کیا کرتے تھے اور جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔
آنحضرت ﷺ کی سادہ زندگی اور روز مرّہ کے معاملات کے بارے میں حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ
آپؐ دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان تھے ۔اپنے کپڑے خود صاف کرلیتے۔ اپنی بکری کا دودھ خود دوہ لیتے اور اپنا کام خود کرتے تھے ۔
ایک روایت میں آتاہے کہ آپؐ نے فرمایا:اللہ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چَرائی ہوں۔آپؐ کے صحابہؓ نے عرض کیا :یا رسول اللہ ؐ!کیا آپؐ نے بھی چرائی ہیں ۔آپؐ نے فرمایا:ہاں! مَیں بھی چند قیراط کے بدلے مکہ والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا ۔بعض علماء نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شاید قیراط کسی جگہ کا نام ہے اس سےاجرت مراد نہیں ۔ لیکن یہ درست نہیں ۔ اجرت پر کام کرنا نبی کی شان کے خلاف نہیں ۔ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ ؑکے واقعہ میں اجرت پر کام کرنے کا بڑی وضاحت سے ذکر ملتا ہے۔ قراریط ،لفظ قیراط کی جمع ہے ۔
حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اصل میں بڑا احسان کیا ہے کہ انبیاء کے ساتھ غریبی کا حصہ بھی رکھ دیا ہے۔ آنحضرت ﷺ بکریاں چرایا کرتے تھے۔موسیٰ ؑنے بکریاں چرائیں۔کیا امراء یہ کام کر سکتے ہیں؟ہرگز نہیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ کا گذرایک جنگل میں ہوا۔وہاں کچھ پھل دار درخت تھے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اس کا پھل کھاؤ یہ بہت شیریں ہے۔صحابہؓ نے پوچھا کہ یا حضرت! آپؐ کو کیسے علم ہے؟ فرمایا کہ جب مَیں بکریاں چرایا کرتا تھا تو اس جنگل میں بھی آیا کرتا اور ان پھلوں کو کھایا کرتا تھا۔اسی لیے اﷲ تعالیٰ نے یہ تجویز نہیں کیا کہ انبیاء شاہی خاندان سے ہوں ورنہ تکبر اور نخوت کا کچھ نہ کچھ حصہ ان میں ضرور رہ جاتا۔
حاتم طائی کے بیٹے عدی بن حاتمؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺکے خدمت میں حاضر ہونے کے لیے روانہ ہوا۔ مدینہ پہنچا اور مسجد داخل ہو کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کون ہو؟ میں نے عرض کیا :میں عدی بن حاتم ہوں۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو گئے اور مجھے اپنے گھر کی طرف لے جانے لگے کہ راستے میں ایک ضعیف عورت آگئی اور اس نے بڑی دیر تک آپؐ سے کوئی حاجت عرض کی۔ آنحضرتﷺ اس کی خاطر کھڑے رہے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ شخص بادشاہ نہیں ہو سکتا۔ بادشاہوں کے ایسے اخلاق نہیں ہوتے۔ پھر آنحضرت ﷺ مجھے لے کر اپنے مکان میں داخل ہوئے اور ایک چمڑے کا تکیہ جو کھجور کے ریشوں سے بھرا ہوا تھا، اٹھا کر میری طرف ڈال دیا اور فرمایا :اس پر بیٹھو۔مَیں نے عرض کیا کہ آپؐ تشریف رکھیں ۔آپؐ نے فرمایا :نہیں تم بیٹھو۔میں اس پر بیٹھ گیا اور آپؐ زمین پر بیٹھے۔ آپؐ کی سادگی اورخوش اخلاقی دیکھ کر مَیں مسلمان ہو گیا ۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ۔
آخر پر حضور انور نے
پاکستان اور ملائیشیا کے احمدیوں کے لیے دعا کی تحریک
فرمائی جس کی تفصیل درج ذیل لنک پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
٭…٭…٭