خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۴؍مارچ ۲۰۲۵ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب:فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم رمضان کے دوسرے عشرے میں سے گزر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کا رمضان سے ایک خاص تعلق بیان فرمایا ہے۔ ایک خاص نسبت بیان فرمائی ہے اور فرمایا کہ شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡھُدٰی(البقرہ:۱۸۶)یہ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کےلیےایک عظیم ہدایت کے طور پر اتارا گیا اور ایسے کھلے نشان کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔ پس اسی لیے اس مہینے میں ہمیں خاص طور پر اس کے پڑھنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اس زمانے میں حضرت مسیح موعودؑ نے بھی توجہ دلائی جن کو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی غلامی میں امام بنا کے بھیجا۔ آنحضرت ﷺ نے تو اس پہ خاص طور پر بہت توجہ دلائی ہے کہ قرآن کریم کو خاص اہتمام سے پڑھو۔ حضرت جبرئیلؑ ہر سال جو بھی قرآن کریم نازل ہوا ہوتا تھا اس کا ایک دَور آنحضرت ﷺ سے مکمل کروایا کرتے تھے اور آپ کی زندگی کے آخری سال میں تو دو دفعہ یہ مکمل ہوا۔ قرآن کریم کی اہمیت اور نسبت رمضان کے ساتھ بہت زیادہ ہے۔ پس اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اور قرآن کریم کو پڑھنے، سننے اور درسوں میں شامل ہونے وغیرہ کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ ہمارے ہاں مساجد میں قرآن کریم کے درسوں کا اہتمام ہوتا ہے۔ تراویح کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ ایم ٹی اے پر روزانہ تلاوت آتی ہے اس کو بھی سننا چاہیے لیکن اس سے برکات تبھی مل سکتی ہیں، تب ہی اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جب یہ سن کر ہم اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے رمضان المبارک میں قرآن کریم پڑھنےاوراس سےفائدہ اٹھانےکی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے شروع میں ہی سورةالبقرة میں اس طرف توجہ دلائی۔ اس کی اہمیت بیان فرمائی۔ یہ تیسری آیت ہے۔ فرمایا کہ ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ ھُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ (البقرہ :۳) کہ یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں اور متقیوں کے لیے ہدایت دینے والی ہے۔ پس تقویٰ پر چلنے کےلیے، ایک حقیقی مومن بننے کےلیےاللہ تعالیٰ نے اس کتاب پر عمل ضروری قرار دیا ہے اور رمضان میں ہم اس بات کی ہی تلاش میں ہوتے ہیں کہ کس طرح تقویٰ پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ایک حقیقی مومن بننے کی مثال قائم کرنے کی کوشش کریں اور ہدایت پائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ اگر یہ مقصد ہے تو پھر یہ کتاب تمہیں دے دی ہے اس پر عمل کرو اور جب تم اس پر عمل کرو گے تو پھر بےشمار فوائد تم حاصل کرنے والے ہو گے۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ یہ ایک ایسا چشمہ ہے کہ جو پاک دل ہو کر اس سے فائدہ اٹھانا چاہے وہ اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ وہ تقویٰ میں بھی آگے بڑھے گا۔ وہ ہدایت پانے والوں میں بھی شمار ہو گا کیونکہ یہ کتاب وہ ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ متقیوں کےلیےہدایت ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ ’’اس کے فیوض و برکات کا در ہمیشہ جاری ہے اور وہ ہر زمانہ میں اسی طرح نمایاں اور درخشاں ہے جیسا آنحضرت ﷺ کے وقت تھا۔‘‘تو یہ اس کتاب کا دعویٰ ہے کہ اگر تم پاک دل ہو کر اس کی طرف آؤ گے تو ہر برائی سے بچو گے، ہدایت پانے والوں میں ہو گے، تقویٰ پر چلنے والے ہو گے اور جیسا کہ حضرت مسیحؑ نے فرمایا اس کے فیوض ہمیشہ جاری ہیں۔ ہمیشہ اس پر عمل کرنے والے ہر برائی سے بچتے رہیں گے۔ راستوں پر جو کانٹے دار جھاڑیاں ہیں، جو غلط قسم کی بعض باتیں ہیں جو انسان کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور اس کو دین سے دُور ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں۔ جو برائی کی طرف لے جانے والی ہوتی ہیں اگر قرآن کریم پر چلتے ہوئے اس پر عمل کرتے رہیں گے تو پھر ہم ان سے بھی بچتے رہیں گے۔ پس اس بات کو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ رمضان میں جب ہم اس طرف خاص توجہ دے رہے ہوتے ہیں کہ قرآن کریم پڑھیں اور سنیں۔ تراویح پر بھی آتے ہیں۔ درسوں پر بھی آتے ہیں۔ گھروں میں بھی پہلے سے زیادہ قرآن کریم پڑھا جاتا ہے۔ اگر کوئی دَور مکمل نہیں بھی کرتا تو کم از کم کچھ نہ کچھ وقت تلاوت ان دنوں میں ضرور کرتا ہے۔ اوّل تو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ رمضان میں ایک دور مکمل کیا جائے جیسا کہ میں نے کہا کہ آنحضرت ﷺ کی سنت تو یہی ہے کہ آپ رمضان میں خاص طور پر دور مکمل فرمایا کرتے تھے اور حضرت جبرائیلؑ آپ سے دہرائی کرواتے تھے۔ تو فائدہ اٹھانے کےلیے، اس سنت پر عمل کرنے کےلیے، اس سے فیض اٹھانے کےلیےہمیں ایک تو دَور بھی مکمل کرنا چاہیے دوسرے جو تفسیر اور ترجمہ ہے جن کو عربی نہیں آتی، عرب ممالک کے علاوہ بہت ساری دنیا میں ایسے ہیں جو عربی نہیں جانتے ان کو ساتھ ساتھ ترجمہ پڑھ کر اس کو دیکھنا چاہیے جیسا کہ پچھلے خطبہ میں بھی مَیں نے کہا تھا کہ اس پر عمل کرنے کےلیےنکات نکالنے چاہئیں تا کہ ہم ان پر عمل کرنے والے ہوں اور ہدایت پانے والے ہوں اور پھر اچھائی اور برائی کا ہمیں صحیح علم ہوگا۔ صحیح ہدایت کا ہمیں علم ہوگا۔ تقویٰ کے صحیح راستوں کا ہمیں علم ہو گا اور پھر ہم عمل کر کے اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے فیض پانے والے بھی ہوں گے۔

سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے قرآن کریم کےآسان کتاب ہونےکی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں، یہ خیال کرتے ہیں کہ قرآن کریم بہت مشکل کتاب ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَھَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ (القمر :۱۸) اور یقیناً ہم نے قرآن کو نصیحت کی خاطر آسان بنا دیا۔ پس کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا؟ پس یہ اللہ تعالیٰ کا دعویٰ ہے، یہ اس کا دعویٰ ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ وہ اس کی فطرت کو جانتا ہے، اس کے حالات کو جانتا ہے، اس کی استعدادوں کو جانتا ہے۔ فرماتا ہے کہ مَیں نے تو قرآن کریم میں آسان تعلیم دی ہے اس پر عمل کرنے کےلیےتمہیں کوشش تو بہر حال کرنی پڑے گی اور اگر کوشش کرو گے تو پھر تم کامیاب بھی ہو جاؤ گے اور اس پر عمل کرنے والے بھی ہو گے۔ پس تمہیں نصیحت یہی ہے کہ اس پر عمل کرنے کےلیےاپنی طرف سے پوری کوشش کرو۔ صرف نام کے مسلمان نہ بنو۔…اللہ تعالیٰ نےتو فرمادیا ہے کہ میں نے اس قرآن کو آسان کر دیا ہے اور انسانی فطرت کو مدّنظر رکھتے ہوئے بڑے آسان انداز میں نصیحت کی ہے جن پر ہر انسان بڑی آسانی سے عمل کر سکتا ہے۔ قواعد و ضوابط بیان کر دیے۔احکامات بیان کیے۔ عبادتوں کے طریقے بیان کیے۔ معاشی اور معاشرتی احکامات اور آپس کے تعلقات کس طرح ہونے چاہئیں یہ بیان کیے۔ اس لیےتا کہ ان پر عمل کرو تو تمہاری زندگی بھی سکون سے گزرے گی۔ تمہارا ماحول بھی پرامن رہے گا اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بھی بنتے چلے جاؤ گے۔ پس ہمیں ہر ایک کے لیے یہ بات سمجھنے والی ہے۔ اور اگر ہم اس کو سمجھ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے چلے جائیں گے۔ ہمارے گھریلو تعلقات بھی صحیح رہیں گے۔ ہمارے معاشرے میں تعلقات بھی صحیح رہیں گے۔ پھر ہماری جو دوسری ذہنی استعدادیں ہیں ان میں بھی بہت بہتری پیدا ہو گی، جِلا پیدا ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کرنے کی طرف ہماری توجہ پیدا ہو گی۔

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے قرآن کریم کی برکات سےفیضیاب ہونےاوراس کی تعلیمات پرعمل کرنےکی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا:حضرت مسیح موعودؑ نے ایک جگہ فرمایا کہ ’’یہ سچ ہے کہ اکثر مسلمانوں نے قرآن شریف کو چھوڑ دیا ہے لیکن پھر بھی قرآن شریف کے انوار و برکات اور اس کی تاثیرات ہمیشہ زندہ اور تازہ بتازہ ہیں۔ چنانچہ میں اس وقت اسی ثبوت کےلیےبھیجا گیا ہوں۔‘‘ آپؑ نے فرمایا کہ مَیں اس وقت ثبوت کےلیےبھیجا گیا ہوں ’’اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے اپنے وقت پر اپنے بندوں کو اس کی حمایت اور تائید کےلیےبھیجتا رہا ہے کیونکہ اس نے وعدہ فرمایا تھا اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ (الحجر:۱۰) یعنی بیشک ہم نے ہی اس ذکر (قرآن شریف) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔‘‘پس ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہمیں جو کچھ ملنا ہے قرآن کریم کی برکت سے ملنا ہے اور ہمیں اس طرف بہت زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں: ’’قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے اور ایسی کامیابی ایک خیالی امر ہے جس کی تلاش میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں۔صحابہ کے نمونوں کو اپنے سامنے رکھو۔ دیکھو انہوں نے جب پیغمبر خدا ﷺ کی پیروی کی اور دین کو دنیا پر مقدم کیا تو وہ سب وعدے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے کیے تھے پورے ہو گئے۔ ابتدا میں مخالف ہنسی کرتے تھے کہ باہر آزادی سے نکل نہیں سکتے اور بادشاہی کے دعوے کرتے ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں گم ہو کر وہ پایا جو صدیوں سے ان کے حصے میں نہ آیا۔‘‘پس اس بات کو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم ہی وہ تعلیم ہے جو ہمیں کامیابیوں سے سرفراز کرنے والی ہے اور کامیابیاں ہمیں اسی سے ملیں گی کہ اگر ہم اس کی تعلیم پر عمل کریں گے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کی کوشش کریں گے۔ ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو مومن قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال ایک ایسے پھل کی طرح ہے جس کا مزہ بھی اچھا اور خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے اور وہ مومن جو قرآن کریم نہیں پڑھتا مگر اس پر عمل کرتا ہے۔ اِدھراُدھر سے باتیں سن لیں ان پر عمل کر لیا۔ اس کی مثال اس کھجور کی طرح ہے کہ اس کا مزہ تو اچھا ہے مگر اس کی خوشبو کوئی نہیں۔ اور ایسے منافق کی مثال جو قرآن کریم پڑھتا ہے اس خوشبو دار پودے کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی ہے مگر مزہ کڑوا ہے۔ اور ایسے منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ایسے کڑوے پھل کی طرح ہے جس کا مزہ بھی کڑوا ہے اور جس کی خوشبو بھی کڑوی ہے۔ پس اس سے وضاحت ہو گئی کہ ہمیں تلاوت قرآن کریم کرنی چاہیے اور اس کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے اور جب ہم اس پر عمل کریں گے تو ایسے خوشبو دار پھل کی طرح ہو سکیں گے جس کا مزہ بھی اچھا ہو اور جس کی خوشبو بھی اچھی ہو۔ یہ بڑی خوبصورت مثال ہے۔ پس ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بھی انسان کی فطرت ہے کہ جو مزیدار چیز ہے اورجو خوشبو والی چیز ہوتی ہے، ذائقے والی چیز جو ہوتی ہے جس سے انسان کو لطف آتا ہے اس کو بار بار کھانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح قرآن کریم کو بھی ہمیں بار بار پڑھنے اور سمجھنے کی خواہش ہونی چاہیے اور پھر جب ہم یہ کریں گے تو نہ صرف اپنےلیےاس سے فائدہ پا رہے ہوں گے بلکہ اپنے بچوں کو اور اپنے ماحول کو بھی اس سے فائدہ پہنچا رہے ہوں گے۔ پس یہ لوگ ہوتے ہیں جو تقویٰ میں ترقی کرنے والے ہیں۔ جو اس پر عمل کرنے والے ہیں۔ ہدایت پانے والے ہیں اور پھر وہ دنیا کےلیےنافع الناس وجود بھی ہو جاتے ہیں۔ ان سے دنیا فیض پاتی ہے۔ وہ خود بھی پُرسکون زندگی گزار رہے ہوتے ہیں اور دنیا کو بھی سکون و امن دے رہے ہوتے ہیں۔ ایسے ماں باپ حقیقت میں اپنے بچوں کے حق ادا کرنے والے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ہمسایوں کے بھی حق ادا کرنے والے ہوتے ہیں وہ اپنے دنیاوی کاموں میں، اپنے ماحول میں بھی ایک دوسرے کے حق ادا کرنے والے ہوتے ہیں۔ اسی طرح وہ جماعتی نظام میں بھی جماعت کی خدمت کر کے اپنے حق ادا کرنے والے ہوتے ہیں کیونکہ وہ ان ہدایات کے مطابق عمل کر رہے ہوتے ہیں جو قرآن کریم نے ان کو دی ہیں۔ وہ عبادت کرنے کے بھی حق ادا کر رہے ہوتے ہیں اور پھر جیسا کہ میں نے کہا جب ایسے ماں باپ بچوں کے سامنے نمونہ بنتے ہیں تو بچے ان کو رول ماڈل سمجھتے ہیں اور بیویاں ان کو اپنےلیےایک نمونہ سمجھتی ہیں۔ پھر ایسا ماحول گھروں کا پیدا ہوتا ہے جو دیندار اور نیک ماحول ہوتا ہے اور جہاں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی ہمیشہ بارش برستی رہتی ہے۔ پس قرآن کریم کی تعلیم پر عمل ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دعویٰ فرمایا ہے کہ اس سے ہدایت ملے گی اور جب ہدایت ملے گی تو تم لوگ پھر ایک واضح اور ایسا فرق دیکھو گے کہ جس سے تمہاری زندگیوں میں ایک انقلاب پیدا ہو سکتا ہے یہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ پس اس کو پڑھنے کی طرف، اس کو سمجھنے کی طرف، اس پر عمل کرنے کی طرف ہمیں بہت توجہ کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 09؍اکتوبر 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button