الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
۲۰۱۳ء کے چند مرحومین کا ذکر خیر
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۲۸؍مارچ ۲۰۱۴ء میں ۲۰۱۳ء میں وفات پانے والے بعض مرحومین کا ذکرخیر (مرتّبہ مکرم محمد محمود طاہر صاحب) شامل اشاعت ہے۔ ان میں سے اُن مرحومین کا مختصر تذکرہ درج ذیل ہے جن کا ذکرخیر قبل ازیں ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘ میں شامل نہیں کیا جاسکا۔
٭…محترم ملک شفیق احمد صاحب آرکیٹیکٹ ۶؍جنوری کو ورجینیانیوجرسی میں حرکت قلب بند ہوجانے سے وفات پاگئے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان کا جنازہ غائب پڑھایا اور خطبہ جمعہ میں ان کا ذکرخیر کرتے ہوئے فرمایا کہ مَیں نے بھی ربوہ میں ان سے کچھ کام کروائے ہیں۔ جب بلاؤ آجایا کرتے تھے حالانکہ اُس وقت ان کی سرکاری ملازمت تھی۔ اور انہوں نے بڑی محنت سے، توجہ سے ہر کام کیا ہے۔
انہوں نے ۱۹۶۸ء میں انجینئرنگ کی ڈگری لینے کے بعد منسٹری آف ڈیفنس میں بھی کام کیا۔ پھر چار پانچ سال لیبیا میں ملازمت کی۔ پھر لاہور میں ایل ڈی اے میں کام کرتے رہے اور وہاں سے ریٹائر ہونے کے بعد پھر یہ امریکہ چلے گئے۔ لیکن اس سارے عرصے میں جماعتی طور پر بھی کافی خدمات کیں۔ خلافتِ رابعہ میں ادارہ تعمیرات کا قیام ہوا تو وہاں بھی آپ کو خدمت کی توفیق ملی۔ دارالضیافت کی توسیع، لجنہ ہال کی تعمیر، مسجد مبارک کی توسیع، دارالقضاء کی بلڈنگ اور اسی طرح بیوت الحمد سوسائٹی وغیرہ میں انہوں نے کافی کردار ادا کیا ہے۔ مسجد بیت الفتوح کے (نقشے میں) حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے ۲۰۰۱ء میں جو تبدیلیاں کی تھیں، اُس وقت بھی ان کو یہاں بلایا تھا اور یہ مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں بھی یہاں کافی دیر رہے ہیں۔ آج کل برازیل مشن ہاؤس، گوئٹے مالا مسجد اور ٹرینیڈاڈ مشن و مسجد کے پراجیکٹس پر وقف کی روح کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ گو یہ وقف تو نہیں تھے لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے مکمل طور پر اپنے آپ کو جماعتی کاموں کے لیے پیش کیا ہوا تھا۔ مسجدنور ماڈل ٹاؤن لاہور کی توسیع کے کام بھی ان کی نگرانی میں ہوئے۔ غریب پرور، بہادر اور جماعتی کاموں پر فوری لبّیک کہنے والے تھے۔ ان کا خاندان نوشہرہ ککّے زئیاں، پسرور، سیالکوٹ سے تعلق رکھتا تھا، اور ان کے دادا محترم ملک میر محمد صاحب نے ۱۹۲۴ء میں بیعت کی تھی۔
مرحوم کے بارے میں ان کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ آپ جماعت اور خلفاء کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کرتے تھے اور اس کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ دن کا آغاز تہجد اور قرآن کی تلاوت سے ہوتا تھا اور اس میں بڑی لذت محسوس کرتے تھے۔ اکثر رات کو جماعت کی کسی نہ کسی کتاب کا مطالعہ کرکے سوتے تھے۔ پھر مکرم شیخ حارث صاحب (جنرل سیکرٹری احمدیہ انجینئرز ایسوسی ایشن)لکھتے ہیں کہ مرحوم بڑی وفا کے ساتھ کام کرتے رہے۔ اسی طرح برازیل کے مبلغ جن کے ساتھ آجکل یہ کام کر رہے تھے، لکھتے ہیں کہ حیرت انگیز طور پر محنت اور وفا سے کام کیا کرتے تھے۔
٭…کراچی میں ایک بم دھماکے میں شہید ہونے والے محترم مبشر احمد عباسی صاحب ابن مکرم نادربخش عباسی صاحب کی نماز جنازہ غائب پڑھانے سے قبل حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ میں ان کا ذکرخیر کرتے ہوئے فرمایا کہ مرحوم کے خاندان میں احمدیت ان کے پڑدادا حضرت تونگر علی عباسی صاحبؓ کے ذریعہ آئی جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔ ان کے خاندان کا تعلق علی پور کِھیڑا یوپی انڈیا سے تھا۔ مرحوم کے دو پھوپھا محمد صادق عارف صاحب اور مکرم محمد یوسف صاحب گجراتی درویش قادیان تھے۔ آپ کے دادا انڈین پولیس میں تھے جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی وقف کردی اور قادیان میں بطور انسپکٹر بیت المال خدمت کی توفیق پائی۔ شہید مرحوم ۱۹۶۸ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ملازمت کی غرض سے ۱۹۸۲ء میں کراچی چلے گئے۔ ایک گارمنٹ فیکٹری میں ملازمت کررہے تھے اور رہائش عباس ٹاؤن میں تھی۔ ۳؍مارچ۲۰۱۳ء کو جب عباس ٹاؤن میں ایک بم دھماکے میں ۵۰؍سے زائد افراد جاںبحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے تو واقعہ سے پانچ منٹ پہلے کچھ ادویات لینے کے لیے آپ گھر سے نکلے اور دھماکے کی زد میں آکر موقع پر ہی ۴۵؍سال کی عمر میں شہید ہو گئے۔
مرحوم انتہائی اچھی اور ملنسار طبیعت کے مالک تھے۔ اہلیہ، بچوں اور بہن بھائیوں کے ساتھ اچھا تعلق تھا۔ ایک بیٹی خدیجہ مبشر بارہ سال کی اور ایک بیٹا نادر بخش دس سال کی عمر کے ہیں۔ ان کے علاوہ تین بہن بھائی ہیں۔
٭…مکرم محمد ناظم خان غوری صاحب ۸۳؍سال کی عمر میں ۴؍جون۲۰۱۳ء کو لندن میں وفات پاگئے۔ آپ نے اٹھارہ سال کی عمر میں نیروبی (کینیا) میں قبولِ احمدیت کی سعادت حاصل کی۔ کینیا میں مجلس خدام الاحمدیہ کے سرگرم رکن رہے۔ نیز احمدیہ ہاکی ٹیم نیروبی کے کپتان بھی رہے۔ ۱۹۶۸ء میں آپ برطانیہ آگئے اور یہاں بھی دینی خدمات میں پیش پیش رہے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے آپ کو مسلم ٹائیگرز احمدیہ ہاکی کلب کا مینیجر بھی مقرر فرمایا۔ حضورؒ کی مجالس سوال و جواب میں میزبانی کا شرف بھی آپ کو حاصل رہا۔ برطانیہ میں خدام الاحمدیہ، انصاراللہ اور جماعت یوکے کی نیشنل مجالس عاملہ کے رُکن بھی رہے۔ ملکی سطح پر آپ کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ ۱۹۹۸ء میں ملکہ برطانیہ کی طرف سے بہترین سوشل ورک پر ایم بی ای کا خطاب عطا کیا گیا۔ آپ کی وفات پر مسجد فضل لندن میں حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نماز جنازہ حاضر پڑھائی۔
٭…مکرم مولوی محمد نذیر مبشر صاحب ۲۶؍جون ۲۰۱۳ء کو ۴۹؍سال کی عمر میں قادیان میں وفات پاگئے۔ آپ نے بیس سال سے زائد عرصہ ایک کامیاب اور فعال مربی کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی۔ گذشتہ چار سال سے نظارت تعلیم القرآن و وقف عارضی میں کام کررہے تھے۔ موصی تھے۔ پسماندگان میں ضعیف والدہ، اہلیہ، تین بیٹیاں اور ایک بیٹا یادگار چھوڑے۔ سب بچے تحریک وقف نو میں شامل ہیں۔ مرحوم کے دو بھائی بھی مربیان ہیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
٭…مکرم محی الدین شاہ صاحب مربی سلسلہ انڈونیشیا ۹؍جولائی۲۰۱۳ء کو ۷۴؍سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ آپ بارہ سال کی عمر میں حصول تعلیم کے لیے ربوہ بھجوائے گئے اور ۱۹۶۳ء میں جامعہ احمدیہ سے تعلیم مکمل کرکے میدان عمل میں انڈونیشیا بھجوائے گئے۔ آپ کے ذریعے کئی جماعتوں کا قیام عمل میں آیا۔ ایک سال فلپائن میں بھی مبلغ سلسلہ رہے۔ نہایت خوش طبع، نرم دل، شفیق، خوش الحان اور اچھے مقرر تھے۔ قرآن کریم ترجمہ ٹیم کے ممبر بھی رہے۔ خلافت سے اخلاص و وفا کا تعلق تھا۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چار بیٹیاں اور دو بیٹے یادگار چھوڑے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
٭…محترمہ صاحبزادی امۃالمتین صاحبہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور محترم سید میر محمود احمدناصر صاحب کی اہلیہ تھیں۔ آپ دارالمسیح قادیان میں ۲۱؍دسمبر۱۹۳۶ء کو پیدا ہوئیں۔ حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ (المعروف چھوٹی آپا) کی بیٹی اور حضرت مصلح موعودؓ کے ماموں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ کی نواسی تھیں۔ حضرت مصلح موعودؓ کی اس اہلیہ سے یہ اکلوتی بیٹی تھیں۔ حضورؓ نے اپنی اس بیٹی کے لیے ایک نظم بھی لکھی جو کلامِ محمود میں اطفال الاحمدیہ کے ترانے کے نام سے شامل ہے۔ اس نظم کا ایک شعر یہ ہے ؎
مری رات دن بس یہی اک صدا ہے
کہ اس عالمِ کون کا اک خدا ہے
۱۴؍اکتوبر۲۰۱۳ء کی رات ربوہ میں ان کا انتقال ہوا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۸؍اکتوبر۲۰۱۳ء کے خطبہ جمعہ میں مرحومہ کا ذکرخیر فرمایا اور بعدازاں نماز جنازہ غائب پڑھائی۔ حضورانور نے فرمایا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی اولاد میں، خاص طور پر لڑکیوں میں، مَیں نے یہ دیکھا ہے کہ اُن کا اللہ تعالیٰ سے بڑا قریبی تعلق تھا اور نمازوں میں نہ صرف باقاعدگی بلکہ بڑے الحاح سے اور توجہ سے لمبی نمازیں پڑھنے والی ہیں۔ مکرم میر محمود احمد صاحب ناصر واقفِ زندگی ہیں، سپین میں بھی مبلغ رہے اور امریکہ میں بھی۔ آپ کو ان کے ساتھ رہنے کا موقع ملا اور مبلغ کی بیوی ہونے کا حق انہوں نے ادا کیا۔ سپین میں مسجد بشارت کی تعمیر کے وقت یہ لوگ وہیں تھے اور تیاری کے کام اور کھانے پکانے کے کاموں میں اُس وقت انہوں نے بڑا کام کیا۔ اس موقع پر مہمانوں کا اور خلیفۃالمسیح الرابعؒ کا کھانا بھی مرحومہ خود اپنی نگرانی میں پکواتی تھیں کیونکہ باقاعدہ لنگر کا انتظام نہیں تھا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے بھی ذکر کیا ہے کہ رات کو تین بجے کام سے فارغ ہو کر سوتے تھے تو بڑا خوش ہوتے تھے کہ آج اللہ تعالیٰ نے کچھ سونے کا موقع دیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ تقریب جو مسجد بشارت میں تھی بڑی کامیاب ہوئی۔
آپ امریکہ کیلیفورنیا میں بھی لمبا عرصہ رہیں، وہاں بھی اُس وقت جماعت کے حالات ایسے تھے کہ واشنگ مشین وغیرہ ایسی چیزیں میسر نہیں تھیں تو کپڑے وغیرہ دھونے یا باقی گھر کے کام کرنے کے لیے اگر کوئی مدد کی پیشکش کرتا تھا تو نہیں مانتی تھیں۔ گھر کے کام خود کرنے کی عادت تھی۔ لجنہ مرکزیہ پاکستان میں بھی مختلف شعبوں کی سیکرٹری کے طور پر خدمات بجالاتی رہی ہیں۔ خلافت سے بڑا وفا کا تعلق تھا۔ میری خالہ تھیں لیکن خلافت کے بعد احترام اور محبت اور پیار اور عزت کا جو تعلق ہمیشہ سے تھا، وہ بہت بڑھ گیا تھا۔ بلکہ جب پہلی دفعہ لندن آئیں تو کسی کو کہا کہ مَیں تو اب کُھل کے بات نہیں کر سکتی۔ پچھلے سال کافی بیمار تھیں لیکن پھر بھی جلسے پر لندن آئیں۔ ان کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ دو بیٹے بھی واقفِ زندگی ہیں یعنی ڈاکٹر غلام احمد فرّخ صاحب اور محمد احمد صاحب۔
٭…مکرم مولوی محمد ایوب صاحب مالاباری مربی سلسلہ کیرالہ ۲۰؍نومبر۲۰۱۳ء کو ۵۴؍سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ آپ جامعہ احمدیہ قادیان سے ۱۹۸۲ء میں فارغ التحصیل ہوکر میدان عمل میں آئے اور تامل ناڈو اور کیرالہ میں مربی انچارج رہے۔ ۱۹۹۴ء کے اہل قرآن کے ساتھ مناظرہ میں اپنے خسر محترم مولانا محمد عمر صاحب کے ساتھ بطور مناظر شامل تھے۔ اُن کے ہمراہ تامل زبان میں ترجمہ قرآن کریم کرنے کی سعادت بھی پائی۔ عرب ممالک میں بھی خدمت کی توفیق ملی۔ گذشتہ چند سال سے نظارت علیاء قادیان میں خدمت کی توفیق پارہے تھے۔ بغرض علاج اپنے آبائی وطن گئے ہوئے تھے اور وہیں وفات پائی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا یادگار چھوڑے ہیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے لندن میں آپ کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
………٭………٭………٭………
مکرم ڈاکٹر مہدی علی قمر شہید کی یاد میں روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۲۸؍اگست۲۰۱۴ء میں مکرم عبدالصمد قریشی صاحب کی شائع ہونے والی نظم ہدیۂ قارئین ہے:
اِک پھول تھا ، خوشبو تھا ، وہ چاہت کا نگر تھا
یہ مہدی علی دنیا کا انمول گہر تھا
ہر پہلو تھا اس شخص کے جیون کا سنہری
رفتار میں، گفتار میں اِک باد سحر تھا
کردار میں تھا پیار کا بہتا ہوا ساغر
اس بزمِ مسیحائی کا وہ نُورِ نظر تھا
اخلاص میں، احساس میں اور حُسنِ عمل میں
اِک گھر تھا جو شہر کا وقار اور فخر تھا
یاد آئیں گی اے دوست سدا تیری وفائیں
اے مہدی علی! تیرا ہر انداز امر تھا
مزید پڑھیں: زلہ زکام اور کھانسی سے بچنے کے لیےقہوہ




