سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

آپؑ نے اس کواپنی صداقت کی ایک دلیل کے طورپربیان فرمایا کہ ایسامامورمن اللہ جووحی و الہام کاجھوٹا دعویٰ کرے وہ اپنے دعوئ الہام سے ۲۳؍سال تک کی مدت نہیں پاسکتا۔ اوراپنی متعددتصانیف میں اس دلیل کاذکرکرتے ہوئے آپؑ نے اپنے ان الہامات کوپیش فرمایاہے کہ جن پر۲۳؍سال کاعرصہ بیت چکاتھا

[گذشتہ سے پیوستہ]۶۔ ’’خدا تعالیٰ قرآن شریف میں بار بار فرماتا ہے کہ مفتری اسی دنیا میں ہلاک ہوگا بلکہ خدا کے سچے نبیوں اور مامورین کے لئے سب سے پہلی یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے کام کی تکمیل کرکے مرتے ہیں۔ اور ان کو اشاعت دین کے لئے مہلت دی جاتی ہے اور انسان کی اس مختصر زندگی میں بڑی سے بڑی مہلت تیئیس۲۳ برس ہیں کیونکہ اکثر نبوت کا ابتدا چالیس برس پر ہوتا ہے اور تیئیس برس تک اگر اور عمر ملی تو گویا عمدہ زمانہ زندگی کا یہی ہے۔ اسی وجہ سے مَیں بار بار کہتا ہوں کہ صادقوں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ نہایت صحیح پیمانہ ہے۔‘‘ (اربعین نمبر ۴ صفحہ ۵ روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۴۳۴)

۷۔ ’’تھا برس چالیس کا مَیں اس مسافر خانہ میں

جبکہ میں نے وحی ربانی سے پایا افتخار‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۰۵ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۳۵)

۸۔ ’’و لما بلغت أشد عمری و بلغت اربعین سنۃ جاءتنی نسیم الوحی بِرَیَّا عنایات ربی لیزید معرفتی و یقینی و یرتفع حجبی و اکون من المستیقنین۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۴۸۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۴۸)

۹۔ ’’وقد فُتحتْ علیّ أبواب إلہاماتہ وأنا یومئذ ابن أربعین، فما ترکنی، وما ودّعنی، وما أضاعنی، بل خصّصنی بالتحدیث والمکالمۃ، وأمرنی لأتمّ حجتہ علی المتنصرین۔‘‘ (حمامة البشریٰ صفحہ ۲۷، روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۲۰۹۔ ۲۱۰)

ایک دوسری تصنیف میں خداکایہ مامورواضح فرماتاہے کہ ’’سواِس عاجز کے ظہورکایہی وقت تھا کیونکہ میری کتاب براہین احمدیہ صرف چندسال بعدمیرے ماموراور مبعوث ہونے کے چھپ کرشائع ہوئی ہے اور یہ عجیب امرہے اورمیں اس کوخداتعالیٰ کاایک نشان سمجھتاہوں کہ ٹھیک بارہ سونوّے۱۲۹۰ ہجری میں خداتعالیٰ کی طرف سے یہ عاجزشرفِ مکالمہ ومخاطبہ پاچکاتھا۔پھرسات سال بعد کتاب براہین احمدیہ جس میں میرادعویٰ مسطورہے تالیف ہوکرشائع کی گئی جیساکہ میری کتاب براہین احمدیہ کے سرورق پریہ شعر لکھاہواہے

ازبس کہ یہ مغفرت کا دکھلاتی ہے راہ

تاریخ بھی یاغفور ۱۲۹۷ نکلی وہ واہ

سودانیال نبی کی کتاب میں جوظہورمسیح موعودکے لئے بارہ سونوے ۱۲۹۰ برس لکھے ہیں۔ اِس کتاب براہین احمدیہ میں جس میں میری طرف سے ماموراورمنجانب اللہ ہونے کااعلان ہے صرف سات برس اِس تاریخ سے زیادہ ہیں جن کی نسبت میں ابھی بیان کرچکاہوں کہ مکالمات الٰہیہ کاسلسلہ اِن سات برس سے پہلے کاہے یعنی بارہ سونوے۱۲۹۰کا۔‘‘(حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۹۹۔ ۲۰۰، روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ۲۰۸)

۱۲۹۰ ہجری سن کا آغاز یکم مارچ ۱۸۷۳ء کو ہوا تھا۔ اور یہی سال حضرت اقدس بانئ سلسلہ احمدیہ ؑکی بعثت وماموریت کاسال ہے۔ جس کاباقاعدہ اعلان سات سال بعد آپؑ نے اپنی تصنیف براہین احمدیہ میں فرمایا اور پھر اپنے خطوط میں اس کی تشہیروتفسیربیان فرماتے رہے اورپھر ایک عام اشتہار مارچ ۱۸۸۵ء میں دیاجوکہ ساری دنیامیں تقسیم کیاگیا۔

آپؑ نے بڑی وضاحت وصراحت کے ساتھ اپنی تحریرات میں لکھا کہ چالیس سال کی عمر میں مجھے مبعوث کیاگیا اور اپنے دعویٰ الہام وکلام کے بعد ایک لمبی عمرمجھے دی گئی جوکہ آپ کی وفات تک کم وبیش ۳۵؍برس تک بنتی ہے۔ البتہ سنہ۱۹۰۰ء میں آپؑ نے یہ اعلان کیا کہ خداکی طرف سے ملہم ہونے، اس کی طرف سے الہام وکلام کادعویٰ کرتے ہوئے مجھے تئیس برس سے بھی زیادہ عرصہ ہوگیا۔اورخداکامجھے میرے اس دعویٰ کے بعد اتنی لمبی مہلت دینا بتاتاہے کہ میں اپنے دعویٰ میں سچاہوں۔ وگرنہ قرآنی وعیدمیری شہ رگ کاٹ کررکھ دیتی۔ چنانچہ آپؑ نے اس کواپنی صداقت کی ایک دلیل کے طورپربیان فرمایا کہ ایسامامورمن اللہ جووحی والہام کاجھوٹا دعویٰ کرے وہ اپنے دعوئ الہام سے ۲۳؍سال تک کی مدت نہیں پاسکتا۔ اوراپنی متعددتصانیف میں اس دلیل کاذکرکرتے ہوئے آپؑ نے اپنے ان الہامات کوپیش فرمایاہے کہ جن پر۲۳؍سال کاعرصہ بیت چکاتھا۔ چنانچہ اپنی ایک تصنیف جوکہ ۱۹۰۰ء کی ہے اس میں فرماتے ہیں: ’’إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ۔ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ۔ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ۔ تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ۔ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ۔ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ۔ فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ۔ دیکھو سورۃ الحاقہ الجزو نمبر ۲۹ اور ترجمہ اس کا یہ ہے کہ یہ قرآن کلام رسول کا ہے یعنی وحی کے ذریعہ سے اُس کو پہنچا ہے۔ اور یہ شاعر کا کلام نہیں مگر چونکہ تمہیں ایمانی فراست سے کم حصہ ہے اس لئے تم اس کو پہچانتے نہیں اور یہ کاہن کا کلام نہیں یعنی اس کا کلام نہیں جو جنّات سے کچھ تعلق رکھتا ہو۔ مگر تمہیں تدبر اور تذکر کا بہت کم حصہ دیا گیا ہے اس لئے ایسا خیال کرتے ہو۔ تم نہیں سوچتے کہ کاہن کس پست اور ذلیل حالت میں ہوتے ہیں بلکہ یہ ربّ العالمین کا کلام ہے۔ جو عالم اجسام اور عالم ارواح دونوں کا ربّ ہے یعنی جیسا کہ وہ تمہارے اجسام کی تربیت کرتا ہے ایسا ہی وہ تمہاری رُوحوں کی تربیت کرنا چاہتا ہے اور اِسی ربوبیت کے تقاضا کی وجہ سے اُس نے اس رسول کو بھیجا ہے۔ اور اگر یہ رسول کچھ اپنی طرف سے بنا لیتا اور کہتا کہ فلاں بات خدانے میرے پروحی کی ہے حالانکہ وہ کلام اس کا ہوتا نہ خدا کا تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور پھر اُس کی رگِ جان کاٹ دیتے اور کوئی تم میں سے اس کو بچانہ سکتا۔ یعنی اگر وہ ہم پر افتراء کرتا تو اس کی سزا موت تھی کیونکہ وہ اس صورت میں اپنے جھوٹے دعوے سے افترا اور کفر کی طرف بلا کر ضلالت کی موت سے ہلاک کرنا چاہتا تو اس کامرنا اس حادثہ سے بہتر ہے کہ تمام دنیا اس کی مفتریانہ تعلیم سے ہلاک ہواس لئے قدیم سے ہماری یہی سنت ہے کہ ہم اُسی کو ہلاک کر دیتے ہیں جو دنیا کے لئے ہلاکت کی راہیں پیش کرتا ہے اور جھوٹی تعلیم اور جھوٹے عقائد پیش کرکے مخلوق خدا کی روحانی موت چاہتا ہے اور خدا پر افتراکرکے گستاخی کرتا ہے۔

اب ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرتﷺ کی سچائی پر یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ اگر وہ ہماری طرف سے نہ ہوتا تو ہم اس کو ہلاک کردیتے اور وہ ہرگز زندہ نہ رہ سکتا گو تم لوگ اس کے بچانے کے لئے کوشش بھی کرتے لیکن حافظ صاحب اِس دلیل کو نہیں مانتے اور فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺکی وحی کی تمام و کمال مدّت تیئیس برس کی تھی اور میں اس سے زیادہ مدت تک کے لوگ دکھا سکتا ہوں جنہوں نے جھوٹے دعوے نبوت اور رسالت کے کئے تھے اور باوجود جھوٹ بولنے اور خدا پر افترا کرنے کے وہ تیئیس برس سے زیادہ مدت تک زندہ رہے۔ لہٰذا حافظ صاحب کے نزدیک قرآن شریف کی یہ دلیل باطل اور ہیچ ہے اور اس سے آنحضرتﷺ کی نبوت ثابت نہیں ہو سکتی۔ مگر تعجب کہ جبکہ مولوی رحمت اللہ صاحب مرحوم اور مولوی سید آل حسن صاحب مرحوم نے اپنی کتاب ازالہ اوہام اور استفسار میں پادری فنڈل کے سامنے یہی دلیل پیش کی تھی تو پادری فنڈل صاحب کو اس کا جواب نہیں آیا تھا اور باوجود یکہ تواریخ کی ورق گردانی میں یہ لوگ بہت کچھ مہارت رکھتے ہیں مگر وہ اس دلیل کے توڑنے کے لئے کوئی نظیر پیش نہ کر سکااور لاجواب رہ گیا۔ اور آج حافظ محمد یوسف صاحب مسلمانوں کے فرزند کہلا کر اس قرآنی دلیل سے انکار کرتے ہیں۔ اور یہ معاملہ صرف زبانی ہی نہیں رہا بلکہ ایک ایسی تحریر اس بارے میں ہمارے پاس موجود ہے جس پر حافظ صاحب کے دستخط ہیں جو انہوں نے محبی اخویم مفتی محمد صادق صاحب کو اس عہد اقرار کے ساتھ دی ہے کہ ہم ایسے مفتریوں کا ثبوت دیں گے جنہوں نے خدا کے مامور یا نبی یا رسول ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر وہ اس دعویٰ کے بعد تیئیس برس سے زیادہ جیتے رہے۔ یادرہے کہ یہ صاحب مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کے گروہ میں سے ہیں اور بڑے موَحد مشہور ہیں اور ان لوگوں کے عقائد کا بطور نمونہ یہ حال ہے جو ہم نے لکھا اور یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ قرآن کے دلائل پیش کردہ کی تکذیب قرآن کی تکذیب ہے۔ اور اگر قرآن شریف کی ایک دلیل کو ردّ کیا جائے تو امان اٹھ جائے گا اور اس سے لازم آئے گا کہ قرآن کے تمام دلائل جو توحید اور رسالت کے اثبات میں ہیں سب کے سب باطل اور ہیچ ہوں اور آج تو حافظ صاحب نے اس ردّ کے لئے یہ بیڑہ اٹھایا کہ میں ثابت کرتا ہوں کہ لوگوں نے تیئیس برس تک یا اس سے زیادہ نبوت یا رسالت کے جھوٹے دعوے کئے اور پھر زندہ رہے اور کل شاید حافظ صاحب یہ بھی کہہ دیں کہ قرآن کی یہ دلیل بھی کہ لَوْ كَانَ فِيهِمَا اٰلِهَةٌ إِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا باطل ہے اور دعویٰ کریں کہ میں دکھلا سکتا ہوں کہ خدا کے سوا اور بھی چند خدا ہیں جو سچے ہیں مگر زمین و آسمان پھر بھی اب تک موجود ہیں۔ پس ایسے بہادر حافظ صاحب سے سب کچھ اُمید ہے لیکن ایک ایماندار کے بدن پر لرزہ شروع ہو جاتا ہے جب کوئی یہ بات زبان پر لاوے کہ فلاں بات جو قرآن میں ہے وہ خلاف واقعہ ہے یا فلاں دلیل قرآن کی باطل ہے بلکہ جس امر میں قرآن اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم پر زدّ پڑتی ہو ایمان دار کا کام نہیں کہ اس پلید پہلو کو اختیار کرے اور حافظ صاحب کی نوبت اس درجہ تک محض اس لئے پہنچ گئی کہ انہوں نے اپنے چند قدیم رفیقوں کی رفاقت کی وجہ سے میرے منجانب اللہ ہونے کے دعویٰ کا انکار مناسب سمجھا اور چونکہ دروغ گوکو خدا تعالیٰ اِسی جہان میں ملزم اور شرمسار کر دیتا ہے اس لئے حافظ صاحب بھی اور منکروں کی طرح خدا کے الزام کے نیچے آگئے اور ایسا اتفاق ہوا کہ ایک مجلس میں جس کا ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں میری جماعت کے بعض لوگوں نے حافظ صاحب کے سامنے یہ دلیل پیش کی کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں ایک شمشیر برہنہ کی طرح یہ حکم فرماتا ہے کہ یہ نبی اگر میرے پر جھوٹ بولتا اور کسی بات میں افترا کرتا تو میں اس کی رگِ جان کاٹ دیتا اور اس مدت دراز تک وہ زندہ نہ رہ سکتا۔تو اب جب ہم اپنے اس مسیح موعود کو اس پیمانہ سے ناپتے ہیں تو براہین احمدیہ کے دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دعویٰ منجانب اللہ ہونے اور مکالماتِ الٰہیہ کا قریبًاتیس برس سے ہے اور اکیس برس سے براہین احمدیہ شائع ہے۔ پھر اگر اس مدت تک اس مسیح کا ہلاکت سے امن میں رہنا اس کے صادق ہونے پر دلیل نہیں ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کا تیئس برس تک موت سے بچنا آپ کے سچا ہونے پر بھی دلیل نہیں ہے کیونکہ جبکہ خداتعالیٰ نے اس جگہ ایک جھوٹے مدعی رسالت کو تیس برس تک مہلت دی اور وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا کے وعدہ کا کچھ خیال نہ کیا تو اسی طرح نعوذ باللہ یہ بھی قریب قیاس ہے کہ آنحضرتﷺ کو بھی باوجود کاذب ہونے کے مہلت دے دی ہومگر آنحضرتﷺکا کاذب ہونا محال ہے۔ پس جو مستلزم محال ہو وہ بھی محال۔ اور ظاہر ہے کہ یہ قرآنی استدلال بدیہی الظہور جبھی ٹھہر سکتا ہے جبکہ یہ قاعدہ کُلّی مانا جائے کہ خدا اس مفتری کو جو خلقت کے گمراہ کرنے کے لئے مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہو کبھی مہلت نہیں دیتا کیونکہ اس طرح پر اُس کی بادشاہت میں گڑبڑ پڑ جاتا ہے اور صادق اور کاذب میں تمیز اُٹھ جاتی ہے۔ غرض جب میرے دعویٰ کی تائید میں یہ دلیل پیش کی گئی تو حافظ صاحب نے اِس دلیل سے سخت انکار کرکے اِس بات پر زور دیا کہ کاذب کا تیئیس برس تک یا اس سے زیادہ زندہ رہنا جائز ہے اور کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایسے کاذبوں کی میں نظیر پیش کروں گا جو رسالت کا جھوٹا دعویٰ کرکے تیئیس برس تک یا اس سے زیادہ رہے ہوں مگر اب تک کوئی نظیر پیش نہیں کی اور جن لوگوں کو اسلام کی کتابوں پر نظر ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ آج تک علماء امت میں سے کسی نے یہ اعتقاد ظاہر نہیں کیا کہ کوئی مفتری علی اللہ آنحضرت ﷺ کی طرح تئیس۲۳برس تک زندہ رہ سکتا ہے بلکہ یہ تو صریح آنحضرت ﷺ کی عزت پر حملہ اور کمال بے ادبی ہے اور خدا تعالیٰ کی پیش کردہ دلیل سے استخفاف ہے۔ ہاں اُن کا یہ حق تھا کہ مجھ سے اس کا ثبوت مانگتے کہ میرے دعویٰ مامورمن اللہ ہونے کی مدت تیئیس برس یا اس سے زیادہ اب تک ہو چکی ہے یا نہیں۔ مگرحافظ صاحب نے مجھ سے یہ ثبوت نہیں مانگا کیونکہ حافظ صاحب بلکہ تمام علماء اسلام اور ہندو اور عیسائی اس بات کو جانتے ہیں کہ براہین احمدیہ جس میں یہ دعویٰ ہے اور جس میں بہت سے مکالمات الٰہیہ درج ہیں اس کے شائع ہونے پر اکیس برس گذر چکے ہیں اور اسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ قریباً تیس برس سے یہ دعویٰ مکالماتِ الٰہیہ شائع کیا گیا ہے اور نیز الہام اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ جو میرے والد صاحب کی وفات پر ایک انگشتری پر کھودا گیا تھا اور امرتسر میں ایک مہرکن سے کھدوایا گیا تھا وہ انگشتری اب تک موجود ہے اور وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے طیار کروائی اور براہین احمدیہ موجود ہے جس میں یہ الہام اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ لکھا گیا ہے اور جیسا کہ انگشتری سے ثابت ہوتا ہے یہ بھی چھبیس برس کا زمانہ ہے۔ غرض چونکہ یہ تیس سال تک کی مدت براہین احمدیہ سے ثابت ہوتی ہے اور کسی طرح مجال انکار نہیں۔‘‘ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۲-۵، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۳۹-۴۳)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق عظیم۔ عجز وانکسار

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button