متفرق شعراء
زمیں پر خدا کے اترنے کے دن

نئی سُر فضا میں بکھرنے کے دن ہیں
زمیں پر خدا کے اترنے کے دن ہیں
کبھی کا منادی صدا دے چکا ہے
ارے غافلو! کان دھرنے کے دن ہیں
زمانہ نئی کروٹیں لے رہا ہے
اٹھو تم بھی جلدی کہ ڈرنے کے دن ہیں
وہ مظلوم جن کو ہے روندا عدو نے
بہت جلد اُن کے ابھرنے کے دن ہیں
زلازل یہ طوفان، سیلاب آتش
اشارہ ہے لوگو! سدھرنے کے دن ہیں
خدا کے غضب سے بھڑکنے سے پہلے
یہ مہلت ہے کچھ کر گزرنے کے دن ہیں
مٹا کر سبھی نقش نفسانیت کے
دلوں میں نئے رنگ بھرنے کے دن ہیں
ہر اک گھر منور ہو نورِ خدا سے
یہ سجنے، سنورنے، نکھرنے، کے دن ہیں
تکبر انا خودپسندی ہے شیطاں
کچل دو اسے اس کے مرنے کے دن ہیں
ظفرؔ ہر طرف ہیں تباہی کے منظر
خدا کو بہت یاد کرنے کے دن ہیں
(مبارک احمد ظفرؔ۔ یوکے)
مزید پڑھیں: دیے لہو کے جلاتے چلے گئے عشّاق




