از مرکز

انگلستان کے دسویں بڑے شہر لیسٹر(Leicester) میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے دستِ مبارک سے’ مسجد بیت الاکرام‘ کا مبارک افتتاح۔

(حافظ محمد ظفر اللہ عاجزؔ)

 اس موقع پر منعقدہ تقریب میں ممبرانِ پارلیمنٹ، سیاسی و سماجی شخصیات، چیف کانسٹیبل لیسٹرشئر پولیس، میئرز و دیگر معززین کی شرکت

٭…مسجد وہ جگہ ہے جہاں مسلمان اکٹھے ہو کر خدائے واحد کی عبادت کے لئے باجماعت نماز پڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسجدایسا مرکز بھی ہے جہاں مسلمان اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حقوق ادا کرنے کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں۔ ز…اس مسجد کے قیام کے بعد آپ لوگوں پر یہ بات بھی روشن ہو جائے گی کہ ’محبت سب کے لئے، نفرت کسی سے نہیں ‘ کا نعرہ محض ایک نعرہ ہی نہیں بلکہ ہم لوگ پوری لگن کے ساتھ اس سنہری اصول کے مطابق زندگیاں گزار رہے ہیں۔ ز…قرآن مجید صرف مختلف اقوام کے اکٹھے رہنے کو ہی نہیں تسلیم کرتا بلکہ سب لوگوں اور سب ہی قوموں کے حقوق بھی قائم فرماتا ہے۔ ز…اس وقت جبکہ دنیا تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے ہم سب کا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر امن کو قائم کرنے کی کوشش کرنابہت ضروری ہے۔ ہمیں دنیا کو تباہ کن جنگِ عظیم سے بچانے کے لئے متحد ہو کر اور ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے قیامِ امن کے لئے کام کرنا ہوگا۔

 (مسجد بیت الاکرام (لیسٹر۔یوکے) کے افتتاح کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بصیرت افروز خطاب)

٭…خلیفہ نے جو خطاب فرمایا اس سے میں نے آج اسلام کی حقیقی تعلیم کے بارے میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ ٭… خلیفہ نے ہمیں بتایا کہ قرآن کس طرح ہمیں مختلف مسائل کاعمدہ حل بتاتا ہے۔ حضور کی تقریر ہماری اصلاح کرنے والی، معلومات سے پُر اور مستقبل کے لئے امید افزا تھی۔ ٭… حضور کا پیغام صرف احمدیوں کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے تھا۔

 ٭… حضور کا پیغام اپنے اندر ایک زبردست قوّت اور طاقت رکھتا ہے۔(تقریب میں شامل مہمانوں کے تأثرات)

لیسٹر، 20؍ فروری 2016ء(نمائندہ الفضل انٹرنیشنل):مساجد کی تعمیر اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتِ احمدیہ کا طُرۂ امتیاز ہے۔ امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 20؍فروری 2016ء بروز ہفتہ انگلستان کی کاؤنٹی لیسٹرشئر (Leicestershire)کے شہر لیسٹر (Leicester) میں تعمیر ہونے والی احمدیہ’ مسجد بیت الاکرام‘ کا افتتاح اپنے دستِ مبارک سے تختی کی نقاب کشائی کرکے دعا سے فرمایا۔ اس موقع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے انتہائی بصیرت افروز خطاب فرمایا۔ حضور انور کے خطاب سے قبل دیگر معززین نے اپنے ایڈریسز میں دنیا میں قیامِ امن اور انصاف کے قیام کے لئے حضورِ انور کی عالمگیر کاوشوں اور جماعت ِ احمدیہ کی خدمتِ انسانیت کو سراہتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا۔

حضورِ انور اس تقریب میں شمولیت کے لئے مسجد فضل لندن سے 20؍فروری کی شام کو لیسٹر پہنچے۔ حضورِ انور کی بیت الاکرام آمد پر لیسٹر کے صدر جماعت ڈاکٹر مرزا حبیب اکرم بیگ صاحب، مبلغ سلسلہ لیسٹر مولانا غلام احمد خادم صاحب، امیر جماعت احمدیہ یو کے رفیق احمد حیات صاحب، امام مسجد فضل لندن و مبلغ انچارج یوکے مولانا عطاء المجیب راشد صاحب و دیگرنے حضورِ انور کے استقبال کی سعادت حاصل کی۔ اس موقع پر ایک بڑی تعداد میں احمدی بچے اور بچیاں اپنے پیارے امام کے لئے خوش آمدیدی نغمات گا کر ماحول کومزید پُر سرور بنا رہے تھے۔ حضورِ انور نے مسجد کے افتتاح کی یادگاری تختی کی نقاب کشائی کے بعد دعا کروائی۔ بعد ازاں حضورِ انور مسجد کے ہال میں تشریف لے گئے جہاں حضور انور نے نمازِ مغرب و عشاء پڑھائیں اور اس طرح مسجد کا باقاعدہ افتتاح عمل میں آیا۔ نماز کے بعد مقامی جماعت کے افراد نے حضورِ انور سے شرفِ مصافحہ حاصل کیا۔ حضور انور نے بچوں کو چاکلیٹ عطا فرمائیں۔ اسی طرح ممبرانِ عاملہ و ممبرانِ جماعت کے ساتھ گروپ فوٹوز ہوئیں۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ مسجد کے گراؤنڈ فلور پر اس ہال میں تشریف لے گئے جہاں ممبرانِ جماعت کے علاوہ 80 سے زائد معززینِ شہرو دیگر مہمانان مسجد بیت الاکرام کے افتتاح کے سلسلہ میں منعقد کیے جانے والے ایک عشائیہ میں شرکت کے لئے موجود تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر مرزا حبیب اکرم صاحب (صدر جماعت احمدیہ لیسٹر) نے ماڈریٹر کی خدمات سرانجام دیں۔ تلاوت کی سعادت ابرار احمد بیگ صاحب نے حاصل کی۔ اور تلاوت کی جانے والی سورۃ المائدہ کی آیات 8تا 10کا انگریزی ترجمہ سلیم احمد صاحب نے پیش کیا۔

جماعت احمدیہ لیسٹر کے صدر جماعت نے اس تقریب کے لئے تشریف لانے والے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے لیسٹر شہرمیں جماعت احمدیہ کی تاریخ اور اس مسجد کی تعمیر کے بارہ میں کچھ معلومات مختصر طور پر پیش کیں۔ انہوں نے حضرت امیر المومنین ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے لیسٹر شہر کو پہلی مرتبہ اپنی موجودگی سے سرفراز فرمانے پر جذباتِ تشکّر کا اظہار کیا۔جماعتِ احمدیہ کے قیام کی مختصر تاریخ بیان کرنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ لیسٹر شہر میں 1960ء اور 70ء کی دہائی میں کچھ احمدی خاندان آباد ہوئے۔ لیکن یہاں باقاعدہ طور پرنظامِ جماعتِ احمدیہ کا قیام 1980ء میں عمل میں آیا۔ قریباً چودہ سال تک جماعت مختلف کمیونٹی سنٹرز اور سکولز وغیرہ کے ہالز میں نمازیں پڑھنے اور دیگر تقریبات کرنے کا اہتمام کرتی رہی۔ 1994ء میں اس شہرکی ایونیو روڈ پر ایک ایمبولینس سنٹر کو جماعتی سرگرمیوں کے لئے خرید لیا گیا۔چنانچہ اس وقت سے اب تک لگ بھگ بیس سال سے یہی جگہ جماعتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ اُس وقت 15 کے قریب احمدی خاندان یہاں آباد تھے جبکہ اب ان کی تعداد ایک سو سے زائد ہے۔انہوں نے کہا تعداد میں اضافہ کے ساتھ ہمارے لئے یہ جگہ بھی چھوٹی ہوتی جا رہی تھی۔ چنانچہ جب ہمارے مشن ہاؤس سے ملحقہ عمارت برائے فروخت ہوئی تو جماعت نے اسے خرید لیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس مسجد کی تعمیر کے ہر مرحلہ پر جماعتِ احمدیہ نے اپنا قیمتی وقت دے کر اور مال خرچ کر کے قربانی کی اعلیٰ مثالیں قائم کی ہیں۔ یہ کہنا بھی بجا ہو گا کہ ممبرانِ جماعت نے وقارِ عمل کی روح کو زندہ رکھتے ہوئے اس مسجد کو اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا ہے۔

مہمانوں کے ایڈریس

اس کے بعد انہوں نے حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے صدارتی خطاب سے قبل تقریب میں شامل بعض معززین کو اظہارِ خیال کے لئے باری باری اسٹیج پر دعوت دی۔

چیف کانسٹیبل لیسٹر شئر پولیس لیفٹننٹ سائمن کول (Lt. Simon Cole) :

لیفٹننٹ سائمن کول نے ’السلام علیکم‘ کے ساتھ اپنی تقریر کا آغاز کیا۔ مسجد بیت الاکرام کے قیام کو مختلف رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان رابطہ اور تعاون کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے اسے نہایت خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں اور فی زمانہ درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے ہم سب کو متحد ہو کر کام کرنا ہو گا۔ انہوں نے اس جگہ، اس شہر اور اس کاؤنٹی کی بہتری کے لئے جماعت کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

ڈپٹی لارڈ لیفٹننٹ ریاض روات:

اس کے بعد لیسٹرشئر کاؤنٹی پولیس کے ڈپٹی لارڈ لیفٹننٹ ریاض روات کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب اپنی ذات میں لیسٹر شہر میں بسنے والے مختلف رنگ و نسل کے لوگوں کی عکاسی کر رہی ہے۔ انہوں نے جماعت کی معاشی اور معاشرتی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے خراجِ تحسین پیش کیا۔ مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ کا ذکر بھی بہت مثبت انداز میں کرتے ہوئے دورِ حاضر میں اسے میڈیا کے لئے ایک قابلِ تقلید مثال کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسجد کے نام کا مطلب ’عزت و اکرام‘ بنتا ہے۔ اگر ہم اس لفظ کو احمدیوں کے ماٹو ’محبت سب کے لئے ، نفرت کسی سے نہیں ‘ کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ جماعت کن اعلیٰ کردار و اقدار کی مالک ہے۔

دنیا میں قیامِ امن کے لئے حضورِ انور ایدہ اللہ کی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’مجھے بہت خوشی ہے کہ حضورِ انور نے اس موقع پریہاں رونق افروز ہو کر ہم سب کو سرفراز فرمایا ہے۔حضورِ انور کی زیرِ سرپرستی جماعت ِ احمدیہ اور حضورِ انور خودذاتی طورپر پوری دنیا میں قیامِ امن کے لئے بڑے تحمل اور مستقل مزاجی کے ساتھ کوششیں کر رہے ہیں۔ اور میں حضورِ انور کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ ‘

رائٹ آنریبل کیتھ واز (ممبر پارلیمنٹ برائے لیسٹر ایسٹ):

اس کے بعد لیسٹر ایسٹ سے منتخب ہونے والے ممبر پارلیمنٹ رائٹ آنریبل کیتھ واز (Rt. Hon. Keith Vaz) اسٹیج پر تشریف لائے اور اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے اپنے ایڈریس میں آج کے دن کو لیسٹر شہر کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے جماعتِ احمدیہ کی دنیا بھر میں قیامِ امن کی مساعی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقتوں میں جب جماعت احمدیہ کے پھیلنے کے ساتھ ساتھ یہ مسجد بھی پھلے پھولے گی اور مزید وسعت اختیار کر جائے گی ہم اس وقت بھی ایک کمیونٹی کے طور پر اکٹھے رہیں گے اور دنیا کے لئے ایک مثال قائم کریں گے۔ انہوں نے اپنے بیان میں اس امر کا ذکر کیا کہ حال ہی میں دہشتگردی کے سدِّ باب کے لئے برطانوی پارلیمنٹ میں بنائی جانے والی ایک کمیٹی میں جماعتِ احمدیہ کے وفد نے خلافت کے حقیقی مفہوم کو بیان کیا۔ اس وفد نے شواہد کے ساتھ اور بہت لیاقت سے اس بات کو واضح کیا کہ خلافت کا اصل اور حقیقی منصب کیا ہے۔ اور کس طرح آپ(حضور) کی خلافت کے زیرِ سایہ اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ آپ کی جماعت اپنے ماٹو پر قائم رہے اور دنیا بھر میں امن کے فروغ کے لئے کوششیں کرتی رہے۔

خطاب حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

اس کے ساتھ ہی تقریب اس بابرکت مرحلہ پر پہنچ گئی جہاں حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صدارتی خطاب فرمانا تھا۔ حضورِ انور ڈائس پر تشریف لائے۔ تشہّد و تعوّذ اور تسمیہ کے بعد حضورِ انور نے اس تقریب کے تمام مدعوین کو ’السلام علیکم ‘ کا تحفہ پیش فرمایا اور ان کا اس تقریب میں شامل ہونے پر شکریہ ادا کیا۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ آپ کا اس تقریب میں تشریف لانا اس امر کا ثبوت ہے کہ آپ انسانی اقدار کا خیال رکھنے والے اور ان کے قدردان ہیں۔ اس شہرکی بھی یہی پہچان ہے۔ لیسٹر میں گزشتہ ایک ہزار سال سے زائد عرصہ سے مختلف قومیتوں کے لوگ آباد چلے آرہے ہیں جو باہم مل جل کر پُر امن طریق پر زندگی گزارنے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر وائکنگز (Vikings)اور اینگلو سیکسنز(Anglo Saxons)کے مابین کئی جنگیں لڑی گئیں۔ لیکن بالآخر انہوں نے اس بات کو سمجھ لیا کہ امن اور سلامتی کے ساتھ رہتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری میں ہی اس شہر کی بقا ہے۔چنانچہ آج بھی اس شہر میں متعدد اقوام امن کے ساتھ مل جل کر رہ رہی ہیں۔ 2011ء کی مردم شماری کے مطابق لیسٹر کا شمار انگلستان کے ان شہروں میں ہوتا ہے جہاں کی آبادی اپنے اندرقومیتوں کے لحاظ سے بہت تنوع رکھتی ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ کچھ روز پہلے ہی میرے علم میں یہ بات آئی کہ لیسٹر کی ناربرو روڈ (Narborough Road) کے بارہ میں سرکاری طور پریہ تسلیم کیا گیا ہے کہ انگلستان میں یہ شاہراہ ایسی ہے جہاں پر سب سے زیادہ قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد رہتے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ میری رائے میں یہ بات لیسٹر شہر کے لئے ایک اعزاز ہے کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لیسٹر ایک ایسا شہر ہے جہاں مختلف رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ایک کامیاب معاشرہ تشکیل دیا ہے۔آپ لوگوں کو اس اعزاز کو ہمیشہ قائم رکھنا چاہیے۔

حضور نے فرمایا: آج ہم اس دور سے گزر رہے ہیں جس میں دنیا کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر طرف نا انصافیاں ہی نا انصافیاں ہیں۔ ان حالات میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم باہمی رواداری کے ان اصولوں پر اپنے معاشرہ کی بنیاد رکھیں جن کا یہ شہر ایک عرصہ سے علمبردارہے۔ہم نے ساری دنیا کوایک دوسرے کی اقدار اور ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے ’انسانیت‘ کی چھتری کے نیچے جمع کرنا ہے۔ اس شہر کی تاریخ کے مطالعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ قیامِ امن کے لئے باہمی محبت ، رواداری اور ایک دوسرے کا احترام بہت ضروری ہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا : لیسٹر میں جہاں مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں وہاں مختلف مذاہب کو ماننے والے بھی بستے ہیں۔ یہ بات آپ کے شہر کے ثقافتی تنوع اور اس کی خوبصورتی کو اور بھی نکھارتی ہے۔ہماری مسجد کی افتتاحی تقریب میں آپ سب لوگوں کا اس کثرت سے شامل ہونا آپ کے شہر کی اعلیٰ اخلاقی قدروں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اب میں اسلامی نقطۂ نظر سے ایک مسجد کے قیام کی اغراض و مقاصد بیان کروں گا۔ حضور نے فرمایا کہ ایک اندازہ کے مطابق لیسٹر میں دو سو کے قریب مساجد اور اسلامی مراکز قائم ہیں۔ اس لئے یہاں کے لوگوں کے لئے مسجد کا لفظ نیا نہیں ہو گا۔لیکن ہمارے لیے یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے جماعتِ احمدیہ کو لیسٹر میں اپنی نئی مسجد کے افتتاح کی توفیق دے رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ جہاں اس مسجدمیں لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لائیں گے وہاں یہ مسجد اس شہر کی مساجد اور دیگر عبادتگاہوں میں ایک خوبصورت اضافہ بھی ہو گی۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ مسجد وہ جگہ ہے جہاں مسلمان اکٹھے ہو کر خدائے واحد کی عبادت کے لئے باجماعت نماز پڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسجدایسا مرکز بھی ہے جہاں مسلمان اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حقوق ادا کرنے کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں۔ گویامسجد ایک طرف خدا تعالیٰ کی عبادت کا مرکز ہوتی ہے تو دوسری جانب لوگ معاشرہ کی فلاح اور انسانیت کی بہبود کے لئے بھی یہیں اکٹھے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسلامی تعلیمات کی رو سے مسلمانوں پر یہ فرض کیا ہے کہ وہ تمام انسانوں کے حقوق ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے رشتہ داروں اور ہمسایوں دونوں کے حقوق قائم فرمائے ہیں۔ اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ یہاں کے احمدی مسلمان اس مسجد کے آس پاس بسنے والے لوگوں کا خاص طور پر خیال رکھیں گے۔ اور مجھے یقین ہے کہ جو بھی احمدی یہاں نماز ادا کرنے آئے گا وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مسجد کے ہمسایوں اور پھر وسیع طور پر تمام تر معاشرے کے حقوق کا خاص خیال رکھے گا۔اس مسجد سے ایک دوسرے سے محبت اورباہمی ہمدردی کا سبق دیا جائے گا اور یہ مسجد ہر سمت محبت کو پھیلانے کا کام کرے گی۔ اس لئے کسی کو اس مسجد سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اس مسجد کے قیام کے بعد آپ لوگوں پر یہ بات بھی روشن ہو جائے گی کہ ’محبت سب کے لئے، نفرت کسی سے نہیں ‘ کا نعرہ محض ایک نعرہ ہی نہیں بلکہ ہم لوگ پوری لگن کے ساتھ اس سنہری اصول کے مطابق زندگیاں گزار رہے ہیں۔ اور ایساکیوں نہ ہو! کہ یہی ہمارے مذہب کی تعلیم ہے۔ انشاء اللہ ہر چڑھنے والا دن آپ پر یہ واضح کرتا چلا جائے گا کہ اسلامی تعلیمات کس قدر عظیم اورخوبصورت ہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ جیسا کہ مَیں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ اس شہر کی تاریخ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہر مختلف اقوام کے باہم امتزاج کا ایک بہت خوبصورت اور کامیاب مجموعہ ہے اور یہاں پر بسنے والے لوگ اس شہر کے وسیع تر مفاد کو اپنے پیشِ نظر رکھتے ہیں۔ احمدی مسلمان بھی ان باتوں کا خاص خیال رکھیں گے اور وسعتِ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے ان پختہ بنیادوں پرایک مضبوط معاشرہ کے قیام کی کوشش کریں گے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنے ہمسایوں کا خیال رکھیں گے اور ان کے حقوق کو ہر طرح سے بجا لائیں گے۔ اسلام میں واضح طور پر ہمسایوں کے حقوق کا ذکر ہے۔ جس طرح قرآنِ کریم میں مثلاً اولاد پر والدین کے حقوق بیان کیے گئے ہیں اسی طرح ایک مسلمان پر ہمسایوں کے بھی بہت سے حقوق قائم کیے گئے ہیں۔ ان پر فرض ہے کہ وہ اپنے ہمسایوں سے محبت کریں ، ان کی حفاظت کریں ، ان سے احترام سے پیش آئیں۔ بانی اسلام حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمسائے کے حقوق کی ادائیگی کے بارہ میں اس قدر تاکید فرمائی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو یہ گمان گزرا کہ اللہ تعالیٰ شائد ہمسائے کو وراثت میں حصہ دار بنادے گا۔

 پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ تم دوسرے کے لئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے کرتے ہو۔ یہ بظاہر ایک سادہ سی بات ہے لیکن اگرہم غور کریں اور اس زبردست اصول پر کاربند ہو جائیں تو پوری دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ یہ عالمگیر اصول ہمیشہ کی طرح آج بھی ایک رہنما اصول ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اس حدیث کے مطابق اگر میں چاہتا ہوں کہ دوسرے میرے ساتھ اچھی طرح پیش آئیں ، میرا خیال کریں ،تومیرا یہ فرض بنتا ہے کہ میں بھی ان کے ساتھ عمدہ سلوک کروں۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے میرا یہ فرض بنتا ہے کہ مَیں اپنے ہمسائے کا خیر خواہ رہوں۔ بلکہ میرے لیے ضروری ہے کہ مَیں اپنے شہر میں بسنے والے تمام لوگوں کی بھلائی چاہوں۔ میرے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ میں اپنے تمام ہم وطنوں کا خیر خواہ رہوں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ میرا فرض ہے کہ میں کرّۂ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں کاسچا خیر خواہ بنوں۔ قرآن کریم میں ہمسائے کی جو تعریف بیان کی گئی ہے وہ بہت وسیع ہے اور اپنے اندر بہت سے لوگوں کو شامل کرتی ہے۔ اس تعریف کے مطابق ایک مسلمان کے ہمسایوں میں بہت سے لوگوں کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھسفر کرنے والا شخص بھی شامل ہے۔چنانچہ حقیقی اسلامی تعلیم کے مطابق ایک مسلمان کے لئے تمام انسانوں کے حقوق کو بجا لانا ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ ہمسائے کے حقوق کو ادا کرنا۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ قرآنِ کریم کی سورۃ النساء آیت 37میں ایک ہی جگہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق کے حقوق ادا کرنے کا ارشاد کچھ اس طرح ہے: ’’اور تم اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بناؤ اور والدین کے ساتھ (بہت) احسان (کرو) اور(نیز) رشتہ دار ہمسایوں اور بے تعلق ہمسایوں اور پہلو (میں بیٹھنے) والے لوگوں اور مسافروں اور جن کے تم مالک ہو (ان کے ساتھ بھی)۔ (اور) جو متکبر اور اِترانے والے ہوں اُنہیں اللہ ہر گز پسند نہیں کرتا۔‘‘چنانچہ اللہ تعالیٰ دوسرے لوگوں کی عزت کرنے، ان کی خیر خواہی اور ان سے محبت کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔اس جامع آیت میں واضح طور پر ایک مسلمان کے اوپر رنگ و نسل اور عقیدہ کی پابندی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے محض انسانیت کی بنیاد پر سب کی خدمت کرنا فرض کر دیا گیا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر قریبیوں کا ذکر دیا گیا ہے۔اسی لیے میں نے یہ کہا تھا کہ جب قرآن مسلمانوں کو اپنے ہمسایوں اور اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیتا ہے تو درحقیقت اس سے یہ مراد ہے کہ وہ تمام انسانوں کے حقوق ادا کرے۔ قرآن مجید صرف مختلف اقوام کے اکٹھے رہنے کو ہی نہیں تسلیم کرتا بلکہ سب لوگوں اور سب ہی قوموں کے حقوق بھی قائم فرماتا ہے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اگرچہ میڈیا میں اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام مذہبی آزادی کا حقیقی علمبردار ہے۔ چنانچہ جہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عبادت کرنے کا حق دیتا ہے وہاں دوسرے تمام مذاہب کے ماننے والوں کے حقوق بھی قائم فرماتا ہے۔ اور یہ بات قرآن کریم کی سورۃ الحج کی آیت 41سے ثابت ہے جس میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کی عبادتگاہوں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس آیت میں کفارِ مکہ کے مظالم کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنے تحفظ کے لئے جنگ لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن اس آیت کے الفاظ سے یہ واضح ہوتاہے کہ جنگ کی اجازت کا مقصد صرف ’اسلام‘ کا تحفظ نہیں تھا بلکہ ’مذہب‘ کا تحفظ تھا۔ یعنی اس آیت کے مطابق جنگ کی اجازت اس لئے دی گئی تھی کیونکہ دشمنانِ اسلام مذہبی آزادی کو سلب کرنا چاہتے تھے۔اور اگر مسلمان اس وقت دفاعی جنگ نہ کرتے تو گرجے، یہودیوں کی عبادتگاہیں ، مندر، مساجد اور دیگر عبادتگاہیں کہ جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے تباہ کر دیے جاتے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ ان تمام باتوں سے ہم یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ مساجد صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے نہیں قائم کی جاتیں بلکہ اس کی مخلوق کے ایک دوسرے پر حقوق کی بجا آوری کے لئے بھی مرکز کا کام کرتی ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ دوسروں کے ساتھ صلح کے ساتھ رہیں۔ ان کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ دوسروں کی عبادتگاہوں کو تحفظ فراہم کریں کجا یہ کہ ان کو مسمار کرنے والے ہوں۔

حضور ِ انور نے فرمایا کہ آپ میں سے اکثر میرے ساتھ اس بات پر اتفاق کریں گے کہ اگر ہم ان باتوں پر عمل کرنا شروع کر دیں تو دنیا میں امن اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ اگر ان مذہبی تعلیمات کو مدِّ نظر رکھ لیں تو ان لوگوں کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا جو مذہب کو فتنہ و فساد کا سبب قرار دیتے ہیں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض نام نہاد مسلمان ایسے بھی ہیں جوغیر انسانی اور غیراخلاقی جرائم کر کے اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ ہر امن پسند آدمی ان کی ظالمانہ اور جاہلانہ حرکات کو دیکھ کر خوفزدہ ہی ہوگا۔ لیکن یہ بات اچھی طرح واضح ہوجانی چاہیے کہ ایسے تمام عناصر اسلام کی حقیقی تعلیمات کے الٹ کام کر رہے ہیں۔ ان حرکات کا ان کے پاس کوئی جواز نہیں۔ بہرحال مجھے یقین ہے کہ اس مسجد کے افتتاح کے بعد احمدی مسلمان پہلے سے بڑھ کر سچے اور حقیقی اسلام کو یہاں متعارف کروائیں گے اور اپنے کردار سے اسلام کی پُرامن اور روشن تعلیم کو پھیلائیں گے۔ وہ یہ ثابت کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صرف عبادت کا ہی حکم نہیں دیا بلکہ تمام انسانوں کے حقوق ادا کرنے کی بھی تاکید کی ہے۔ وہ اپنی ذات میں اسلام کی خوبصورت اور نیک تعلیم کا نمونہ پیدا کریں گے۔ دوسروں سے محبت اور رواداری کا معاملہ کریں گے۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اس وقت جبکہ دنیا تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے ہم سب کا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر امن کو قائم کرنے کی کوشش کرنابہت ضروری ہے۔ ہمیں دنیا کو تباہ کن جنگِ عظیم سے بچانے کے لئے متحد ہو کر اور ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے قیامِ امن کے لئے کام کرنا ہوگا جبکہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ہر آنے والا لمحہ ہمیں اس جنگ سے قریب تر کرتا چلا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی اس شہر کے رہنے والوں نے اچھے برے حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے رہنے کا فائدہ اٹھایا ہے۔ مَیں دعا کرتا ہوں کہ ماضی کے اسباق ہمارے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے ہمیں ہماری ذمہ داریاں یاد دلانے کے لئے کافی ہوں۔ مَیں دعا کرتا ہوں کہ ہم جنگ اور تباہی کے آنے سے پہلے ہی اسے بھانپ کر اس سے بچنے کی کوشش کرسکیں۔ مَیں دعا کرتا ہوں کہ ہمیں اس بات کا اندازہ ہو جائے کہ ہمیں قیامِ امن کے لئے کتنی کوششیں کرنی ہیں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ ہمیں اس بات کا ادراک ہو جائے کہ ہمارا خالق یہ چاہتا ہے کہ تمام بنی نوع انسان ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہیں اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ آخر پر مَیں یہاں رہنے والے احمدیوں سے بھی کہوں گا کہ وہ حقیقی اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے رہیں۔ ان کا کردار دوسروں کے لئے نمونہ بننے والا ہو۔ انہیں ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ اگر انہوں نے دوسروں کی خدمت نہ کی تو پھر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ تو اُس کی رضا کا موجب بنے گی، نہ ہی خودانہیں اس کا کوئی فائدہ پہنچے گا اور نہ ہی اس مسجد کے قیام کا مقصد پورا ہوسکے گا۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اس مسجد کے نام کا مطلب ’عزت والا گھر‘ ہے۔ اس لئے وہ لوگ جو اس میں داخل ہوں گے وہ ایک دوسرے کے لئے محبت ، عزت اور احترام کرنے والے ہوں گے۔ اسی طرح ان کا عمل وسعت اختیار کرتے ہوئے اپنے معاشرے کے لئے بھی محبت ، عزت اور احترام کا موجب بنے گا۔ انشا ء اللہ یہ مسجد روشنی کے اس مینار کی مانند جانی جائے گی کہ جس سے نکلنے والی روشنی اپنے اردگر کے ماحول کومنور کر دیتی ہے۔ اور یہ مسجد امن کی علامت کے طور پر لیسٹر شہر میں آپ اپنی پہچان ہو گی۔ خدا کرے کہ مقامی احمدی اس مسجد کے قیام کے حقیقی مقاصد کا حق ادا کرنے والے ہوں۔

حضور انور نے فرمایا کہ آخر پر مَیں ایک مرتبہ پھر تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہماری اس دعوت کو قبول کیا اور آج اس تقریب میں شامل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب پر اپنا فضل نازل فرمائے۔ بہت بہت شکریہ۔

اس پُر معارف اور بصیرت افروز خطاب کے بعد حضورِ انور واپس کرسیٔ صدارت پر تشریف فرما ہوئے اور اجتماعی دعا کروا کر اس تقریب کا اختتام فرمایا۔ اس کے بعد مہمانوں کی خدمت میں پُر تکلّف عشائیہ پیش کیا گیا۔

مہمانوں کے تأثرات:

٭وارِکشئر پولیس کے نمائندہ نِیوْ ملک (Nav Malik) نے کہا کہ یہ بہت عمدہ تقریب تھی۔ حضور نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے حقوق ادا کرنے پر بھی زور دیا ہے جو نہایت متأثر کن بات ہے۔

٭لیسٹر شئر کاؤنٹی کے کاؤنٹی کونسلر لیون سپینس (Leon Spence)نے کہا کہ حضور نے مسجد کے بارہ میں جو فرمایا کہ یہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ معاشرہ کا ایک صحتمند حصہ ہے یہ بہت متاثر کرنے والی بات ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ یہ بہت زبردست بات ہے! اس تقریب میں شامل ہونا میرے لیے ایک اعزاز ہے۔

٭De Montfortیونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی لاؤرا ایشلے نکول(Laura Ashley Nicoll)کہتی ہیں کہ اسلام کے بارے میں میڈیا پر بہت کچھ کہا جاتا ہے۔ خلیفہ نے جو خطاب فرمایا اس سے میں نے آج اسلام کی حقیقی تعلیم کے بارے میں بہت کچھ سیکھا ہے۔

٭لیسٹرشئر کاؤنٹی کے لارڈ لیفٹننٹ پروفیسر ڈیوڈ وِلسن(Professor David Wilson)نے کہا کہ خلیفہ نے بہت زبردست تقریر کی ہے۔ قرآن کو میڈیا میں منفی انداز سے پیش کیا جاتا ہے اس کے برعکس خلیفہ نے ہمیں بتایا کہ قرآن کس طرح ہمیں مختلف مسائل کاعمدہ حل بتاتا ہے۔ حضور کی تقریر ہماری اصلاح کرنے والی، معلومات سے پُر اور مستقبل کے لئے امید افزا تھی۔

٭لیسٹرشئر کے چیف کانسٹیبل پولیس سائمن کول (Simon Cole)نے کہا کہ حضور کی تقریرسے میرے اندر یہ احساس پیداہوا کہ ہم اپنے کاموں کو کس طرح بہتر سے بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔ مثلاً بطور پولیس ہم کس طرح اپنے لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کر سکتے ہیں ، امن کے قیام کے لئے، دنیا کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جو باتیں حضور نے کی ہیں وہ روحانیت سے پُر اور بہت صائب ہیں۔

٭اس تقریب میں شامل شری ستھیا سائی سروس نامی فلاحی تنظیم سے تعلق رکھنے والے چراغ ودھانی نے کہا کہ حضور کا پیغام صرف احمدیوں کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے تھا۔اسے جو بھی سنے گا اسے ایسا محسوس ہو گا کہ گویا یہ پیغام اسی کے لئے ہے۔

٭لیسٹر شہر کے لارڈ میئر کونسلر ٹیڈ کاسیڈی(Ted Cassidy)نے کہا کہ میں حضورِ انور کی تقریر میں موجود اس زبردست پیغام سے اور اس عمارت کی خوبصورتی سے بہت متأثر ہوا ہوں۔ یہ مسجد لیسٹر شہر میں ایک بہت عمدہ اضافہ ہے۔ یہاں کے احمدی اسلام کی بہت اچھی نمائندگی کر رہے ہیں۔ سب کو امن اور محبت کا خوبصورت پیغام پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حضور کا پیغام اپنے اندر ایک زبردست قوّت اور طاقت رکھتا ہے اور میری خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔ حضور جہاں بھی تشریف لے جاتے ہیں اسی پیغام کو عام کرتے ہیں کہ ہم سب کو ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہیے، ایک دوسرے سے سیکھنا چاہئے اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button