ہمارا مقصدیہ ہے کہ دنیا میں حقیقی اسلام کا پیغام پہنچے
یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے فلاں مولوی یا فلاں عالِم سے تبلیغ کر کے اس کو قائل کرنا ہے یا فلاں بحث کرنے والے اور اعتراض کرنے والے کو تبلیغ کرنی ہے۔ ہمارا مقصدیہ ہے کہ دنیا میں حقیقی اسلام کا پیغام پہنچے اور دنیا کو اس بات کا قائل کرنا ہمارا مقصد ہے کہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے آنا تھا وہ آگئے ۔اس کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔ صرف بحثوں اور debates اور لمبے سوال و جواب میں پڑنے کی بجائے تبلیغ کے ذریعہ یہ دیکھیں کہ ہم کس طرح زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پیغام حق پہنچا سکتے ہیں اور ان کی اصلاح کر سکتے ہیں ۔
صحابہ کرامؓ نے بھی یہی کیا تھا۔ وہ تبلیغ کیا کرتے تھے لیکن آجکل چونکہ لوگ دنیاوی فکروں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ان کو سمجھانا مشکل ہے اس لیے بڑی حکمت سے انہیں سمجھانا پڑتا ہے۔ اگر ہمارے عملی نمونے میں وہی بات آ گئی ہوتو خود بخود لوگوں کی توجہ بھی ہماری طرف پیدا ہو گی۔
آپؑ نے اپنی ایک مثال دی کہ ایک تحصیلدار تھا۔ وہ میرے سے بحث کیا کرتا تھا۔ اس کو میں نصیحت کیا کرتا تھا تو وہ میرا مذاق اڑاتا تھا لیکن مَیں نے بھی اس کو نہیں چھوڑا۔ میں نے کہا تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔ بتاتا رہوں گا ،نصیحت کرتا رہوں گا۔ شاید آپ نے اس کی کوئی سعید فطرت دیکھ لی ہو گی۔ تو بہرحال کہتے ہیں مَیں اس کومستقل مزاجی سے نصیحت کرتا رہا اور آخر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ دھاڑیں مار مار کے رونے لگ گیا اور مجھ سے معافیاں مانگنے لگ گیا۔ کہاں مذاق اڑاتا تھا ،استہزا کرتا تھا ،کہاں رونے والی حالت ہو گئی اس کی بلکہ رونا شروع کر دیا۔ تو آپؑ فرماتے ہیں کہ بعض وقت سعید آدمی ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے شقی ہو اور بدبخت آدمی لگتا ہے لیکن ہوتا وہ سعید ہے۔ جب اس کے پیچھے پڑ کے اس کی سمجھ کے مطابق اور حکمت سے کام لے کر باتیں کرتے رہو تو وہ سمجھ جاتا ہے۔
فرمایا کہ یاد رکھو کہ ہر قفل کے لیے ایک کلید ہے۔ ہر تالے کی ایک چابی ہوتی ہے۔ بات کے لیے بھی ایک چابی ہے اوروہ مناسب طرز ہے۔ مناسب طرز سے بات کرنی چاہیے۔
آپؑ فرماتے ہیں جس طرح دواؤں میں کوئی دوا کسی کے لیے مفید ہوتی ہے اور کوئی کسی بیماری کے لیے۔ ایسے ہی ہر ایک بات ایک خاص پیرائے میں خاص شخص کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔ یہ نہیں کہ سب سے یکساں بات کی جائے۔ بیان کرنے والے کو چاہیے کہ کسی کے بُرا کہنے کابُرا نہ منائے بلکہ اپنا کام کیے جائے اور تھکے نہیں ۔ امراء کا مزاج بہت نازک ہوتا ہے اور وہ دنیا سے غافل ہوتے ہیں ۔ بہت باتیں سن بھی نہیں سکتے۔ انہیں کسی موقع پر کسی پیرائے میں نہایت نرمی سے نصیحت کرنی چاہیے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد ۱۰ صفحہ ۱۱۹-۱۲۰)
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۲؍دسمبر۲۰۲۵ء ، روزنامہ الفضل انٹرنیشنل ۲؍جنوری۲۰۲۶ء)
مزید پڑھیں: ہمارا کام یہ نہیں کہ غلط زبان استعمال کریں




