دادا جان چودھری مہر الدین صاحب اور والد محترم چودھری محمدالدین مجاہد صاحب کا ذکر خیر
(شہزادہ قمر الدین مبشر۔ سکاٹ لینڈ)
خاکسار کے دادا جان چودھری مہرالدین صاحب مرحوم (سابق امیر جماعت احمدیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ) کا تعلق ہندوستان کے قصبہ کلانور ضلع گورداسپور(پنجاب)سے تھا جو قادیان سے تیس کلومیٹر دُور تھا۔ دادا جان کے والد صاحب کا نام چودھری نتھو خاں صاحب تھا۔ آپ تقسیم ملک کے بعد جھنگ آکر آباد ہوگئے جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آپ کے علاقے سے ایک نوجوان شیخ سراج الدین صاحب جھنگ کے ڈپٹی کمشنر تعینات ہوئے جن کے ساتھ آپ کی دوستی تھی۔ جھنگ آنے کے بعد جب آپ کو محکمہ مال کی ملازمت ملی تو جھنگ کے قریب قصبہ نواں لاہور میں تعیناتی کی وجہ سے نواں لاہور آگئے۔ جھنگ (پاکستان) میں آپ کا قیام ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے والد محترم کے گھر کے قریب تھا جس وجہ سے اکثر ان کے گھر آنا جانا رہتا تھا اور جماعت احمدیہ کے بارے میں تبادلہ خیال ہوتا رہتا تھا۔
جھنگ شفٹ ہوتے ہی آپ نے ہماری دادی جان کو بھی اپنے پاس بلالیا۔ پھر نواں لاہور شفٹ ہونے کے چند سال بعد دادا جان کے پہلے بچے یعنی میرے والد محترم چودھری محمدالدین مجاہد صاحب کی پیدائش یکم جنوری ۱۹۱۸ء کو ہوئی۔ پھر آپ چند سال ملازمت کے بعد ریٹائرڈ ہوتے ہی ٹوبہ ٹیک سنگھ شفٹ ہوگئے۔ جہاںآپ نے عرائض نویسی کا امتحان پاس کرکے تحصیل دفترکے باہر ایک دفتر میں بیٹھ کر عرائض نویسی کا کام شروع کردیا۔ آپ کی قابلیت، اندازِگفتگو، وجاہت اورشخصیت کی وجہ سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے گردونواح کے دیہات سے لوگ بڑی کثرت سے آپ کے پاس آتے اور آپ کے گرد جمع رہتے۔ آپ کی خوش اسلوبی، خوش اخلاقی اور قابلیت کا چرچا دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ آپ نے اپنے دفتر میںاخبار الفضل اور بدر جاری کروا رکھا تھا۔ بہت سی جماعتی کتب اور لٹریچر آپ کی لائبریری میں موجود رہتاتھا۔ آپ کے گرد جمع ہونے والے لوگ فارغ وقت میں بدر اور الفضل کا مطالعہ کرتے، کتابیں پڑھتے اورجماعت احمدیہ کے بارے میں معلومات حاصل کرتے تھے۔ آپ لوگوں کے سوالات کے جواب بڑے مدلّل انداز میں حکمت کے ساتھ دیتے تھے۔ تحصیل میں چھٹی کے روز آپ تبلیغ کے لیے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے آس پاس تشریف لے جاتے۔ زیادہ تر شیعہ فرقہ کے افراد آپ کے زیرِتبلیغ ہوتے تھے۔ بڑے بڑے گدی نشینوں کو بھی آپ تبلیغ کرکے احمدیت کی آغوش میں لائے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواحی علاقے میں ایک معروف گدی نشین سید طفیل محمد شاہ صاحب کو آپ نے مسلسل تبلیغ کرکے احمدی بنایا توان کےزیراثر کئی مریدوں نے بھی احمدیت قبول کرلی۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواحی علاقے بیریاں والاکا آدھے سے زیادہ گاؤں پہلے ہی احمدیت قبول کرچکا تھا۔ لیکن ٹوبہ ٹیک سنگھ شہر میں جماعت احمدیہ کاپودا لگانے کا سہرا دادا جان کے سر جاتا ہے۔ آپ کے خاندان کے بہت سے افراد اورنواحی علاقوں سے بھی کچھ افراد ٹوبہ شفٹ ہوئے۔ کچھ نئے لوگوں نے بیعت کرکے احمدیت قبول کی اور ایک باقاعدہ جماعت کا قیام عمل میں آیا۔ ایک لمبا عرصہ آپ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے امیر جماعت رہے۔ آپ کے علاوہ آپ کے بڑے بھائی چودھری حسین بخش صاحب میرے نانا جان بھی ٹوبہ ٹیک سنگھ کے امیر جماعت کے عہدہ پرفائز رہے۔
دادا جان کو الفضل اور بدر اخبارات سے بےپناہ محبت تھی۔ گھر میں ہر سال الفضل اور بدر کی جلدیں بناکر رکھتے تھے۔ گاہےبگاہے پرانے پرچے بھی پڑھتے رہتے۔ آپ کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ جماعت کی کتب پڑھنے اور خریدنے میں بھی بہت دلچسپی لیتے تھے۔ کبھی کبھی آپ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے سرکاری کاموں کے لیے یا اپنے عزیزوں سے ملنے کے لیے گوجرہ یا لائلپور (فیصل آباد) بذریعہ ٹرین جاتے تو سفر کے دوران مسافروں سے تبلیغی گفتگو میں مصروف رہتے۔ بہت پُرجوش داعی الی اللہ تھے۔ سرکاری کاموں سے فارغ ہونے کے بعد گوجرہ اپنے بیٹے چودھری احمدالدین اور لائلپور میں اپنے بیٹے عزیزاحمد کے گھر ضرور جاتے۔ کبھی کبھی ربوہ مرکز میں جاکر جمعہ مسجد مبارک میں ادا کرتےلیکن رمضان المبارک میں خصوصاً جانے کی کوشش کرتے۔اپنی وفات کے سال ۱۹۶۳ءمیں بھی رمضان المبارک کا ہر جمعہ مسجد مبارک میں ادا کرتے رہے کہ آخری جمعہ ادا کرنے گئے تو مسجد مبارک میںہی وفات پاگئے۔جب دادا جان کی وفات کا اعلان ہوا تو مسجد مبارک میں محترم سید محمداحمد گردیزی صاحب کے والد سید محمد محسن شاہ گردیزی صاحب نے یہ اعلان سن کر ہمارے گھر اطلاع بھجوائی تو بھائی ناصر احمد صاحب نے تمام خاندان کو فون کرکے اس صدمے کی اطلاع دی تاکہ وہ ربوہ پہنچ سکیں۔
اپنے خاندان میں سب سے زیادہ مجھے دادا جان اور دادی جان کے پاس رہنے اور ان کی خدمت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ گھر پر میں رات کو پہلے دادا جان کی ٹانگیں دباتا اور بعد میں اپنے ابا جان کی ٹانگیں دباتا۔ اس دوران دادا جان ایک نظم مجھ سے ترنم کے ساتھ سنا کرتے تھے۔
خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے
جب آتی ہے تو پھر عالَم کو اِک عالَم دکھاتی ہے
دادا جان مجھ سے نماز کے بارے میں تقریر بھی سنا کرتے۔ کچھ دینی معلوماتی باتیں بھی بتایا کرتے تھے۔ جب میں دوسری کلاس میں تھا تو ابا جان کا تبادلہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے پیرمحل میں ہوگیا۔ پیر محل سےایک دو سال کے بعد پھر ہم گوجرہ شفٹ ہوگئے۔ گوجرہ میں چچا احمدالدین صاحب کے چوبارے میں ہماری رہائش تھی جب میں آٹھویں کلاس میں تھا تو دادا جان کی وفات ہوگئی۔ اب ٹوبہ ٹیک سنگھ میں دادی جان اکیلی ہوگئیںتو چچا جان اور ابا جان نے باہم مشورہ کرکے مجھے ٹوبہ ٹیک سنگھ دادی جان کے پاس بھیج دیا تاکہ میں دادی جان کا خیال رکھ سکوں۔
ابا جان کی پیر محل ٹرانسفر سے قبل جب میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں رہتا تھا تو دوپہر کو دادا جان کے لیے کھانا پیک کرواکر تحصیل میں دینے جایا کرتا تھا۔ دادا جان جب گوجرہ آتے تو میں ہمیشہ اصرار کرتا تھا کہ میں نے آپ کے ساتھ ہی ٹوبہ ٹیک سنگھ جانا ہے۔ دادا جان جب کبھی ٹوبہ ٹیک سنگھ جانے کے لیے تانگے پر بیٹھ کر ریلوے اسٹیشن جانے لگتے تو میں روتا ہوا تانگہ کے پیچھے بھاگتا۔ دادا جان تانگہ رکواکرمجھے اپنے ساتھ بٹھا لیتے اور میں ریلوے اسٹیشن گوجرہ تک انہیں الوداع کرکے بہت مشکل سے افسردہ حالت میں واپس گھر آ جاتا۔ اپنے بزرگوں نانا جان اور دادا جان کی بے پناہ شفقت، محبت کا ایک ایک لمحہ مجھےآج تک یاد ہے اور دل کی گہرائیوں سے ان کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے دعائیں نکلتی ہیں۔
مسجد احمدیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ بنانے کے لیے محترم دادا جان کی خدمات: خاکسار کے والد محترم چودھری محمدالدین صاحب مجاہد اپنی کتاب ’’ہم اور احمدیت اور ہمارا خاندان‘‘ میں لکھتے ہیں کہ مسجد احمدیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے لیے جگہ لینی تھی اتفاقاً میں گوجرہ ریلوے اسٹیشن پر کھڑاہوا تھا۔ والد صاحب نے کہا میں ربوہ جارہا ہوںکیاآپ کے پاس کچھ پیسےہیں کہ مسجد کے لیے جگہ لے لی جائے۔ میں نے فوراً خزانہ صدر انجمن احمدیہ ربوہ جہاں میری کچھ رقم امانتاً جمع تھی، کا ایک رقعہ لکھ کر انہیں دے دیا اس طرح مسجد کے لیے ۱۰؍مرلہ زمین خرید لی گئی۔ اورسید محمد اقبال شاہ صاحب ہیڈ ماسٹر (گورنمنٹ ہائی اسکول ٹوبہ ٹیک سنگھ) کے نام لگوادی۔ پھرسید محمد اقبا ل شاہ صاحب سے مختار نامہ لے کر میں نے وہ رقبہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے نام کردیا۔ اس رقبہ پربعد میں مسجد احمدیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور مربی ہاؤس کی تعمیر مکمل ہوئی۔
میرے دادا جان انتہائی متقی، پرہیزگار، صوم و صلوٰۃ کے پابند غریب پرور، منکسرالمزاج اور خلافت احمدیت کے فدائی تھے۔ آپ کا ایک اعلیٰ خلق مہما ن نوازی بھی تھا۔ مربیان اور مرکز کے نمائندوں کا بہت احترام کرتے تھے ایک پُرجوش داعی الی اللہ تھے۔ آپ کی شخصیت انتہائی اعلیٰ درجہ کی تھی لوگوں میں آپ کا بہت احترام تھا۔
اس وقت ہمارا یہ کنبہ کم و بیش دو صد سے زائدافراد پر مشتمل ہے جن کا شجرہ نسب چک نمبر ۴۳۰ج۔ب اور چک نمبر ۴۳۲ ج۔ب تحصیل گوجرہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے محکمہ مال کے کاغذات میں محفوظ ہے۔ ہمیں ہمارے پیارے خدا نے محض احمدیت کے نور کی وجہ سےبہت ترقی اور عزت عطا کی۔ خداتعالیٰ ہماری آئندہ نسلوں کو بھی تا قیامت خلافت احمدیہ سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ہمارے دادا جان ۱۸۹۱ء میں کلانور میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۱۸ء میں حضرت مصلح موعود ؓکے ہاتھ پر بیعت کرکے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔ ۲۲ فروری ۱۹۶۳ء کو ۷۲؍سال کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی۔ بوجہ موصی ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ میںمدفون ہیں۔
والد محترم:خاکسار کے والد چودھری محمدالدین مجاہد صاحب یکم جنوری ۱۹۱۸ء کونواں لاہور ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے تھے۔ تقسیمِ ہند سے قبل ہی میرے نانا اور دادا نے اپنے کنبہ کے ساتھ جھنگ میں رہائش اختیار کرلی تھی۔ نانا جان چودھری حسین بخش صاحب محلہ اسلام پورہ میں اور دادا جان چودھری مہرالدین صاحب محلہ عیدگاہ میں اپنے اپنے اہل و عیال کے ساتھ شفٹ ہوگئے تھے۔ میرے نانا اور دادا دونوں آپس میں سگے بھائی تھے۔ میرے نانا چودھری حسین بخش صاحب میرے دادا چودھری مہر الدین صاحب کے بڑے بھائی تھے۔ ان کے ایک عزیز دوست شیخ سراج الدین صاحب کا تقرر بطور ڈپٹی کمشنر جھنگ ہوا تو ان کی وساطت سے میرے دادا اور نانا کو محکمہ مالیات جھنگ میں ملازمت مل گئی۔
جھنگ اور نواں لاہور سےٹوبہ ٹیک سنگھ نقل مکانی: نانا جان اور دادا جان دونوں نے جھنگ کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد ٹوبہ ٹیک سنگھ آکر تحصیل کچہری میں بطور پٹیشن رائٹر کام شروع کردیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دونوں بھائیوں کے کام میں اس قدر برکت ڈالی کہ اس کام سے اپنے بچوں کی پرورش کی اور شادیاں بھی کیں۔ دونوں بھائی ساری زندگی ایک دوسرے سے بےحد پیار سے رہے۔ انہوں نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کو اپنا مستقل مسکن بنایا، آخری عمر تک وہیں مقیم رہے۔ میرے والدصاحب نے بہت سارے فلاحی، رفاہی، دینی کام بغیر کسی سیاسی مقصد کے کیے۔ ان کی طبیعت ہی کچھ ایسی تھی کہ وہ لوگوں کے کام آنا پسند کیا کرتے تھے۔
والد صاحب کےمتعلق ایک تفصیلی کتاب موجود ہے۔ خاکسار اپنی یادداشت کے حوالے سے کچھ چیزیں یہاںدرج کرنا چاہتا ہے جو والد صاحب نے اپنے علاقے میں خدمات سر انجام دیں۔ جیسے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں خود مسجد کے لیے جگہ خرید کر دی، پیر محل میں بھی مسجد کے لیے جگہ خریدنے میں مدد کی۔ چک نمبر ۴۳۰ ج۔ ب، چک نمبر ۴۲۶ ج۔ ب، چک نمبر ۴۳۳ ج۔ب چک نمبر ۴۳۲ ج۔ب، تحصیل گوجرہ میں بھی مساجد کے لیے جگہ خریدنے میں تعاون کیا۔ چک نمبر ۴۳۲ ج۔ ب میں زنانہ و مردانہ پرائمری اسکول حکومت سے منظور کروائے۔ ابتدا میں خود خرچ برداشت کیا۔
چک نمبر ۳۶۰ج۔ب میں دو ایکڑ زمین حکومت سے قبرستان کے لیے منظور کروائی۔
چک نمبر ۴۲۹ ج۔ ب میںبچوں کے لیے باقاعدہ طور پر تختیاں اور قاعدے اپنی جیب سے خرید کر دیے۔
اسی طرح چک نمبر ۴۲۷ ج۔ ب میں بھی اسکول بنوایا۔ چک نمبر ۴۳۰ ج۔ب میںگرلز پرائمری اسکول کی کچی عمارت خود بنوا کر دی۔ اسی چک کےبس اڈے پر ایک مسجد کا افتتاح کیا اور زنانہ مسافر خانہ بھی بنوایا۔ چک نمبر ۴۳۳ ج۔ ب اور چک نمبر ۴۳۱ ج۔ ب میں گرلز پرائمری اسکول کے لیے خود رقم خرچ کر کے تعمیر شروع کروائی۔
چک نمبر ۴۳۲ ج۔ ب میں میاں اللہ بخش صاحب بھٹی کو میرے چچا چودھری احمدالدین صاحب نے کہا ہوا تھا کہ آپ ہمارے بڑے بھائی ہیں اور بڑا بھائی ہمارے لیے باپ کا درجہ رکھتا ہے خدا کرے ہمارا تمام خاندان نسل در نسل ان الفاظ کو ہر رنگ میں پورا کرتا رہے۔
والد صاحب نےچک نمبر ۷۶۹ گ۔ ب اور ۷۷۰ گ۔ ب میں حکومت سے پرائمری اسکول منظور کرائے، چک نمبر ۴۳۰ ج۔ ب میں ایک نیک دل اور مذہبی تعصب سے پاک وجود خدمتِ خلق کرنے والے چودھری ہدایت علی گورایہ صاحب کے مربع میں مسجد اور کھال پر کنواں بنوایا۔ اڈا دلم پر وڑائچ خاندان کے مربع پر برلب سڑک مسجد تھی۔ اس میں اذان دے کر نماز پڑھی شہر گوجرہ سے مسجد کے لیے صفیں اور لوٹے منگوائے اور مسجد کا نشان لگا کر اس جگہ پر بھی ایک مسجد کا افتتاح کیا۔
حاجی شیر محمد لیل چک ۴۳۲ ج۔ب ملتانیاں چک والےجو بپی خاندان( ملتان کا ایک مشہور رئیس خاندان ہے۔) ملتانیاں چک میں ہمارے خاندان نے چند مربے زمین خریدی تھی جس وجہ سے بپی خاندان سےہمارے ذاتی تعلقات اچھے تھے۔ اس خاندان کا ایک فرد مرکزی وزیر بھی رہا ہے۔
چک نمبر ۴۳۲ج۔ب میں بپی خاندان سےبھی کچھ زمین لے کر دی تھی اور وہاں بھی تھوڑی جگہ پر صفیں ڈلوا کر جگہ اُونچی اور ہموار کرکے وہاں اذان دی اور یوں وہاں بھی ایک مسجد کی بنیاد رکھ دی اس جگہ پر اب ایک پختہ مسجد تعمیر ہو چکی ہے۔
خاکسار کے والد صاحب نے جن بزرگوں کے تحریک جدید کے کھاتے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی تحریک کے نتیجے میں از سر نو جاری کیے، والد صاحب کی وفات کے بعد ان تمام کھاتوں کو جاری رکھنے کا عزم اور ذمہ داری خاکسار (راقم)نےاپنے اوپر لی ہے۔ اللہ تعالیٰ احسن رنگ میں اس نیکی کے کام کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور یہ سلسلہ نسلاً بعد نسلٍ جاری رہے۔ والد صاحب کا انتقال ۲؍مئی ۲۰۱۱ء کو ۹۳؍برس کی عمر میں ربوہ میں ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دادا جان اور والد محترم کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے اور آنے والی نسلوں کو ان کے نقش ِ قدم پر چلتے ہوئے اسلام و احمدیت کا خادم اور پُرجوش داعی الی اللہ بنائے اور ان کی نیکی کے کاموں کو ہمیشہ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
مزید پڑھیں: بی بی جان …محترمہ امۃ القدوس بیگم صاحبہ کی پیاری یادیں




