یادِ رفتگاں

مکرم بشارت احمد صابر صاحب

(مبارک شاہ۔ ناروے)

جماعت احمدیہ ناروے کی ایک نہایت مخلص، فعال اور ہر دلعزیز شخصیت مکرم بشارت احمد صابر صاحب ۳؍مارچ ۲۰۲۶ء بروز منگل اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

خاکسار کا مرحوم سے تقریباً چالیس سال کا تعلق تھا۔ اس طویل عرصہ میں انہیں ہمیشہ ایک نہایت شریف النفس، خوش اخلاق اور محبت کرنے والے انسان کے طور پر پایا۔ وہ جماعت کے نہایت مخلص خادم تھے اور خلافت احمدیہ سے گہری محبت رکھتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے مرحوم کو جماعت کی متعدد اہم ذمہ داریوں میں خدمت کی توفیق عطا فرمائی۔ انہوں نے بطور سیکرٹری مال، ایڈیشنل سیکرٹری مال، سیکرٹری تربیت، صدر خدام الاحمدیہ ناروے، صدر انصاراللہ ناروے اور افسر جلسہ سالانہ ناروے کے طور پر نمایاں خدمات انجام دیں۔ وفات تک وہ سیکرٹری تعلیم القرآن اور وقف عارضی کے طور پر بھی خدمت بجا لا رہے تھے۔ اس کے علاوہ مقامی جماعت میں بھی مختلف ذمہ داریوں پر خدمت کی توفیق پاتے رہے۔

مرحوم کو قرآن کریم سے غیر معمولی محبت تھی۔ وہ باقاعدگی سے تلاوتِ قرآن کریم کرتے اور دوسروں کو بھی قرآن پڑھنے کی ترغیب دیتے تھے۔ اس جذبہ کے تحت انہوں نے ناروے میں متعدد افراد کو قرآن کریم پڑھانے کی سعادت حاصل کی اور نہایت اخلاص کے ساتھ یہ خدمت انجام دیتے رہے۔

جب ایم ٹی اے کی نشریات کا آغاز ہوا تو مرحوم نے اس خواہش کے تحت کہ ایم ٹی اے کی نشریات ہر احمدی گھر تک پہنچیں، ڈش اینٹینا لگانے کا کام سیکھا اوربڑی محنت اور اخلاص کے ساتھ احباب جماعت کے گھروں میں ڈش نصب کرنا شروع کیا۔ اگر کسی کو مالی مشکلات درپیش ہوتیں تو وہ اپنی جیب سے بھی مدد کر دیتے۔ اس طرح انہوں نے ایم ٹی اے کی نشریات کو گھروں تک پہنچانے میں قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔

بیت النصر ناروے کی تعمیر کے موقع پر جماعت کو مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ مرحوم کے دل میں مسجد کی تعمیر کے لیے غیرمعمولی جذبہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ایک عظیم قربانی پیش کرتے ہوئے اپنا گھر جماعت کے لیے پیش کر دیا تاکہ اسے فروخت کر کے اس کی رقم مسجد کی تعمیر میں شامل کی جا سکے۔ بعد ازاں وہ خود ایک چھوٹے سے فلیٹ میں منتقل ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی نیک اور وفادار اہلیہ عطا فرمائی تھی جنہوں نے اس عظیم قربانی میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ناروے تشریف لائے تو حضور انور ازراہ شفقت مرحوم کے اس نئے گھر میں بھی تشریف لے گئے۔ حضور انور کی اس بابرکت آمد نے اس گھر کو مزید بابرکت بنا دیا اور جماعت کے افراد اس سعادت پر مرحوم کو مبارکباد دیتے تھے۔

مرحوم جماعتی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ ۱۶؍فروری کو وہ مسجد کے احاطہ میں ٹریکٹر کے ذریعے برف صاف کر رہے تھے تاکہ رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر مسجد آنے والے نمازیوں کو سہولت ہو۔ اسی دوران انہیں اچانک برین ہیمرج ہوا اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ ۳؍مارچ کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد مرحوم نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں اپنی زندگی وقف کرنے کی درخواست پیش کی جسے حضور انور نے ازراہ شفقت قبول فرمایا۔ یوں انہوں نے اپنی زندگی جماعت کی خدمت کے لیے وقف کر دی اور خدمت دین کی حالت میں اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔

مرحوم مکرم بشارت احمد صابر صاحب کی نمازِ جنازہ ۶؍مارچ ۲۰۲۶ء بروز جمعہ بیت النصر، اوسلو میں ادا کی گئی۔ جس میں جماعت احمدیہ کے افراد کے علاوہ غیر از جماعت احباب کی بھی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں الفا سیٹ قبرستان، اوسلو میں تدفین عمل میں آئی۔ مرحوم موصی تھے، اس لیے ان کی تدفین قبرستان کے قطعہ موصیان میں کی گئی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین

مزید پڑھیں: چودھری مہر الدین صاحب اور والد محترم چودھری محمدالدین مجاہد صاحب کا ذکر خیر

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button