مرضیٔ مولا

جدھر دیکھوں جہاں دیکھوں وہی بس وہ نظر آئے
پلٹ آتی ہے واپس پھر نظر چاہے جدھر جائے
کہیں پر ڈال سکتا ہی نہیں شیطان کچھ رخنہ
نہیں طاقت اسے حاصل خدا کے ساتھ ٹکرائے
بڑی غالب وہ ہستی ہے وہ جو چاہے وہ کرتا ہے
کسی کی کیا مجال اُس کی مشیّت کو بدل پائے
وہ واحد لاشریک اُس کا نہیں کوئی کہیں ثانی
اسی کی قوتِ تسخیر کے ہیں ہر طرف سائے
جسے چاہے وہ عزت دے جسے چاہے وہ ذلت دے
جسے چاہے سزا دے جس پہ چاہے رحم فرمائے
کسے معلوم اگلے پل کسی کے ساتھ کیا ہو گا
کہیں پیدا ہو کوئی تو کسی کو کوئی دفنائے
عطا ہے سب خدا کی ہی ترا کیا ہے کمال اس میں
ملی آسائشیں جو ہیں بتا کیوں اُن پہ اترائے
نہ کوئی چوں چرا کرنا یقیں اُس ذات پر تُو رکھ
تجھے لازم نہیں تُو مرضئ مولا سمجھ پائے
ذرا سا غور کر تقدیر ہے بس قدسیہؔ اتنی
کبھی مانے وہ تیری تو کبھی اپنی وہ منوائے
(قدسیہ نور فضا)
مزید پڑھیں: نعتِ رسولِ مقبول ﷺ




