نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۱؍اکتوبر ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم منیرالدین احمد صاحب (ریڈ برج نارتھ۔ یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرم منیر الدین احمد صاحب (ریڈ برج نارتھ۔یوکے)

۱۶؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ۷۶سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم یکم اپریل ۱۹۵۰ء کو مردان میں مکرم مولوی چراغ الدین صاحب مرحوم (سابق مربی سلسلہ پشاور) کے ہاں پیدا ہوئے۔ مرحوم پابند صوم وصلوٰۃ، صابر وشاکر، نرم دل اور دوسروں کی خدمت کے لیے ہر دم تیار رہنے والے نیک اورمخلص بزرگ تھے۔ نظام جماعت کے پابند اور خلافت سے گہری وفا کا تعلق رکھتے تھے۔ مرحوم کو مختلف حیثیتوں میں جماعتی خدمت کی توفیق ملی۔ ۲۲ سال اپنی جماعت کے صدر بھی رہے۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہے۔ آپ کے بیٹے مکرم ضیاء احمد صاحب کو اس وقت بطور صدر جماعت ریڈ برج نارتھ خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرم چودھری نورالدین صاحب(Schleswig-Holstein۔ جرمنی)

۹؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو ۶۹ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ مکرم چودھری عبد الحق صاحب مرحوم (در ویش قادیان) کے بیٹے تھے۔ آپ کے نانا کو کیرالہ کے پہلے احمدی ہونے کا شرف حاصل ہے۔مرحوم جرمنی کے پچاسویں جلسہ سالانہ میں نہ صرف شریک ہوئے بلکہ تربیت ٹیم میں ڈیوٹی دینے کا موقع بھی ملا۔ مرحوم پنجوقتہ نمازوں کے پابند، قرآن کریم کی باقاعدگی سے تلاوت کرنے والے، سادہ مزاج، مہمان نواز، خوش اخلاق اور مخلص انسان تھے۔ خلافت سے بہت محبت اور وفا کا تعلق رکھتے تھے۔ اپنی اولاد کی دینی تربیت کا خاص خیال رکھا۔ نظمیں بہت خوش الحانی سے پڑھتے تھے۔ جماعتی خدمت اور مالی قربانی میں پیش پیش رہتے۔ آپ کو صدر جماعت کے علاوہ مختلف جماعتی عہدوں پر خدمت کی توفیق ملی۔کچھ عرصہ ریجنل امیر کی حیثیت سے بھی خدمت بجالاتے رہے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور تین بیٹے شامل ہیں۔ آپ مکرم جلال الدین نیّر صاحب (سابق صدر،صدر انجمن احمد یہ قادیان) کے چھوٹے بھائی تھے۔

۲۔مکرم محمد اکبر صاحب ابن مکرم محمد اختر صاحب (جرمنی)

۱۱؍ستمبر۲۰۲۶ء کو ۵۹ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم بہت دعا گو، پنجوقتہ نمازوں میں باقاعدہ، سادہ اور خوش مزاج،ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ جرمنی میں لوکل سیکرٹری تربیت و تبلیغ، سیکرٹری تحریک جدید، سیکرٹری وقف جدید اور قائد مجلس خدام الاحمدیہ کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ خلافت سے بے پناہ محبت تھی۔ طویل عرصہ سے صبح فجر کی نماز اور تلاوت کے بعد خلیفہ وقت کی خدمت میں فون کر کے سلام بھیجتے، دعا کی درخواست کرتے اور اپنی زندگی کے آخری دن تک اس پر کار بند رہے۔ تکلیف دہ بیماری کا بڑی بہادری اور صبر کے ساتھ مقابلہ کیا۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ والدہ اور ایک بیٹی شامل ہے۔آپ کی اہلیہ اس وقت اپنے حلقہ میں صدر لجنہ کے طورپر خدمت کی توفیق پارہی ہیں۔ آپ مکرم محمد اختر صاحب (سابق کارکن دفتر خزانہ صدر انجمن احمد یہ ربوہ) کے بڑے بیٹے، مکرم مظفر احمد ظفر صاحب (مبلغ سلسلہ بینن) کے بہنوئی، مکرم رفیق احمد ناصر صاحب …کے ماموں زاد بھائی اور مکرم ناصر احمد شہروز صاحب …کے پھوپھا تھے۔

۳۔مکرمہ شاہدہ محمود صاحبہ (اہلیہ مکرم ڈاکٹر محمود احمد طاہرصاحب۔سیکرٹری امور عامہ جرمنی)

۱۵؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے نانا حضرت بشیر احمد ملک صاحب رضی اللہ عنہ اور پڑ نانا حضرت ڈاکٹرالٰہی بخش صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔مرحومہ کے والد مکرم ڈاکٹر احتشام الحق صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی ہدایت پر بہار (ہندوستان)سے سندھ نقل مکانی کی اور اپنی زندگی جماعت کے لیے وقف کر دی تھی۔ مرحومہ محمدآباد اسٹیٹ میں پیدا ہوئیں۔ چھوٹی عمر سے ہی نماز اور تلاوت قرآن کریم کی بڑی پابند تھیں۔ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں اور بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی قرآن کریم پڑھایا اور نمازوں کو وقت پر ادا کرنے کی تلقین کرتی رہیں۔ چھوٹی عمر سے ہی نماز تہجد کی بھی عادت تھی جو آخری دن تک جاری رہی۔ غرباء کی مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتیں۔ اپنے بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ دوسرے عزیزوں کے بچوں کو بھی گھر میں رکھ کر پرورش کی۔ غرباء کا وظیفہ مقرر کر کے سالہا سال سے باقاعدگی سے انہیں پیسے بھجواتی تھیں۔دیانت داری، نظم وضبط، پاکیزگی وسلیقہ شعاری آپ کی سیرت کے نمایاں پہلو تھے۔ خاوند کی جماعتی خدمات میں ہمیشہ مدد کی اور بچوں کو بھی جماعت کی خدمت کرنے کی نصیحت کرتی رہیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں میاں کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم ڈاکٹر محمود احمد طاہر صاحب (نیشنل سیکرٹری امور عامہ جرمنی) کی اہلیہ اور مکرم طارق محمود صاحب (نیشنل سیکرٹری مال جرمنی) کی والدہ تھیں۔

۴۔مکرم شیخ ناصر محمود صاحب ابن شیخ محمود احمد صاحب مرحوم (دار العلوم جنوبی بشیر، سابق ڈرائیور دفتر صدر عمومی)

۱۶؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو ۵۷ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کے دادا حضرت شیخ عبد الغفور صاحب ر ضی اللہ عنہ اور پڑدادا حضرت شیخ رحیم بخش صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔ مرحوم کو تین سال تک حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی والدہ محترمہ کے ڈرائیور کے طور پر اور تقریباً ۱۵ سال دفتر صدر عمومی میں بطور ڈرائیور خدمت کی توفیق ملی۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، چندوں میں باقاعدہ اور مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے نہایت خوش اخلاق اور مہمان نواز انسان تھے۔ خلافت سے والہانہ عشق کا تعلق تھا۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور دوبیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے بڑے بیٹے مکرم ماہر محمود صاحب جامعہ احمدیہ… میں زیر تعلیم ہیں۔

۵۔مکرمہ شاہدہ پروین صاحبہ اہلیہ مکرم محمد شعیب طاہر صاحب…

۱۹؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو ۵۷ سال کی عمرمیں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب کی نواسی تھیں۔ مرحومہ نے شوہر کے ساتھ ۳۴ سال کا عرصہ نہایت صبر، شکر اور وفا کے ساتھ گزارا اور کبھی کوئی شکوہ زبان پر نہ لائیں۔ آپ کے میاں کو جہاں بھی خدمت کی توفیق ملی آپ ہر جگہ ان کے ساتھ رہیں اور جماعتی کاموں میں پوری معاونت کرتی رہیں۔ اپنا حصہ آمد بڑی فکر سے ادا کیا کرتی تھیں۔ جو آمد بھی ہوتی اس میں سے سب سے پہلے حصہ آمد نکالتی تھیں۔ آپ نے اپنی بچیوں کی نہایت اعلیٰ تربیت کی۔ سب کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اور گھریلو امور میں بھی ان کی تربیت کرتی رہیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کی تین بچیاں وقفِ نَو کی بابرکت تحریک میں شامل ہیں۔

۶۔مکرم نذیر احمد صاحب ابن مکرم عبدالحمید صاحب (ربوه حال مالمو سویڈن)

۲۳؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو۸۷سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، ایک نیک مخلص اور باوفا انسان تھے۔ رمضان المبارک میں تین مرتبہ قرآن کریم کا دور مکمل کیا کرتے تھے۔ افریقہ میں مسجد کی تعمیر کے لیے دو مرتبہ خطیر رقم کا عطیہ پیش کرنے کی توفیق پائی۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔آپ مکرم فرقان احمد صاحب مربی سلسلہ کے نانا تھے۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔

اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button