مالی قربانی کی اہمیت
(خطبہ جمعہ حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۷؍نومبر۲۰۲۵ء)
حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی ایک بات کی تشریح فرمائی ہے جس میں حضرت مسیح علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہاکہ ’’اپنے لیے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں… ‘‘یہ تو مسیح علیہ السلام کی تعلیم ہے ناں انجیل میں۔ ’’لیکن قرآن کریم کہتا ہےکہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے خزانہ میں اپنا مال جمع کرو گے تو یہی نہیں کہ اسے کوئی چرائے گا نہیں بلکہ تمہیں کم از کم ایک کے بدلے میں سات سو (700) انعام ملیں گے اور اس سے زیادہ کی کوئی حد بندی نہیں۔ پھر مسیحؑ کہتے ہیں کہ وہاں غلہ کو کوئی کیڑا نہیں کھا سکتا مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ صرف کیڑے سے ہی محفوظ نہیں رہتا بلکہ ایک سے سات سو گنا ہو کر واپس ملتا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ کسی انسان کی مدد کا محتاج نہیں مگر وہ اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے اگر کسی کام کے کرنے کا انہیں موقع دیتا ہے تو اس لئے کہ وہ ان کے مدارج کو بلند کرنا چاہتا ہے‘‘(تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ604-605،ایڈیشن2004ء)
اور اس دنیا میں بھی عملی طور پر اسے سات سو گنا بڑھا سکتا ہے لیکن ان نیکیوں کا اجر اگلے جہان میں کئی گنا بڑھا کر بھی دے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ وہ سات سو گنا بڑھاتا ہے، صرف اس دنیا کے لیے نہیں بلکہ اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی بڑھاتا چلا جاتا ہے۔
اس کی تشریح حضرت خلیفةالمسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ایک جگہ فرمائی ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ خوب یاد رکھو کہ انبیاء جو چندے مانگتے ہیں تو اپنے لیے نہیں بلکہ انہیں چندہ دینے والوں کو کچھ دلانے کے لیے۔
یعنی چندہ دینے والے جو قربانیاں کرنے والے ہیں ان کے فائدے کے لیے کہتے ہیں کہ چندے دو تا کہ اللہ تعالیٰ تم پر فضل کرے اور تمہارے مالوں کو بڑھائے۔
حضرت خلیفة المسیح الاولؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور دلانے کی بہت سی راہیں ہیں ان میں سے یہ بھی ایک راہ ہے جس کا ذکر شروع سورہ میں یعنی سورہ بقرہ میں مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْن کی آیت چار سے کیا ہے۔ پھر اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ۔ یہ بھی سورہ بقرہ کی آیت 178 ہے۔ پھر اسی پارے میں اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ۔ میں ذکر کیا ہے۔یہ بھی سورہ بقرہ کی آیت 255 ہے۔ پھر فرمایا اب کھول کر مسئلہ انفاق فی سبیل اللہ بیان کیا جاتا ہے کہ انجیل میں ایک فقرہ ہے کہ جو کوئی مانگے تُو اسے دے۔مگر دیکھو قرآن مجید نے اس مضمون کو پانچ رکوع میں ختم کیا ہے۔ بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ کسی کو کیوں دے؟تو اس کا بیان فرمایا ہے کہ اعلائے کلمة اللہ کے لیے دو۔ اس خرچ کرنے والے کی ایک مثال تو یہ ہے کہ جیسے کوئی بیج زمین میں ڈالتا ہے مثلاً باجرے کے، پھر اس میں کئی بالیاں نکلنے لگتی ہیں۔پھر آپؓ فرماتے ہیں وَاللّٰہُ یُضَاعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ۔ اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے اس سے بھی بڑھا بڑھا کردیتا ہے۔ یعنی بعض مقامات پر ایک کے بدلے میں دس اور بعض میں ایک کے بدلے میں سات سو کا ذکر ہے۔ یہ ضرورت، اندازہ ،وقت اور موقع کے لحاظ سے فرق ہے۔ مثلاً ایک شخص دریا کے کنارے پر ہے ،سردی کا موسم ہے،بارش ہو رہی ہے۔ایسی حالت میں کوئی اس سے پانی مانگتا ہے تو کسی کو گلاس بھر کر پانی دے دے۔پانی ہی پانی ہے ہر جگہ تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔لیکن اگر ایک شخص کسی کو پانی دے جبکہ وہ جنگل میں دوپہر کے وقت پیاس کی وجہ سے تڑپ رہا ہو۔ جاں بہ لب ہو۔ بخار میں، محرقہ میں گرفتار ہو پانی دے دے تو وہ عظیم الشان نیکی ہے۔ پس اس قسم کے فرق کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے اجروں میں فرق رکھا ہے۔ کہیں قربانی ضرور ت کے مطابق بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس کی ضرورت بھی زیادہ ہوتی ہے اس لیے اس کا اجر بھی اللہ تعالیٰ سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ بڑھا دیتا ہے جبکہ کہیں قربانی اتنی زیادہ نہیں ہوتی لیکن بہرحال قربانی کی ضرورت ہوتی ہے وہاں اللہ تعالیٰ یہ نہیں کہ اجر سے خالی رکھے بلکہ وہاں بھی دو گنا یا دس گنا اجر دیتا ہے۔
یہ مثالیں حضرت خلیفة المسیح الاولؓ نے مال خرچ کرنے کے بارے میں دی ہیں۔ اس ضمن میں بھی آپؓ نے ایک اَور مثال حضرت رابعہ بصری کا واقعہ بیان کیا ہے کہ وہ گھر بیٹھی ہوئی تھیں تو مہمان آ گئے اور گھر میں کھانے کے لیے صرف دو روٹیاں تھیں۔ انہوں نے ملازمہ سے کہا کہ یہ دو روٹیاں صدقہ میں دے آؤ۔ ملازمہ نے کہا یہ عجیب بات ہے کہ گھرمیں مہمان آئے ہوئے ہیں اور یہ جو تھوڑی بہت روٹی ہے آپ کہتی ہیں کہ یہ بھی غریبوں میں بانٹ آؤ۔ تھوڑی دیر کےبعد باہر سے آواز آئی اور ایک عورت نے کہا کہ کسی امیر عورت نے جو ہمسائے میں رہتی تھی اس نے کچھ کھانا بھیجا ہے۔ جب کھانا آیا تو حضرت رابعہ بصری نے گنا تو اس میں اٹھارہ روٹیاں تھیں۔ حضرت رابعہ بصری کا اللہ تعالیٰ سے بڑا تعلق اور اللہ تعالیٰ پہ مان تھا کہ وہ ان کی بات کو ضرور پورا کرے گا۔ انہوں نے دو دی ہیں تو اس سے زیادہ ہونی چاہئیں۔ اس کے مقابلے میں دو گنا تو ہوں یا دس گنا تو ہوں۔ انہوں نے کہا یہ اٹھارہ روٹیاں میرے لیے نہیں ہیں میرے بیس مہمان آئے ہیں اور میرے لیے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیس روٹیاں آنی چاہئیں تھیں۔ یہ میرے لیے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا یہ میں نے نہیں لینی۔ یہ واپس کر دو۔ آپ کی نوکر نے کہا کہ رکھ لیں اللہ تعالیٰ نے نعمت بھیجی ہے لیکن انہوں نے کہا نہیں! یہ میرے لیے نہیں بھیجی۔ اتنے میں ہمسائے کی وہی امیر عورت جو تھی اس کی اس عورت کو یا ملازمہ کو آواز آئی اس نے کہا تم کہاں چلی گئی ہو؟ میں نے تو رابعہ بصری کے لیے یہ دوسرا کھانے کا سامان تیار کیا ہوا تھا اورجب وہ آیا تو اس میں بیس روٹیاں تھیں۔ تو اس طرح یہ بزرگ لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان بھی رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ ان کا مان بھی پورا کرتا تھا۔
اس ضمن میں حضرت خلیفة المسیح الاولؓ نے یہ بات بیان فرمائی ہے کہ اللہ کی راہ میں کیوں دے؟ فرمایا کہ اوّل تو یہ کہ محض ابتغائے مرضات اللہ یعنی اللہ کی رضا کے لیے دو یعنی احسان نہ جتاؤ بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے دو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ خوش ہو۔ اس نے ہم پر بےشمار احسانات کیے ہیں، اس کےلیے دو اور پھر اس کے لیے اس لیے دو کہ اللہ کے دین کی خاطر دینا ضروری ہے۔ کس طرح دو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے دو جیساکہ ذکر ہوا نہ احسان جتانے کے لیے۔(ماخوذ ازحقائق الفرقان جلد1صفحہ420-421)
جماعت پر کسی کا جس نے قربانی کی ہے کوئی احسان نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ جب تم اس کی راہ میں نیک نیتی سے خرچ کرتے ہو تو وہ تمہیں بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ ’’خدا کی راہ میں جو لوگ مال خرچ کرتے ہیں ان کے مالوں میں خدا اس طرح برکت دیتا ہے کہ جیسے ایک دانہ جب بویا جاتا ہے تو گو وہ ایک ہی ہوتا ہے مگر خدا اس میں سے سات خوشے نکال سکتا ہے اور ہرایک خوشہ میں سو دانے پیدا کر سکتا ہے یعنی اصل چیز سے زیادہ کر دینا“ یہ اصولی بات ہے کہ اصل چیز سے زیادہ کردینا ”یہ خدا کی قدرت میں داخل ہے اور درحقیقت ہم تمام لوگ خدا کی اسی قدرت سے ہی زندہ ہیں اور اگر خدا اپنی طرف سے کسی چیز کو زیادہ کرنے پر قادر نہ ہوتا تو تمام دنیا ہلاک ہو جاتی اور ایک جاندار بھی روئے زمین پر باقی نہ رہتا۔‘‘(چشمہ معرفت،روحانی خزائن جلد23 صفحہ170-171)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ تعبیر الرؤیا میں مال کلیجہ ہوتا ہے۔ اور اگر خواب میں کوئی مال دیکھے۔ تو اس کا مطلب ہوتا ہے کلیجہ۔ یا دیکھے کلیجہ نکال دیا ہے تو اس کا مطلب ہے مال نکال دیا ہے۔ اس لیے خیرات کرنا جان دینا ہوتا ہے۔ یعنی مالی قربانی کی بہت اہمیت ہے۔ انسان خیرات کرتے وقت کس قدر صدق و ثبات دکھاتا ہے اور اصل بات تو یہ ہے کہ صرف قیل و قال سے کچھ نہیں بنتا ،باتیں کرنے سے کچھ نہیں بنتا جب تک عملی رنگ میں لا کر کسی بات کو نہ دکھایا جائے۔ صدقہ اس کو اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ صادقوں پر نشان کر دیتا ہے تا کہ اس کی سچائی ثابت ہو جائے کہ ایمان میں واقعی سچائی ہے۔(ماخوذازملفوظات جلد1صفحہ 238 ایڈیشن1984ء)
حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سخیوں سے بڑھ کر سخی کے بارے میں نہ بتاؤں؟ لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہؐ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمام سخاوت کرنے والوں سے بہت بڑھ کر سخاوت کرنے والا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بارے میں بتایا کہ مَیں تمام انسانوں میں سے سب سے زیادہ بڑا سخی ہوں۔(مجمع الزوائد جلد1 ص 224کتاب العلم باب فی من نشر علماً……حدیث نمبر760)
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز، روزہ اور مالی قربانی کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :نماز، روزہ اور ذکر کرنا اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیے گئے مال کو سات سو گنا بڑھا دیتا ہے۔(سنن ابی داود کتاب الجھاد باب فی تضعیف الذکر فی سبیل اللہ 2498)
پس یہ ہدایت ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے مالی قربانیاں دیں کہ وہ اپنی عبادتوں کے معیار کو بھی بڑھائیں اور اونچے کریں۔
صرف مالی قربانی کر کے یہ نہ سمجھ لیں کہ بہت ہو گیا۔ مالی قربانی کر کے یہ نہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہم عبادتوں سے فارغ ہو گئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز، روزہ بھی مالی قربانیوں کے ساتھ ضروری ہے جیسا کہ میں نے حدیث سے بتایا اور یہی چیزیں ہیں جو پھر تمہیں اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتی ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ تم پر مہربان ہو کر تمہارے مالوں کو بڑھاتا چلا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: تحریکِ جدید کا مختصر تعارف اور اہمیت



